دوسروں سے پہلے اپنے کو جاننے کی ضرورت
Al-Risala, February 1979, pp. 5–9
By Maulana Wahiduddin Khan
اگست ۱۹۷۱ء میں راقم الحروف کو احمد آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک کارخانہ دار اپنا کارخانہ دکھانے کے لئے لے گئے۔ یہ ایک نوجوان تھے ۔ انھوں نے انجینئرنگ کی ڈگری لی تھی اور اب اپنے والد کے قائم کئے ہوئے کارخانہ کو سنبھالنے اور اس کو ترقی دینے میں لگے ہوئے تھے۔
"اپنی تو (Limitations) آجاتی ہیں مینجمنٹ سائیڈ پر"، انھوں نے کہا "میں ایک انجینئر ہوں۔ مینجمنٹ موجودہ زمانہ میں ایک مستقل سبجکٹ ہو چکا ہے۔ انجینئرنگ میں اپنی واقفیت کے باوجود مینجمنٹ کے معاملہ میں میں اپنے کو معذور پاتا ہوں۔ مجھے ایک ٹرینڈ منیجر کی تلاش ہے جو انتظامی معاملات میں میرا مددگار بن سکے “۔ اپنے دنیوی کاروبار میں لوگ اپنی محدودیت کو خوب جانتے ہیں۔ کوئی یہ غلطی نہیں کرتا کہ کام کے جس شعبہ سے وہ واقف نہیں ہے ، اس میں کود پڑے اور بالآخر نقصان اٹھائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ملت کی رہنمائی کے میدان میں کوئی اس اصول کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ ہر آدمی جو کچھ تقریر کرنا جانتا ہو، فوراً قیادت کے اسٹیج پر ظاہر ہو کر خدمت قوم کا کریڈٹ لینا شروع کر دیتا ہے۔ خواہ اس کی قیادت عملاً قوم کو بربادی کے گڑھے میں گرانے کے ہم معنی کیوں نہ بن جائے۔ حتی کہ یہ نتائج اگر اس کی آنکھوں کے سامنے آجائیں تب بھی اس کے جوش قیادت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وہ نئے نئے الفاظ بول کر دوبارہ قوم کے کندھے پر سوار ہو جاتا ہے۔ موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس کو اعتراف شکست پر مجبور کر سکے۔
آپ کون سا درخت اگا رہے ہیں دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے محکم قوانین کے تحت بنایا ہے اور اس کا فیصلہ ہے کہ وہ ان قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔
انھیں قوانین الہیٰ میں سے ایک قانون یہ ہے کہ اس نے مقرر کر دیا ہے کہ جو لوگ سطحی نعروں اور جذباتی تقریروں پر اپنی قوم کو اٹھائیں گے، ان کی قومی زندگی برساتي جھاڑ جھنڈائر کی طرح ہوگی۔ وقتی طور پر تو وہ بہت نمایاں دکھائی دیں گے۔ مگر ان کے اندر کوئی پائیداری نہیں ہوگی۔ فاتحانہ نعروں پر اٹھنے والے لوگوں کے حصہ میں بالآخر صرف یہ فریاد آئے گی کہ" فلاں نے میرے درخت کو اکھاڑ دیا ہے۔
اس کے برعکس، جو لوگ گہری جڑوں اور دور رس منصوبوں پر اپنی قومی تعمیر کریں گے، ان کو مضبوط درختوں کی سی پائیداری حاصل ہوگی، جس کو کوئی اکھاڑ نہیں سکتا اور جو صدیوں تک انسانیت کو اپنا سایہ اور پھیں۔ دیتے رہتے ہیں۔
اگر آپ دنیا میں کوئی حقیقی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے حقیقی بنیادوں پر اپنی تعمیر کی منصوبہ بندی اس صحیح مقام کو دریافت کیجیے جہاں سے صحیح اور پائیدار جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر آپ نے اپنے آغاز کو پایا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پالیں گے، کیونکہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے۔
فضائی جاسوسی میں جو ہوائی جہاز استعمال ہوتے ہیں ان میں بہت نازک قسم کے کیمرے لگے رہتے ہیں۔ انتہائی بلندی پر اڑان کرنے کے باوجود ان کی تصویریں اتنی مکمل ہوتی ہیں کہ آدمی کے چہرے پر جذبات کا اتار چڑھاؤ تک دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ آواز سے تیز رفتار ہوائی جہاز عموماً دشمن کا نشانہ بننے سے بچ جاتے ہیں۔ سے آگے پرواز کرنے کی وجہ سے ان کا پتہ زمین پر کھڑے ہوئے لوگوں کو اس وقت ملتا ہے جبکہ ہوائی جہاز ان کے اوپر سے گزر کر بہت دور پہنچ گیا ہو گویا زندگی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ اپنا سفر اس طرح طے کریں کہ آپ کا حریف آپ کی کارگزاریوں سے صرف اس وقت واقف ہو جب کہ آپ اپنا کام پورا کر چکے ہوں۔
کبھی شکست بھی فتح ثابت ہوتی ہے اسلام کی قدیم تاریخ میں اغیار کی طرف سے اس کو دو بڑے فوجی مقابلے پیش آئے ہیں۔ سے، دوسرا مسیحیوں سے۔ تاتاریوں سے مقابلہ بارھویں صدی کے آخر میں پیش آیا۔ مسلم قوموں کو اس مقابلہ میں مکمل شکست مگر اس شکست کے اندر سے حیرت انگیز طور پر ایک نیا امکان برآمد ہوگیا ۔ فتح نے تاتاریوں کے انتقامی جذبہ کو ختم کر دیا۔ اب وہ نفسیاتی طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ مفتوح کے مذہب وعقائد پر بے آمیز رائے قائم کر سکیں ۔ نظر آیا کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور اس میں خود ان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے ۔ چنانچہ مسلمانوں کی شکست پر ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ تاتاری حکمراں مسلمان ہو گئے اور سارا مسئلہ ایک نئی بہتر شکل میں ختم ہو گیا ۔ میدان کے فاتح فطرت اور نفسیات کے میدان میں اپنے زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ وہ فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں ۔
مقابلہ کی تیاری کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ۔ ان کی یہ مخالفانہ کوششیں پانچ صدیوں تک جاری رہیں، یہاں تک کہ ان کی کامیابی اس انتہا کو پہنچی کہ انھوں نے قوت و طاقت کے نئے میدان دریافت کر لئے۔ انھوں نے مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں شکست دے کر ساری دنیا پر اپنی سیادت کا جھنڈا گاڑ دیا۔ انھوں نے قدیم طرز کی ملاحی جہاز رانی کو ترقی دے کر زضافی جہاز رانی کے مقام پر پہنچایا اور اس کے زور پر تمام سمندروں پر قابض ہوگئے۔ دور مار ہتھیار تیار کر کے مسلم تلواروں کو کند کر دیا۔ نے مشینی صنعت ایجاد کر کے مسلم دستکاری کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے سائنسی علوم وضع کر کے مسلمانوں کے روایتی علوم کو بے قیمت کر دیا۔ انھوں نے محکومی کی ایک نئی قسم (اقتصادی اور فنی محکومی) وجود میں لا کر تمام مسلم دنیا کو مجبور کیا کہ سیاسی مفتوحوں سے شکست کھا گئے ۔
مسیحی یورپ اور مسلمانوں کے درمیان مقابلہ اس کے برعکس مثال پیش کرتا ہے۔ مسیحی یورپ سے دوسوسالہ صلیبی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو شان دار فتح حاصل ہوئی اور مسیحی اقوام کو بدترین شکست کے بعد واپس لوٹنا پڑا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ سارے یورپ میں اپنے غالب حریف کے خلاف انتقام کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھی۔ اپنے تمام وسائل کو انھوں نے ایک نئے طور پر آزاد ہونے کے بعد بھی وہ انھیں کی غلام اور محکوم
پچھلی آٹھ سو سالہ تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ سخت غلطی پر ہیں جو صرف فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح کبھی شکست ثابت ہوتی ہے اور شکست بھی کسی وقت فتح بن جاتی ہے۔
نہ کہ حالات کا اندازہ کئے بغیر چھلانگ لگانے کا قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ (حج۔ ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جاتی ہے ، اس لئے کہ ان پر ظلم ہوا اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔
مکہ کے مشرک مسلمانوں کو بہت تکلیفیں دیتے تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو کسی کا سر پھٹا ہوتا ، کوئی زخمی ہوتا ، کوئی چوٹ کھایا ہوا ہوتا۔ وہ آپ سے شکایتیں کرتے ۔ مگر آپ کا جواب صرف یہ ہوتا: صبر کرو مجھے ابھی لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فانّی لم اومر بالقتال، تفسیر النسفی)۔ اسی حال میں تیرہ برس گزر گئے ۔ پھر، ہجرت کے دوسرے سال مدینہ میں قتال کی ہدایات بھیجی گئیں۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بزار، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں عبداللہ بن عباس کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ کچھ اوپر ستر آیات میں قتال کی ممانعت کے بعد اجازت کی یہ پہلی آیت قرآن میں نازل ہوئی دھی اول آیة أذن فیھا بالقتال بعد ما نھی عنه فى نیف و سبعین آیة)
یہاں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں پر ظلم تو مکی دور میں اپنی بدترین شکل میں ہورہا تھا، اور اللہ بلاشبہ اس وقت بھی مسلمانوں کی نصرت پر پوری طرح قادر تھا۔ پھر مکہ میں "قتال" کی اجازت کیوں نہ دی گئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے قانون کے مطابق مسلمان ابھی اتنے طاقتور نہ ہوئے تھے کہ ان کا کوئی اقدام فیصلہ کن نتیجہ تک پہنچ سکتا۔ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کی طاقت اس معیار کو پہنچ گئی کہ ان کا اقدام یوم الفرقان (انفال۔ ۴۱) کو وجود میں لانے کے ہم معنی بن سکے تو مڈبھیڑ کی اجازت دے دی گئی۔
پچھلے ڈیڑھ سو برس سے اسلام کے علم بردار جس طرح اپنے مفروضہ حریفوں سے ٹکرا رہے ہیں اور نقصان ہر بار اسلام کے علم برداروں کے حصہ میں آتا ہے، وہ اس قرآنی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات محض نادانی کے اقدامات تھے، اگرچہ غلط طور پر ان کو ” اسلامی جہاد کا مقدس نام دے دیا گیا ۔
مکمل تدبیر، اور اسی کے ساتھ اللہ پر مکمل اعتماد انسان بیک وقت دو مختلف تقاضوں کے درمیان ہے۔ کا تقاضا، دوسرے امتحان کا۔ انسان کے حالت امتحان میں ہونے کا پہلو تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے سارے اختیار اور اپنی تمام امکانیات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرے۔ دوسری طرف عبدیت کا پہلو زور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر حال میں آدمی اللہ پر بھروسہ رکھے، اپنے کو یا اپنی تدبیروں کو کچھ نہ سمجھے۔ اسباب کا اہتمام ہمارے حالت امتحان میں ہونے کا اظہار ہے اور اللہ پر اعتماد ہماری حالت عبدیت کا۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب مکہ کے حالات اس حد تک سخت ہوگئے کہ لوگوں نے آپ کے قتل کا ارادہ کر لیا تو آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر یثرب (مدینہ) چلے گئے ۔ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر کے لئے آپ نے ہر قسم کا ممکن اہتمام فرمایا۔ سفر کے ہر جزو کو مکمل طور پر راز میں رکھا۔ عام شاہراہ کے بجائے غیر معروف راستہ سے سفر فرمایا۔ مکہ سے رات کے وقت پیدل نکلے اور سواری کا انتظام آگے ایک صحرائی مقام آپ کو مدینہ جانا تھا جو مکہ سے شمال کی جانب واقع ہے۔ مگر آپ نے اس کے الٹی طرف جنوبی سمت میں سفر فرمایا۔ مکہ کے باہر چند میل جاکر ایک سنسان پہاڑی غار (ثور) میں تین دن ٹھہرے رہے جو اتنا تنگ تھا کہ آدمی صرف لیٹ کر اس کے اندر داخل ہو سکتا تھا۔ آپ جب ابو بکر صدیق کے ساتھ غار ثور میں مقیم تھے، قریش کے کچھ لوگ آپ کو ڈھونڈتے ہوئے غار کے کنارے تک پہنچ گئے۔ آہٹ پا کر ابو بکر صدیق نے کہا، دشمن اتنے قریب آ چکا ہے کہ اگر انھوں نے جھک کر اپنے قدموں کے نیچے کی طرف دیکھا تو وہ ہم کو پالیں گے۔ آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا: ماظنک باثنين يا ابا بكر الله ثالثهما ان دو کی نسبت تمھار ا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو اس واقعہ میں نبوت کا مقام نظر آرہا ہے۔ ایک طرف تدبیر کمال درجہ پر ۔ دوسری طرف اللہ پر اعتماد کمال درجہ پر۔ یہی نبوت کی شان ہے۔ پیغمبر اس شان عبدیت میں کمال درجہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر کے ساتھیوں اور فیض پانے والوں میں بھی یہ اوصاف درجہ بدرجہ پیدا ہوتے ہیں۔