Al-Risala · December 1979

یہ محکم نظام

Al-Risala, December 1979, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

خلا میں بے شمار ستارے ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اگر خلا کا ایک کرہ دوسرے کرہ سے ٹکرا جائے تو زبردست تباہی برپا ہو ۔ چاند انتہائی چھوٹا ہے۔ اس کی حقیقت عظیم خلا میں ایک ذرہ کے برابر پھر وہ ہماری زمین سے سب سے قریب ہے۔ اس کے باوجود وہ زمین سے نہیں ٹکراتا۔ جب کہ انسانی ساخت کے مصنوعی سیارے برابر اپنی عمر ختم کر کے زمین پر گرتے رہتے ہیں۔

چاند کا وزن ۷۳ کروڑ کھرب ٹن ہے۔ اس کا قطر ۳۵۰۰ کلومیٹر ہے اور زمین سے اس کا فاصلہ ۳ لاکھ ۸۴ ہزار کلومیٹر ہے۔ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور چاند زمین کے گرد۔ یہ سلسلہ اربوں سال سے جاری ہے۔ مگر ان کا نظام اتنا محکم ہے کہ وہ نہایت صحت کے ساتھ اپنے مدار پر باقی ہے۔ چاند کو زمین کی مقناطیسی قوت اپنی طرف مگر خود چاند کی حرکت کی قوت اس کو مسلسل زمین سے دور ہٹاتی ہے۔ کشش اور حرکت کی ان قوتوں کے باہمی عمل کے نتیجہ میں چاند کا راستہ ایک لمبے بیضاوی مدار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تمام آسمانی اجسام اسی طرح بیضاوی مدار میں گھومتے رہتے ہیں۔

اگر چاند اپنے مدار کو چھوڑ کر زمین پر گرنے لگے تو اس وقت اس کی رفتار گیارہ کلومیٹر فی سیکنڈ سے اس تیز رفتاری سے جب وہ ہماری زمین سے ٹکرائے گا تو یہ اس سے بھی زیادہ بڑا حادثہ ہوگا جو دنیا کے تمام بموں کے یکبارگی پھٹ جانے سے ہو سکتا ہے۔

Printed page