Al-Risala · December 1979

بربادی ترقی کا زینہ بن گئی

Al-Risala, December 1979, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک انگریز عالم مسٹر آئن نیش (Ian Nish) جاپان گئے۔ انھوں نے وہاں گیارہ سال رہ کر جاپانی زبان سیکھی اور گہرائی کے ساتھ جاپانی قوم کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے مطالعہ اور تحقیق کے نتائج ۴۴۸ صفحات کی ایک کتاب میں شائع کیا ہے جس کا نام ہے جاپان کی کہانی (The Story of Japan) مصنف لکھتے ہیں: جاپانی قوم کی زندگی کو جس چیز نے سب سے زیادہ گہرائی کے ساتھ متاثر کیا وہ سیاست نہیں بلکہ کانٹو کا عظیم زلزلہ تھا۔ یکم ستمبر ۱۹۲۳ کو زلزلہ کے زبردست جھٹکوں نے مشرقی جاپان کو تہس نہس کر دیا جو کہ جاپان کا سب سے زیادہ آباد علاقہ دوسرا انسانی ساخت کا زلزلہ ۱۹۴۵ میں جاپان کی شکست تھی جب کہ دو ایٹم بموں نے جاپان کے دو انتہائی بڑے شہروں کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا "زلزلہ" سے اگر تعمیر نو کا ذہن پیدا ہو تو زلزلہ ایک نئی ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس زلزلہ اگر محرومی اور جھنجھلاہٹ کا احساس پیدا کرے تو اس کے بطن سے سیاسی چیخ پکار وجود میں آتا ہے جو نتیجہ کے اعتبار سے اتنا بے معنی ہے کہ اس سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ (۲۱ جولائی ۱۹۷۲)

Printed page