ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا
Al-Risala, December 1979, pp. 16–24
By Maulana Wahiduddin Khan
جے پرکاش نارائن (۱۹۰۲-۱۹۷۹) اپنے علم اور صلاحیت کے اعتبار سے ہندوستان کے چوٹی کے لیڈروں میں سے ان کو عام طور پر مخلص اور سنجیدہ انسان سمجھا جاتا تھا اور ہر طبقہ کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ پٹنہ میں ان کے مکان کے سونے کے کمرہ میں دیوار پر یہ شعر لگا ہوا تھا:
مالک تری رضا رہے اور تو ہی تو رہے باقی نہ میں رہوں نہ مری آرزو رہے وہ اپنے دل میں سماجی اصلاح کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے اور اپنے الفاظ میں سمپورن کرانتی Total Revolution کے علم بردار تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ ہندوستان کے لوگ ان کا مطلوبہ مکمل انقلاب لانے کے لیے بے قرار ہیں۔ اندراا حکومت راستہ کی رکاوٹ ہے۔ اندر حکومت ختم ہو جائے تو اس کے بعد مطلوبہ سماجی نظام نہایت آسانی سے قائم ہو جائے گا۔ ان کو اپنے اس اندازہ پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر فوج اور پولیس کو بغاوت پر ابھارنے کو بھی جائز سمجھنے لگے۔ اندرا گاندھی کی بعض غلطیوں نے ان کو موقع دیا اور دہ ۷۷ء میں اس حکومت کو ختم کرنے میں شان دار طور پر کامیاب ہو گئے۔ تاہم اس کامیابی کے معنی صرف یہ تھے کہ اقتدار اندرا اور بختے کے ہاتھ سے نکل کر مرار جی ڈیسائی اور کانتی ڈیسائی کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مطلوبہ سماجی نظام کا قیام پھر بھی خیالی امید ہی بنا رہا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد اگر چہ ذاتی طور پر پرکاش کا مقام اتنا بلند ہوا کہ ان کو لوک نائک کا پر فخر خطاب دیا گیا۔ تاہم اپنی تمام ظاہری کامیابیوں کے باوجود ۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلے گئے کہ ان کا مکمل انقلاب اپنی تمام تر دھوم کے باوجود جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا مزید یہ کہ جنتا پارٹی میں بہت جلد پھوٹ پڑگئی اور صرف ۲۸ ماہ بعد جنتا حکومت ٹوٹ گئی ۔ اپنی محبوب جنتا پارٹی کا یہ انجام جب ان کے علم میں آیا تو ان کی زبان سے نکلا: "باغ اجڑ گیا" (ہندوستان ٹائمس ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء) آخر میں وہ اتنے دل شکستہ ہو گئے کہ موت سے ایک دن پہلے اچوت پٹور دھن ان سے پٹنہ میں ملے اور ان کی خیریت پوچھی تو انھوں نے کہا: "میں کس طرح جی رہا ہوں، بس موت کا انتظار کر رہا ہوں" (ٹائمس آف انڈیا ۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء)
جے پرکاش نارائن کا یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ وہ ایک عبرت کا آئینہ ہے جس میں آپ اسی قسم کی بہت سی دوسری تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک مصلح جب "ظالم حکومت" کو ہٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو مشترک دشمنی کا جذبہ بہت سے مختلف الخیال عناصر کو اکٹھا کر دیتا ہے۔ اس طرح مصلح کی جماعت اقلیت میں ہونے کے باوجود متحدہ محاذ میں شامل ہو کر اکثریت حاصل کر لیتی ہے۔ مگر جب ظالم حکومت ہٹ جاتی ہے تو سب کا مفاد الگ ہو جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ اب مصلح کی جماعت اکیلی ہو کر دوبارہ اسی اقلیت کے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں وہ متحدہ محاذ بننے سے پہلے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ "ظالم" کو ہٹا کر بھی عادل کو اقتدار کی گدی پر بیٹھا جے پرکاش نارائن اور ان کی قسم کے دوسرے مصلحین کی شاندار کامیابی کے معاہد عبرتناک ناکامی کا سبب بنی ہے۔ حال دسمبر ۱۹۷۹
سوئی کے کارخانہ میں لوہے کے ایک ٹکڑے کو تقریباً ۲۰ مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے تب وہ سوئی بن کر تیار ہوتی ہے جس کو ایک آدمی سلائی کے کام میں استعمال کر سکے۔ اب اگر ایک جلد باز آدمی ہتھوڑے کی پہلی ہی ضرب سے سوئی بنانا چاہے تو مطلوبہ سوئی تو نہ بنے گی البتہ لوہے کا ٹکڑا ٹوٹ پھوٹ کر بے کار ہو جائے گا۔ کچھ معاملہ موجودہ زمانہ میں تعمیرات اور احیارِ ااسلام کی کوششوں کا ہوا ہے۔ ایک سو سال سے بھی زیادہ مدت کے پر شور ہنگاموں کے باوجود آج بھی ہمارا قافلہ اسی مقام پر ہے جہاں وہ ایک سو سال پہلے تھا۔ بلکہ شاید کچھ اور پیچھے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈر پہلی ہی ضرب میں ایک عمدہ چمک دار "سوئی" تیار کر لینا چاہتے ہیں۔ وہ ۲۰ مرحلوں" کے صبر آزما دور سے گزرنا نہیں چاہتے۔
انیسویں صدی میں کچھ لوگوں نے دیکھا کہ مغربی قومیں مسلم ملکوں کے اوپر قابض ہو گئی ہیں۔ انھوں نے سمجھا کہ بس لڑ بھڑ کر کسی طرح ان اجنبی قوموں کو نکال دو اور اس کے بعد اسلام کی عظمت کا دور دوبارہ واپس آجاۓ گا۔ بے شمار جانی و مالی نقصان کے بعد یہ مہم کامیاب ہوگئی، مگر سلام اور مسلمان جس مغلوبیت کی حالت میں پہلے تھے وہیں اب بھی باقی رہے۔ کیوں کہ جدید دنیا میں بالا دستی کا مقام حاصل کرنے کے لئے بہت سی علمی وعملی تیاریوں کی ضرورت تھی اور اس کے لئے ہمارے پر جوش لیڈروں نے کچھ نہیں کیا تھا۔
غیر مسلم اکثریت کے ملکوں میں لوگوں نے دیکھا کہ برسر اقتدار پارٹی کے زیرِ انتظام مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ۔ انھوں نے سمجھا کہ ہماری تمام مصیبتوں کی جڑ بس یہ پارٹی ہے جس کے ہاتھ میں ہر وقت ملک کا اقتدار ہے۔ پارٹی کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو ہماری تمام مصیبتیں ختم ہو جائیں گی۔ الیکشن کے موقع پر دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر انھوں نے سیاسی طوفان مچایا اور بالآخر یہ سر اقتدار پارٹی کو اقتدار سے ہٹا دیا۔ مگر اس کے بعد جو دوسری پارٹی منتخب ہو کر اقتدار کے منصب پر بیٹھی اس کے تحت بدستور اسلام اور مسلمان ظلم کا شکار ہوتے رہے کیوں کہ نئی منتخب پارٹی بھی اسی غیر مسلم اکثریت کے افراد سے بنی تھی جس سے پہلی پارٹی بنی تھی۔ پھر وہ پہلی پارٹی سے مختلف کیوں ہوتی ۔ یہی سیاسی ڈراما مسلم اکثریت کے ملکوں میں ایک اور شکل میں دہرایا گیا ہے۔ یہاں اسلامی مفکرین اور ملی قائدین نے دیکھا کہ جو مسلم شخصیت یا مسلم جماعت ان کے ملک میں حکومت کر رہی ہے اس کے ذریعہ حکومت بہت سی غیر اسلامی چیزیں رائج ہو رہی ہیں انھوں نے سمجھا کہ بس اس شخص کو کسی طرح مار ڈالو یا اس جماعت کو اقتدار سے ہٹا دو تو اس کے بعد ہر طرف نظام اسلام اور نظام مصطفیٰ کی ہوائیں چلنے لگیں گی۔ مختلف اندرونی و بیرونی عناصر کے اشتراک سے یہ مہم کامیاب ہو گئی۔ سب سے بڑے "مخالفِ اسلام کو ختم کر دیا گیا۔ مگر اس کے بعد جو دوسرا نظام آیا وہ بھی پہلے ہی کی طرح غیر اسلامی نظام تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو چلانے والے افراد ہمیشہ اپنے سماج سے نکل کر آتے ہیں نہ کہ اور جب سماج بگڑا ہوا ہو تو محض کسی فرد یا کسی سیاسی پارٹی کے بدلنے سے نظام نہیں بدل سکتا ۔ اس کے نتیجہ میں قوم کے اندر حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت پیدا ہوتی ہے۔ تعمیری مزاج کے بجائے سیاسی مزاج پر امن طریقوں کے بجائے تخریبی طریقے پرورش پاتے ہیں، اور جو مقصد ہے وہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
اے ایمان والو تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا جاتا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت۔ پھر جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ معروف کی پیروی کر دے اور خوبی کے ساتھ اس کو ادا کرے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے ایک آسانی اور مہربانی ہے۔ اب اس کے بعد بھی جو شخص زیادتی کرے، اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور اے عقل والو، قصاص میں تمھارے لئے زندگی ہے تاکہ تم بچو۔ تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ اپنے پیچھے، مال چھوڑ رہا ہو تو وہ معروف کے مطابق وصیت کرے اپنے ماں باپ کے لئے اور اپنے قرابت داروں کے لئے۔ یہ ضروری ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے۔ پھر جو کوئی وصیت کو سننے کے بعد اس کو بدل ڈالے تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا جس نے اس کو بدلا، یقینا اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ البتہ جس کو وصیت کرنے والے کی بابت یہ اندیشہ ہو کہ اس نے جانب داری یا حق تلفی کی ہے اور وہ آپس میں صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے قتل کے معاملہ میں اسلام میں قصاص کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی قاتل کے ساتھ وہی کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے۔ اس طرح ایک طرف آئندہ کے لئے قتل کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ کیوں کہ اپنی جان کا خوف آدمی کو دوسرے کی جان لینے سے روکتا ہے اور نتیجہ سب کی جانیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ قاتل کے قتل سے پورے معاشرہ کے لئے زندگی کی ضمانت پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف مقتول کے ورثاء کا انتقامی جذبہ ٹھنڈا ہو کر سماج میں کسی نئی تخریبی کارروائی کے امکان کو ختم کر دیتا ہے۔ تاہم قصاص کا معاملہ اسلام میں قابل راضی نامہ ہے۔ مقتول کے ورثاء چاہیں تو قاتل کو قتل کر سکتے ہیں، چاہیں تو دیت (مالی معاوضہ) لے سکتے ہیں اور چاہیں تو معاف کر سکتے ہیں۔ اس گنجائش کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ایک دوسرے کو بھائی سمجھنے کی فضا باقی رہے، ایک دوسرے کو حریف سمجھنے کی فضا کسی حال میں پیدا نہ ہو۔ نیز خون بہا کے اصول کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے مقتول کے وارثوں کو اپنے چلے جانے والے فرد خاندان کا ایک مالی بدل مل جاتا ہے جب کوئی مر جاتا ہے تو یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وراثت کا کیا جائے۔ اس سلسلے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اس کی وراثت کو اس کے رشتہ داروں میں معروف طریقہ سے تقسیم کر دیا جائے یہ گویا مال کا تقویٰ ہے۔ جب مرنے والوں کے رشتہ داروں تک حصہ چھوڑ اس کا چھوڑا ہوا مال پہنچ جائے تو اس سے معاشرہ میں یہ فضا بنتی ہے کہ از روئے حق جس کو جو دیا جانا چاہئے وہ دیا جا چکا ہے۔ اس طرح خاندان کے اندر ترکہ مال یا جائداد کے حصول کے لئے باہمی نزاع پیدا نہیں ہوتی، خاندان کا جو شخص قانونی اعتبار سے وارث نہ قرار پا تا ہو مگر اخلاقی اعتبار سے وہ مستحق ہو تو مرنے والے کو چاہئے کہ وصیت کے ذریعہ اس خلا کو پر کر دے۔ یہاں وراثت کے بارے میں معروف کے مطابق وصیت کرنے کا حکم ہے۔ آگے سورہ نساء میں ہر ایک کے حصہ کو قانونی طور پر معین کر دیا گیا ہے)
اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بنو گنتی کے چند دن ۔ پھر جو کوئی تم میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے۔ اور جن کو طاقت ہے تو ایک روزہ کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ جو کوئی خیر نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اور تم روزہ رکھو تو یہ تمھارے لئے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لئے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمھارے لئے آسانی چاہتا ہے، وہ تمھارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔ روزہ بیک وقت دو چیزوں کی تربیت ہے۔ ایک شکر، دوسرے تقویٰ۔ کھانا اور پانی اللہ کی بہت بڑی مگر عام حالات میں آدمی کو اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ روزہ میں جب وہ دن بھر ان چیزوں سے رکا رہتا ہے اور سورج ڈوبنے کے بعد شدید بھوک پیاس کی حالت میں کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھانا اور پانی اللہ کی کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ اس تجربہ سے اس کے اندر اپنے رب کے شکر کا بے پناہ جذبہ پیدا دوسری طرف یہی روزہ آدمی کے لئے تقویٰ کی تربیت بھی ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی دنیا کی زندگی میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ وہ ان چیزوں سے رکا رہے جن سے خدا نے روکا ہے اور وہی کرے جس کے کرنے کی خدا نے اجازت دی ہے۔ روزہ میں صرف رات کو کھانا اور دن کو کھانا پینا چھڑا دینا گویا خدا کو اپنے اوپر نگراں بتانے کی مشق ہے۔ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ رمضان کے مہینے میں وقتی طور پر چند چیزوں کو چھوڑ کر آدمی کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ساری عمر ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس کے رب کو ناپسند ہیں۔ قرآن بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو اللہ کی شکرگزاری کے قابل بناتا ہے اور یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دنیا میں متقیانہ زندگی گزار سکے۔
روزہ سے دلوں کے اندر نرمی اور شکستگی آتی ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ ان کیفیتوں کو محسوس کر سکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ روزہ کی پرمشقت تربیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اللہ کی شکرگزاری میں اس کا سینہ تڑپے اور اللہ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی جب آدمی اس نفسیاتی حالت کو پہنچتا ہے ، اسی وقت وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر ایسا شکر ادا کرے جس میں اس کے دل کی دھڑکنیں شامل ہوں۔ وہ ایسے تقویٰ کا تجربہ کرے جو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے کر دے۔ وہ اللہ کو ایسے بڑے کی حیثیت سے پائے جس میں اس کا اپنا وجود بالکل چھوٹا ہو گیا ہو۔
اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں ۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ تمھارے لئے روزہ کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا ۔ وہ تمھارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ نے جانا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم کو معاف کر دیا۔ تو اب تم ان سے ملو اور چاہو جو اللہ نے تمھارے لئے لکھ دیا ہے۔ اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے الگ ظاہر ہو جائے پھر پورا کرو روزہ رات تک۔ اور جب تم مسجد میں اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے خلوت نہ کرو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں تو ان کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ بچیں۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور ان کو حاکموں تک نہ پہنچاؤ تاکہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ تم کو مل جائے ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو ۔ ۱۸۶ - ۱۸۸ روزہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صبر کا عمل ہے اور صبر، یعنی حکم الہی کی تعمیل میں مشکلات کو برداشت کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی اس قلبی حالت کو پہنچتا ہے جو اس کو خدا سے قریب کرے اور اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواۓ جو قبولیت کو پہنچنے والے ہوں۔ اللہ کو وہی پاتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرے، اللہ تک اسی شخص کے الفاظ پہنچتے ہیں جس نے اپنی روح کے تاروں کو اللہ سے ملا رکھا ہو۔
شریعت آدمی کے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد نہیں کرتی۔ روزہ میں دن کے اوقات میں ازدواجی تعلق ممنوع ہونے کے باوجود رات کے اوقات میں اس کی اجازت ، افطار وسحر کے اوقات جاننے کے لئے جنتری کا پابند کرنے کے بجائے عام مشاہدہ کو بنیاد قرار دینا اسی قسم کی چیزیں ہیں۔ جزئی تفصیلات میں بندوں کو گنجائش دیتے ہوئے اللہ نے عمومی حدیں واضح فرما دی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ مقرر حدوں کا پوری طرح پابند رہے اور تفصیلی جزئیات میں اس روش کو اختیار کرے جو تقویٰ کی روح کے مطابق ہے۔
روزہ کے حکم کے فوراً بعد یہ حکم کہ "ناجائز مال نہ کھاؤ" بتاتا ہے کہ روزہ کی حقیقت کیا ہے۔ اصل مقصد آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ جہاں خدا کی طرف سے رکنے کا حکم ہو وہاں آدمی رک جائے، حتی کہ اگر حکم ہو تو جائز چیز سے بھی، جیسا کہ روزہ میں ہوتا ہے۔ اب جو شخص خدا کے حکم کی بنا پر حلال کمائی تک سے رک جائے وہ اسی خدا کے حکم کی بنا پر حرام کمائی سے کیوں نہ اپنے آپ کو روکے رکھے۔
مومن کی زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو ساری عمر کچھ چیزوں سے "افطار" کرنا ہے اور کچھ چیزوں سے مستقل طور پر "روزہ" رکھ لینا ہے۔ رمضان کا مہینہ اسی کی تربیت ہے۔ پھر روزہ کی محتاط زندگی اور اس کا پر مشقت عمل یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کا عبادت گزار بندہ وہ ہے جو تقویٰ کی سطح پر اللہ کی عبادت کر رہا ہو۔ اللہ کو پکارنے والا صرف وہ ہے جو قربانیوں کی سطح پر اللہ کی نزدیکی حاصل کرے۔
وہ تم سے چاندوں کی بابت پوچھتے ہیں۔ کہو کہ وہ اوقات ہیں لوگوں کے لئے اور حج کے لئے۔ اور نیکی یہ نہیں کہ تم گھروں میں آؤ چھت پر سے۔ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی پر ہیز گاری کرے ۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔ اور زیادتی نہ کر دو۔ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور قتل کرو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انھوں نے تم کو اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے منکروں کی۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد سختی نہیں ہے مگر ظالموں پر ۹۳-۱۸۹ چاند کا گھٹنا بڑھنا تاریخ جاننے کے لئے ہے نہ کہ توہم پرستوں کے خیال کے مطابق اس لئے کہ بڑھتے چاند کے دن مبارک ہیں اور گھٹتے چاند کے دن منحوس ۔ یہ آسمان پر ظاہر ہونے والی قدرت کی جنتری ہے تاکہ اس کو دیکھ کر لوگ اپنے معاملات اور اپنی عبادات کا نظام مقرر کریں۔ اسی طرح بہت سے لوگ ظاہری رسوم کو دینداری سمجھ لیتے ہیں۔ قدیم عربوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد اپنے اور آسمان کے درمیان کسی چیز کا حائل ہونا آداب احرام کے خلاف ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر وہ ایسا کرتے کہ جب احرام باندھ کر گھر سے باہر آجاتے تو دوبارہ دروازہ کے راستہ سے گھر میں نہ جاتے بلکہ دیوار کے اوپر سے چڑھ کر صحن میں داخل ہوتے۔ قسم کے ظاہری آداب کا نام دین داری نہیں۔ دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور زندگی میں اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کی پابندی کرے۔
مومن کو دین کا عامل بننے کے ساتھ دین کا مجاہد بھی بننا ہے۔ یہاں جس جہاد کا ذکر ہے وہ جہاد وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آیا۔ عرب کے مشرکین اتمام حجت کے باوجود دعوت رسالت سے انکار کرکے اپنے لئے زندگی کا حق کھو چکے تھے، نیز انھوں نے جارحیت کا آغاز کر کے اپنے خلاف فوجی اقدام کو درست ثابت کر دیا تھا اس بنا پر ان کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم ہوا۔ ” اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے ‘‘۔ کا مطلب یہ ہے کہ سرزمین عرب سے شرک کا خاتمہ ہو جائے اور دین توحید کے سوا کوئی دین وہاں باقی نہ رہے۔ اس حکم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عرب کو توحید کا دائمی مرکز بنا دیا۔
اہل ایمان کو جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ فریق مخالف کی طرف سے حملہ کا آغاز ہو چکا ہو۔ یہ کہ جب اہل ایمان غلبہ پالیں تو اس کے بعد ماضی پر کسی کے لئے کوئی سزا نہیں۔ ہتھیار ڈالتے ہی ماضی کے جرائم معاف کر دئے جائیں گے۔ اس کے بعد سزا کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جو آئندہ کسی قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے ۔ میں قتل کا حکم اور ہے اور جنگی حالات میں قتل کا حکم اور ۔
حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کا بدلہ ہے اور حرمتوں کا بھی قصاص ہے۔ پس جس نے تم پر زیادتی کی تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اور کام اچھی طرح کرو۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے اچھی طرح کام کرنے والوں کو ۹۵-۱۹۴ حرام مہینوں (محرم، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ) میں یا حرم مکہ کے حدود میں لڑائی گناہ ہے۔ مخالفین اسلام تمھارے خلاف کارروائی کرنے کے لئے اس کی حرمت کو توڑ دیں تو تم کو بھی حق ہے کہ قصاص کے طور پر تم ان کی حرمت کا لحاظ نہ کرو۔ مگر دشمن کے ساتھ دشمنی میں تم کو اللہ سے بے خوف نہ ہو جانا چاہیے۔ کسی حد کو توڑنے میں تم اپنی طرف سے ابتدا نہ کرو اور نہ کوئی ایسا اقدام کرو جو حد سے دوری سے زیادہ ہو۔ اللہ کی مدد کسی کو اسی وقت ملتی ہے جب کہ وہ اشتعال کے اوقات میں بھی اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنا رہے۔
قصاص اور ظلم میں یہ فرق ہے کہ قصاص فریق ثانی کی طرف سے کی ہوئی زیادتی کے برابر اور اس کے بقدر ہوتا جب کہ ظلم ان حد بندیوں سے باہر نکل جانے کا نام ہے۔ ایک شخص کو کسی سے تکلیف پہنچے تو وہ دوسرے کو اتنی ہی تکلیف پہنچا سکتا ہے جتنی اس کو پہنچی ہے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ نصیحت بری لگے تو گالی اور استہزار سے اس کا جواب دینا یا زبان وقلم کی شکایت کے بدلے میں جارحیت دکھانا تقویٰ کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح مالی نقصان کے بدلے جانی نقصان، معمولی چوٹ کے بدلے زیادہ بڑی چوٹ، ایک قتل کے بدلے بہت سے آدمیوں کا قتل، اس قسم کی تمام چیزیں ظلم کی تعریف میں آتی ہیں۔ مسلمان کے لئے برابر کا بدلہ (قصاص) جائز ہے مگر ظلم کسی حال میں جائز نہیں۔ اللہ کی راہ میں جدوجہد سب سے زیادہ جس چیز کا تقاضہ کرتی ہے وہ مال ہے۔ اور مال کی قربانی بلا شبہ آدمی کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ اس لئے حکم دیا کہ اللہ کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اس کی راہ میں خوب مال خرچ کرو اور اس کام کو اس کی بہتر سے بہتر صورت میں انجام دو۔ "اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو" سے مراد بخل ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو، کیوں کہ خرچ میں دل تنگ ہونا دنیا و آخرت کی بربادی ہے۔ آدمی مال خرچ کردینے کو ہلاکت سمجھتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا ہلاکت ہے۔ آدمی کے پاس جو کچھ ہے اگر وہ اس کو اللہ کے حوالے نہ کرے تو اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ کیوں اس کو آدمی کے حوالے کر دے گا۔ آدمی اپنی دولت کا استعمال صرف یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کو اپنی ذات پر یا اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے۔ اس ذہن کو قرآن ہلاکت بتاتا ہے۔ اس کے بجائے دولت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ دین کی ضرورتوں میں خرچ کیا جائے ۔ مال کو صرف اپنے ذاتی حوصلوں کی تکمیل میں خرچ کرنا فرد اور معاشرہ کو خدا کے غضب کا مستحق بناتا اس کے برعکس جب مال کو اللہ کے دین کی راہ میں خرچ کیا جائے تو فرد اور جماعت دونوں اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کے مستحق بنتے ہیں۔ خرچ کرنے والے کو اس کا فائدہ بے شمار صورتوں میں دنیا میں بھی حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔
اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے لئے۔ پھر اگر تم گھر جاؤ تو قربانی کا جانور میسر ہو وہ پیش کر دو اور اپنے سروں کو نہ منڈاؤ جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے۔ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ دے روزہ یا صدقہ یا قربانی کا۔ جب امن کی حالت ہو اور کوئی حج تک عمرہ کا فائدہ حاصل کرنا چاہے تو وہ قربانی پیش کرے جو اس کو میسر آئے۔ پھر جس کو میسر نہ آئے تو وہ حج کے ایام میں تین دن کے روزے رکھے اور سات دن کے روزے جب کہ تم گھروں کو لوٹو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جس کا خاندان مسجد حرام کے پاس آباد نہ ہو۔ اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ متعین مہینے ہیں۔ پس جس نے حج کا عزم کر لیا تو پھر اس کو حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی۔ اور جو نیک کام تم کرو گے اللہ اس کو جان لے گا۔ اور تم تقویٰ کا زاد راہ لو، بہترین زاد راہ تقویٰ کا زاد راہ ہے۔ اور اے عقل والو مجھ سے ڈرو ۔ زمانہ جاہلیت کے عربوں میں بھی حج کا رواج تھا۔ مگر وہ ان کے لئے گویا ایک قومی رسم یا تجارتی میلہ تھا نہ کہ اللہ واحد کی عبادت۔ مگر حج و عمرہ ہو یا اور کوئی عبادت، ان کی اصل قیمت اسی وقت ہے جب کہ وہ خالصتہً اللہ کے لئے ادا کی جائیں۔ جو شخص اپنی روزانہ زندگی میں اللہ کا پرستار بنا ہوا ہو جب وہ اللہ کی عبادت کے لئے اٹھتا ہے تو اس کی ساری نفسیات سمٹ کر اسی کے اوپر لگ جاتی ہیں۔ وہ ایک ایسی عبادت کا تجربہ کرتا ہے جو ظاہری طور پر دیکھنے میں تو آداب و مناسک کا ایک مجموعہ ہوتی ہے، مگر اپنی اندرونی روح کے اعتبار سے وہ ایک ایسی ہستی کا اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دینا ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو اور آخرت کی پکڑ کا اندیشہ جس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہو۔
مومن وہ ہے جو شہوت کے لئے جینے کے بجائے مقصد کے لئے جینے لگے۔ وہ اپنے معاملات میں خدا کی نافرمانی سے بچنے والا ہو اور اجتماعی زندگی میں آپس کی لڑائی جھگڑے سے بچارہے۔ حج کا سفر ان اخلاقی اور صفائی کی تربیت کے لئے بہت موزوں ہے، اس لئے اس میں خصوصی طور پر ان کی تاکید کی گئی۔ اسی طرح حج میں سفر کا پہلو لوگوں کو سامان سفر کے اہتمام میں لگا دیتا ہے۔ مگر اللہ کے مسافر کی سب سے بڑی زاد راہ تقویٰ ہے۔ سامان سفر کے پورے اہتمام کے ساتھ نکلے، دوسرا شخص اعتماد علی اللہ کا سرمایہ لے کر نکلے تو دوران سفر دونوں کی نفسیات یکساں نہیں ہو سکتیں ۔
"اے عقل والو میرا تقویٰ اختیار کرو"، سے معلوم ہوا کہ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق عقل سے تقویٰ کسی ظاہری ہیئت کا نام نہیں، یہ عقل یا شعور کی ایک حالت ہے۔ انسان جب شعور کی سطح پر اپنے رب کو پا لیتا ہے تو اس کا ذہن اس کے بعد خدا کے جلال و جمال سے بھر جاتا ہے۔ اس وقت روح کی لطیف سطح پر جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں انھیں کا نام تقویٰ ہے ۔