البقرہ ۲
Al-Risala, December 1979, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرو۔ پھر جب تم لوگ عرفات سے واپس ہو تو اللہ کو یاد کرو مشعر حرام کے نزدیک۔ اور اس کو یاد کرو جس طرح اللہ نے بتایا ہے۔ اس سے پہلے یقیناً تم راہ بھٹکے ہوئے لوگوں میں تھے۔ پھر طواف کو چلو جہاں سے سب لوگ چلیں اور اللہ سے معافی مانگو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا پھر جب تم اپنے حج کے اعمال پورے کر لو تو اللہ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پس کوئی آدمی کہتا ہے : اے ہمارے رب ہم کو اسی دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کچھ اور کوئی آدمی ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ اور اللہ کو یاد کرو مقرر دنوں میں۔ پھر جو شخص جلدی کر کے دو دن میں مکہ واپس آجائے اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص ٹھہر جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں یہ اس کے لئے ہے جو اللہ سے ڈرے۔ اور تم اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تم اسی کے پاس اکٹھا کئے جاؤ گے۔ اصل چیز اللہ کا تقویٰ ہے۔ کسی کے اندر یہ مطلوب حالت موجود ہو تو اس کے بعد حج کے دوران معاشی ضرورت کے تحت اس کا کچھ کاروبار کر لینا یا بعض مراسم حج کی ادائیگی میں کسی کا آگے یا کسی کا پیچھے ہو جانا کوئی حرج پیدا نہیں کرتا۔ حج کے دوران جو فضا جاری رہنا چاہئے وہ ہے اللہ کا خوف، اللہ کی یاد، اللہ کی نعمتوں کا شکر، اللہ کے لئے حوالگی کا جذبہ۔ حج کے دوران کوئی ایسا فعل نہیں ہونا چاہئے جو ان کیفیات کے خلاف ہو۔ شخص یا گروہ کے لئے عبادت کی ادائیگی میں امتیاز، آباؤ اجداد کے کارنامے بیان کرنا جو گویا بالواسطہ طور پر اپنے کو نمایاں کرنے کی ایک صورت ہے۔ یہ چیزیں ایک ایسی عبادت کے ساتھ بے جوڑ ہیں جو یہ بتاتی ہو کہ تمام انسان یکساں ہیں، جس میں اس بات کا اعلان کیا جاتا ہو کہ تمام بڑائی صرف اللہ کے لئے ہے۔ حج کے زمانہ میں بھی اگر آدمی ان چیزوں کی تربیت حاصل نہ کرے تو زندگی کے بقیہ لمحات میں وہ کس طرح ان پر قائم ہو سکے گا۔ دعائیں، خاص طور پر حج کی دعائیں، آدمی کی اندرونی حالت کا اظہار ہیں۔ کوئی شخص آخرت کی عظمتوں کو اپنے دل میں لئے ہوئے حج رہا ہو تو حج کے مقامات پر اس کے دل سے آخرت والی دعائیں ابلیں گی۔ اس کے برعکس جو شخص دنیا کی چیزوں میں اپنا دل لگائے ہوئے ہو، وہ حج کے مواقع پر اپنے خدا سے سب سے زیادہ جو چیز مانگے گا وہ وہی ہوگی جس کی تڑپ لئے ہوئے وہ وہاں پہنچا تھا۔ اور سب سے بہتر دعا تو یہ ہے کہ آدمی اپنے رب سے کہے کہ خدایا دنیا میں تیرے نزدیک جو چیز بہتر ہو وہ مجھ کو دنیا میں دیدے اور آخرت میں تیرے نزدیک جو چیز بہتر ہو وہ مجھ کو آخرت میں دے دے اور اپنے عذاب سے مجھ کو بچا لے۔
تم اسی کے پاس اکٹھا کئے جاؤ گے" یہ حج کا سب سے بڑا سبق ہے جو عرفات کے میدان میں دنیا بھر کے لاکھوں انسانوں کو بیک وقت جمع کر کے دیا جاتا ہے۔ عرفات کا اجتماع قیامت کے اجتماع کی ایک تمثیل ہے۔
اور لوگوں میں کوئی ہے کہ اس کی بات دنیا کی زندگی میں تم کو خوش لگتی ہے اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہے، حالاں کہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتیوں اور جانوں کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو وقار اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ پس ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا اور لوگوں میں سے کوئی ہے کہ اللہ کی خوشی کی تلاش میں اپنی جان کو بیچ دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ ۲۰۴ - ۲۰۶ جو شخص مصلحت کو اپنا دین بنائے اس کی باتیں ہمیشہ لوگوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کی پسند کو دیکھ کر اس کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ یہ دیکھ کر کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ اس کے سامنے کوئی مستقل معیار نہیں ہوتا اس لیے وہ مخاطب کی رعایت سے ہر وہ انداز اختیار کر لیتا ہے جو مخاطب پر اثر ڈالنے والا ہو۔ وفادار نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے یہ مشکل نہیں رہتا کہ دل میں کوئی حقیقی جذبہ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ زبان سے خوبصورت باتیں کرے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بات کے اسٹیج پر وہ مصلح کے روپ میں نظر آتا ہے اور عمل کے میدان میں اس کی سرگرمیاں فساد کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس کی وجہ اس کا تضاد ہے۔ عملی نتائج ہمیشہ عمل سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ سے۔ وہ اگرچہ زبان سے حق پرستی کے الفاظ بولتا ہے۔ مگر عمل کے اعتبار سے وہ جس سطح پر ہوتا ہے وہ صرف ذاتی مفاد یہ چیز اس کے قول وعمل میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ بات کے مقام سے ہٹ کر جب وہ عمل کے مقام پر آتا ہے تو اس کے مفاد کا تقاضا کھینچ کر اس کو ایسی سرگرمیوں کی طرف لے جاتا ہے جو صرف تخریب پیدا کرنے والی ہیں۔ وہ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر دوسروں کا استحصال کرتا ہے۔ وہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو جذباتی باتوں کی شراب پلاتا ہے۔ وہ اپنی قیادت قائم کرنے کی خاطر پوری قوم کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ وہ تعمیر کے بجائے تخریب کی سیاست چلاتا ہے کیوں کہ اس طرح زیادہ آسانی سے عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کے مفاد اور مصلحت کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کیا۔ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کیوں کہ اس میں ان کو اپنے وقار کا بت ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ ظاہری طور پر نرم باتوں کے پیچھے ان کی حکیمانہ نفسییات ان کو ایک ایسے داعی حق کے سامنے جھکنے سے روک دیتی ہے جس کو وہ اپنے سے چھوٹا سمجھتے ہیں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اللہ کی رضا کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کرتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے عادات وخیالات سے دست بردار ہو کر خدا کی باتوں کو قبول کرتا ہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے حوالے کر کے اس کے بدلے بے مال بن جانے کو گوارا کر لیتا وہ نداجی دین کو رد کر کے خدا کے بے آمیز دین کو لیتا ہے، خواہ اس کی وجہ سے اس کو غیر مقبولیت پر راضی ہونا پڑے۔ مصلحت پرستی کے بجائے اعلان حق کو اپنا شیوہ بناتا ہے، اگرچہ اس کے نتیجہ میں وہ لوگوں کے عتاب کا شکار ہوتا ہے۔