Al-Risala · December 1979

تذکیر القرآن

Al-Risala, December 1979, pp. 27–29

By Maulana Wahiduddin Khan

اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، وہ تمھار اکھلا ہوا دشمن اگر تم پھسل جاؤ بعد اس کے کہ تمھارے پاس واضح دلیلیں آچکی ہیں تو جان لو کہ اللہ زبردست ہے اور حکمت کیا لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اللہ بادل کے سائبانوں میں آئے اور فرشتے بھی آ جائیں اور معاملہ کا فیصلہ کر دیا جائے اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے ان کو کتنی کھلی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص اللہ کی نعمت کو بدل ڈالے جب کہ اس کے پاس آچکی ہو تو اللہ یقیناً سخت سزا دینے والا ہے۔ خوش نما کر دی گئی ہے دنیا کی زندگی ان لوگوں کی نظر میں جو منکر ہیں اور وہ ایمان والوں پر ہنستے ہیں۔ حالاں کہ جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان کے مقابلہ میں اونچے ہوں گے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب روزی دے دیتا ہے۔ ۱۲ - ۲۰۸ اسلام کو اختیار کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ تحفظات اور مصلحتوں کا لحاظ کئے بغیر اس کو اپنایا جائے ۔ اسلام جس چیز کو کرنے کو کہے اس کو کیا جائے اور جس چیز کو چھوڑنے کو کہے اس کو چھوڑ دیا جائے ۔ یہ کسی آدمی کا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اسی حد تک اختیار کرے جس حد تک اسلام اس کی زندگی سے ٹکراتا نہ ہو ۔ وہ اس اسلام کو لے جو اس کے لئے مفید یا کم از کم بے ضرر ہو اور اس اسلام کو چھوڑے رہے جو اس کے محبوب عقائد، اس کی پسندیدہ عادات، اس کے دنیوی فائدے، اس کے شخصی وقار، اس کی قائدانہ مصلحتوں کو مجروح کرتا ہو۔ آدمی ابتداءً پوری طرح ارادہ کر کے اسلام کو اختیار کرتا ہے۔ وہ وقت آتا ہے کہ وہ اپنے فکری ڈھانچہ کو توڑے یا اپنے مفاد کو نظر انداز کر کے اسلام کا ساتھ دے تو وہ پھسل جاتا وہ ایسے اسلام پر ٹھہر جاتا ہے جس میں اس کے مفادات بھی مجروح نہ ہوں اور اسلام کا تمغہ بھی ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ اسلام کے پیغام کی صداقت پر یقین کرنے کے لئے اگر وہ دلائل چاہتے ہیں تو دلائل پوری طرح دئے جا چکے ہیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کو معجزات دکھائے جائیں تو جو شخص کھلے کھلے دلائل کو نہ مانے اس کو چپ کرنے کے لئے معجزات بھی ناکافی ثابت ہوں گے۔ اس کے بعد آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ یہ کہ خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ سامنے آجائے۔ ایسا ہوگا تو وہ کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ فیصلہ کا وقت ہوگا نہ کہ عمل کرنے کا۔ انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ دیکھے بغیر محض دلائل کی بنیاد پر مان لے۔ اگر اس نے دیکھ کر مانا تو اس ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔ وہ لوگ جو مصلحتوں کو نظر انداز کر کے اسلام کو اپنائیں اور وہ لوگ جو مصلحتوں کی رعایت کرتے ہوئے مسلمان بنیں، دونوں کے حالات یکساں نہیں ہوتے۔ پہلا گروہ اکثر دنیوی اہمیت کی چیزوں سے خالی ہو جاتا ہے جب کہ دوسرے گروہ کے پاس قسم کی دنیوی رونقیں جمع ہو جاتی ہیں۔ یہ چیز دوسرے گروہ کو غلط فہمی میں ڈال دیتی ہے۔ وہ اپنے کو بر تر خیال کرتا ہے اور پہلے گروہ کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ مگر یہ صورت حال انتہائی عارضی ہے۔ موجودہ دنیا کو توڑ کر جب نیا بہتر نظام نے گاتو وہاں آج کے بڑے پست کر دئے جائیں گے اور وہی لوگ بڑائی کے مقام پر نظر آئیں گے جن کو آج چھوٹا سمجھ لیا گیا تھا۔

لوگ ایک امت تھے۔ انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے، اور ان کے ساتھ اتاری کتاب حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کر دے ان باتوں کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ یہ اختلافات انھیں لوگوں نے کیے جن کو حق دیا گیا تھا، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات آ چکی تھیں، آپس کی ضد کی وجہ سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق سے حق کے معاملے میں ایمان والوں کو راہ دکھائی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تمھارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو، اللہ کی مدد قریب دین میں اختلاف تعبیر و تشریح کے اختلاف سے شروع ہوتا ہے۔ ہر ایک اپنے ذہنی سانچے کے مطابق خدا کے دین کا ایک تصور قائم کر لیتا ہے۔ ایک ہی کتاب ہدایت کو مانتے ہوئے بھی لوگوں کی رائیں الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ وقت اللہ اپنے چنے ہوئے بندے کے ذریعہ امر حق کا اعلان کراتا ہے۔ یہ آواز اگر چہ انسان کی زبان میں ہوتی ہے اور بظاہر عام آدمیوں جیسے ایک آدمی کے ذریعہ بلند کی جاتی ہے۔ تاہم جو سچے متلاشی حق ہیں وہ اس کے اندر شامل خدائی گونج کو پہچان لیتے ہیں اور اپنے اختلاف کو بھول کر فورا اس کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو اپنے خود ساختہ دین کے ساتھ اپنے کو اتنا زیاوہ وابستہ کر چکا ہوتا ہے کہ اس کے اندر یہ جذبہ ابھر آتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں۔ اس کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اسی چیز کا انکار کر دیتا ہے جس کا وہ اپنے خیال کے مطابق علم بردار بنا ہوا تھا۔

حق جب روشن دلائل کے ساتھ آ جائے اور اس کے با وجود آدمی اس کا ساتھ نہ دے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو نظر آتا ہے کہ اس کا ساتھ دینے میں اس کی خوش گمانیوں کا محل ڈھ جائے گا۔ اس کے مفادات کا نظام ٹوٹ جائے گا۔ اس کی آسودہ زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ اس کا وقار باقی نہیں رہے گا۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو اللہ کو اپنے وفادار بندوں سے مطلوب ہے۔ جس راستہ کی دشواریوں سے گھبرا کر آدمی اس پر آنا نہیں چاہتا ہی وہ راستہ ہے جو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت کی واحد قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے۔ آدمی اپنے وجود کو فکر و عمل کے جن نقشوں کے حوالے کئے ہوئے ہے وہاں سے اکھاڑ کر جب وہ اس کو خدا کے نقشہ میں لانا چاہتا ہے تو اس کی پوری شخصیت ہل جاتی ہے۔ اس میں اس وقت اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے جب کہ اس کے ساتھ دہ خدا کے دین کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے ۔ داعی بننا بالفاظ دیگر دوسروں کے اوپر ناصح اور ناقد بننا ہے اور اپنے خلاف نصیحت اور تنقید کو سننا ہر زمانہ میں انسان کے لیے مبغوض ترین امر رہا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مدعو کی طرف سے اتنا شدید رد عمل سامنے آتا ہے ، جو داعی کے لیے ایک بھو نچال سے کم نہیں ہوتا۔

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو تو اسی میں حق ہے تمھارے ماں باپ کا اور رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا۔ اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کو معلوم ہے۔ لڑائی کا حکم ہوا ہے اور وہ تم کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمھارے لئے اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لئے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ ۱۷ - ۲۱۵ ۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کے جان اور مال کے استعمال کا بہترین مصرف اس کے بیوی بچے ہیں، وہ اپنے اثاثہ کو اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں میں لٹا کر خوش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس شریعت کہتی ہے کہ اپنے جان اور مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ یہ دونوں مدیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک خود اپنے اوپر خرچ کرنا ہے اور دوسرا غیروں کے اوپر۔ ایک اپنی طاقت کو دنیا کی ظاہری چیزوں کے حصول پر لگاتا ہے اور دوسرا آخرت کی نظر نہ آنے والی چیزوں پر۔ مگر انسان کو جو چیز ناپسند ہے وہی اللہ کی نظر میں بھلائی ہے۔ کیوں کہ اس کی اگلی وسیع تر زندگی میں اس کو نفع دینے والی ہے۔ اور انسان کو جو چیز پسند ہے وہ اللہ کی نظر میں برائی ہے کیوں کہ اس کا جو کچھ فائدہ ہے اسی عارضی دنیا میں ہے، آخرت میں اس سے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لئے صحیح ہے ۔ آدمی آزاد اور بے قید زندگی کو پسند کرتا ہے، حالاں کہ اس کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی رسی میں باندھ کر رکھے۔ آدمی اپنی تعریف کرنے والے کو دوست بناتا ہے، حالاں کہ اس کے لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو اپنا دوست بنائے جو اس کی غلطیوں کو اسے بتاتا ہو۔ آدمی ایک حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس طرح اس نے لوگوں کی نظر میں اپنے وقار کو بچا لیا۔ حالاں کہ اس کے لئے زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ اپنی عزت کو خطرہ میں ڈال کر کھلے دل سے حق کا اعتراف کرلے۔ آدمی محنت اور قربانی والے دین سے بے رغبت رہتا ہے اور اس دین کو لے لیتا ہے جس میں معمولی باتوں پر جنت کی خوش خبری مل رہی ہو۔ حالاں کہ اس کے لئے زیادہ بہتر تھا کہ وہ محنت اور قربانی والے دین کو اختیار کرتا۔ آدمی ”زندگی“ کے مسائل کو اہمیت دیتا ہے، حالاں کہ زیادہ بڑی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی ”موت“ کے مسائل کو اہمیت دے۔

”اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ان سطحی جذبات و محرکات سے بلند ہے جن سے بلند نہ ہونے کی وجہ سے انسان کی رائے متاثر رائے بن جاتی ہے، وہ صحیح رخ کو چھوڑ کر غلط رخ کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اللہ کا فیصلہ ہر قسم کی غیر متعلق چیزوں کی ملاوٹ سے پاک ہے۔ وہ بے آمیز فیصلہ ہے۔ اس لئے اس کے برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ انسان کے فیصلے طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے مغلوب رہتے ہیں۔ وہ پست محرکات کے زیر اثر رائیں قائم کرتا ہے۔ اس لئے انسان کی رائے اکثر اوقات نہ مبنی برحق ہوتی ہے اور نہ مطابق واقعہ۔ جو کہے اس کو تم حق سمجھو اور اس کے مقابلہ میں اپنے خیال کو چھوڑ دو۔

Printed page