Al-Risala · December 1979

جہالت کے مقابلہ میں صبر اور برد باری

Al-Risala, December 1979, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

زید بن سعنہ منہ مدینہ کے ایک یہودی عالم تھے جو بعد کو مسلمان ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں نے ان کے چہرہ پر نبوت کی تمام علامتیں پالیں۔ تاہم دو علامت باقی رہ گئی تھی ۔ یہ کہ ان پر برد باری غالب رہے گی ۔ کسی کا جہالت میں زیادتی کرنا آپ کی بردباری کو اور زیادہ بڑھائے گا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ آپ آرہے ہیں اور آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب بھی ہیں۔ اتنے میں ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ وہ بظاہر بدوی معلوم ہوتا تھا، اس نے کہا اے خدا کے رسول میری جماعت فلاں قریہ میں اسلام لائی ہے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ

اگر تم اسلام لاؤ گے تو تم پر رزق کی وسعت ہو جائے گی۔ اب وہاں قحط پڑ گیا ہے۔ مجھ ڈر ہے کہ وہ لالچ میں اسلام کو چھوڑ نہ دیں جس طرح لالچ میں انھوں نے اس کو اختیار کیا تھا۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کچھ بھیج دیجئے تاکہ ان کی اعانت ہو۔ آپ نے علی بن ابی طالبؓ کی طرف دیکھا۔ انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول اس مال میں سے تو کچھ باقی نہیں رہا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میں نے قریب جاکر کہا "اے محمد! اگر آپ چاہیں تو کھجوروں کے معاوضہ میں مجھے سے رقم لے لیں"۔ آپ نے اتفاق فرمایا اور میں نے ۸۰ مثقال سونا آپ کو ادا کیا جو آپ نے سارا کا سارا اس آدمی کے حوالہ کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ان کی مدد کرو اور انصاف کے مطابق ان کے درمیان تقسیم کر دو۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میعاد سے دو تین دن پہلے میں نے پھر آپ کو ایک دیوار کے قریب پالیا۔ ساتھ آپ کے بہت سے اصحاب بھی تھے۔ میں آپ کے پاس پہنچا۔ میں نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور سختی کے ساتھ بولا: اے میرا حق کیوں نہیں ادا کرتے۔ خدا کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں سارے بنو عبد المطلب ٹال مٹول کرنے والے ہیں"، عمر رضی اللہ عنہ اس وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یہ سن کر سخت غصہ میں آگئے انھوں نے کہا: اے خدا کے دشمن! تم رسول اللہ ﷺ کے لئے وہ کلمات کہہ رہے ہو جو میں سن رہا ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر آپ کا لحاظ نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے تیرا سر توڑ دیتا"۔ تا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سکون کے ساتھ مجھے دیکھتے رہے۔ پھر آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :

یا عمر، انا و هو کنا احوج الى غير هذا ، ان اے عمر! میں اور زید دونوں کسی اور رویہ کے زیادہ مستحق تأمرني بحسن الاداء وتأمره بحسن التقاضى - تھے تم مجھ سے بہتر ادائیگی کے لئے کہتے اور زید سے بہتر اذهب به یا عمر، فاعطہ حقه وزده عشرين تقاضے کے لئے۔ اے عمر، ان کو لے جاؤ۔ ان کا حق ادا کر دو اور ۲۰ صاع کھجور زیادہ دینا۔ کیوں کہ تم نے ان (طبرانی، ابن ماجه) کو ڈرایا دھمکایا ہے۔

Printed page