Al-Risala · December 1979

منہ پر تعریف کرنا ہلاکت ہے

Al-Risala, December 1979, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن ابی الدنیا نے حضرت حسن سے نقل کیا ہے۔ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کی تعریف کرنے لگا آپ نے فرمایا : تهلكنى وتهلك نفسك تو مجھ کو ہلاک کرتا ہے اور خود بھی ہلاک ہوتا ہے (کنز العمال جلد ۲) تعریف سے غلط فہمی میں نہ پڑنا ضبہ بن محصن عنوی تابعی کہتے ہیں ۔ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا : (انت خير من ابی بكر آپ ابو بکر سے بہتر ہیں) یہ سن کر وہ رونے لے۔ انھوں نے کہا : خدا کی قسم ابو بکر کی ایک رات اور دن کا ایک دن عمر کی تمام زندگی سے بہتر ہے کیا میں تم کو بتاؤں کہ وہ رات اور دن کون سے ہیں۔ میں نے کہا: ہاں اے امیر المومنین انھوں نے کہا۔ ان کی رات تو وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ والوں سے بھاگ کر رات کو نکلے اور ابو بکر ان کے ساتھ تھے۔ ان کا دن وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور عرب مرتد ہو گئے ۔ نے کہا، ہم نماز پڑھیں گے مگر زکوٰۃ نہ دیں گے۔ میں ابو بکر رض کے پاس آیا اور کہا ، اے خلیفہ رسول ! ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیجئے ۔ انھوں نے جواب دیا : تم زمانہ جاہلیت میں بہادر تھے ، اب تم زمانہ اسلام میں بزدل ہو گئے، خدا کی قسم میں اس وقت تک ان سے جہاد کروں گا جب تک میرے ہاتھ میں تلوار پکڑنے کی طاقت ہے اگر انھوں نے ایک رسی دیںے سے بھی انکار کیا (کنز العمال جلد ۳)

Printed page