صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے
Al-Risala, December 1979, pp. 34–41
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن ماجہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی اس نے آپ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا جو آپ کے ذمہ تھا۔ اس نے تقاضہ کرتے ہوئے کہا: اگر آپ نے ادا نہ کیا تو میں آپ کے ساتھ سختی کروں گا۔ آپ کے اصحاب نے اس اعرابی کو ڈانٹا اور کہا: تجھ پر افسوس ہے۔ کیا تو جانتا نہیں کہ تو کس سے بات کر رہا ہے۔ اس نے کہا: انی اطلب حقی میں تو اپنا حق مانگ رہا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : هلا مع صاحب الحق كنتم تم لوگ صاحب حق کے ساتھ کیوں نہ ہوئے۔ پھر آپ نے خولہ بنت قیس کے پاس آدمی بھیج کر کہلا یا کہ اگر تمھارے پاس کھجوریں ہوں تو ہم کو ادھار دے دو ۔ ہمارے پاس کھجوریں آئیں گی تو ہم ادا کر دیں گے ۔ چنانچہ ان سے کھجوریں لے کر اعرابی کو دین اور اس کو کھانا بھی کھلایا۔ اعرابی نے کہا: آپ نے وفا کی، ، اللہ بھی آپ کے ساتھ وفا کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ سب سے بہتر ہیں جو حق کو خندہ
پیشانی سے ادا کرتے ہیں۔
لا قدس اللہ امۃ لا یاخذ ضعیفہا حقہ من اللہ اس امت کو بابرکت نہیں کرتا جس میں اس کا کمزور شدیدھا ولا یتعتهه (الترغیب والترہیب) اس کے قوی سے اپنا حق بلا زحمت نہ لے سکے۔ تعریف سے خود پسندی کے بجائے تواضع پیدا ہوتا ابو نعیم نے نافع ی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ایک شخص عبداللہ بن عمر رض کے سامنے ان کی تعریف کرنے لگا اور کہا: یا خیر الناس، یا ابن خیر الناس (اے لوگوں میں بہتر، اے لوگوں میں بہتر کے بیٹے) ابن عمر نے فرمایا: ما انا بخیر الناس ولا ابن خیر الناس۔ ولکنی عبد میں لوگوں میں بہتر نہیں ہوں نہ لوگوں میں بہتر کا بیٹا ہوں۔ من عباد اللہ ارجو اللہ تعالی و اخافه۔ واللہ من بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بنوہ ہوں، اللہ سے امید تزالوا بالرجل حتى تهلکوہ (حلیۃ الاولیاء جلد ۱) لگائے ہوئے ہوں اور اس سے ڈرتا ہوں۔ خدا کی قسم تم آدمی کی تعریف کر کر کے اس کو ہلاک کر دو گے۔
اس معاشرہ میں کوئی بھلائی نہیں جہاں نصیحت کو برا مانا جائے ابن عساکر نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا: تمھارا آج کا معروف گزرے ہوئے زمانہ کا منکر ہے۔ اور تمھارا آج کا منکر آنے والے زمانہ کا معروف ہوگا۔ بے شک تم لوگ اس وقت تک حق پر رہو گے جب تک تم منکر کو پہچانتے رہوگے اور معروف کا انکار نہ کروگے۔ اور جب تک تمھارا یہ حال رہے گا کہ تمھارا عالم کھڑا ہو کر تم کو نصیحت کرے گا اور اس کو ہلکا نہ سمجھا جائے گا۔ (وما قام عالمکم يتکلم بينکم غير مستخف ، کنز العمال جلد ۲ صفحہ ۱۳۰)
حکمران سے ٹکرانے کے بجائے اپنے دائرہ میں کام کرنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ابو ذر! جب ایسا ہوگا کہ تمھارے امیر عام لوگوں سے زیادہ حصہ لیں گے، اس وقت تم کیا کرو گے۔ حضرت ابوذرؓ نے جواب دیا: اے خدا کے رسول میں تلوار سے کام لوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم تلوار سے کام لینے کے بجائے صبر سے یہاں تک کہ تم (آخرت میں) میرے پاس آجاؤ۔ " حضرت ابو ذر رض اگر چہ حق گوئی سے کبھی نہ رکے مگر انھوں نے حاکم وقت کے خلاف کبھی تلوار نہیں اٹھائی۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ نصیحت کی بات کہنے میں کسی کا خوف نہ کرو تم میں سے کوئی اپنے آپ کو اس امر میں حقیر نہ سمجھے کہ وہ کسی بات کو دیکھے جس کے متعلق اس کا فرض ہو کہ وہ امر حق کو ظاہر کرے، مگر اپنی کم زوری کے خیال سے دہ چپ رہے۔ قیامت میں جب وہ خدا کے سامنے حاضر ہوگا اور وہ اس موقع کو بھول چکا ہوگا، خدا اس سے پوچھے گا: تو نے سچائی کی بات کیوں نہ کہی۔ وہ کہے گا کہ پر وردگار لوگوں کے خدا فرمائے گا: کیا خدا تیرے سامنے نہ تھا جس سے تو ڈرتا۔
(انگریزی سے ترمہمہ)
مسلم مورخین کے مطابق، محمد ۲۰ اپریل ۵۷۱ کو عرب کے صحرا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نام کا مطلب ہے بہت تعریف کیا ہوا۔ میرے نزدیک وہ تمام فرزندانِ عرب میں سب سے زیاوہ عالی دماغ انسان تھے۔ کے اس ناقابلِ عبور صحرا میں جتنے شاعر اور بادشاہ ان سے پہلے یا ان کے بعد ہوئے، ان سب پر وہ دہر جہان زیادہ فوقیت رکھتے تھے۔ محمد کا ظہور ہوا تو عرب ایک صحرا تھا، وہ کچھ بھی نہ تھا۔ خالی صحرا سے محمد کی طاقت در روح نے ایک نئی دنیا بنائی۔ نئی زندگی، نیا کلچر، نئی تہذیب اور نئی سلطنت پیدا کی جو مراکش سے انڈریٹک تک پھیلی ہوئی تھی اور جس نے تین براعظموں (ایشیا، افریقہ، یورپ) کے خیالات اور زندگی کو متاثر کیا۔
میری اس تحریر کا موضوع ایک ایسے مذہب کے اصولوں کی بابت لکھنا ہے جو تاریخی ہے اور اس کا پیغمبر بھی ایک تاریخی شخصیت ہے۔ سرولیم میور جیسا ایک معاند ناقد بھی قرآن کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتا ہے: "دنیا میں غالباً قرآن کے سوا کوئی دوسری کتاب نہیں ہے جس کا متن بارہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اس درجہ خالص - صورت میں محفوظ ہو" میں بھی اضافہ کروں گا کہ حضرت محمد ایک تاریخی شخصیت ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر واقعہ نہایت احتیاط سے منضبط کیا گیا ہے حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر دی گئی ہیں۔ آپ کی زندگی اور آپ کا کام پراسراریت کے پردہ میں چھپا ہوا نہیں ہے۔ یہ ضرورت نہیں ہے کہ ایک شخص صحیح معلومات کے لئے اس مشکل جم کو سر کرے کہ وہ بھس کے ڈھیر میں سے چھان کر سچائی کے دانے نکالے۔
میرا کام اس لئے بھی ہلکا ہو چکا ہے کہ وہ زمانہ اب بہت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب کہ کچھ ناقدین سیاسی اور غیر سیاسی وجوہ سے اسلام کو بہت بگاڑ کر پیش کرتے تھے۔ پروفیسر ہیوان "کیمبرج میڈیول ہسٹری" میں لکھتے ہیں " محمد اور اسلام کے بارے میں جو یورپ میں ۱۹ ویں صدی کے آغاز سے پہلے چھپتی تھیں آج ان کو محض قلعی عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام اور تلوار کا نظریہ آج کہیں بھی قابل لحاظ نہیں سمجھا جاتا - اسلام کا یہ اصول کہ مذہب میں کوئی زبردستی نہیں، آج سب کو پوری طرح معلوم ہے۔ مشہور مورخ گبن نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی طرف ایک مجرمانہ اصول منسوب کیا جاتا رہا ہے کہ ہر مذہب کو تلوار کے زور سے ختم کر دیا جائے یہ مگر گبن کہتا ہے کہ جہالت اور تعصب کا یہ الزام قرآن سے، مسلم فاتحین کی تاریخ سے نیز مسلم عوام کے رویہ سے غلط ثابت ہوتا ہے جو کہ ہمیشہ قانونی اور سماجی طور پر مسیحی عبادت کے ساتھ رواداری کا طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں محمد کی زندگی کی عظیم کامیابی صرف اخلاقی طاقت کے ذریعہ ہوئی ، تلوار کی کسی مار کے بغیر۔
قدیم زمانہ میں عربوں کا یہ حال تھا کہ اتنی معمولی سی بات پر دہ چالیس سال تک لڑتے رہتے کہ ایک قبیلہ کا ایک اونٹ بھٹک کر دوسرے قبیلہ کی چراگاہ میں چلا گیا۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے ستر ہزار آدمی مارے گئے
اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ دونوں قبیلوں کی نسل ختم ہو جائے گی۔ ایسے جھگڑا لو عربوں کو پیغمبر اسلام نے خود انضباطی اور تعلیم کی تعلیم یہاں تک دی کہ میدانِ جنگ میں بھی ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
صلح کے لئے آپ کا منصوبہ جب بار بار کوشش کے باوجود ناکام ہو گیا تو ایسے حالات پیدا ہوئے جو آپ کو کھینچ کر میدان جنگ میں لے آئے ۔ آپ کا یہ اقدام محض دفاع کے لئے تھا۔ تاہم انھوں نے میدان جنگ کے پورے طریق عمل کو بالکل بدل دیا۔ ان کی پوری زندگی میں جو لڑائیاں ہوئیں، ان سب میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد، جب کہ پورا جزیرہ نمائے عرب ان کے جھنڈے کے نیچے آگیا، چند سو سے زیادہ نہیں۔ انھوں نے عرب وحشیوں کو نماز پڑھنا سکھایا، محض انفرادی طور پر نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر، حتیٰ کہ انھوں نے ہدایت کی جنگ کے طوفان میں بھی اپنے خدا کے آگے سجدہ کرد۔ جب بھی عبادت کا وقت آجائے ، اور یہ روزانہ پانچ وقت آتا ہے، تو اجتماعی عبادت چھوڑی نہیں جاسکتی، حتیٰ کہ ملتوی بھی نہیں کی جا سکتی۔ لشکر کا ایک حصہ اگر دشمنوں سے مقابلہ میں مصروف رہے تو اس کا دوسرا حصہ اپنے خدا کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دے۔ جب ایک فریق اپنی عبادت ختم کرلے تو وہ مورچہ سنبھال لے اور دوسرا فریق آکر اپنی عبادت کرے ۔
وحشت و بربریت کے زمانہ میں میدان جنگ تک پر انسانیت کا اصول جاری کیا گیا ۔ سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ خیانت نہ کی جائے۔ دھوکا نہ دیا جائے ۔ عہد کو توڑا نہ جائے ۔ ہاتھ پاؤں نہ کاٹے جائیں۔ بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے ۔ پھل دار درختوں کو نہ کاٹا جائے اور نہ جلایا جائے۔ عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والے لوگوں پر زیادتی نہ کی جائے۔ پیغمبر کا خود اپنا طرزِ عمل اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ نمونہ کا طرزِ عمل تھا۔ مکہ کی فتح کے بعد ان کو پورا اقتدار حاصل ہو گیا تھا ، وہ شہر جس نے آپ کا پیغام سننے سے انکار کر دیا تھا۔ جس نے آپ کے اور پر اور آپ کے ساتھیوں کے اور شدید ظلم کئے تھے۔ جس نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ جب آپ اپنا وطن چھوڑ کر دو سو میل دور (مدینہ) چلے گئے ، اس وقت بھی انھوں نے آپ کا بائیکاٹ کرنے اور آپ کو تکلیفیں پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج وہ شہر کہ آپ کے قدموں کے نیچے تھا۔ جنگ کے مسلمہ قوانین کے مطابق وہ ان تمام مظالم کا بدلہ لے سکتے تھے جو آپ پر اور آپ کے لوگوں پر کئے مگر آپ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ محمد کا دل رحم اور محبت کے دودھ سے بھر گیا۔ آپ نے اعلان کیا : آج تمھارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ آج تم سب آزاد ہو۔
یہ ان مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تھا کہ کیوں آپ نے دفاع میں جنگ کرنے کی اجازت دی۔ اس لئے تاکہ انسانوں کو متحد کیا جا سکے۔ اور جب یہ مقصد حاصل ہو گیا تو آپ کے بدترین دشمن تک معاف کر دیئے گئے۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ کے محبوب چچا حمزہ کو قتل کیا تھا ، ان کے مردہ جسم کا مثلہ کیا تھا وہ بھی آپ کی مہربانیوں سے محروم نہ رہے۔ عالمی اخوت اور انسانی مساوات کا اصول جس کی آپ نے تبلیغ کی وہ انسانیت کی سماجی ترقی میں بہت بڑا درجہ تمام بڑے مذاہب نے اس قسم کے اصولوں کی تبلیغ کی ہے مگر پیغمبر اسلام نے اس نظریہ کو حقیقی عمل کی صورت سال دسمبر ۱۹۷۹ء
دے دی اور اس کی اہمیت شاید کچھ دنوں بعد پوری طرح سمجھی جا سکے جب کہ بین الالالالاقوامی شعور جاگے گا، نسلی تعصبات ختم ہو جائیں گے اور انسانجی اخوت کا ٹکڑا طاقت ور نظریہ وجود میں آجائے گا۔ سروجنی نائیڈو اسلام کے اس پہلو پر بولتی ہوئی لکھتی ہیں : ’’وہ پہلا مذہب تھا جس نے جمہوریت کی تبلیغ کی اور اس کو عمل کی صورت دی۔ کیوں کہ مسجد میں جب اذانیں بلند ہوتی ہیں اور نمازی ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو اسلام کی جمہوریت روزانہ پانچ بار مجسم ہوتی ہے جب کہ معمولی آدمی اور بادشاہ ایک صف میں شامل ہو کر جھکتے ہیں اور کہتے ہیں: ”خدا سب سے بڑا ہے‘‘۔ ہندوستان کی یہ مشہور شاعرہ مزید کہتی ہے: ’’میں اسلام کی اس ناقابل تقسیم وحدت کو دیکھ کر بار بار حیران ہوتی ہوں جو کہ آدمی کو طبعی طور پر بھائی بھائی بنا دیتی ہے۔ جب آپ ایک مصری، ایک جیریائی، ایک ہندوستانی یا ترکی سے لندن میں ملتے ہیں تو میں جو فرق ملے گا وہ صرف اتنا سا کہ ایک کی پیدائش مصر میں ہوئی اور دوسرے کی ہندوستان میں۔ مہاتما گاندھی اپنے ناقابل تقلید انداز میں لکھتے ہیں ’’کسی نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے لوگ اسلام کے ظہور سے ڈر رہے ہیں۔ وہ اسلام جس نے اسپین کو مہذب بنایا، وہ اسلام جو روشنی کی شمع کو مراکش تک لے گیا اور دنیا کو اخوت کا مقدس پیغام دیا۔ جنوبی افریقہ کے یورپی لوگ اسلام کے ظہور سے ڈر رہے ہیں کیوں کہ اسلام آئے گا تو وہ کالوں اور گوروں میں برابری کا اعلان کرے گا۔ ان کو اس سے ڈرنا ہی چاہئے۔ اگر اخوت ایک گناہ ہے، اگر مختلف نسلوں میں برابری وہ چیز ہے جس سے وہ ڈرتے ہیں تب ان کا ڈر بالکل بجا ہے۔ ہر سال حج کے موسم میں دنیا اسلام کے اس حیرت ناک بین اقوامی مظاہرہ کو دیکھتی ہے جو کہ نسل، رنگ اور رتبہ کے تمام فرق کو برابر کر دیتا ہے۔ نہ صرف یورپی، افریقی، ایرانی، ہندوستانی، چینی سب کے سب ایک خدائی خاندان کے ممبر کی حیثیت سے مکہ میں ملتے ہیں۔ بلکہ سب کے سب ایک قسم کے لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر آدمی معمولی سفید بغیر سلے ہوئے کپڑے کے دو ٹکڑے لپیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ ایک ٹکرا کمر کے گرد اور دوسرا ایک کندھے کے اوپر۔ اسی کے ساتھ ننگے سر، بغیر کسی رسم اور کسی دھوم دھام کے اور یہ آواز لگاتے ہوئے’’ میں حاضر ہوں، خدا یا میں حاضر ہوں، تو ایک ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حکم صرف تیرا ہی ہے! اس طرح یہاں ایسی کوئی چیز باقی نہیں رہتی جو چھوٹے اور بڑے کے درمیان فرق کرے، اور ہر حاجی یہ احساس لے کر گھر واپس آتا ہے کہ اسلام ایک بین اقوامی اہمیت رکھنے والا دین ہے۔ پروفیسر ہر گرو نی کے الفاظ میں ’’ اقوام کی جمعیت جو پیغمبر اسلام نے بنائی ، اس نے بین اقوامی اتحاد اور انسانی اخوت کے اصول کو ایسی عالمی سطح پر قائم کیا ہے جو دوسری قوموں کو روشنی دکھانے والا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دوسری قوم اتحاد اقوام کے لئے اس کے برابر کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔
پیغمبر اسلام نے جمہوری حکومت کو اس کی بہترین صورت میں قائم کیا۔ خلیفہ عمر رض، خلیفہ علی رض، جو پیغمبر کے داماد بھی تھے، خلیفہ منصور عباسی جو خلیفہ مامون کے بیٹے تھے اور دوسرے بہت سے خلفاء اور سلاطین اسلامی عدالتوں میں معمولی آدمی کی طرح حاضر ہوئے۔ آج بھی، ہم سب جانتے ہیں کہ کالے نیگرؤوں کے ساتھ مہذب سفید نسلوں کا سلوک کیا ہوتا ہے۔ اب بلال رض کی بابت غور کرو جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام کے زمانے میں ایک نیگرو غلام تھے۔
لئے اذان دینے کے کام ابتدائی اسلام کے زمانے میں ایک عزت کا کام سمجھا جاتا تھا اور یہ با عزت کام اس نیگر و غلام کے سپرد کیا گیا تھا۔ مکہ فتح ہونے کے بعد، پیغمبر نے ان کو حکم دیا کہ وہ نماز کے لئے اذان دیں۔ اور یہ نیگر و غلام، اپنے کالے رنگ اور اپنے موٹے ہونٹوں کے ساتھ مقدس کعبے کی چھت پر کھڑا ہوا، جو کہ اسلامی دنیا میں سب سے زیادہ تاریخی اور سب سے زیادہ مقدس جگہ ہے۔ اس وقت کچھ مغرور عرب تکلیف کے ساتھ بولے: اف، یہ کالا حبشی غلام، برا ہو اس کا۔ مقدس کعبے کی چھت پر کھڑا ہوا ہے، اذان دینے کے لئے۔
غرور اور تعصب کا یہ مزاج پیغمبر اسلام ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے اپنی ایک تقریر میں کہا: ساری حمد اور شکر اللہ کے لئے ہے جس نے ہم کو جاہلیت کے زمانے کے فخر اور برائی سے نجات بخشی۔ لوگو یاد رکھو، تمام انسان صرف دو قسموں میں بٹے ہوئے ہیں، متقی اور اللہ سے ڈرنے والے جو اللہ کے پسندیدہ بندے دوسرے گنہ گار اور سخت دل جو اللہ کے نزدیک حقیر اور بے قیمت ہیں۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا تھا۔ یہی بات قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے: اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ یقیناً اللہ کے نزدیک تمھارا سب سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہو۔ اللہ خوب جاننے والا پوری طرح خبردار ہے ( حُجرات ) پیغمبر اسلام نے اس طرح اتنی زبردست تبدیلی پیدا کی کہ وہ لوگ جو خالص عرب تھے اور اعلیٰ ترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے اپنی لڑکیاں اس نیگر و غلام کے لئے شادی میں پیش کیں۔ اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر فاروق کے نام سے مشہور ہیں، جب وہ اس نیگر و غلام کو دیکھتے تو وہ فوراً ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان کا استقبال کرتے : یہ ہمارے معلم آگئے، یہ ہمارے سردار آگئے؛ قرآن اور محمدؐ کے ذریعہ کیسا حیرت ناک انقلاب تھا جو عربوں کے درمیان آیا، وہ عرب جو اس زمانہ میں سب سے زیادہ مغرور قوم کی حیثیت رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ عظیم ترین جرمن شاعر گوئٹے نے قرآن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "یہ کتاب تمام زمانوں میں سب سے زیادہ مؤثر کتاب کی حیثیت سے باقی رہے گی؛ اور یہی وجہ ہے کہ برنارڈ شا کو کہنا پڑا ”اگر کوئی مذہب ہے جو انگلینڈ، نہیں بلکہ یورپ پر اگلے . . اسال کے اندر حکومت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اسلام ہے"
اسلام کی یہی جمہوری اسپرٹ ہے جس نے عورت کو مرد کی غلامی سے نکالا۔ سر چارلس ایڈورڈ آرچیبالڈ ہیملٹن نے کہا ہے: ”اسلام بتاتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر بے گناہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی جو ہر سے پیدا ہوئے ہیں، دونوں کے اندر ایک ہی روح ہے اور دونوں ذہنی، روحانی اور اخلاقی ترقی کی یکساں قابلیت رکھتے ہیں" عربوں کے یہاں یہ زبردست روایت چلی آرہی تھی کہ وراثت کا حق دار وہی ہے جو برچھا چلاتا ہے اور تلوار کا قبضہ کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اسلام صنف نازک کا حمایتی بن کر ظاہر ہوا اور عورتوں کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے سر پرستوں کی وراثت میں حصہ دار بن سکتی ہیں۔ اسلام بہت پہلے عورت کو یہ حق دے چکا تھا کہ وہ جائداد کی مالک بن سکتی ہیں۔ کے بارہ صدیوں بعد ایسا ہو سکا کہ ۱۸۸۱ میں انگلستان نے، جو کہ جمہوریت کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، اسلام کی اس تعلیم کو
اختیار کیا اور وہاں ایک قانون پاس ہوا جس کا نام تھا شادی شدہ عورتوں کا قانون (رڈی میرڈ ویمنز ایکٹ) مگر صدیوں پہلے پیغمبر اسلام یہ اعلان کر چکے تھے کہ عورتیں مرد کا نصف ثانی ہیں۔ عورتوں کا حق ہر حال میں محترم ہے، نگرانی رکھو کہ عورتوں کو وہ حق ملتا رہے جو ان کو دیا گیا ہے۔
اسلام براہ راست طور پر سیاسی اور اقتصادی نظام سے تعلق نہیں رکھتا۔ مگر بالواسطہ طور پر اور جہاں تک سیاسی اور اقتصادی معاملات انسان کے طور طریقے اور اخلاقیات کو متاثر کرتا ہے، وہ اقتصادی زندگی کے لئے کچھ نہایت اہم اصول مقرر کرتا ہے۔ پروفیسر عیسیٰ تن کے مطابق، اسلام مبالغہ آمیز انتہاؤں کے درمیان توازن کو برقرار رکھتا ہے اور ہمیشہ کردار کی تعمیر پر زور دیتا ہے جو کہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس کی ضمانت چند بنیادی احکام کے ذریعہ کی گئی ہے ۔ اس کا وراثت کا قانون، زکوٰۃ کا نظم اور لازمی نظام، اقتصادی میدان میں تمام سماج دشمن طریقوں کو غیر قانونی قرار دینا جیسے اجارہ داری، سود، پیشگی طور پر طے کی ہوئی اور بغیر کمائی ہوئی آمدنیاں، بازار کا سب سامان خرید لینا، ذخیرہ اندوزی، کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرنا تا کہ قیمتوں میں اضافہ ہو، اسی طرح جو اثر غیر قانونی ہے۔ اس کے برعکس تعلیم گاہوں، عبادت خانوں، اسپتالوں، کنولوں، یتیم خانوں کو امداد دینا بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیم کے تحت یتیم خانے دنیا اپنے یتیم خانوں کے لئے اسی پیغمبر اسلام کی احسان مند ہے جو خود بھی ایک یتیم تھے۔ محمدؐ کے بارے میں لکھا ہے: ”یہ تمام خوبیاں، انسانیت کی فطری آواز، پارسائی اور مساوات، فطرت کے اس صحرائی فرزند کے دل میں جاگزیں ہونے کی وجہ سے، آشکارا تھیں۔ ایک مورخ نے کہا ہے کہ کسی عظیم انسان کا امتحان تین باتوں کی روشنی میں لینا چاہئے۔ کیا وہ اپنے معاصرین کی رائے میں حقیقی طور سے اونچے اخلاق کا حامل تھا؟ کیا وہ واقعہ اتنا عظیم تھا کہ اپنے زمانہ کے معیاروں سے بھی بلند ہو گیا ہو؟ کیا اس نے اپنے بعد آنے والی دنیا کے لئے کوئی مستقل میراث چھوڑی؟ اس فہرست کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات اپنی جگہ واضح ہے کہ پیغمبر محمد ؐ عظمت کے اس معیار پر اعلیٰ ترین درجہ میں اترتے ہیں۔ آخری دو باتوں کے بارے میں پہلے ہی اشارہ کیا جا چکا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا پیغمبر اسلام کو ان کے معاصرین نے حقیقتاً اونچے اخلاق کا حامل پایا؟ بتاتی ہیں کہ محمد کے تمام معاصرین، دوست ہوں یا دشمن، سبھی نے ان کی پاک خوبیوں، بے داغ امانت داری، عظیم اچھائیوں ، زندگی کے تمام شعبوں میں کامل اخلاص اور امانت کو تسلیم کیا ہے۔ یہاں تک کہ یہودی، اور وہ لوگ بھی جو کہ آپ کے پیغام کو نہ مانتے تھے، وہ بھی اپنے ذاتی اختلافات کے سلسلے میں آپ کی انتہائی غیر جانب داری کی وجہ سے آپ کو ثالث مانتے تھے۔ یہاں تک کہ جو آپ کے پیغام کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور تھے: ”اے محمدؐ ہم تم کو جھوٹا نہیں کہتے، بلکہ جس نے آپ کو کتاب اور پیغام دیا ہے اس کا انکار کرتے ہیں۔ “ ان کا خیال تھا کہ آپؐ
سے کسی چیز کا سایہ ہے۔ انھوں نے آپ کے علاج کے لئے تشدد کو بھی اپنایا۔ لیکن ان میں جو عمدہ ترین لوگ تھے انھوں نے دیکھا کہ ایک نیا نور آپ پر نازل ہوا ہے اور انھوں نے اس نور کو پانے کے لئے پیش قدمی کی۔ کی تاریخ کا قابل ذکر واقعہ ہے کہ آپ کے قابل ترین رشتہ دار، چچازاد بھائی ، آپ کو قریب سے جاننے والے عزیز، دوست، سب پر آپ کے پیغام کا گہرا اثر ہوا اور سب آپ کے خدائی الہام کی صداقت سے متاثر ہوئے۔ اگر یہ شریف ذی عقل، صاحب علم اور آپ کی ذاتی زندگی کو قریب سے جاننے والے مرد اور عورت آپ کے اندر ذرہ برابر بھی حیلہ سازی، دھوکہ، دنیا داری یا ایمان کی کمی پاتے تو اخلاقی زندگی، روحانی بیداری اور اجتماعی اصلاح کے بارے میں محمد کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہوتا اور ساری عمارت چند لمحوں میں ٹوٹ کر زمین پر آ رہتی۔ اس کے برعکس ہم پاتے ہیں کہ آپ کے ماننے والے آپ پر اتنا زیادہ فدا تھے کہ خود اختیاری طور پر انھوں نے آپ کو اپنی زندگی کا قائد مان لیا تھا۔ انھوں نے آپ کی خاطر ظلم اور بھوک کا مقابلہ کیا۔ شدید ترین تشدد اور قبیلے سے اخراج کی وجہ سے انتہائی ذہنی کرب کے باوجود آپ کے لئے ان لوگوں کا ایمان، بھروسہ، اطاعت اور تعظیم برقرار رہی۔ اگر انھوں نے اپنے لیڈر میں ذرا سی بھی خامی دیکھی ہوتی تو کیا ایسا ہو سکتا تھا۔
اسلام کے ابتدائی مومنین کی تاریخ پڑھیے تو بے گناہ مردوں اور عورتوں پر ہونے والے ظلم سے ہر دل دہل معصوم عورت سمیہ کو نیزے مار مار کر ٹکڑے کر دیا گیا۔ خباب بن ارت کو جلتے ہوئے کوئلے پرٹنے پر مجبور کیا گیا۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ بے رحم ظالم اپنا پیران کے سینے پر رکھے ہوئے تھا، تاکہ وہ حرکت نہ کرسکیں جس کی وجہ سے ان کی جلد کے اندر کی چربی پگھل گئی۔ خباب بن عدی کو ظالمانہ طور پر جسم کے ایک حصہ کو کاٹ کر اور ان کا زندہ گوشت تراش کر ہلاک کیا گیا اور جب اس ظلم کے درمیان ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ تمنا نہیں کرتے کہ خود محمد ان کی جگہ ہوتے جو کہ اس وقت اپنے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ تھے۔ اس حالت میں بھی مظلوم نے چیخ کر کہا کہ اگر محمد کو کانٹا بھی چبھے تو وہ خود کو اور اپنے پورے خاندان کو قربان کر دیں گے تاکہ آپ کو کانٹے کی تکلیف نہ ہو۔ اس قسم کے درجنوں دل سوز واقعات بیان کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ واقعات کیا ظاہر کرتے ہیں ؟ ایسا کیوں ہوا کہ اسلام کے ان مرد عورت جان شاروں نے نہ صرف اپنا ایمان محمدؐ کے حوالے کر دیا، بلکہ انھوں نے اپنے جسموں، دلوں اور روحوں کو بھی آپ پر نچھا ور کر دیا۔ کے قریب ترین معتقدین کا یہ مضبوط ایمان ویقین اس بات کی اعلیٰ ترین گواہی نہیں ہے کہ آپ اپنے پیغام کے بارے میں مخلص تھے اور اپنے کام میں انتہائی حد تک خود کو کھپائے ہوئے تھے۔
اور یہ لوگ معمولی حیثیت یا کمتر ذہنی سطح کے لوگ نہیں تھے۔ بالکل ابتدائی دور سے ہی، آپ کے گرد کاٹھ کن جمع یہ شریف ترین لوگ تھے جو کہ منصب، جاہ، ثروت اور ثقافت کے مالک تھے۔ ان میں آپ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے جو کہ آپ کی زندگی کے داخلی اور خارجی پہلوؤں سے خوب واقف تھے۔ اور آپ کے بعد اسلام کے پہلے چار خلیفہ بھی اسی ابتدائی زمانہ کے مومنین میں سے تھے جنہوں نے عظیم ذمہ داریاں اٹھائیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کا کہنا ہے کہ "محمد تمام نبیوں اور دینی شخصیات میں سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ " (کے ایس راما کرشنا راؤ)