Al-Risala · February 1979

CS CamScanner

Al-Risala, February 1979, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے زیادہ جس کو لوگ سب سے زیادہ کم ہر مسافر جانتا ہے کہ ایک ٹرین چھوٹ جائے تو جلد ہی بعد دوسری ٹرین مل جاتی ہے جس سے وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے یہ پلیٹ فارم کا سبق ہے۔ مگر اکثر لوگ اس معلوم سبق کو اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ زندگی کی دوڑ میں ایک موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ اپنی غلطی کی قیمت آدمی کو خود ادا کرنی پڑتی ہے۔ آدمی غلطی کرنے کے بعد ہمیشہ کسی دوسرے کو تلاش کرنے لگتا ہے جو اس کی طرف سے اس کی غلطی کی قیمت ادا کر دے۔

جو شخص ہار کو مان لے وہی تری کر کے دوبارہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا ہے ۱۵ فروری ۱۹۷۸ کو ساری دنیا نے حیرت کے ساتھ یہ خبر سنی کہ باکسنگ کے مشہور چیمپین محمد علی کو ایک غیر معروف کھلاڑی لیون اسپینکس نے ہرا دیا۔ اب محمد علی کے لئے ایک راستہ وہ تھا جو عام طور پر ہارے ہوئے سیاستداں اختیار کرتے ہیں۔ وہ ایک اخبار نکال کر ججوں کی ”دھاندلی“ کا شور مچاتے۔ اپنے پر جوش حامیوں کو لے کر اسپینکس کے خلاف ایجی ٹیشن چلاتے اور اس کو قتل کرنے یا اس پر مقدمہ چلانے کی کوششیں کرتے۔ خود ساختہ طور پر یا ایک لقب وضع کر کے اپنے نام کے ساتھ لگا لیتے اور سمجھتے کہ وہ اب بھی کھیل کی دنیا کے ”امام“ ہیں۔ محمد علی اگر اس قسم کا راستہ اختیار کرتے تو اس کے لئے ان کے پاس پیسہ بھی تھا اور اعوان وانصار بھی۔ مگر اس قسم کے تمام طریقوں کو چھوڑ کر انھوں نے محنت و مشقت اور خاموش تیاری کا طریقہ اختیار کیا۔

ہارنے کے بعد پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت، محمد علی نے فروری ۱۹۷۸ کے تیسرے ہفتہ میں بنگلہ دیش کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ ان کو بنگلہ دیش کی اعزازی شہریت دی گئی اور ان کو امریکہ میں بنگلہ دیش کا اعزازی قونصل جنرل بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر ۲۲ فروری کو ڈھاکہ کی ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری نمائندہ نے محمد علی سے پوچھا کہ لیون اسپنکس سے مقابلہ میں مبچوں کے فیصلہ کو کیا وہ صحیح سمجھتے ہیں۔ محمد علی نے صاف لفظوں میں کہا :

Printed page