It was a fair decision.
Al-Risala, February 1979, pp. 14–16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک بے لاگ فیصلہ تھا۔ علی نے صاف لفظوں میں اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا:
I misjudged the man (Spinks)
and fought a wrong battle. my planning was not correct be- cause I did not know much The Times of India, 23.2.1978 میں نے اپنے حریف کو سمجھنے میں غلطی کی اور اس سے غلط میری منصوبہ بندی صحیح نہیں تھی کیوں کہ میں اسپنکس کے بارے میں کچھ زیادہ جانتا نہ تھا۔ محمد علی نے اب اپنی زندگی کا نیا نظام بنایا اور باقاعدہ تیاری میں لگ گئے۔ وہ دن بھر دوڑتے ، پہاڑیوں پر چڑھتے ۔ بھری ہوئی بوری میں گھونسے مار مار کر اپنے ہاتھوں کی تربیت کرتے۔ اپنے ساتھیوں سے آزمائشی مقابلے کرتے ، اور اسی کے ساتھ عبادت کر کے دعا بھی کرتے کہ خدا انھیں اگلے مقابلے میں کامیاب کرے ۔ محمد علی کی عمر ۳۶ سال ہے اور ان کے حریف لیون اسپنکس کی عمر ۲۵ سال ، یعنی دونوں کی عمر میں گیارہ سال کا مبصرین کا خیال تھا کہ محمد علی کی عمران کے لئے فیصلہ کن بن چکی ہے اور اب وہ اپنے نوجوان حریف سے دوبارہ جیت نہیں سکتے۔ مگر محمد علی نے پورے جوش اور اہتمام کے ساتھ اپنی تیاریاں جاری رکھیں۔ صبح ۵ بجے اٹھ کر تین میل پہاڑی راستہ پر دوڑتے جب کہ ابھی اندھیرا چھایا ہوا ہو تا اور لوگ اپنے نرم بستروں پر سوئے ہوئے ہوتے۔ اس کے بعد سارے دن سخت ترین
قسم کی ورزشوں میں لگے رہتے ۔
اگست میں، مقابلہ کی تاریخ سے کچھ پہلے، انھوں نے ڈیریک (پنسلوانیا) میں اپنے کھیل کا مظاہرہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ ۱۵ ستمبر کے مقابلہ میں دو بارہ ٹائٹل جیت لوں گا۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ۳۷ سالہ علی آج کل اپنے باکسنگ سنٹر پر زبردست تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ بے حد سنجیدہ ہو گئے ہیں ۔ اخباری رپورٹ کا ایک جملہ یہ تھا ۔
Members of the Ali entourage insist that they have never seen Ali work so hard. The Times of India 17.8.78 محمد علی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے محمد علی کو اتنا سخت محنت کرتے ہوئے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔ اس طرح محنت اور تیاری کے چھ سخت مہینے گزارنے کے بعد محمد علی نے ۱۶ ستمبر ۷ء ۱۹ کو دو بارہ لیون اسپِنکس سے مقابلہ کیا اور اس کے اوپر شان دار فتح حاصل کی ۔ اسپِنکس فتح کے بعد عیاشیوں میں پڑ گیا حتی کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں پولیس نے اس کا چالان کیا۔ جب کہ محمد علی برابر اپنی تیاریوں میں مشغول رہا ۔
ہار کو مان لینا اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ یہ جھوٹ کو چھوڑ کر سچائی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ جو شخص اپنی ہار مان لیتا ہے، اس کے اندر حقیقت پسندانہ نفسیات ابھرتی ہیں۔ سنجیدگی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ کم زوریوں کو سمجھ کر دوبارہ اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ حریف کے خلاف لفظی طوفان اٹھانے کے بجائے حقیقی میدان میں اس کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں کرتا ہے۔ طرف اس کا حریف فتح کی خوشی میں مگن ہوتا ہے ۔ طرف یہ اپنی شکست کے احساس کو لئے ہوئے سنجیدہ تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے ــــــــ ان باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص مقابلہ کے میدان میں ہار گیا تھا وہ دوبارہ اپنے حریف کو شکست دے کر کامیاب ہو جاتا ہے۔ مکان نیچے سے اٹھایا جاتا ہے نہ کہ اوپر سے زمین کو انسان کی قیام گاہ بنایا گیا ہے۔ مگر وہی قیام گاہ زمین کے اوپر کھڑی ہوتی ہے جس کی تعمیر کو بنیاد سے شروع کر کے چھت تک پہنچایا گیا ہو۔ کوئی شخص چھت کی طرف سے اپنا مکان بنانا شروع کر دے تو خدا کی زمین ایسے مکان کو قبول کرنے سے انکار کر دے گی ۔ یہ اس دنیا کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ جب ملت کی تعمیر کا سوال آتا ہے تو لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ وہ چھت کی طرف سے ملت کا محل اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ خواہ ان کا محل بالآخر زمین بوس ہو کر مایوسی اور بے یقینی کے ملبہ کے سوا ان کے لیے کچھ اور نہ چھوڑے۔
ناموافق حالات زندہ قوموں کیلئے ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں آرنلڈ ٹائن بی (۱۸۸۹ء - ۱۹۷۵ء) چند خوش قسمت مصنفین میں سے ہے جس نے اپنی زندگی ہی میں عالمی مقام حاصل کر لیا۔ اس انگریز مورخ کو سب سے زیادہ شہرت اپنی اجلدوں پر مشتمل اسٹڈی آف ہسٹری“ کی وجہ سے ملی جس میں اس نے ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ وہ قوتیں جو تاریخ بناتی ہیں، وہ بنیادی طور پر داخلی قوتیں ہیں نہ کہ خارجی اسباب۔ اس نے قدیم زمانہ سے لے کر اب تک تمام بڑی تہذیبوں کا مطالعہ کرکے دکھایا ہے کہ ان تہذیبوں کو جن قوموں نے پیدا کیا، وہ تخلیقی صلاحیت رکھنے والی اقلیتیں تھیں جنہوں نے وقت کے چیلنج کا کامیابی کے ساتھ جواب دیا۔ اقلیتوں کے ساتھ ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ وہ اکثریت کی طرف سے مسلسل دباؤ میں رہتی یہ دباؤ عملی زندگی میں بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی وجہ سے کسی قوم کی وہ اندرونی تخلیقی صلاحیت ابھرتی ہے جو اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پیش آنے والے چیلنج کے مقابلہ میں قائدانہ رول ادا کر سکے۔ اس کے برعکس جن قوموں کی لغت میں ” دباؤ “ کے معنی صرف ” مظلومیت “ کے ہوتے ہیں، ان کے حصہ میں فریاد و احتجاج کے سوا کچھ نہیں آتا۔ وہ اپنی محرومیوں کا رجسٹر بنانے میں مشغول رہتی ہیں یا جلسوں اور تقریروں کا کمال دکھا کر سمجھتی ہیں کہ انھوں نے اپنی سر بلندی کا راز پا لیا ہے۔ یہاں تک کہ جب وقت کا قافلہ آگے بڑھ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے اس دنیا میں قبرستان کے سوا اور کچھ نہیں۔