Al-Risala · February 1979

جھگڑے سے ہٹ کر اپنی تعمیر کیجئے

Al-Risala, February 1979, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

بے وقوف کسان نے مینڈ کے جھگڑے کو مینڈ پر طے کرنے کی کوشش کی۔ جس کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ بے شمار نئے جھگڑے کھڑے ہوگئے۔ پہلا جھگڑا بھی طے نہ ہوا۔

عقلمند کسان کو اپنے پڑوسی سے مینڈ کا جھگڑا پیش آیا تو اس نے مینڈ کو وہ اس کوشش میں لگ گیا کہ اپنے بقیہ کھیتوں اور باغوں کو اس طریق کار کا شاندار نتیجہ برآمد ہوا۔ بالآخر اس نے نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی مینڈ حاصل کرلی بلکہ اس قابل ہوگیا کہ پہلے سے بھی زیادہ بڑی جائیداد اپنے لئے خرید لے۔

ناکافی تیاری کے ساتھ کیا ہوا اقدام ۔

مسئلہ کو پہلے سے زیادہ سنگین بنا دیتا ہے شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان خور نہیں ہوتا۔ کسی شیر کو انسان خور بنانے والے اکثر وہ غیر ماہر شکاری ہوتے ہیں جو شیر پر گولی چلانے میں مگر ان کی گولی صحیح نشانہ پر پڑنے کے بجائے اچٹتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ قسم کا شیر انسان دشمن ہو جاتا ہے۔ وہ جہاں کہیں انسانی شکل کو دیکھتا ہے، اس پر حملہ کر کے اسے کھا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ اپنے حریف پر ایسے اقدامات کریں جو ناکافی تیاری کی وجہ سے فیصلہ کن نہ بن سکیں تو اس قسم کا ہر اقدام آپ کے حریف کو پہلے سے زیادہ مشتعل کر کے آپ کے مسئلہ کو اور زیادہ سنگین بنا دے گا۔

لڑائی جھگڑائی کا نام سیاست نہیں ابو فراس حمدانی عباسی دور کا شاعر ہے۔ وہ اپنے ایک قصیدہ میں کہتا ہے: إِذَا مَا أَرْسَلَ الأَمَرَاءَ جَيْشَاً إِلَى الأَعْدَاءِ أَرْسَلْنَا الكِتَابَا یعنی ہماری دھاک کا یہ عالم ہے کہ جہاں دوسرے امراء کو مقابلہ کرنے کے لئے لشکر بھیجنا پڑتا ہے وہاں ہم صرف خط بھیج دیتے ہیں اور وہی فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔

شاعر نے ایک شعر میں سیاست کا راز بتا دیا ہے۔ سیاست یہ نہیں ہے کہ حریف سے براہ راست لڑائی چھیڑ دی جائے۔ سیاست یہ ہے کہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور اور مستحکم بنایا جائے کہ جب ضرورت پڑے تو ایک تحریری وارننگ بھیج دینا معاملہ کو ختم کرنے کے لئے کافی ہو۔ آپ لکڑی کو توڑیں تو وہ دو ٹکڑے ہو جائے گی مگر زندہ چیزوں کے لئے شکست کا کوئی ایک زندہ امیبا ( AMOEBA ) جب ٹوٹتا ہے تو وہ دو زندہ امیبا بن جاتا ہے۔

کام صرف وہ ہے جو خود اپنے مثبت فکر کے زور پر وجود میں آئے۔ خارجی حالات کے خلاف رد عمل کے طور پر جو چیز ظاہر ہو، وہ کام نہیں، جذباتی ابال ہے۔ اس قسم کا جذباتی ابال وقتی شور و شر تو ضرور پیدا کر سکتا ہے، مگر اس سے کسی حقیقی نتیجہ کی امید کرنا ایسا ہی ہے جیسے کتے کی بھونک سے بلبل کے نغمہ کی توقع کی جائے۔ نادانی کی چھلانگ حکایت ہے کہ کسی زمانہ میں بہت بڑا سیلاب ایک بندر اور ایک مچھلی اس میں پھنس گئے۔ چھلانگ لگا کر ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک شاخ پر جا بیٹھا جہاں وہ سیلاب کی طوفانی موجوں سے محفوظ تھا۔ اب اس نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ مچھلی امنڈتی ہوئی لہروں کے خلاف جد و جہد میں مصروف اس نے سمجھا کہ مچھلی طوفان میں پھنس گئی ہے۔ پوری ہمدردی اور نیک نیتی کے ساتھ نیچے آیا اور مچھلی کو پانی سے نکال کر خشکی پر ڈال دیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے۔

نادان دوستی کی یہ تمثیل ایڈیسن کی زندگی میں وقوعہ بن چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈیسن ایک کتا پالے ہوئے تھا جو اس کو بہت محبوب تھا۔ ایک روز ایڈیسن کا کتا اس کے مطالعہ کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ میز پر اس کے ضروری کاغذات پھیلے ہوئے تھے اور کروسین کا لیمپ جل رہا تھا۔ ایک پتنگا کہیں سے کمرے میں داخل ہو گیا اور لیمپ کے گرد منڈلانے لگا۔ کتا دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا۔ آخر اس کو گوارا نہ ہوا کہ اس کے آقا کی میز پر ایک پتنگا قابض ہو جائے۔ اس نے اس کو پکڑنے کے لئے ایک چھلانگ لگائی۔ پتنگا تو اڑ گیا، البتہ لیمپ الٹ گیا اور میز پر تیل پھیل جانے کی وجہ سے فوراً آگ لگ گئی اور کاغذات جل گئے۔ ایڈیسن نے دیکھا

” میرے محبوب کتے ! تجھے نہیں معلوم کہ تو نے کیا کیا۔ موجودہ زمانے میں ہمارے رہنماؤں نے بھی حیرت انگیز طور پر اسی قسم کے کارنامے دکھائے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اصلاح ملت اور احیائے اسلام کا نعرہ لے کر مگر ہر ایک نے ایسی نادانی کی چھلانگیں لگائیں کہ اصل مقصد تو حاصل نہیں ہوا البتہ تو نے نئے مسائل اور نئی نئی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں جس کے نتیجہ میں مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ گمبھیر ہو گیا۔ نادانی کے اقدام سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے“۔

Printed page