باہمی جنگ میں دونوں فریق سے الگ رہو
Al-Risala, January 1979, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
وائل بن حجر رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ علی بن ابی طالب رضہ اور امیر معاویہ رضہ کے درمیان خون عثمان کے مسئلہ پر جنگ ہوئی تو امیر معاویہ رضہ نے وائل بن حجر رضہ کو بلایا اور کہا کہ تم اس معاملہ میں ہمارا ساتھ کیوں انھوں نے عذر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ فتنے تمھاری طرف آگئے جو اندھیری رات کے ٹکڑے کی طرح ہیں‘، میں نے پوچھا کہ ہم اس وقت کیا کریں۔ آپ نے فرمایا : اے وائل! اسلام میں جب دو تلواریں چلیں تو تم دونوں تلواروں سے الگ رہنا (یا وائل اذا اختلفت سیفان فی الاسلام
حاكم کے ذمہ دوسروں کی اصلاح، غیر حاكم کے ذمہ اپنی اصلاح بیہقی نے سائب بن یزید رضہ کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: میرے لئے کیا یہ بہتر ہے کہ اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کروں یا اپنی ذات پر متوجہ رہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملہ کا ذمہ دار مقرر کیا جائے، وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ اور جو شخص صاحب امر نہ ہو وہ اپنی ذات پر متوجہ رہے اور اپنے والی کی نصیحت کرے (اما من ولي من امر المسلمين شيئا فلا يخاف في الله لومة لائم ۔ ومن كان خلوا فليقبل على نفسه ولینصح لولى امره كنز العمال جلد ۳)