حقیقت پسند بلئے
Al-Risala, February 1979, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے اپنی دنیا کا نظام انتہائی محکم بنیادوں پر بنایا ہے۔ کوئی درخت کبھی طلسماتی طور پر نہیں اگتا۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک آسمانی کرہ چھلانگ لگا کر اچانک اس سرے سے اس سرے پر پہنچ جائے۔
ایک ایسی دنیا میں ہم ایسے بزرگ" کی پیدائش کا انتظار کر رہے ہیں جو کرامات طور پر واقعات کو ظہور میں لائے۔ ہم ایسے" قائد" کی تلاش میں ہیں جو ایک بڑا سا مظاہرہ کر کے آناً فاناً قوم کے نئے نیا مستقبل پیدا کر دے۔ جو لوگ اس قسم کی امیدوں پر جی رہے ہیں انہیں جاننا چاہیے کہ خدا کی اس دنیا میں ایسے طلسماتی واقعات کا ظہور ممکن نہیں۔ اگر انہیں طلسمات ہی کے سہارے زندہ رہنا ہے تو ان کو اپنی پسند کے مطابق دوسری کائنات بنانی پڑے گی ” "سادھارن گنوں سے اسادھارن منش بنتے ہیں“ یہ ہندی کی ایک سوکتی ہے عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لئے کوئی بڑا واقعہ چاہیے جو اس کو اخبار کی شاہ سرخی میں جگہ دے سکے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اکثر معمولی باتوں میں غیر معمولی انسان بننے کا راز چھپا ہوتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں
(۳۱۷ میں) نوکوسٹو کا ترجمہ ISNUNL کے لفظ سے کیا لفظی تسکین کی قیمت بہت مہنگی دینی پڑی جنگِ عظیم ثانی میں آخری شکست سے کچھ ماہ پہلے جاپانی لیڈر یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ بازی ہار چکے ہیں۔ طاقتوں کی طرف سے ۲۶ جولائی ۱۹۴۵ کو پوٹسڈم ڈیکلریشن جاری کیا گیا تو وہ ذہنی طور پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہو چکے تھے۔ جاپانی پارلیمنٹ کی خواہش تھی کہ اس ڈیکلریشن کی بنیاد پر اتحادی طاقتوں سے امن کی گفتگو شروع کی جائے۔
باضابطہ فیصلہ سے پہلے ۲۸ جولائی کو جاپانی وزیر اعظم سوزوکی (SUZUKI) نے ایک پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے پریس کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی کابینہ موکوسستسو (MOKUSATSU) کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ موکوسستسو ایک جاپانی لفظ ہے جس کا کوئی قطعی متبادل انگریزی زبان میں نہیں ہے۔ خود جاپانی میں بھی وہ ایک غیر واضح لفظ ہے۔ ایک مفہوم "تبصرہ سے رکنا" ہے۔ اور اغلبًا جاپانی وزیر اعظم کی مراد یہی تھی۔ مگر خود جاپانی زبان ہی میں اس لفظ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، اور وہ ہے نظر انداز کرنا۔ جاپانی وزیر اعظم کو کابینہ کی طرف سے جس بیان کی ہدایت کی گئی تھی، وہ یہ تھا کہ جاپانی کابینہ پوٹسڈم ڈیکلریشن کے معاملہ میں ابھی کسی فیصلہ پر نہیں پہنچی ہے۔ انھوں نے پریس کانفرنس میں جو لفظ استعمال کیا وہ سننے والے اخبار نویسوں کے لئے مبہم ثابت ہوا۔ جاپان کی ڈومی نیوز ایجنسی نے وزیر اعظم کے بیان کا جو انگریزی ترجمہ نشر کیا اس میں نولو وسوسہ مرجعہ ایک لفظ کے دو ممکن مفہوم میں سے سخت تر مفہوم کے انتخاب کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ ۱۹۴۵ء کے جاپان میں جنگی جنون کا جو ماحول تھا ، اس میں "نظر اندازی" کا تصور عوامی ذوق کے زیادہ مطابق تھا۔ جاپان کے قومی حوصلوں کے لئے اس میں زیادہ تسکین مل رہی تھی۔ لفظی تسکین کی قیمت جاپان کو بہت مہنگی ادا کرنی پڑی۔ اتحادی طاقتوں کے دفاتر میں جب یہ نشریہ سنا گیا تو انھوں نے سمجھا کہ جاپانیوں نے پوٹڈم ڈکلریشن کو نظر انداز کر دیا ہے۔ چند دن بعد ہی جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے اور ہیروشیما اور ناگاساکی تباہ ہو گیا۔ دو لاکھ انسان فوراً مر گئے اور بے شمار لوگ خطر ناک طور پر زخمی ہوئے۔
یہ انکشاف کا سو کوائی (KASUO KAWAI) نے کیا ہے جو اس سے پہلے جاپان کے طاقتور اخبار پن ٹائمس (NIPPON TIMES) کے ایڈیٹر تھے۔