پلین ٹروتھ، ، دسمبر ۱۹۴۷ء
Al-Risala, February 1979, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں جو صرف جاپان کے ساتھ پیش آیا ہو۔ افراد یا قوموں کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی معاملہ کو سکھ کا معاملہ بنا لیتے ہیں وہ حقیقت پسندی کی زبان بولنے پر تیار نہیں ہوتے۔ وہ کمزور حالت میں ہونے کے باوجود ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جس میں ان کی بڑائی باقی رہے۔ اس سے وقتی طور پر لفظی تسکین ضرور ہوتی ہے۔ مگر بالآخر اس کی بہت مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے۔ کیوں کہ حقائق کا طوفان ان کے الفاظ کو اسی طرح بہالے جاتا ہے جس طرح آندھی خس و خاشاک کو۔
چلنا ہی ہے جو کا اڑکا کی راگ جانے کا کی کی صحیح سمت میں ہو بیح سمت کا پتہ ہو تو جلدی رتورا مکر کوئی شکاری اگرجانور کے سایا لو جا نور مجھ پر بندوق چلا دے تو اس کی گولی اپنا نشانہ کھو دے گی ، کارتوس خالی کرنے کے بعد بھی وہ اپنی مطلوبہ چیز سے محروم رہے گا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو زندگی کا نصب العین مقرر کرنے میں غلطی کر جائیں۔ اگر آپ نے نصب العین کا تعین صحیح نہیں کیا ہے تو آپ کی ساری کوششیں اور قربانیاں اسی طرح رائیگاں چلی جائیں گی جس طرح کوئی شکاری غلط نشانہ پر بندوق چلا دے اور بالآخر اس کے حصہ میں خالی کارتوس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔