Al-Risala · February 1979

یہ لکڑی کی ہنڈیا میں سالن پکانا ہے

Al-Risala, February 1979, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی شخص یہ نادانی نہیں کرے گا کہ اپنے گھر کا کھانا کاٹھ کی ہنڈیا کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ چولہے کی آگ کاٹھ کی ہنڈیا کو جلا دے گی۔ اور بالآخر آدمی کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔ عجیب بات ہے کہ ملت کا کھانا ہر آدمی کاٹھ کی ہنڈیا میں پکا رہا ہے۔ نعرے اور پوسٹر، جلسے اور کانفرنسیں، شاعری اور خطابت، احتجاج اور مطالبات، یہ سب "کاٹھ کی ہنڈیا " ہیں۔ تمام قائدین انھیں کے ذریعہ ملت کا مستقبل تعمیر کرنے میں لگے ہوئے پچھلی کئی نسلوں کے ناکام تجربات بھی ان کے جوش میں کمی کا باعث نہ ہو سکے ۔

جہاز چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو چکا تھا۔

اس کے ٹوٹے ہوئے تختے سمندر کی موجوں میں ہچکولے کھا رہے تھے سینکڑوں مسافر اپنی منزل کے بجائے سمندر کی تہ میں پہنچ چکے تھے۔ اور جہاز کا کپتان ایک تختہ کا سہارا لئے ہوئے چیخ رہا تھا ـ کتنی بے رحم ہے وہ قدرت جس نے سمندر میں چٹان ابھار دی کیسی ظالم ہے وہ حکومت جس نے یہاں روشنی کا مینار تعمیر نہیں کیا کتنے مجرم ہیں وہ جہاز ساز جنہوں نے جہاز کو حادثہ پر وف نہیں بنایا وہ چیخ رہا تھا ، اور چیخ رہا تھا مگر وہاں کوئی سننے والا نہ تھا جو اس کی چیخ کو سنے اس کی آواز فضا میں تحلیل ہوتی رہی یہاں تک کہ وہ بھی اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ سمندر میں غرق ہو گیا اس کا چیخنا اس کے کام نہ آیا اور نہ دوسروں کے۔

Printed page