Al-Risala · February 1979

عقل سے کام لیجیۓ نہ کہ جذبات سے

Al-Risala, February 1979, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی شخص یا گروہ کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ : وہ انتہائی جذباتی مواقع پر انتہائی عقلی فیصلے کر سکے۔ اسی کو صبر کہتے ہیں۔ ایک مسلسل امتحان ہے جس میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آدمی جذبات سے مغلوب ہو جائے، وہ متاثر ذہن کے تحت کارروائی کرنے لگے۔ ایسے مواقع پر اپنے عقل وہوش کو باقی رکھنا اور واقعات سے الگ ہو کر واقعات کے بارے میں فیصلہ کرنا قرآن کی اصطلاح میں صبر ہے اور یہی کسی کی کامیابی کی واحد یقینی ضمانت ہے۔ ولکم النصر ما صبرتم وہ انھیں کھلاڑیوں کی بی ٹیم ہوگی Mr T. A. Pai, ex-Cabinet Minister, when asked to comment on the "no-change" in the style of functioning and the poor perform- ance of the Government, is said to have re- marked: "Why should anyone have expected anything better from them? They are only our B team."

The Illustrated Weekly of India May 14, 1978 پائی اندرا حکومت میں وزیر کا بینہ ان سے موجودہ جنتا حکومت کے بارے میں پوچھا گیا کہ سرکاری مشین کی سست رفتاری اور اس کا طریقہ جو پہلے تھا وہی اب بھی کیوں ہے۔ حکمراں پارٹی کی تبدیلی کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسٹر پائی نے جواب دیا " لوگوں نے موجودہ حکومت سے کسی بہتر چیز کی توقع کیوں کر لی تھی ۔ وہ آخر ہماری ہی " بی ٹیم ، ، تو ہیں۔ اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی سبق ہے جو ایک ملکی پارٹی کو ہٹا کر دوسری ملکی پارٹی کو برسر اقتدار لانے میں ملت کے مستقبل کا سیاسی خواب دیکھا کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایک کو ہٹا کر جس دوسرے کو وہ اوپر لائیں گے ، وہ بھی پہلے کھلاڑیوں ہی کی بی ٹیم ، ہوگی۔

کبھی سیاست کو ترک کرنے ہی کا نام سیاست ہونا ہے اکتوبر ۱۹۴۴ء میں دوسری عالمی جنگ اپنے شباب امریکہ، بحرالکاہل کے جزائر کو فتح کرتے ہوئے جاپان کے دروازہ تک پہنچ چکا تھا۔ اس وقت جاپان کے نائس ایڈمرل اونیشی (TakiJIoRO ONISHI) نے اپنی فوج کے اعلیٰ افسروں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا : ”میرے خیال سے اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے جس میں ہم یقین کر سکیں کہ ہماری معمولی طاقت زیادہ سے زیادہ موثر بن سکتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم ”زیرو فائٹرز“ کا ایک دستہ بنائیں جو ۲۵۰ کلوگرام کا بم لے کر دشمن کے سمندری جنگی جہازوں پر اپنے آپ کو گرا دیں۔ اونیشی کی یہ تجویز ہوابازوں تک پہنچائی گئی۔ منظوری کا فیصلہ ہو گیا۔ ہوابازوں کا ایک دستہ بنایا گیا جس کا نام تھا کامی کیز (KAMIKAZE) یہ ایک جاپانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”خدائی آندھی“۔ اس لئے اختیار کیا گیا کیونکہ تیرھویں صدی میں قبلائی خاں کے حملہ سے ”ایک خدائی آندھی نے جاپان کو بچایا تھا“ جس میں اس کی جنگی کشتیاں ایک سمندری طوفان نے تباہ کر ڈالی تھیں۔

اگست ۱۹۴۵ء میں جنگ ختم ہوئی تو پانچ ہزار کی تعداد میں جاپانی ہواباز اس طرح اپنی جانیں دے چکے تھے ساتھ یہ قربانیاں دی تھیں، اس کا اندازہ ایک خط سے ہو گا ۔ سسومو (SUSUMU KIJITSU) اسی قسم کا ایک ۲۲ سالہ جاپانی ہوا باز تھا جس نے ایک بم لے کر اپنے ہوائی جہاز کو دشمن کے ایک سمندری جنگی جہاز پر گرایا تھا، اس نے آخری دن اپنے دفتر سے اپنے خاندان کو حسب ذیل خط لکھا :

”میرے پیارے والدین، پیارے بھائیو اور میری پیاری بہن !

یقیناً آپ کو اس کا علم نہیں ہوگا، مگر چند دن پہلے میں نے آپ کو الوداع کہی ہے جب کہ میں اپنے گھر کے اوپر پرواز کر رہا تھا، میرے جہاز کے بازوؤں کے سایہ نے ہمارے مکان کی چھت کو چھوا۔ ہمہ تن آپ کی طرف لگے ہوئے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ بہت جلد میرا وقت آجائے گا۔ مگر مجھے موت کا ڈر نہیں۔ مجھے صرف یہ فکر ہے کہ میرا عمل کیا جاپان کو بچانے کے لئے مفید اور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہماری قربانیاں ہمارے بعد کی نسلوں کے لئے فتح لے آئیں گی۔ ہم نہایت پرسکون ہیں۔ ہم اکثر مذاق کرتے ہیں اور اپنا وقت پڑھنے اور تاش کھیلنے میں گزارتے آپ ہمارے لئے غمگین نہ ہوں۔ اس کے برعکس آپ کو فخر کرنا چاہئے کہ میرا جسم اگرچہ جلد ہی ختم ہو جائے گا مگر میری روح ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی۔ الوداع، کیونکہ آخروقت کی گھنٹی ہو چکی ہے۔ انہوں نے اکتوبر ۱۹۱۴ء اور جون ۱۹۴۵ کے درمیان ۴۳ امریکی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جاپان کے بہادر ہوابازوں نے کن جذبات کے راتا (پتہ نہیں اردو یا انگریزی کا لفظ ہے) تاہم تاریخ کی یہ انوکھی قربانی جاپان کو بچانے والی ثابت نہ ہوسکی ۔ کیوں کہ دشمن کے پاس ایک اور برتر طاقت تھی جس کے مقابلہ میں جاپانی ہوا بازوں کی یہ لامثال قربانی

Printed page