حکمرانوں کو نصیحت تنہائی میں نہ کہ مجمع عام میں
Al-Risala, January 1979, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
حاکم نے جبیر بن نفیر سے روایت کیا ہے کہ عیاض بن غنم اشعری نے شہر دار افتح کیا تو اس کے حاکم کو سزا دی ۔ ہشام بن حکیم ان کے پاس آئے اور کہا : اے عیاض ! کیا تم کو نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ان اشد الناس عذابا يوم القيامة اشد الناس قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس کا ہوگا عذابا للناس في الدنيا جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب دیتا تھا۔
ہشام سخت سست باتیں کہہ کر چلے گئے۔ چند روز کے بعد عیاض بن غنم ان سے ملے اور کہا اے ہشام ہم نے بھی وہ بات سنی ہے جو تم نے سنی ہے۔ اور وہ بات دیکھی ہے جو تم نے دیکھی ہے اور وہ صحبت اٹھائی ہے جو صحبت تم نے اٹھائی اے ہشام ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا : جس کسی کو حاکم سے کوئی نصیحت کرنی ہو تو وہ علانیہ طور پر اس سے نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو تخلیہ میں لے جائے اور تنہائی میں اس سے کہے۔ اگر حاکم نے قبول کر لیا تو قبول کر لیا۔ اور اگر نہیں قبول کیا تو آدمی نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا جو حق تھا اس کو ادا کر دیا۔ (من كانت عنده نصيحة لذي سلطان فلا یکلمہ بھا علانیة ولياخذ بيده وليخل به، فان قبلھا قبلھا والا کان قد ادى الذي عليه والذي له)