الٹی سمت میں
Al-Risala, February 1979, pp. 32–36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک لطیفہ ہے کہ دہلی میں ایک مسافر کناٹ پلیس کی سڑک پر چل رہا تھا۔ اس کو پارلیمنٹ ہاؤس جانا تھا۔ اس کا رخ الٹی طرف تھا۔ اس نے راستہ میں ایک شخص سے پوچھا: ”پارلیمنٹ ہاؤس یہاں سے کتنی دور ہوگا “ جواب دینے والے نے کہا ”تقریباً ۲۵ ہزار میل “ مسافر یہ سن کر گھبرا گیا۔ ”جناب میں آپ سے راستہ پوچھ رہا ہوں اور آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں “ اس نے کہا : معاف میں نے مذاق نہیں کیا۔ اصل میں آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے الٹی طرف چل رہے ہیں ۔ اس لئے اگر آپ یوں ہی چلتے رہے تو زمین کا پورا چکر کرنے کے بعد ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے جس کی گولائی ۲۵ ہزار میل ہے “ یہ بات بھی اس وقت ہے جب کہ آپ عرض البلد کے ٹھیک اس خط پر چل رہے ہوں جس پر پارلیمنٹ ہاؤس واقع اگر آپ کچھ دائیں بائیں ہوگئے تو زمین کا بار بار چکر کرنے کے بعد بھی آپ اپنی منزل کو پانے سے محروم رہیں گے “ پارلیمنٹ ہاؤس کا کوئی مسافر اس قسم کی غلطی نہیں کیونکہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں اتنے نادان نہیں ہوتے کہ اپنی غلطی واضح ہونے کے بعد بھی بدستور الٹی راہ پر چلتے رہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ دین کے معاملے میں احساس ان کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ غلط راستہ پر چلتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ تباہی کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ احیار ملت کا سفر بھی موجودہ زمانہ میں کچھ اسی نوعیت کا ہوگیا ہے۔ لوگ الٹی سمت میں بھاگے جارہے ہیں وہ بھول گئے ہیں کہ الٹی سمت میں سفر آدمی کو منزل سے اور دور کر دیتا ہے نہ کہ اس سے قریب۔
مسائل کا حل خاموش منصوبوں میں نہ کہ پررونق ہنگاموں میں اسرائیل کے وزیر اعظم مستریچن سے پوچھا گیا "کیا اسرائیل اس کے لئے تیار ہے کہ مقبوضہ مغربی اردن اور فلسطینیوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے گفتگو کرے “ انھوں نے جواب دیا:
WE WILL FIND A SOLUTION TO THE PALESTINIAN PROBLEM, BUT NOT IN FRONT OF THE TELEVISION CAMERAS ہم فلسطینی مسئلہ کا حل پالیں گے۔ مگر ٹیلی وژن کیمروں کے ٹائمز آف انڈیا ۱۳ دسمبر، ۱۹۷۷) قوموں کے مسائل کا حل خاموش منصوبہ بندی میں ہوتا معاملہ میں بیشتر لوگ اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ والے ان کی غلطیاں واضح کرتے ہیں۔ ان کا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں۔ مگر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اس کو عزت کا سوال بنا لیتے ہیں۔ " اگر میں نے اس کے کہنے سے اپنی غلطی مان لی تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا‘، یہ مگر اکثر قائدین اس کو پُر رونق ہنگاموں میں تلاش کرتے ہیں، شاید اس لیے کہ اس طرح دو فائدوں میں سے کم از کم ایک فائدہ یقینی طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ قائد کی اپنی شخصیت بہرحال نمایاں ہو جاتی ہے۔ خواہ قوم کا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو۔
کامیابی کا راز یہ ہے کہ ـــــ آدمی اپنی ناکامی کے راز کو جان لے پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی ان چیزوں کے ساتھ پرامن طور پر رہ سکے جن کو وہ بدل
پختگی انکساری کا نام ہے۔ ایک پختہ انسان یہ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے کہ "میں غلطی پر تھا۔ سورج ایک بے حد روشن حقیقت ہے۔ جو شخص اپنی آنکھیں بند کرلے، اس کے لئے سورج کا کوئی وجود نہیں۔
ذاتی نقصان کا اندیشہ ہو تو آدمی فوراً حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے لگتا ہے۔ معاملات میں دلائل کا انبار بھی کسی کو حقیقت پسند بنانے کے لئے کافی نہیں۔
کبھی جاننا اس کا نام ہوتا ہے کہ آدمی یہ کہہ دے کہ "میں نہیں جانتا"۔
اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کیجئے آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی پتھر ہر ایک کے لئے سخت ہے۔ اس کے لئے نرم ہو جاتا ہے جس نے اس کو توڑنے کا اوزار فراہم کر لیا ہو۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوں تو ہر جگہ آپ اپنا حق وصول کر کے رہیں گے۔ اور اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کے لئے اس دنیا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اپنی مفروضہ حق تلفی کے خلاف فریاد و فغاں
ماحول سے کوئی امید نہ رکھئے، بلکہ اپنی محنت اور لیاقت پر بھروسہ کیجئے۔ آپ کو ماحول سے کبھی شکایت ماحول کی شکایت دراصل ماحول سے زیادہ خود اپنی نالائقی کا اظہار ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وہ ناگزیر تیاری نہیں کی تھی جو ماحول سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ناکامی کی وجہ شریف کامل ایک اخوانی رہنما ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمین کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاست میں قبل از وقت داخل ہو گئی۔ تدخلنا فی السیاسة
برتر سطح سے کوم کرنے کا ذہن پیدا کیجئے کسی شہر میں کپڑے کی دوکان نہ ہو تو ہر شخص جانتا ہے کہ یہ ایک سنہری موقع ہے جس کا استعمال کرکے کوئی شخص شہر میں ایک کامیاب دوکان کا مالک بن سکتا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک اس سے بھی زیادہ بڑا خلا ہے جس کو ابھی تک کسی نے استعمال نہیں ہمارے ملک کے بھرے ہوئے دفاتر اور ہمارے پر رونق بازار جہاں ہر وقت خرید و فروخت کے ہنگامے جاری رہتے ہیں اپنی ساری ہماہمی کے باوجود ابھی تک خالی ہیں۔
آپ بازار سے کوئی ملک کی بنی ہوئی چیز خریدیں، چند ہی روز کے تجربے کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو اپنی پسند کی چیز نہیں ملی۔ کام کے لیے ملازم رکھیں، بہت جلد آپ محسوس کریں گے کہ آپ جیسا کارکن چاہتے ہیں، آپ کا ملازم ان اوصاف میں پورا نہیں اترتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بازار اگر چہ سامانوں سے پٹے ہوئے ہیں مگر وہ ان چیزوں سے خالی ہیں جو حقیقتاً گاہک کو مطمئن کرنے اسی طرح وہ جگہیں جہاں آدمی کو کام ملتا ہے اگرچہ بظاہر بھری ہوئی ہیں۔ مگر انھیں اب بھی ایسے کارکنوں کا انتظار ہے جو ان کی مرضی کے مطابق ان کا کام پورا کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج سارا ملک ایک عظیم خلا سے اور یہ خلا اعلیٰ مصنوعات اور بہتر کارکردگی کا خلا ہے۔ اگر کوئی گروہ ہو جو محنت اور عملی دیانتداری میں اعلیٰ معیار دکھا کے، جوشال کے طور پر مبنی اور کارکردگی کا خلاء پر کرکے آپ اپنے لئے جگہ حاصل کر سکتے ہیں۔
جاپان میں نظر آتا ہے تو وہ آناً فاناً ملک کی اقتصادی پر چھا جائے گا اور جو گروہ اقتصادیات پر قابض ہو جائے وہ لازمی نتیجہ کے طور پر دوسرے شعبوں پر بھی قابض ہو کر رہتا ہے۔
دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ________ جس آسامی کے لیے بی اے کی قابلیت کی شرط ہو، اور بی اے والوں نے درخواستیں دے رکھی ہوں۔ وہاں آپ بھی اپنی بی اے کی ڈگری لے کر پہنچ جائیں اور جب آپ کو نہ لیا جائے تو بحث کریں کہ کیوں آپ کے مقابلے میں دوسرے امیدوار کو ترجیح دی گئی جبکہ دونوں یکساں طور پر گریجویٹ تھے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ جہاں لوگ بی اے کی سندیں پیش کر رہے ہوں وہاں آپ ماسٹر ڈگری لے کر پہنچیں جہاں لوگ مطابق شرائط قابلیت کی بنیاد پر اپنا حق مانگ رہے ہوں وہاں آپ برتر از شرائط قابلیت دکھا کر اپنا حق تسلیم کرائیں۔
یہی دوسرا طریقہ زندگی کا اصل طریقہ ہے۔ بڑی ترقیاں اور کامیابیاں انھیں کے لیے مقدر ہیں جو اس دوسرے طریقے کے مطابق کام کرنے کے لیے
مسلم قیادت موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ ناکام قیادت ثابت ہوئی ہے۔
اس کی وجہ اس کی یہ غلطی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مستقبل کو تعمیر کے بجائے سیاست میں تلاش سیاست بازی کا مطلب ہے، اپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں کے خلاف مہم چلانا۔ جبکہ تعمیر یہ ہے کہ اپنے مسائل کے لئے خود اپنے اوپر عمل کیا جائے۔
کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ قوم کو اس حیثیت سے تیار کیا جائے کہ لوگوں کے عقائد مضبوط ہوں، ان کے اندر اخلاق کی طاقت ہو، وہ تعلیم میں اونچے ہوں، ان میں باہم اتحاد ہو اقتصادی شعبوں میں انھوں نے اپنی جگہ بنائی ہو۔ سماجی بہبود کے ادارے ان کے درمیان چل وہ زمانے کو پہچانیں اور اس کے مطابق کام کرنا جانتے ہوں۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے اندر وہ شعور ابھارا جائے کہ وہ صاحب نظریہ افراد کی حیثیت سے لوگوں کے درمیان رہ سکیں۔ انھیں چیزوں کے اوپر کسی قوم کی زندگی کا دارو مدار ہے۔ لیکن مسلمانوں نے دوسروں کے خلاف سیاسی ہنگامہ آرائی تو خوب کی، خود اپنی تعمیر کے لئے کوئی کام وہ کیا۔ مزید نادانی یہ ہے کہ سیاست بازی سے جب وہ کامیاب نہ ہو سکے تو اب انھوں نے دوسرا مشغلہ یہ اختیار کیا ہے کہ اپنی ناکامی کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ حالانکہ اس قسم کی باتوں سے نہ صرف یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ قرآن کے الفاظ میں انھوں نے کلمہ طیبہ کا درخت نہیں اگایا تھا، بلکہ کلمہ خبیثہ کا درخت اگایا تھا۔ کیونکہ کلمہ طیبہ کے درخت کے لئے خدا کا اعلان ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہیں سکتا۔ یہ انجام صرف کلمہ خبیثہ کے درخت کے لئے مقدر ہے کہ جو چاہے ہاتھ بڑھاکر اس کو اکھاڑلے۔
ایمان یہ ہے کہ جب کوئی غیر معمولی بات پیش آئے تو آدمی سے اندر انسانیت نہ جاگے بلکہ خدا پرستی جاگے آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ کبھی آرام کبھی تکلیف، کبھی تعریف کبھی تنقید کبھی خوشی کبھی غم ۔ یہ اتار چڑھاؤ سب امتحان کے پرچے ہیں۔ کامیابی یہ ہے کہ ان واقعات سے آدمی کے اندر انسانیت نہ جاگے بلکہ خدا پرستی جاگے ۔ خوشی اور آرام ہو تو اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ کسی سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کے اندر عجز اور عبدیت کی روح پیدا ہو۔
۱۹۷۵ میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کے کابینی رفقاء مسٹر تاج الدین احمد، مسٹر قمر الزماں، مسٹر نذر الاسلام اور دوسرے بہت سے لوگ قتل کر دیئے گئے تھے۔ اس واقعہ کے کسی قدر پہلے اپریل ۱۹۷۵ میں بنگالی صحافی مسٹر سکھ رنجن داس گپتا ڈھاکہ گئے تھے اور بنگلہ دیش کے لیڈروں سے ملے تھے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے خونین واقعات پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے :