یا الہی یہ ماجرا کیا ہے
Al-Risala, February 1979, pp. 48–39
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا ابوالکلام آزاد نے ۱۹۱۴ میں "دارالارشاد" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ ادارہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: " ہمارے کاموں کی بڑی قسمیں صرف دو ہی ہیں ۔ مسلمانوں کی داخلی اصلاح واحیائے علم و عمل، اور غیر قوموں میں اسلام کی تبلیغ ۔ یہ دونوں کام بغیر کسی ایسی جماعت کی موجودگی کے انجام نہیں پاسکتے۔ قدر تحریکیں، انجمنیں، کانفرنسیں اور متفرق کوششیں بغیر اس کے ہوں گی، وہ اسی طرح ضائع ہو جائیں گی جس طرح اب تک ضائع ہو چکی ہیں۔ " البلاغ ۱۲ نومبر ۱۹۱۵ چالیس سال پہلے مولانا آزاد کا یہ تجزیہ کس قدر مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ دنوں بعد وہ ان دونوں کاموں کو چھوڑ کر "متفرق کوششوں"، "بالفاظ دیگر سیاست کی لائن پر چل پڑے ۔ اگرچہ وہ آخر وقت تک یہی اعلان کرتے رہے کہ " میں نے ۱۶ سال کی عمر میں اپنے لئے جو راستہ مقرر کیا تھا، اسی پر میں آج بھی قائم ہوں "۔ یہی موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام شخصیتوں کا حال وہ آغاز میں ایک خالص دینی مقصد لے کر مگر دھیرے دھیرے ان کی گاڑی سیاست کی پٹری پر اتر گئی۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر ایک آخر وقت تک یہی اعلان کرتا رہا کہ وہ اب بھی اسی مقصد پر قائم ہے جو اس نے شروع میں اپنے سامنے رکھا تھا ۔ وقت گزرنے کے بعد ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء کو مہاتما گاندھی کو گولی سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس وقت سے ہر سال یہ دن ”یوم شہیداں“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ۳۰ جنوری ۱۹۷۸ء کو اس موقع پر جو تقریبات ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھا کہ برطانوی نوبل انعام یافتہ لارڈ فلپ نوئل بیکر کو لکچر کے لئے مدعو کیا گیا۔ اس اجتماع کی صدارت مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے انجام دی۔
مسٹر باجپئی، جو اس وقت ہندوستان کے وزیر خارجہ ہیں، ۱۹۴۸ء میں ڈاکٹر شیام پرشاد مکر جی (ہندو مہاسبھا) کے پرسنل سکریٹری تھے۔ مسٹر باجپئی کی صدارتی تقریر کی جو رپورٹ اخبارات میں آئی ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے۔
MR ATAL BEHARI VAJPAYEE, EXTERNAL AFFAIRS MINISTER, CONFESSED HERE TODAY THAT HE HAD FOUND MAHATMA GANDHI WANTING AT THE TIME OF INDIA'S PARTITION IN HIS APPROACH TO THE COMMUNAL QUESTION. The Times of India, وزیر خارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ اُس وقت ان کا خیال تھا کہ مہاتما گاندھی نے ملک کی تقسیم کے وقت فرقہ وارانہ سوال پر جو موقف اختیار کیا، وہ قومی معیار سے گرا ہوا تھا۔ مگر اب وہ سمجھتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کا موقف ہی درست تھا) حقیقت پسند رہنماؤں کے ساتھ اکثر یہ المیہ پیش آتا ہے کہ ان کے وقت کے پرجوش لوگ ان کے موقف کو پست ہمتی کا موقف سمجھتے ہیں ۔ حالاں کہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ وہی زیادہ صحیح اور قابلِ
مسیحی کوششتہ رکھنے کے لئے ناکامی کا سوال نہیں۔
جو حرکت کرنا چاہے اس کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا ۔ گیس نیچے نہیں سماتی تو دیر اٹھا کر اپنے لیے جگہ حاصل کر لیتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھنے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف بہہ کر اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح پر قائم نہیں ہوسکتا تو وہ زمین کو پھاڑ کر اس سے اپنے لئے زندگی کا حق وصول کرتا ہے۔
یہی طریقہ آپ کو بھی اختیار کرنا ہے، آپ کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو سمجھیں، اپنی قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے ترتیب دیں اور پھر ماحول کو سمجھ کر ماحول کے اندر اس طرح گھسیں کہ اس کے مقابلہ میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے آپ پوری طرح مسلح حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے آپ نے ضروری سامان کر لیا ہو۔
لیاقت پیدا کیجئے اور دانش مندی کے ساتھ اپنے لئے راہ نکالئے، اس کے بعد آپ کو کبھی ماحول سے شکایت نہ ہوگی۔ زندگی کی کسی منزل پر آپ اپنے کو نا کام محسوس نہیں کریں گے۔ ناکامی اور مایوسی صرف وہیں آتی ہے جہاں زندگی کی ضروری شرطیں پوری کرنے میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو۔