Al-Risala · January 1979

اختلافی محاذ بنانا سب سے زیادہ برا کام

Al-Risala, January 1979, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

امام احمد روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے لئے کچھ چیز لے کر چلے۔ وہ ربذہ پہنچے تو وہاں ان کو نہ پایا۔ ان کو بتایا گیا کہ وہ حج کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ وہ دوبارہ روانہ ہو کر منی پہنچے۔ وہ لوگ ابوذر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان سے کہا گیا: خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ نے یہاں چار رکعتیں پڑھی ہیں۔ یہ بات ابوذر رضی اللہ عنہ کو بہت گراں گزری۔ انھوں نے سخت الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا آپ نے صرف دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر ابو بکر رض و عمر رض کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ لوگوں نے کہا: آپ نے امیر المومنین پر چار رکعت کے لئے اعتراض کیا اور خود وہی کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا :

مختلف عمل کرنا اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

اسی قسم کا واقعہ عبدالرزاق نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے منی میں چار رکعت پڑھنے پر نئیر کی اور پھر خود چار رکعت پڑھی۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا: اختلاف کرنا شر ہے (الخلاف شر)

اپنوں سے شکایت کا عذر لے کر دشمن سے مل جانا صحیح نہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس غزوہ کا اعلان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت میں کیا جب کہ کھجوروں کا پکنا اور درختوں کا سایہ لوگوں کو اچھا معلوم ہوتا ہے۔ نے تیاری میں سستی کی۔ میرا گمان تھا کہ مجھے کو تو ہر طرح قدرت حاصل ہے۔ جب چاہوں گا روانہ ہو جاؤں گا۔ تک کہ لشکر روانہ ہو گیا اور میں ابھی تک تیار نہ ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس تشریف لائے تو میں آپ سے ملا۔ آپ نے پوچھا : تم کو کس چیز نے غزوہ میں شرکت سے روک دیا ؟ میں غلط بیانی نہ کر سکا۔ میں نے کہہ دیا : میرے پاس کوئی عذر نہیں ۔ میں جانے پر پوری طرح قادر تھا “ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کعب (اور ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع) سے کوئی بات نہ کرے۔ پچاس دن تک مدینہ میں ان کا مکمل بائیکاٹ جاری رہا۔ حتیٰ کہ ان کا وہ حال ہو گیا جس کی تصویر قرآن میں ان الفاظ میں ہے: زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی۔ ان کا اپنا وجود بھی ان پر بوجھ بن گیا۔ انھوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ خود اللہ کے سوا نہیں (توبہ ۱۱۸)

کعب بن مالک رض کہتے ہیں ۔ اسی دوران ایک روز میں مدینہ کے بازار میں تھا کہ مجھے شام کا ایک نبطی ملا جو تجارت کی غرض سے مدینہ آیا تھا۔ اس نے مجھے شاہ غسان کا ایک خط دیا جو ریشم کے کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس میں لکھا تھا:

" مجھے معلوم ہوا کہ تمھارے صاحب نے تم پر ظلم کیا ہے۔ خدا تم کو ذلت اور ضائع ہونے کی جگہ پر نہ رکھے۔ ہم تمھاری قدر کریں گے"۔

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا اور اسی وقت اس کو آگ میں ڈال دیا۔ پچاسویں دن اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول فرمائی۔

Printed page