ڈیگال ازم : اپنی مقبولیت کی
Al-Risala, February 1979, pp. 44–41
By Maulana Wahiduddin Khan
قیمت پر قوم کے مستقبل کی تعمیر ہندوستان کے وزیر خارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے فروری ۱۹۷۸ء کے پہلے ہفتہ میں پاکستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے فوجی حکمراں جنرل ضیاء الحق نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا: THE BEST DESCRIPTION I CAN GIVE OF MR VAJPAYEE IS THAT AS A POLITICIAN IN OFFICE HE IS DIFFERENT FROM WHAT HE WAS IN THE OPPOSITION. مسٹر باجپئی کے بارے میں بہترین الفاظ جو میں کہہ سکتا ہوں، وہ یہ کہ بحیثیت وزیر حکومت وہ اس سے مختلف ہیں جیسے کہ وہ اس وقت تھے جب کہ وہ اپوزیشن میں تھے۔ دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان اسلام آباد میں جو گفتگو ہوئی ، اس میں کشمیر کا مسئلہ نمایاں رہا۔ اس واقعہ کے باوجود کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے پوری طرح سنجیدہ تھے، طرفین نے محسوس کیا کہ کشمیر کا مسئلہ دونوں کے تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،
THE PUBLIC OPINION IN INDIA. WAS VERY SENSITIVE ON THIS ہندوستان کی رائے عامہ اس مسئلہ کے بارے میں بے حد حساس ہے۔ دوسری طرف جنرل ضیاء الحق نے صفائی کے ساتھ کہا کہ بنیادی شکل یہ ہے کہ : WE ARE ALLERGIC ON KASHMIR کشمیر کے معاملہ میں ہم پاکستانی الہجک واقع ہوئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا، ۷ فروری ۱۹۸۴ء یہ اخباری رپورٹ بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ کی "جمہوری سیاست" کس تضاد سے دوچار ہے۔ لیڈر جب تک ایوانِ حکومت کے باہر ہوتا ہے، وہ آتشیں تقریریں کرتا ہے، کیونکہ ہند و پاک جیسے علاقہ میں عوامی لیڈر بننے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ مگر اس کی سیاسی مقبولیت جب اس کو حکومت کی کرسی پر پہنچادیتی ہے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ اب اس کو محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا انتظام چلانے کے لئے حقیقت پسندی کی مگر یہاں عوام کی وہی جذباتیت، حقیقت پسندانہ سیاست کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے جو اس سے پہلے حزبِ اختلاف کی سیاست چلانے کے لئے سب سے زیادہ کار آمد ثابت ہوئی تھی۔ اس تضاد کا واحد حل "ڈیگال ازم" ہے یعنی اپنی مقبولیت کی قیمت پر ملک کے مستقبل کی تعمیر۔ جنرل ڈیگال (۱۸۹۰ء - ۱۹۷۰ء) نے الجیریا کو آزاد کر کے اچانک فرانس کو یورپ کا سب سے طاقت ور ملک بنا دیا۔ اگر چہ اس کے بعد ڈیگال کی اپنی سیاسی زندگی ختم ہو گئی - ڈیگال ازم عملاً سیاسی خود کشی کے ہم معنی ہے۔ اور خود کشی کی معروف قسم جتنی عام ہے، یہ دوسری قسم اتنی ہی کمیاب ہے۔
حقیقی لیڈر وہی ہے جو قوم کو حقیقی علی چیز دے سکے۔ اور ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ لیڈر ہر حال میں حقیقت پسندانہ سیاست چلائے خواہ اس کی وجہ سے اپنی کامیابی کے لئے اس کو کتنی ہی لمبی مدت تک انتظار کرنا پڑے اور اگر بالفرض اس کو برداشت میں ایک جذباتی سیاست کا ماحول ملے تو وہ اپنی مقبولیت کو خطرہ میں ڈال کر فیصلہ کر سکے۔ ۴۰ - رونما، فیشہ ، سرگزشت،
قومی رہنمائی کے کام کے لیے صرف انھیں لوگوں کو اٹھنا چاہیے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکتے ہوں۔ اندر یہ صلاحیت نہ ہو، ان کا قومی رہنما بن کر اٹھنا، قومی جرم ہے نہ کہ قومی خدمت چودھری خلیق الزماں (۱۹۴۳- ۱۸۸۸)
پاکستان تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ اوپر اتنا اعتماد تھا کہ انھوں نے کہا: "نہرو سے زیادہ سیاست میرا کو چوان جانتا ہے۔ " انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں دکھایا ہے کہ پاکستان کے اصل بانی وہی تھے، یہ انھیں کا تخیل تھا اور اس وقت تھا جب کہ مسٹر جناح بھی اس کے خلاف تھے۔
مگر آخر عمر میں چودھری صاحب کو یہ احساس ہو گیا کہ انھوں نے تقسیم ملک کی جو تحریک چلائی وہ غلط ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور (۲۱ اپریل ۱۹۷۲ء) میں ان کا ایک انٹرویو چھپا تھا۔ اس سے پھر روز نامہ جنگ میں نقل ہوا۔ اس انٹرویو کا ایک حصہ یہ تھا: "ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری خلیق الزماں نے روز نامہ جنگ" کے نمائندہ کو ایک ملاقات میں انٹرویو دیا اور برصغیر کی تقسیم کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے یہ تقسیم کرا کر ہندوستان کے مسلمانوں کو کمزور کیا اور جن عظیم مقاصد کے لیے پاکستان قائم کیا تھا وہ بھی حاصل نہ ہو سکے۔ اب ہم ایک کوزہ میں بند ہو گئے ہندوستان میں اب بھی 5۔ کروڑ مسلمان ہیں۔ جن کی ہم کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ اس صورت میں کون کہہ سکتا ہے کہ تقمیم مندرجہ کر ہم نے کوئی فائدہ حاصل کیا۔ ۳۰ اپریل ۱۹۰۲ء منفرہ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے تمام قائدین، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، چودھری خلیق الزماں ہی کی مثال ثابت ہوئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بعض لوگ مرتے ہوئے چودھری صاحب کی طرح اپنا اقرار نامہ لکھ کر قوم کو دے گئے ۔ کا حال یہ رہا کہ آخر وقت تک وہ یہی کہتے رہے یا کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے جو راہ اختیار کی وہی صحیح ترین راہ تھی ، حالات کے بگاڑ میں ان کا اپنا کوئی حصہ نہیں۔ جو کم پر راضی ہو جائے وہی زیادہ پاتا ہے ۔
جو زیادہ کے لئے دوڑے وہ کم سے بھی محروم رہتا ہے اور زیادہ سے بھی ۔