طاقت کا خزانہ آپکے اندر ہے
Al-Risala, February 1979, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
نپولین کا نام فوجی تاریخ میں عظمت کا نشان مگر وہ ایک پست قد آدمی تھا اگر چہ فربہ اندام تھا۔ ایک دن وہ پریڈ گراؤنڈ میں معمولی لباس میں کھڑا تھا اتنے میں اس کا ایک فوجی پیچھے سے آیا اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ کوئی معمولی سپاہی ہے، نپولین کے اوپر سے ہائی جمپ کر گیا۔ اس کے بعد وہ فخریہ انداز میں پلٹا اور کھڑے والے شخص کے سامنے سے اس کے چہرہ پر نظر ڈالی تو وہ نپولین تھا جو سنجیدگی کے ساتھ اپنے فوجی کی طرف دیکھ رہا تھا فوجی نے جب اس طرح اچانک اپنے عظیم کمانڈر نپولین کو دیکھا تو وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور فوراً مر گیا۔ معلوم ہوا کہ طاقت کا اصل سر چشمہ خود آدمی کا اپنا وہی نپولین ہے اور وہی فوجی مگر ایک بار وہ نپولین کے سر سے فخریہ انداز میں پھاند جاتا ہے اور دوسری بار اس کو دیکھتے ہی اتنا بد حواس ہوتا ہے کہ فوراً مر
یہ دونوں احساس کے کرشمے ہیں اگر آپ کا دل بے خوف ہے تو آپ شیر سے لڑ سکتے ہیں اور دریاؤں کو پھلانگ سکتے ہیں۔ لیکن اگر دل میں شبہ اور دہشت پڑا ہو تو گیدڑوں کا غلوں بھی آپ کو بو کھلا دے گا اور معمولی نہر بھی آپ کو ڈبانے کے لیے کافی ہوگی۔ او پر ہم نے نپولین کے فوجی کی جو مثال پیش کی ہے، وہ اس صورت حال سے متعلق تھی کہ ایک طاقتور شخص کس طرح دل کی گھبراہٹ کی وجہ سے اپنی موجودہ طاقت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اب ایک ایسی مثال لیجیے جبکہ ایک کمزور اور شکست خوردہ آدمی محض دل کی کیفیت بدل جانے کی وجہ سے دوبارہ فتح وکامیابی کا مالک بن جاتا ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے رابرٹ بروس (ROBERT BRUCE) نے انگلینڈ کے بادشاہ کنگ ایڈورڈ اول کے خلاف بغاوت کردی تھی جو کہ اسکاٹ لینڈ کے اوپر اقتدارِ اعلیٰ کا دعویدار تھا۔ اس کو ۱۳۰۶ء میں "کنگ آف اسکاٹ لینڈ" کا تاج پہنایا گیا۔
اس مقابلہ میں رابرٹ بروس کو بری طرح شکست ہوئی اور اس کو جنگلوں اور بیابانوں میں پناہ لینا پڑی۔ مگر ۱۳۱۴ء میں اس نے دوبارہ انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ دوم سے بنک ہرن میں جنگ کی اور اس کو شکست دی۔ اور اسکاٹ لینڈ کو انگریزوں سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد "رابرٹ اول" کے نام سے اس نے ۱۳۲۹ء تک اسکاٹ لینڈ پر حکومت کی۔
رابرٹ بروس کو شکست کے بعد فتح کس طرح حاصل ہوئی اس کے سلسلے میں ایک دلچسپ قصہ بیان کیا جاتا وہ ایک جنگل کے اندر کسی غار میں پڑا ہوا تھا۔ اب انگلینڈ کے بادشاہ سے مقابلہ کا خیال چھوڑ دینا چاہئے" اس نے سوچا۔ اس کو اپنی کامیابی کی کوئی امید نظر نہیں آتی کئی بار کے مقابلہ کے بعد بالآخر وہ مایوس ہو چکا تھا۔ اتنے میں غار کے اندر ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا۔ ایک مکڑی اپنے جالے کے باریک تار سے چھوٹ کر زمین پر گر پڑی۔ رابرٹ بروس کی نظریں اس کے اوپر جم گئیں۔ اس نے دیکھا کہ مکڑی نے اپنا ایک منٹ ضائع نہیں کیا اور لٹکتے ہوئے تار کے ذریعے دوبارہ اوپر چڑھنے کی جدوجہد مگر چھت کے قریب پہنچتے ہی وہ دوبارہ پھسل کر گر پڑی۔ اب وہ پھر پہلے کی طرح زمین پر پڑی ہوئی تھی اس طرح وہ بار بار چڑھتی اور بار بار گرتی رہی۔
ہمت نہیں ہاری اور ہر بار دوبارہ اسی کام میں مشغول ہو جاتی جس میں وہ اس سے پہلے ناکام ہو چکی تھی۔ رابرٹ بروس اس کے ناکام تجربات کو گنتا رہا۔ یہاں تک کہ جب وہ نویں بار زمین پرگری تو اس کو ہنسی آ گئی، اب یہ کیڑا مزید کوشش کی حماقت نہیں کرے گا اس مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ مکڑی نے ایک لمحہ ٹھہرے بغیر دسویں بار پھر اپنی جدوجہد شروع کر دی ۔
اس بار رابرٹ بروس کے سامنے دوسرا منظر تھا اس نے دیکھا کہ مکڑی منزل سے بہت قریب پہنچ گئی ہے وہ دھیرے دھیرے چڑھتی رہی یہاں تک کہ جب فاصلہ بہت قریب آگیا تو اس نے آخری چھلانگ لگائی اب وہ اپنے جاندار مکان کے اندر تھی۔
”خوب“ رابرٹ بروس چلایا ”وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ہمت نہ ہاریں اور مسلسل اپنی جدوجہد جاری وہ ایک لمحہ کے لئے رکا اور پھر بولا ”ایک معمولی کیڑے نے مسلسل کوشش سے اپنی بازی جیت لی۔ کیوں ایسا نہیں کر سکتا۔ رابرٹ بروس غار سے نکل کر باہر آیا۔ آخری فیصلہ کن مقابلہ کے لیے تیاری شروع کر دی۔ عزم کے ساتھ شاہ انگلینڈ سے لڑا اور اس بار اس نے فتح حاصل کر لی۔
حقیقت یہ ہے کہ ”میں ایسا نہیں کر سکتا“ محض ایک بزدلانہ فقرہ ہے ہر شخص ہر کام کر سکتا ہے اور شکست دوبارہ نئی فتح میں تبدیل ہو سکتی ہے بشرطیکہ مسلسل جدوجہد کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے۔