Al-Risala · February 1979

سیب کا سبق

Al-Risala, February 1979, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ٹن سیب سے کتنا عرق نکالا جا سکتا کوئی بھی پھلوں کا ماہر آپ کو بتائے گا۔ ۷۵ کلو گرام تک ۔ مگر سیب میں حقیقتاً اس سے بہت زیادہ عرق ہوتا ہے ۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ موجودہ ذرائع کے تحت جب ہم سیب کو مکمل طور پر نچوڑ چکے ہوتے ہیں ، اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ٹن میں ۱۰۰ سے ۱۲۰ کلو گرام تک عرق باقی رہتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کولھو اچھے اگر ہم سب سے طاقتور برقی کولھو استعمال کریں جب بھی عرق کی مقدار میں بس برائے نام ہی فرق آئے گا ۔ سیب کے اندر بچا ہوا عرق پھر بھی ہمیں حاصل نہ ہو سکے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب کے خلیوں کا چھلکا بے انتہا دباؤ کے تحت بھی ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے ۔ اور کولھو میں پس جانے کے باوجود اس کا عرق خلیوں کے اندر محفوظ رہتا ہے موجودہ حالت میں دباؤ اور طاقت کا اضافہ اس مسئلے کو حل نہیں کرتا ۔

یہ سیب کا قصہ ہے مگر اسی کے اندر آپ قوموں کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک قوم وہ ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی دباؤ کی زد میں آجائے تو آخری حد تک نچوڑ کر رہ جاتی ہے ۔ مگر زندہ قوموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ اگر وہ ظلم و ستم کے کولھو میں پیل دی جائیں جب بھی سیب کی طرح ، ان کے اندر زندگی کی رمق باقی رہتی ہے اور موقع پاتے ہی وہ دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں ۔

اس کا اخبار وہاں بھی پہنچ دیتا جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکتا تھا روسی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے مگر اس کے اندر بہت بڑی نصیحت چھپی

یہ اس وقت کا ذکر ہے جب روس میں اکتوبر ۱۹۱۷ء کا انقلاب نہیں آیا تھا روس میں بالشویکوں (کمیونسٹوں کا قدیم نام) کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لیے شہنشاہ روس (زار) نے بالشویک پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا تھا۔ اور تمام بڑے بڑے لیڈروں کے نام گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے تھے۔

کچھ لیڈر گرفتار ہوئے، کچھ بچ کر جنگلوں اور غاروں میں روپوش ہوگئے۔ انھیں روپوش ہونیوالوں میں بالشویک پارٹی کا عظیم لیڈر لینن بھی تھا۔ جنگلوں اور غاروں کے ایک دور افتادہ علاقہ کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں روپوش ہوکر اخبار نکالنا شروع یہ اخبار دستی روس میں چھاپ کر دستی طور پر پریس کے شہروں میں خفیہ طور پر پہنچادیا جاتا تھا۔ ایک روز کا واقعہ ہے۔ ایک شخص ایک روسی شہر میں پنساری کے یہاں کچھ سامان خریدنے گیا جب وہ سامان خرید کر گھر لایا اور پڑیا کھولی تو اچانک اس کی نظر پڑیا والے کا غذ کے چھپے ہوئے الفاظ پر پڑی۔ ایک اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ تھا جس میں آتشیں الفاظ اور گرما گرم عنوان کے ساتھ ایک عبارت چھپی ہوئی تھی۔ ردی کے اس ٹکڑے پر چھپی ہوئی عبارت پڑھ کر اس آدمی کے اندر عجیب کیفیت پیدا ہوئی، وہ بار بار اس کو پڑھتا رہا اور اس سے اپنے دل کو گرماتا رہا یہاں تک کہ اسے خیال ہوا کہ معلوم کرے کہ اس عبارت کا مصنف کون ہے اور یہ کس اخبار کا ٹکڑا ہے جو پنساری کی معرفت اسے ملا ہے۔

وہ تلاش میں لگ گیا۔ جو بندہ یا بندہ بالآخر اسے معلوم ہوا کہ یہ ردی کا ٹکڑا لینن کے اس اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ ہے جو وہ روپوش ہو کر نکال رہا ہے۔ اب اس کا اشتیاق اور بڑھا اور وہ تلاش کرتا ہوا اس غار میں پہنچ گیا جہاں چھپ کر لینن اخبار نکالا کرتا اس کے بعد سے آخر تک وہ لینن کا ساتھی بنا رہا۔ کے کتنے لوگ ہیں جن کو لینن نے صرف اپنے اخبار سے فتح کیا لینن زار کی پولیس سے بچنے کے لیے غار کے اندر روپوش تھا مگر اپنے اخبار کی بدولت وہ ہر شہر میں پہنچا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ بازار میں پنساری کی دکان بھی اس کے حق میں پروپیگنڈے کا مرکز بنی ہوئی تھی اس کا اخبار وہاں بھی پہنچ رہا تھا، جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہ ہے موجودہ زمانے میں پریس کی قوت۔ حیرت انگیز بات ہے کہ پچاس برس پہلے باشعور لوگوں نے اس سے جو کام لیا تھا ابھی تک ہم وہاں بھی نہیں پہنچے ہیں اور آج کی زندہ قومیں پریس سے جو کام لے رہی ہیں اس کی تو عام مسلمانوں کو خبر بھی نہیں حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں دوسری قومیں ہم سے اتنا آگے ہیں کہ ہم ان کے پیچھے بھی نہیں۔ پیچھے ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم بھی کہیں ہیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم ان کی نسبت سے کہیں نہیں ہیں۔

Printed page