CS CamScanner
Al-Risala, February 1979, pp. 25–46
By Maulana Wahiduddin Khan
جو بات ایک شخص اپنی ذات کے بارے میں جانتا ہے وہی بات قوم کے بارے میں بھول جاتا ہے طرابلس کے متحف (میوزیم) میں ایک بکری رکھی ہوئی ہے جس کی گردن کے اوپر دوسری ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا، اگر ایک شخص اس کو دیکھ کر آئے اور آپ اس سے پوچھیں کہ سب سے عجیب چیز متحف میں تم نے کیا دیکھی۔ تو شاید وہ جواب دے گا کہ ”دوسروں والی بکری“۔ مگر میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں نے سب سے عجیب چیز جو دنیا میں دیکھی وہ دوسروں والے طرابلس کے متحف میں تو صرف ایک ایسی بکری ہے جس کے دوسری ہے۔ مگر میں نے اپنی ساری عمر میں جتنے انسان دیکھے سب دوسرے رکھنے والے انسان تھے۔
میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اس کو مثال سے سمجھیے۔ آپ کا ایک لڑکا ہے۔ آپ اس کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کیا کریں گے۔ آپ اس کو اسکول میں داخل کریں گے۔ کے ساتھ ہائی اسکول کرائیں گے۔ پھر ٹی، ایس، سی کرائیں گے۔ پھر اس کو ایم بی بی ایس کے کورس میں داخل کریں گے۔ کی کوشش ہوگی کہ اس کو ایف آر سی ایس کرنے کے لئے لندن ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے دنیا میں اپنی جگہ آپ میں سے کوئی شخص ایسا وہیں کرے گا کہ وہ اپنے لڑکے کو یوں ہی چھوڑ دے کہ وہ کھیلتا کودتا رہے۔ بعد جب نہ ۲۵ برس کا ہو جائے تو اس کا باپ اس کو ڈاکٹر بنانے کے حق میں پر جوش تقریریں شروع کر دے، وہ حکومت کو کہے کہ میرے لڑکے کو اسپتال میں سرجن مقرر کرو۔ یا یہ کہ اس کو ”پس ماندہ“ قرار دے کر ڈگری کے بغیر ڈاکٹر تسلیم کرو۔ آپ میں سے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ ڈاکٹر بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا لڑکا تعلیمی اور تربیتی کورس کو پورا کرے۔ مطالبہ کرنے سے کوئی شخص کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ استحقاق کی دنیا ہے، مطالبات کی دنیا نہیں۔
مگر یہی بات جو بہ آدمی اپنے ذاتی معاملے میں جانتا ہے، قومی معاملہ میں وہ اس سے بے خبر ہے، جہاں کسی شخص کو قوم کا درد اٹھا اور وہ اصلاح کے میدان میں کھڑا ہوا، فوراً ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک اور سرد پیداہو گیا ہے جو بالکل دوسرے ڈھنگ سے سوچتا ہے۔ اب رہ ”تیاری“ کے بجائے ”مطالبہ“ کو کامیابی کا راز سمجھنے لگتا ہے۔ مفروضہ حریف کی خلاف پر جوش تقریریں کرنا، تار اور میمورنڈم بھیجنا، مطالبات کے ریزولوشن پاس کرنا، بین اقوامی اداروں میں اپنا کیس لے جانے کی اسکیم میں بنانا، یہی اس کی تمام سرگرمیوں کا خلاصہ وہی شخص جو اپنی اولاد کے بارے میں جانتا تھا کہ کامیابی صرف اس طرح ملتی ہے کہ پہلے اس کے لئے صلاحیت اور استعداد پیدا کی جائے، وہی شخص قوم کی اولاد کے بارے میں اپنی ساری سرگرمیوں کا نقشہ اس طرح بناتا ہے گویا تقریر اور مطالبات ساری کامیابیوں کا راز ہیں۔ یہ لا حاصل جد و جہد بالاخر جب ناکام ہو جاتی ہے تو وہ ہمت نہیں ہارتا۔ اب وہ اپنی مطالبا تی مہم کو جاری رکھنے کے لئے نیا لفظ ڈھونڈ لیتا ہے: ”ہم کو پس ماندہ قرار دے کر استحقاق کے بغیر ہی تمام مناسب پر بیٹھا دو۔ ایسے لوگوں کو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ وہ دوسرے رکھنے والے لوگ ہیں۔
اس مزاق کے معاملہ میں کسی مسلم قوم کی کوئی خصوصیت ہر علاقہ کے مسلمان اسی دُہری ذہنیت کا شکار ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا ” دوسرا سر“ ایک کے خلاف کام کر رہا ہے، کسی کا دوسرے کے خلاف۔ ایسے لوگ ممکن ہے وقتی لیڈری حاصل کر لیں گران کے اس عمل کی کوئی قیمت نہ تاریخ کے نزدیک ہے اور نہ خدا کے نزدیک۔
حافظ حامد حسن علوی (۱۹۵۹ - ۱۸۶۲) انلم گو کے ایک بزرگ تھے۔ نہایت ذہین معاملہ فہم۔ عزیزوں میں ایک شخص اکثر گھر کے اندر عورتوں اور بچوں میں بیٹھا کرتے تھے۔ حافظ صاحب مرحوم نے جب کئی بار ان کو اس طرح دیکھا تو ایک روز تبصرہ فرمایا: "عورتوں میں مت بیٹھو، اس سے عقل کم ہو جاتی ہے"۔ یہ مقولہ حال میں مجھے اس وقت یاد آیا جب میں نے ایک نوجوان کو دیکھا۔ وہ اس سے پہلے ایک معمولی ملازمت میں تھے۔ پچھلے دو برس سے انھوں نے ملازمت چھوڑ کر ایک کاروبار کر لیا ہے۔ ان سے ملا تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے کل اور آج میں بہت بڑا فرق ہو چکا ہے۔ ملازمت کے زمانے میں وہ دبے اور کھینچے ہوئے شخص دکھائی دیتے تھے۔ کوئی سمجھ داری کا جملہ ان سے سننے میں آتا تھا۔ جو میں نے دیکھا تو ان کے اندر ایک اعتماد ابِل رہا تھا۔ اور بات بات میں سمجھ داری کی باتیں ان کی زبان سے نکل رہی تھیں۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ آدمی جیسی زندگی گزارتا ہے، اسی کے لحاظ سے اس کی عقل کی تربیت بھی ہوتی جو شخص عورتوں اور بچوں میں اپنا وقت گزارے ظاہر ہے کہ اس کی گفتگو کے موضوعات بالکل معمولی ہونگے۔ گھریلو قصے، فیشن، ہنسی مذاق، کھانا کپڑا اور وغیرہ۔ اس قسم کی باتوں میں مشغول رہنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا ذہن اونچے اور گہرے مسائل میں غور و فکر کی تربیت نہیں پا سکے گا۔ اسی طرح ملازم کی زندگی ایک لگی بندھی زندگی ہوتی ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مہینہ پورا کرلے تو اس کو مقررہ تنخواہ بہر حال مل جائے گی۔ اس زندگی کی وجہ سوچ کر زندگی سے اس کے اندر ایک قسم کا ذہنی ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا اس کے برعکس تجارت ایک ایسا کام ہے جس میں ہر وقت آدمی کی محنت اور صلاحیت کا امتحان ہوتا رہتا ہر دن اس کو نئے نئے حالات سے نمٹنا پڑتا ہے یہ چیز حالات سے لڑنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، اس کی عقل کو جلا دیتی ہے اس کو بار بار زندگی کی خوراک دیتی رہتی ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا مشغلہ طے کرتے وقت یہ ضرور سوچے کہ وہ اس کی زندگی کی تربیت کس طرح کرے گا۔ وہی مشغلہ ایک انسان کے لیے صحیح مشغلہ ہے جس میں اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھریں، اس کے ذہن کا افق وسیع ہو، اس کے اندر خود اعتمادی کی پرورش ہو سکے، وہ دنیا میں وہ تمام رزق پاسکے جو خدا نے یہاں اس کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔
انسانی ذہن حیران کن حد تک بے پناہ صلاحیتیں اگر ہم درست مشغلہ اختیار کریں تو ہمارے ذہن کی ترقی ہماری زندگی کی آخری سانس تک جاری رہیگی، اس کے امکانات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اس کو کسی محدود یا ناقص مشغلہ میں بند کر دیں تو وہ ٹھہر کر رہ جائے گا ۔ پانی ایک گڑھے میں ہو تو وہ گھٹ کر رہ جاتا ہے، مگر وہی پانی جب دریا میں رواں ہوتا ہے تو سیلاب بن جاتا ہے۔