Al-Risala · February 1979

یہ اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھا

Al-Risala, February 1979, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

گڈوانی ہندوستان کے شہری پرواز کے محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک تازہ کتاب میں میسور کے سلطان ٹیپو (۱۷۹۹ء - ۱۷۵۱ء) کے حالات ناول کے پیرایہ میں بیان کئے اس تاریخی ناول کا نام ہے ’’ٹیپو سلطان کی شمشیر‘‘۔ یہ کتاب انھوں نے ہند، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، ترکی اور ایران کے کتب خانوں اور عجائب گھروں میں اٹھارہ سال تک تحقیق کرنے کے بعد تیار کی ہے۔ مسٹر گڈوانی نے ٹیپو سلطان کو ’’درجہ اول کا قوم پرست‘‘ قرار ان کا فیصلہ ہے کہ ٹیپو اٹھارویں صدی کا واحد ہندوستانی حکمراں ہے جس نے کسی بھی وقت اپنے ہم وطنوں کے خلاف جنگ میں انگریزوں کا ساتھ نہیں دیا۔

مسٹر گڈوانی نے لکھا ہے کہ ’’۱۷۹۲ء کے سرنگاپٹم کے محاصرہ میں ٹیپو نے انگریزوں کے ساتھ صلح کی جو بات چیت شروع کی وہ محض اپنے جنرل میر صادق کی پیدا کردہ غلط فہمی کی بنیاد پر تھی۔ حالانکہ اس وقت برطانوی جنرل کارنوالس اپنی فوجوں کے زبردست جانی نقصان کی وجہ سے پسپائی کی تیاریوں میں مشغول تھا۔ سلطان ٹیپو کا یہ اقدام وقتی طور پر اس کے جاسوسی نظام کی کمی کا سبب ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹیپو کی شکست یا اٹھارویں صدی کے آخر میں مشرقی اقوام کی مغربی اقوام کے مقابلہ میں پسپائی اس قسم کی کسی جزوی یا اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھی۔ یہ دراصل جدید قوتوں میں مغرب کی سبقت اور مشرق کی پس ماندگی تھی جس نے ایک کو غالب اور دوسرے کو مغلوب کر دیا۔

تاریخ میں کوئی فیصلہ دینا ایک بے حد نازک کیوں کہ بہت سے بظاہر یکساں اسباب میں سے کسی ایک سبب کو وہ فیصلہ کن عامل قرار دینا پڑتا ہے جس کے ذریعہ دوسرے اسباب کو سمجھا جا سکے۔ اگر فیصلہ کن سبب کو متعین کرنے میں غلطی ہو جائے تو تاریخ کا مطالعہ محض قصہ کہانی کا مطالعہ بن جاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ ہم کو کسی حقیقی سبب تک پہنچانے کا اپنی کمزوری کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کی کوشش آدمی کو تاریخ کے حقیقی سبق سے محروم کر دیتی ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ کسی "قدیم" تہذیب کو دوبارہ "جدید" نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح آدمی کو جوانی صرف ایک بار ملتی ہے، اسی طرح تہذیب کو بھی صرف ایک بار عروج نصیب ہوتا ہے۔ اس کے بعد تہذیب پر بڑھاپا آ جاتا ہے۔ بوڑھا ہو گیا اس کو دوبارہ جوان نہیں کیا جا سکتا۔ مگر چین کی مثال نے اس مفروضہ کی تردید کر دی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار جیمز ریسٹن (JAMES RESTON) نے پیکنگ میں اپنے طویل قیام کے بعد اپنے ذاتی مشاہدہ پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس کا عنوان ہے NEW LOOK OF AN ANCIENT LAND اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "چین کی قدیم ترین تہذیب کے بارے میں جو بات سب سے زیادہ نمایاں ہے، وہ یہ کہ آج وہ دوبارہ جوان نظر آتی ہے۔ ایک امریکی مشاہد کے نزدیک چین کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت اس کا "شباب" ہے۔

اسلامی مرکز کی اشاعتی مہم : عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر دین کیا ہے مولانا وحید الدین خاں تاریخ کا سبق مذہب اور جدید چیلنج اسلام دین فطرت قرآن کا مطلوب انسان تعمیری اور اصلاحی مضامین کے مستقل مطالعہ کے لئے زر تعاون سالانہ 24.00 MAKABA AL-RISALA, JAMIAT BUILDING, QASIMJAN STREET, DELHI 110006

مولانا وحید الدین خاں صفحات ۲۰۰ - قیمت بارہ روپے آفسیٹ کی اعلیٰ طباعت کے ساتھ جدید اسلامی لٹریچر میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ۔

ڑاک اس سے زیادہ کامار مولانا وحیدالدین خاں نہ کرنا مناسب سے زیادہ کامیاب جنگ ہے۔ کم لوگ ہیں جو ایسی جنگ لڑنا جانتے ہوں ہورتا ہیں، رائیں بنک کرنا، قیمت فی پرچہ | زر تعاون سالانہ | سہ ۴ روپے | شمارہ ۲۸ | خصوصی تعاون سالانہ | ایک سو روپے | دو روپے | بیرونی ممالک سے | ۱۵ ڈالر امریکی | مارچ ۱۹۶۹

Printed page