خدا کی دنیا کتنی حسین ہے
Al-Risala, January 1980, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
جب آپ اپنے کمرہ میں ہوں تو آپ اس کی چھت کو ناپ کر معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کی لمبائی کتنی ہے اور چوڑائی کتنی۔ مگر جب آپ کھلے میدان میں آسمان کے نیچے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی چھت کی لمبائی اور چوڑائی کو ناپنے کے لیے آپ کے تمام پیمانے ناکافی ہیں۔ یہی حال خدا کی پوری کائنات کا ہے۔ ایک بیج جس طرح بڑھ کر درخت کی ایک دنیا بناتا ہے اس کو کون بیان کر سکتا ہے۔ سورج کی روشنی، ہواؤں کا نظام، پٹریوں کے نغمے، پانی کے بہتے ہوئے چشمے اور اسی طرح کی بے شمار چیزیں جن کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ سچائی اس سے زیادہ لطیف ہے کہ اس کو انسانی لفظوں میں بیان کیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں زبان گنگ ہو جاتی ہے وہاں سے حقائق شروع ہوتے ہیں۔ جہاں الفاظ ساتھ نہیں دیتے وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ چپ کی زبان میں بول رہا ہے اور ہم اس کو شور کی زبان میں سننا چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ ہم خدا کی آوازوں کو سن سکیں۔ اس دنیا کی سب سے قیمتی باتیں وہ ہیں جو چپ کے بول میں نشر ہو رہی ہیں مگر جو لوگ صرف شور وغل کی بولیاں سنناجانتے ہوں وہ ان قیمتی باتوں سے اسی طرح نا آشنا رہتے ہیں جس طرح ایک بہرا شخص کسی عمدہ موسیقی سے۔ خدا کی دنیا بے حد حسین ہے۔ اس کے حسن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی جب اس دنیا کو دیکھتا ہے تو بے اختیار اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ خدا کی اس ابدی دنیا کا باشندہ بن جائے ۔ وہ ہواؤں میں شامل ہو جائے وہ درختوں کی سرسبزیوں میں چاہے ۔ وہ آسمان کی بلندیوں میں کھو جائے۔ مگر انسان کی محدودیتیں اس کی اس خواہش کی راہ میں حائل ہیں۔ وہ اپنی محبوب دنیا کو دیکھتا ہے مگر اس میں شامل نہیں ہو پاتا۔ شاید جنت اسی کا نام ہے کہ آدمی کو اس کی محدود یتوں سے آزاد کر دیا جائے تاکہ وہ خدا کی حسین دنیا میں ابدی طور پر داخل ہو جائے۔ انسان نے جو تمدنی دنیا بنائی ہے وہ خدا کی دنیا سے کس قدر مختلف ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی سواریاں شور اور دھواں پیدا کرتی ہیں مگر خدا کی دنیا میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اور نہ کہیں شور ہوتا ہے اور نہ دھواں۔ انسان انسانوں کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے طرح طرح کی تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں، مگر خدا کی دنیا میں ہوا اس طرح گزرتی ہے کہ وہ کسی سے نہیں ٹکراتی۔ انسان اپنی غلاظت کو کاربن اور پسینہ اور بول وبراز کی صورت میں خارج کرتا ہے مگر خدا نے اپنی دنیا میں جو درخت اگائے ہیں وہ اس کے برعکس اپنی کثافت کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں اور پھول اپنی کثافت کو خوش بو کی صورت میں۔ انسان کے بنائے ہوئے تمام شہروں میں کوڑے کو ٹھکانے لگانا ایک ناقابل حل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ مگر خدا کی بنائی ہوئی وسیع تر دنیا میں ہر روز بڑے پیمانے پر "کوڑا" نکلتا ہے مگر کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ کیوں کہ اس کو Recycle کر کے دوبارہ کائنات کے مفید اجزا میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جو شخص حقیقت کی جھلک دیکھ لے وہ اس کے بیان سے اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس پر چپ طاری ہو جاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظوں کا سیلاب بہانے لگے۔
یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم جب کسی معنی کو بیان کرتے ہیں تو ہم اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اس کو کچھ گھٹا دیتے ہیں۔ اس کے اومیں ایک لفظی پردہ ڈال دیتے ہیں۔ کسی با معنی حقیقت کو کوئی شخص محض اس کے الفاظ سے سمجھ نہیں سکتا۔ ایک اندھا شخص کسی کے بتانے سے یہ نہیں جان سکتا کہ پھول اسی طرح ایک شخص جس نے معنوی حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر نہ جگائی ہو وہ معنوی حقائق سے باخبر نہیں ہو سکتا۔ خواہ ڈکشنری کے تمام الفاظ اس کے سامنے دہرا دیے جائیں، خواہ قاموس المعانی کی تمام جلدوں کو اسے پڑھا دیا جائے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ مگر اس کتاب سے ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اپنے اندر تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی اسی کو ملتی ہے جس کے دل میں سچائی کی کھٹک موجود ہو۔ جو شخص سچائی کی تلاش میں ہو، سچائی جس کی ضرورت بن گئی ہو، جو سچائی کو پانے کے لئے اتنا بے قرار ہو کہ وہ اسی کی یاد لے کرسوتا ہو اور اسی کی یا دلے کر جاگتا ہو۔ جو آدمی اس طرح سچائی کا طالب ہو، قرآن اسی کے لئے ہدایت بنتا ہے۔ ایسا شخص گویا ہدایت کا نصف راستہ طے کر چکا ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے عہد الست کی خدائی آوازوں کو سن رہا ہے۔ وہ اپنے اندر اس صلاحیت کو بیدار کر چکا ہے جو معانی کی زبان کو سمجھتی ایسا شخص مادی دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے عالم حقائق سے اتنا قریب آ جاتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سرگوشیوں کو سننے لگتا ہے۔ نبوت کا علم ملنے سے پہلے یہ تمام تجربات آدمی کے اندر مبہم اور مجہول انداز میں ہوتے ہیں۔ کے بعد جب قرآن کی آواز اس کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ اس کی کتاب فطرت کی تفسیر بن جاتی ہے۔ اپنے اندر چھپے ہوئے غیر ملفوظ اشارات کو ملفوظ زبان میں پالیتا ہے۔ قرآن اور قرآن کو پڑھنے والا دونوں ایک دوسرے کا معنی بن جاتے ہیں۔ قرآن وہ بن جاتا ہے اور وہ قرآن :