گرھن اللہ کی یاد کے لئے
Al-Risala, March 1980, pp. 2–4
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے آخری ابراہیم تھے۔ وہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ۹ ھ میں پیدا ہوئے تقریباً18ماہ کی عمر میں ابراہیم کی وفات ہوگئی۔ جس دن ان کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن تھا۔ محمود پاشا فلکی کی تحقیق کے مطابق یہ29؍شوال10ھ کی تاریخ تھی ۔ قدیم زمانہ میں گرہن کے متعلق طرح طرح کے توہماتی خیالات پھیلے ہوئے تھے۔ سے یہ تھا کہ جب کوئی بڑا آدمی مرتا ہے تو سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا ہے۔ ابراہیم کی وفات کے دن جب سورج گرہن پڑا تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے یہ سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے بتایا کہ موت کے واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ ابو موسیٰ اشعری رضی کی روایت کے مطابق آپ نے فرمایا : هذہ الآيات التي يُرسل الله لا تكون لموت احد یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے وہ نہ کسی کی موت کی وجہ سے ہوتی ولا حياته ولكن مخوف الله بها عباده فإذا رأيتو ہم ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے ملکہ ان کے ذریعہ اللہ اپنے شيئاً من ذلك فافزعوا الى ذكره و دعائه و بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس جب تم اس قسم کی چیز دیکھو تو ڈر کے ساتھ استغفاره (متفق عليه)
اللہ کو یاد کرو اور اس کو پکارو اور اس سے مغفرت مانگو ۔
سورج گرہن یا چاند گرہن محض اتفاقاً نہیں ہوتے بلکہ متعین فلکیاتی قانون کے تحت ہوتے ہیں۔ سورج اور چاند دونوں نہایت محکم قدرتی اصول کے مطابق حرکت کر رہے ہیں۔ اس حرکت کے دوران کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زمین، سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے، اس طرح سورج کی روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی اور چاند گرہن ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چاند، زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، اس کے نتیجہ میں سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچتی اور وہ صورت پیش آتی ہے جس کو سورج گرہن کہا جاتا ہے۔ گویا سورج گرہن کا مطلب سورج کا چاند کے اوٹ میں آ جانا ہے اور چاند گرہن یہ ہے کہ زمین کے اوٹ میں آجانے کی وجہ سے سورج کی روشنی چاند تک نہ پہنچے۔ یہ جو کچھ ہوتا ہے معلوم فلکیاتی نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ ۱ فروری ۱۹۰۰ء کو جو سورج گرہن پڑا وہ بہت پہلے سے فلکیات دانوں کو معلوم تھا اور نہایت صحت کے ساتھ اس کے اوقات متعین کئے جا چکے تھے اور انہیں متعین اوقات کے مطابق وہ شروع اور ختم ہوا۔ اس طرح کے گرہن برابر ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ ان کے دکھائی دینے کے علاقے الگ الگ ہوتے ہیں، کہیں مکمل گرہن دکھائی دیتا ہے اور کہیں جزئی گرہن۔ مکمل سورج گرہن کے وقت سورج کی روشنی تقریباً ایک ہزار گنا کم ہو جاتی ہے ۔
سنت یہ ہے کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کے موقع پر نماز پڑھی جائے۔ یہ نماز اللہ کے آگے اپنے عجز اور بے بسی کا اظہار ہوتا سورج اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ نے ہمارے لئے روشنی اور حرارت کا مستقل انتظام کیا ہے ۔ سورج گرہن یہ بتانے کے لئے ہوتا ہے کہ جس خدا نے اس کو روشن کیا ہے وہی اس کو ماند بھی کر سکتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جس نعمت کو جب چاہے واپس لے لے۔ اس لئے جب گرہن ہو تو آدمی کو چاہئے کہ اللہ کو یاد کرے ۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تصور کر کے اللہ کے آگے گر پڑے ، وہ پکار اٹھے کہ "خدایا اگر تو سورج کو بھیجا دے تو کوئی اس کو جلانے والا نہیں ۔ اگر تم کو روشنی
اور حرارت سے محروم کر دے کوئی ہم کو روشنی اور حرارت دینے والا یں ہیں۔
"گرہن" کا یہ معاملہ صرف چاند اور سورج کے ساتھ مخصوص یں، اس قسم کے واقعات اللہ کی دوسری نعمتوں کے ساتھ بھی مختلف صورتوں میں پیش آتے ہیں۔ صحت کے ساتھ بیماری گویا جسم کا گرہن ہے اور اچھے موسم کے ساتھ خراب موسم گویا فضا کا گرہن۔ اس طرح ایک ملی ہوئی نعمت کو تھوڑی دیر کے لئے روک کر اس کے نعمت نہ ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے تاوہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے اور وہ یہ سوچے کہ اگر اللہ اس کو مستقل طور پر چھین لے تو آدمی کا کیا حال ہو گا ۔ اللہ کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اپنے رب سے ڈریں۔ انسان کو ڈرنے والا بنانے کے لئے جو اہتمام کئے گئے ہیں ان میں سے ایک قسم کا اہتمام وہ ہے جس کو "گرہن" کہا جاتا ہے۔
زمین مسلسل حرکت میں ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے گولے کا اندرونی حصہ نہایت گرم پگھلے ہوئے مادہ کی صورت میں ہے جو ہر وقت کھولتے ہوئے پانی کی طرح جوش میں رہتا ہے، اس کے باوجود ہمارے قدموں کے نیچے زمین کی سطح بالکل ٹھہری ہوئی حالت میں ہے، یہ ہمارے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر عام حالات میں ہم کو اس کے نعمت نہ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی کبھی بھونچال کے ذریعہ زمین کی اوپری سطح کو ہلا دیا جاتا ہے تاکہ آدمی یہ جانے کہ خدا نے اس کے لئے تباہ کن لاوا کو کس طرح بند کر رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو آزاد کر دے تو انسان کا کیا حال ہو۔ اسی طرح بارش ایک عجیب و غریب نعمت ہے۔ کے اثر سے پانی کے بخارات کا اٹھ کر اوپر جانا ان کا بدلیوں کی صورت میں جمع ہونا اور پھر ہوا کے ذریعہ جگہ جگہ بارانِ رحمت بن کر نازل ہونا اور پھر زمین کو سرسبز و شاداب کرنا، یہ سب رحمتِ خداوندی کے عجیب و غریب کرشمے ہیں جو کہ مستقل طور پر اپنے بندوں کے لئے کرتا رہتا ہے۔ مگر خود بخود ملتے رہنے کی وجہ سے آدمی اس نعمت کی قدر بھول جاتا ہے اس لئے کبھی کبھی زمین پر خشک سالی پیدا کی جاتی ہے تاکہ آدمی کا شعور جاگے اور وہ خدا کی نعمت کی قدر کر سکے ، ہوا کی عجیب و غریب نعمت ہے ، ہوا ہر آن ہم کو تازہ آکسیجن پہنچا رہی ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے خدائی پنکھے کی طرح ہم کو فرحت بخشتے رہتے ہیں۔ ہوا بارش کے نظام کو درست کرتی ہے، ہوا کے بے شمار فائدے ہیں۔ مگر جس طرح وہ ہماری آنکھوں کو نظر نہیں آتی اسی طرح اس کی اہمیت بھی ہمارے شعور سے اوجھل ہو جاتی ہے، اس لئے کبھی کبھی ہوا کو طوفان بنا دیا جاتا ہے تاکہ آدمی یہ جانے کہ ہوا کی صورت میں اللہ نے اس کی زندگی کے لئے کیسا حیران کن انتظام کر رکھا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کا ایک "گرہن" ہے اور وہ اس لئے آتا ہے کہ آدمی کے اندر نعمت کے احساس کو جگائے۔ قرآن (واقعہ) میں ارشاد ہوا ہے : " اس چیز کو دیکھو جس کو تم بوتے ہو ، تم اس سے کھیتی اگاتے ہو یا ہم اس کو کھیتی بنانے والے، اگر ہم چاہیں تو اس کو بھس بنا کر رکھ دیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم تو قرضدار ہو گئے، بلکہ ہم تو بالکل محروم ہو گئے۔ پانی کو دیکھو جس کو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادل سے اتارا ہے یا ہم ہیں اتارنے والے، اگر ہم چاہیں تو اس کو کھاری کر دیں پھر کیوں تم شکر نہیں کرتے ۔ آگ کو دیکھو جس کو تم جلاتے ہو۔ کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے یا ہم ہیں اس کے پیدا کرنے والے ۔ ہم ہی اس کو بنایا ہے یاد دلانے کے لئے اور تمھارے برتنے کے لئے۔ پس اللہ کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے بڑا ہے۔ " ہماری پوری زندگی ایسی خدائی نعمتوں کے اوپر زہر ہے جو کسی بھی لمحہ واپس لی جاسکتی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا شکر گزار رہے تاکہ وہ اپنی نعمتوں سے کبھی اس کو محروم نہ کرے۔ یہ شکر گزاری ہی آدمی کو خدا کی نعمتوں کا مستحق بناتی ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنے والی آخرت میں بھی۔
بات بھی تشریح و تعبیر کے فرق سے ایک درجن شکلیں اختیار کرلے گی۔ لوگوں کو ایک مستفقہ رائے پر لانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوگی۔ اب اسی کمرہ میں حکومت وقت کا وزیر مالیات داخل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں مختلف رنگ کی بہت سی گولیاں ہیں۔ سے ایک گولی سفید ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ اس سفید گولی پر ایک ملین ڈالر کا انعام ہے۔ میں اس کو اچھال کر گراؤں گا۔ جو شخص سفید گولی پالے گا اس کو ایک ملین ڈالر نقد انعام دیا جائے گا۔ اس کے بعد جب وہ گولیوں کو میز پر بکھیرے گا تو تمام لوگوں کی توجہ "سفید گولی" پر لگ جائے گی۔ دیکھنے میں اگرچہ وہاں بہت سی گولیاں ہوں گی مگر حاضرین میں سے کوئی نہ ہوگا جو سفید گولی کے سوا کسی اور گولی کی طرف متوجہ ہو۔ اب فرض کیجیے کہ اسی کمرہ میں سرا شخص داخل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بکس ہے۔ وہ اپنا بکس میز پر رکھ کر اس کو کھولتا ہے اور اس کے اندر سے ایک کالا سانپ نکل کر میز پر چلنے لگتا ہے۔ کے بعد کمرے کے حاضرین کا جو حال ہوگا اس کا تصور ہر شخص کر سکتا ہے۔ دوبارہ ہر آدمی کی توجہ "سانپ" کے اوپر جم جائے گی۔ ہر آدمی صرف ایک چیز سوچے گا : بھاگ کر اپنے کو سانپ کی زد سے بچائے ۔ شدت طلب یا شدت خوف رایوں کے فرق کو ختم کر دیتا ہے۔ ایسے وقت میں ہر آدمی اسی ایک چیز کا طالب بن جاتا ہے جو سب سے زیادہ قابل طلب ہے اور ہر آدمی اسی ایک چیز سے ڈرنے لگتا ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے کے قابل ہے۔ ہر آدمی کی توجہ اسی ایک چیز پر لگ جاتی ہے جس پر دوسرے آدمی کی توجہ لگی ہوئی ہے۔
اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دین کے معاملہ میں آج اتنا زیادہ اختلاف کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین آج لوگوں کے لئے بس ایک سمجھنے اور بولنے کی چیز ہے، وہ ان کے لئے خوف اور محبت کی بنیاد نہیں بنا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں خوف محبت کی بنیاد بن جائے تو اچانک سارا اختلاف ختم ہو جائے گا۔ لوگ جنت اور جہنم کا نام لیتے ہیں مگر جنت لوگوں کی ضرورت نہیں بنی اور جہنم لوگوں کا مسئلہ نہیں بنی۔ یہی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہے۔ گویا میز کی سطح پر ایک دینی مباحثہ جاری ہے اور ہر آدمی اس کے گرد بیٹھا ہوا اپنی قابلیت کے جوہر دکھا رہا ہے۔ اگر فی الواقع ایسا ہو کہ جنت لوگوں کی طلب شدید بن جائے اور جہنم سے لوگوں پر خوف شدید طاری ہو جائے تو دفعہ سب کی رائیں سمٹ کر ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں گی۔ ایک ہی انعام،، کے طالب بن جائیں گے اور سب ایک ہی دو خطرہ، کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھنے لگیں گے۔ یہ شدت طلب اور یہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کر دے گا۔ لوگ سارے اختلافات کو بھول کر اپنی توجہ ایک ہی چیز پر مرکوز کر دیں گے۔ سارے مسلمان مل کر اتحاد کی چٹان بن جائیں گے ۔ وہ دین جو ۳ ، دینوں" میں تقسیم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے وہ صرف ایک دین کی صورت میں دکھائی دینے لگے گا۔ تمام نیکیوں کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ (cere) ہو۔ اور شدت طلب اور شدت خوف کے سوا کوئی چیز نہیں جو آدمی کو حقیقی معنوں میں سنجیدہ بنا سکے۔