Al-Risala · March 1980

سائنس توحید کی طرف

Al-Risala, March 1980, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

علم طبیعیات میں، نیوٹن کے بعد سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ چار قسم کے قوانین، طاقتیں ہیں جو فطرت کے مختلف مظاہر کو کنٹرول قوت کشش (Gravitational Force) کے۔ برقی مقناطیسی قوت (Electromagnetic Force)

طاقت درنیوکلیئر قوت (Strong Nuclear Force) ۴۔ کمزور نیوکلیئر قوت (Weak Nuclear Force)

کشش کا قانون، ایک کہانی کے مطابق، نیوٹن نے اس وقت معلوم کیا جب کہ اس نے سیب کے درخت سے سیب کو گرتے "سیب اوپر کی طرف کیوں نہیں گیا، نیچے زمین پر کیوں آیا"، اس سوال نے اس کو اس جواب تک پہنچایا کہ زمین میں، اور اس طرح تمام دوسرے کروں میں، جذب کشش کی قوت کارفرما ہے۔ بعد کو آئن سٹائن نے اس نظریہ میں بعض فنی اصلاحات کیں۔ تاہم اصل نظریہ اب بھی سائنس میں ایک مسلمہ اصول فطرت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ برقی مقناطیسی قانون کا تجربہ پہلی بار فریڈے نے ۱۸۲۱ء میں کیا اس نے دکھایا کہ بجلی کی قوت اور مقناطیس کی قوت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ مقناطیس اور حرکت کو یکجا کیا جائے تو بجلی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور مقناطیس اور بجلی کی لہر کو یکجا کریں تو حرکت وجود میں آ جاتی ہے (۶ جنوری۔ ابتدائی، ۵۰ سال تک تمام طبیعی واقعات کی توجیہہ کے لئے مذکورہ دو قوانین کافی سمجھے جاتے تھے۔ مگر موجودہ صدی کے آغاز میں جب ایٹم کے اندرونی ڈھانچہ کی بابت معلومات میں اضافہ ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات ہیں جو ایٹم کے اندر کام کر رہے ہیں تو طبیعی نظریات میں تبدیلی شروع ہو گئی۔ یہیں سے طاقت در نیوکلیئر فورس اور کمزور نیوکلیئر فورس کے نظریات ایٹم کا اندرونی مرکز (نیو کلیس) الیکٹران سے گھرا ہوا ہے جو کہ پر وٹان الگ نامی ذرات سے بہت زیادہ چھوٹے اور ہلکے ہیں۔ مگر مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر الیکٹران وہی چارج رکھتا ہے جو بھاری پروٹان رکھتے ہیں۔ البتہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ منفی برقی چارج ہوتا ہے اور پروٹان میں مثبت برقی چارج۔ الیکٹران ایٹم کے بیرونی سمت میں اسی طرح گردش کرتے ہیں کہ ان کے اور ایٹم کے مرکز (نیوکلیئس) کے درمیان بہت زیادہ خلا ہوتا ہے۔ مگر منفی چارج اور مثبت چارج دونوں میں برابر برابر ہوتے ہیں۔ اور اس بنا پر ایٹم بحیثیت مجموعی برقی اعتبار سے نیوٹرل اور قائم (Stable) رہتا ہے۔

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایٹم کا مرکز بطور خود قائم (Stable) کیوں کر رہتا ہے۔ الیکٹران اور پروٹان الگ ہو کر بکھر کیوں نہیں جاتے۔ قائم رہنے (Stability) کی توجیہہ طبیعیاتی طور پر یہ کی گئی ہے کہ پروٹان اور نیوٹران کے قریب ایک نئی قسم کی طاقتور قوت کشش موجود ہوتی ہے۔ یہ قوت ایک قسم کے ذرات سے نکلتی ہے جن کو میسن (Mesons) کہا جاتا ہے۔ اندر پروٹان اور نیوٹران کے ذرات بنیادی طور پر یکساں (Identical) سمجھے جاتے ہیں۔ مقناطیس کے دو ٹکڑوں کو لیں اور دونوں کے یکساں رخ (ساؤتھ پول کو ساڈتھ پول سے یا نارتھ پول کو نارتھ پول سے) ملائیں تو وہ ایک دوسرے کو دور پھینکیں گے۔ اس معروف طبیعی اصول کے مطابق پروٹان اور نیوٹران کو ایک دوسرے سے بھاگنا چاہئے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اور نیوٹران ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں اور اس بدلنے کے دوران میسن کی صورت میں قوت خارج کرتے ہیں جو ان کو جوڑتی ہے، اسی کا نام طاقت در نیوکلیئر فورس ہے۔ اسی طرح سائنس دانوں نے دیکھا کہ بعض ایٹم کے کچھ ذرات (نیوٹران، میسن) اچانک ٹوٹ جاتے

اس کا مدار تمام تر اتفاق پر ہے۔ اس مظہر کی توجیہہ کے لئے ایٹم میں جو پراسرار طاقت فرض کی گئی ہے اسی کا نام کمزور نیوکلیئر فورس ہے۔ سائنس داں یہ یقین کرتے رہے ہیں کہ انہیں چار طاقتوں کے تعامل (Interactions) سے کائنات کے تمام واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ مگر سائنس میں اپنی فطرت کے لحاظ سے ہمیشہ وحدت کی کھوج میں رہتی ہے۔ کائنات کا سائنسی مشاہدہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات انتہائی ہم آہنگ ہو کر چل رہی ہے۔ یہ حیرت ناک ہم آہنگی اشارہ کرتی ہے کہ کوئی ایک قانون ہے جو فطرت کے پورے نظام میں کارفرما ہے۔ چنانچہ طبیعیات مستقل طور پر ایک متحدہ اصول (Unified Theory) کی تلاش میں ہے۔ سائنس کا "ضمیر" متواتر اس جدوجہد میں رہتا ہے کہ وہ قوانین فطرت کی تعداد کو کم کرے اور کوئی ایک ایسا اصول فطرت (Principle) دریافت کرے جو تمام واقعات کی توجیہہ کرنے والا ہو۔

آئن سٹائن نے مذکورہ قوانین میں سے پہلے دو قوانین کشش اور برقی مقناطیسیت کے اتحاد (Unification) کی کوشش کی اور اس میں ۲۵ سال سے زیادہ مدت تک لگا رہا مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے کچھ پہلے اس نے اپنے سرک سے کہا تھا: میری تمنا تھی کہ میں اور زیادہ ریاضی جانتا تاکہ اس مسئلہ کو حل کرلیتا۔ ڈاکٹر عبدالسلام (پیدائش ۱۹۲۶) اور دوسرے دو امریکی سائنس دانوں (گلاسگو اور ڈین برگ) کو ۱۹۷۹ میں طبیعیات کا جو مشترکہ نوبل انعام ملا ہے وہ ان کی اسی قسم کی ایک تحقیق پر ہے۔ انھوں نے مذکورہ قوانین فطرت میں سے آخری دو قانون (طاقتور اور کمزور نیوکلیئر فورس) کو ایک واحد ریاضیاتی اسکیم میں متحد کر دیا۔ اس نظریہ کا نام جی ایس ڈبلیو نظریہ (G-S-W Theory) رکھا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ دونوں قوانین اصلاً ایک ہیں۔ اس طرح انھوں نے چار کی تعداد کو گھٹا کر تین تک پہنچا دیا کہا جاتا ہے کہ اس دریافت کا بڑا سہرا ڈاکٹر عبدالسلام کے سر ہے۔ مگر ان کو تنہا انعام نہ ملنا در اصل ان کی اس پس ماندگی کی قیمت ہے کہ وہ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں جو اس قسم کی تحقیقی کا ساز و سامان اپنے پاس نہیں رکھتا۔ ایسی تحقیق صرف ایسے اداروں میں ہوسکتی ہے جن کے پاس ٹنوں روپیہ ہو، انتہائی قیمتی مشینیں ہوں اور کسی تحقیق کے لئے وہ درجنوں سائنس دانوں کی خدمات حاصل کرسکتے ہوں ۔ ایسے ادارے یا امریکہ میں یا جاپان میں یا مغربی یورپ میں۔

سائنس اگرچہ اپنے کو "کیا ہے" کے سوال تک محدود رکھتی ہے، وہ "کیوں ہے" کے سوال تک جانے کی کوشش نہیں کرتی۔ تاہم یہ ایک واقعہ ہے کہ سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور حیرت ناک ہے کہ اس کو جاننے کے بعد کوئی آدمی "کیوں ہے" کے سوال سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میکسویل (۱۸۳۱ - ۱۸۷۹) وہ شخص ہے جس نے برقی مقناطیسی تعامل کے قوانین کو ریاضی کی مساواتوں (Equations) Electromagnetic Interaction میں نہایت کامیابی کے ساتھ بیان کیا۔ انسان سے باہر فطرت کا جو مستقل نظام ہے اس میں کام کرنے والے ایک قانون کا انسانی ذہن کی بنائی ہوئی ریاضیاتی مساوات میں اتنی خوبی کے ساتھ ڈھل جانا اتنا عجیب تھا کہ اس کو دیکھ کر بولٹزمن بے اختیار کہہ اٹھا: وہ کون خدا تھا جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں Who was the God who wrote these signs?

Printed page