Al-Risala · March 1980

سیاست ، سیاست ، سیاست

Al-Risala, March 1980, pp. 15–32

By Maulana Wahiduddin Khan

روس میں اشتراکی انقلاب، ۱۹۱۷ میں آیا۔ اس سے پہلے وہاں زار کی شاہی حکومت قائم تھی ، انقلاب سے پہلے وہاں جو اشترا کی تحریک چل رہی تھی اس کا ایک لیڈر جوزف اسٹالن تھا جو لینن کے مرنے کے بعد روس کا کمیونسٹ حکمراں بنا۔ اپنی تحریک کی کامیابی سے پہلے جوزف اسٹالن نے اشتراکی کارکنوں کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا: "انقلاب لانے کے لئے ہم کو تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول اسلحہ، دوم اسلحہ، سوم اسلحہ، اور آخر میں پھر اسلحہ "۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے قائدین نے اس جملہ کو یوں بدل دیا : اسلام کو سربلند کرنے کے لئے ہم کو تین چیزوں کی ضرورت ہے ۔ اول سیاست ، دوم سیاست، سوم سیاست، اور آخر میں پھر مگر سیاسی طریق کار کے پیچھے اگر ضروری طاقت موجود نہ ہو تو وہ صرف سیاست برائے سیاست ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔

کے سینہ میں اللہ کے ڈر کا کوئی خانہ ہوتا۔ وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے کہ وہ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں۔ ان کے سامنے سارا سوال بس دنیا کے نفع نقصان کا ہوتا ہے۔ جس کام میں نفع نظر آئے، اس کی طرف دوڑنا اور جس کام میں نقصان کا اندیشہ ہو، اس سے رک جانا، یہ ان کا مذہب ہوتا ہے۔ کسی چیز کا اصولی طور پر برحق ثابت ہو جانا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ ہمیشہ دلیل کے بجائے “ مفاد “ کو اصل اہمیت دیتے ہیں۔ کوئی کام کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملہ میں اللہ کی مرضی کیا ہے یا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کیوں کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔ وہ وہاں جھک جاتے ہیں جہاں ان کا نفس جھکنے کے لیے کہے ۔ اکڑ جاتے ہیں جہاں ان کا نفس اکڑنے کی ترغیب دے۔ وہ اللہ سے بے خوف زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تاکہ اللہ کی عدالت میں حساب دینے کے لئے کھڑے کر دئے جائیں۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں حرام و حلال کا لحاظ رہتا ہے۔ ان کو یہ خیال آتا رہتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ عام حالات میں وہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں کسی کو ان سے حق تلفی اور بے اخلاقی کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تاہم وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اٹھے ہوئے نہیں ہوتے۔ ان کا خوف خدا اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ وہ ان کے نفس کے اندر چھپے ہوئے جذبات کا احاطہ کرے۔ عام حالات میں وہ خدا ترس زندگی گزارتے ہیں۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔ کبھی کسی کی محبت کا لحاظ، کبھی کسی کے خلاف نفرت کا جذبہ، کبھی اپنی عزت کا سوال ان کے اوپر اس طرح غالب آتا ہے کہ ان کا خوف خدا اس کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔ عمل چونکہ اکثر غیر شعوری طور پر ہوتا ہے اس لئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر اپنے نفس کے اس حملہ سے آگاہ ہوں اور اپنے آپ کو تھامتے ہوئے اپنے کو منقیانہ روش پر قائم رکھیں ۔ معمول کے حالات میں خدا ترسی کی زندگی گزارنے والا غیر معمولی حالات میں وہی کچھ کر گزرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگ اپنی عام زندگی میں کرتے رہتے ہیں ۔

تیسرا انسان وہ ہے جو پورے معنوں میں اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ جو اللہ کو پہچاننے کے ساتھ خود اپنے آپ کو بھی پوری طرح پہچان چکا ہو۔ ایسا شخص صرف عام حالات ہی میں اللہ سے ڈرتا نہیں بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی اللہ کا خوف اس کا نگراں بن جاتا ہے۔ کسی کی محبت جب اس کو بے خوفی کے راستہ پر لے جانا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی سے چھپی ہوئی نفرت جب اس کے نفس میں تیرتی ہے اور اس کو بے انصافی پر اکساتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے اور اس سے باخبر ہو کر اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ ذاتی عزت دو قار کا سوال جب اس کے اندر داخل ہو کر اس کو کسی حق کے اعتراف سے روکتا ہے تو وہ بلاتاخیر اس کو جان لیتا ہے، اس طرح وہ اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو انتہائی بے لاگ نظر سے دیکھ سکے ۔ بالفاظ دیگر وہ اپنے آپ کو اس حقیقی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

کہہ دو کہ اب تم مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کر کے لے جائے جاؤ گے اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ بے شک تمہارے لئے نشانی ہے ان دو گروہوں میں جن میں (بدر میں) مڈ بھیڑ ہوئی۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا منکر تھا۔ کھلی آنکھوں سے ان کو دوگنا دیکھتے تھے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مدد کا زور دے دیتا ہے۔ اس میں آنکھ والوں کے لئے بڑا سبق ہے۔ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے تو وہ لوگوں کو ایک غیر اہم انداز معلوم ہوتی ہے۔ ایک طرف وقت کا ماحول ہوتا ہے جس کے قبضہ میں ہر قسم کے مادی وسائل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا قافلہ ہوتا ہے جس کو ابھی ماحول میں کوئی جماؤ حاصل نہیں ہوتا، اس کے ساتھ مادی مفادات وابستہ نہیں ہوتے۔ ان حالات میں حق کی طرف بڑھنا ماحول سے کٹنے اور مفادات سے محروم ہونے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے مفادات کو بچانے کی خاطر حق کو نہیں مانتا۔ اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر ایک تنہا داعی کی صف میں آنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ مگر یہ چیزیں جو انسان کو آج اہم نظر آتی ہیں وہ فیصلہ کے دن کسی کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ ان چیزوں کی جو کچھ اہمیت ہے صرف اس وقت تک ہے جب کہ معاملہ انسان اور انسان کے درمیان ہے۔ جب قیامت کا پردہ پھٹے گا اور معاملہ انسان اور خدا کے درمیان ہو جائے گا تو یہ چیزیں اتنی بے قیمت ہو جائیں گی جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ داعی اس دنیا میں بظاہر بے زور دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہی زور والا ہے۔ کیوں کہ اس کے پیچھے خدا ہے۔ منکر بظاہر اس دنیا میں طاقت ور دکھائی دیتا ہے۔ بالکل بے طاقت ہے۔ کیوں کہ اس کی طاقت ایک وقتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

نبوت کے چودھویں سال بدر کا معرکہ آخرت میں ہونے والے واقعہ کا ایک دنیوی نمونہ تھا۔ حق کا انکار کرنے والے تعداد اور طاقت میں بہت زیادہ تھے اور حق کو ماننے والے تعداد اور طاقت میں بہت کم تھے۔ اس کے باوجود منکرین کو غیر معمولی شکست ہوئی اور حق کے پیروؤں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ اللہ ہمیشہ حق کے پیروؤں کی جانب ہوتا ہے۔ اتنے غیر معمولی فرق کے باوجود اتنی غیر معمولی فتح اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ یہ خدا کی طرف سے اس بات کا ایک مظاہرہ ہے کہ حق اس عالم میں تنہا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ منکرین کے لئے وہ ایک ظاہری دلیل بھی ہے جس میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کی اس دنیا میں وہ کتنے بے جگہ ہیں۔ ______ داعی حق کے کلام اور اس کی زندگی میں کھلی ہوئی علامتیں ہوتی ہیں کہ یہ خدا کی طرف مگر جو سرکش لوگ ہیں وہ اس کو رد کرنے کے لئے الفاظ کی ایک پناہ گاہ بنا لیتے ہیں۔ وہ جھوٹی توجیہات میں جیتے رہتے یہاں تک کہ وہ آخرت کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں، صرف یہ جاننے کے لئے کہ وہ جن الفاظ کا سہارا لئے ہوئے تھے وہ حقیقت کے اعتبار سے کس قدر بے معنی تھے۔

لوگوں کے لئے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی ۔ عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان لگے ہوئے گھوڑے، مویشی اور کھیتی۔ یہ دنیوی زندگی کے سامان ہیں۔ اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔ کہو، کیا میں تم کو بتاؤں اس سے بہتر چیز۔ لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ ستھری بیویاں ہوں گی اور اللہ کی رضا مندی ہوگی۔ اور اللہ کی نگاہ میں, اس کے بندے، جو کہتے ہیں اے ہمارے رب، ہم ایمان لے آئے۔ پس تو ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ وہ صبر کرنے والے ہیں اور سچے ہیں فرماں بردار ہیں اور خرچ کرنے والے ہیں اور پچھلی رات کو مغفرت مانگنے والے ہیں ۱۴ - ۱۳ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لئے یہاں کی چیزوں میں آدمی کے لئے ظاہری کشش رکھی گئی ہے۔ اب خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو ظاہری کشش سے متاثر ہو کر دنیا کی چیزوں میں کھو جاتا ہے۔ اور کون ہے جو اس سے اوپر اٹھ کر آخرت کی ان دیکھی چیزوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ آدمی کو دنیا کی چیزوں میں تسکین ملتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ماحول کے اندر ان کے ذریعہ سے وقار قائم ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہوں تو اس کے سب کام بنتے چلے جاتے ہیں, وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی چیزیں اصل اہمیت کی اس کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں سمٹ کر بیوی بچوں اور مال و جائیداد کے گرد جمع ہو جاتی ہیں یہی چیز آخرت کے تقاضوں کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کی چیزوں کی اہمیت کا احساس آدمی کو آخرت کی چیزوں کی طرف سے غافل کر دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر میں وہ اتنا مشغول ہوتا ہے کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ دنیا سے ماورا بھی کوئی ”مستقبل“ ہے جس کی تعمیر کی اس کو فکر کرنا چاہئے۔ دنیا میں اپنے گھر کو آباد کرنا اس کے لئے اتنا محبوب بن جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ”گھر “ ہے جس کی آبادی میں اس کو لگنا چاہئے۔ دنیا میں دولت سمیٹنا اور جائیداد بنانا اس کو اتنا زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ سوچ نہیں پاتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ”دولت“ ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے وہ اپنے کو وقف کرے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں صرف موجودہ عارضی زندگی کی رونق ہیں۔ اگلی طویل تر زندگی میں وہ کسی کے کام آنے والی نہیں۔

جو شخص آخرت کی مستقل زندگی کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے, اس کی زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ دنیا کی رونقیں اس کی نظر میں حقیر بن جائیں گی۔ وہ اس یقین سے بھر جائے گا کہ آخرت کا معاملہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرے گا اور سب سے زیادہ آخرت کا حریص بن جائے گا۔ معاملات میں وہ اپنی خواہش کے پیچھے نہیں چلے گا بلکہ اللہ کی عدالت کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ متعین کرے گا۔ اس کے قول وعمل میں فرق نہیں ہوگا ۔ اس کا مال اپنا مال نہ رہے گا بلکہ خدا کے لئے وقف ہو جائے گا۔ اللہ کی راہ میں چلنے میں خواہ کتنی ہی مشکلیں پیش آئیں وہ پوری استقامت کے ساتھ اس پر قائم رہے گا۔ اس کو یقین ہوگا کہ اللہ کو چھوڑنے کے بعد کوئی نہیں ہے جو اس کا سہارا بنے۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے اس طرح مچل اٹھے گا کہ وہ بے تابانہ اس کو پکارنے لگے گا۔ اس کی تنہائیاں اپنے رب کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گی۔ اللہ کے عظمت و کمال کے آگے اس کو اپنا وجود سراپا غلطی نظر آئے گا۔ اس کے پاس کہنے کے لئے اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ ــ اے میرے، رب مجھے معاف کر دے۔

آل عمران ۳ اللہ کی گواہی ہے اور فرشتوں کی اور اہل علم کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ قائم رکھنے والا ہے انصاف کا ۔ سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ زبردست ہے ، حکمت والا ہے ۔ دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے ۔ اور اہل کتاب نے اس میں جو اختلاف کیا وہ آپس کی ضد کی وجہ سے کیا ، بعد اس کے کہ ان کو صحیح علم پہنچ چکا تھا ۔ اور جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرے تو اللہ یقیناً جلد حساب لینے والا ہے۔ پھر اگر وہ تم سے اس بارے میں جھگڑیں تو ان سے کہہ دو کہ میں اپنا رخ اللہ کی طرف کر چکا اور جو میرے پیرو ہیں وہ بھی ۔ اور اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے پوچھو کیا تم بھی اسی طرح اسلام لاتے ہو۔ اگر وہ اسلام لائیں تو انھوں نے راہ پالی۔ اور اگر وہ پھر جائیں تو تمھارے اوپر صرف پہنچا دینا ہے ۔ اور اللہ کی نگاہ میں ہیں اس کے بندے ۔ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو مار ڈالتے ہیں جو لوگوں میں سے انصاف کی دعوت لے کر اٹھتے ہیں ، ان کو ایک دردناک سزا کی خوش خبری دے دو ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال بنیاد اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور ان کا مددگار کوئی نہیں ۱۸-۲۲؂ کائنات کا خدا ایک ہی خدا ہے اور وہ عدل و قسط کو پسند کرتا ہے ۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کر رہی ہیں ۔ پھیلی ہوئی کائنات جو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے ۔ ثابت شوہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے ، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے ۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خدا عدل کو پسند کرنے والا خدا ہے نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا ۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کئے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملہ میں خلاف عدل باتوں پر کیسے راضی ہو جائے گا۔

کائنات کا ہر جزر کامل طور پر "مسلم" ہے ۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے ۔ یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے ۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکزِ توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور دنیا پر ہو سکتا ہے ، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لئے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں ۔

قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے ۔ جو لوگ اس سے اختلاف کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے ۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں دائی قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کر دیں جو حق کا اعلان کر رہی ہے ۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ داعی حق کی زبان کو بند کرنے کے لئے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عدل کا ترازو کھڑا ہو گا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے دہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کئے ہوئے تھے ۔ ـــــ سچی دلیل خدا کی نشانی ہے ۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا ۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔

ا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو اللہ کی کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا۔ ان کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جا رہا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ پھر ان کا ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے بے رخی کرتے ہوئے۔ یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو ہرگز آگ نہ چھوئے گی گنتی کے چند دنوں کے۔ اور ان کی بنائی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ پھر اس وقت کیا ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا ہے، اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ تم کہو، اے اللہ، سلطنت کے مالک توجس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے۔ اور توجس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تو بے جان سے جان دار کو نکالتا ہے اور تو جان دار سے بے جان کو نکالتا ہے۔ اور توجس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لئے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی عادتوں سے دین خداوندی کو پاک کر رہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لئے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوں نے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کر لیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔ ہر قسم کی عزت و طاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسربلندی کا فیصلہ کر دے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کر دے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت و طاقت کا مستحق ہو سکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے اور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا کی وسیع تر کائنات میں، روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اور حادیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کار و بار کر رہے ہوں وہ ہمیشہ کچی دعوت حق کے مخالف ہو جاتے ہیں، ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کئے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہ راست اللہ کی سر پرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے اور ایسے شخص کو بلا حساب۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ اور جو شخص ایسا کرے گا تو اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر ایسی حالت میں کہ تم ان سے بچاؤ کرنا چاہو۔ اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنی ذات سے۔ اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ کہہ دو کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اس کو جانتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی کو اپنے سامنے موجود پائے گا، اور جو برائی کی ہوگی اس کو بھی۔ اس دن ہر آدمی یہ چاہے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا۔ اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنی ذات سے۔ اور اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ کہو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔ کہو کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی ۔ پھر اگر وہ اعراض کریں تو اللہ کا فروں کو دوست نہیں رکھتا ۔ ۲۸ - ۳۲ مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طور پر اگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ ہر تمام معاملات میں اصل قابلِ لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پا کر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا اور آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہو گا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔ اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہو جائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے اس سے اگر کو تاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں وہ ان کے لیے نرم پڑ جاتا ہے۔

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجود ہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہو سکتی۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لئے آقا و مالک کا درجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو وہ جھوٹی محبت ہے۔ ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا نہ کہ ماننے والوں میں۔ ________ رسول وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لئے خدا پرستانہ زندگی کے لئے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔

نے کہا اے میرے رب میں تو لڑکی جنی ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا جنا ہے اور لڑکا نہیں ہوتا لڑکی کی مانند۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کیا اور اس کو عمدہ طریقہ سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا سر پرست بنایا۔ زکریا ان کے پاس حجرہہ میں آتا تو وہاں رزق پاتا۔ اس نے پوچھا اے مریم یہ چیزیں کہاں سے ملتی ہے۔ مریم نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے۔ اس وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ کہا اے میرے رب مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا کر بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔ پھر فرشتوں نے اس کو آواز دی جب کہ وہ حجر میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے جو کلمہ اللہ کی تصدیق کرنے والا ہوگا اور سردار ہوگا اور اپنے نفس کو روکنے والا ہوگا اور نبی ہوگا نیکوں میں سے۔ زکریا نے کہا اے میرے رب میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالاں کہ میں بوڑھا ہو چکا اور میری عورت بانجھ ہے۔ فرمایا اسی طرح اللہ کردیتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ زکریا نے کہا اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔ کہا تمھارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکو گے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرتے رہو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرو۔ اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ نے تم کو منتخب کیا اور تم کو پاک کیا اور تم کو دنیا بھر کی عورتوں کے مقابلہ میں منتخب کیا ہے۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کر رہے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنے قرعہ ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی سر پرستی کرے اور نہ تم اس وقت ان کے پاس موجود تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے 33-44 - ۴۴ اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آل ابراہیم میں ایسے صلحار پیدا کئے جن کو خدا کی پیغام بری کے لئے چنا جائے ۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں دئے بلکہ ان کو اس کا مستحق پایا ر ایسا کیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں، ان کی خوشی اس میں بھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے ، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہو جائے ۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر حسد اور جلن میں مبتلا ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کی یاد کرے ، نیکی اور منکر کے درمیان نیکی کے راستہ کو اختیار کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کو الہٰ ماننے رزق انہیں سے

مجھ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ فرمایا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہو جاتا ہے۔ اور اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا اور وہ رسول ہوگا، بنی اسرائیل کی طرف کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندہ کی مانند صورت بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے۔ اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں۔ اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کرتا ہوں۔ اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہو۔ بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اور میں تصدیق کرنے والا ہوں تو رات کی جو مجھ سے پہلے کی ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ بعض ان چیزوں کو تمہارے لئے حلال ٹھہراؤں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔ اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ پس اس کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے ٥١ - ٥٤ یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لئے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستہ پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانہ میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتیٰ کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آلِ ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے ۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لئے بھیجے گئے ۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لئے تھا کہ یہود کو اس بارے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۳۸:۲) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کر دینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرات نہ ہو سکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے ۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہو چکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ " اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لئے" یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے۔ مگر وہ اسی شخص کے لئے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کچرے سے باہر آکر دلیل پر غور کرے ۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لئے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

آل عمران ۳ پھر جب عیسیٰ نے ان کا انکار دیکھا تو کہا کہ کون میرا مددگار بنتا ہے اللہ کی راہ میں۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ ایمان لائے ہیں اللہ پر اور آپ گواہ رہیے کہ ہم فرمانبردار ہیں۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے اتارا، اور ہم نے رسول کی پیروی کی۔ پس تو لکھ لے ہم کو گواہی دینے والوں میں۔ اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ جب اللہ نے کہا کہ اے عیسیٰ میں تم کو وفات دینے والا ہوں اور تم کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور جن لوگوں نے انکار کیا ہے ان سے تمھیں پاک کرنے والا ہوں اور جو تمھارے پیرو ہیں ان کو قیامت تک ان لوگوں پر غالب کرنے والا ہوں جنھوں نے تمھارا انکار کیا ہے۔ پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی۔ پس میں تمھارے درمیان ان چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم جھگڑتے تھے۔ پھر جو لوگ منکر ہوئے ان کو سخت عذاب دوں گا دنیا میں اور آخرت میں اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو اللہ ان کا پورا اجر دے گا اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ یہ ہم کو سناتے ہیں اپنی آیتیں اور پُر حکمت مضامین۔ جب عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ اللہ نے اس کو مٹی سے بنایا۔ پھر اس کو کہا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا۔ حق بات ہے تیرے رب کی طرف سے۔ پس تم نہ ہو شک کرنے والوں میں۔ پھر جو تم سے اس بارے میں حجت کرے بعد اس کے کہ تمھارے پاس علم آچکا ہے تو ان سے کہو کہ آؤ، ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تمھارے بیٹوں کو، اپنی عورتوں کو اور تمھاری عورتوں کو۔ اور ہم اور تم خود بھی جمع ہوں۔ پھر ہم مل کر دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی بے شک یہ سچا بیان ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو اللہ مفسدوں کو جاننے والا ہے 52-63 - ۶۳ بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیح کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہرقسم کے وسائل ہوتے ہیں، مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ جس کو رد کردیں وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بد دین ہی بنا رہتا ہے ۔ وقت میں داعی حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہوتا ہے بے شک کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔

حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اور اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلاف حق زندگی پر حق کالیبل لگاکر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لئے اٹھ کھڑے وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لئے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میں کامیاب مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے۔ جو لوگ دعوت حق کے مخالف نہیں رہ وہ اللہ کی نظر میں مفسد ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہو سکتا کہ خدا کے بندوں کو خدا کی جنت کی طرف جانے سے روکا جائے۔

آل عمران ۳ مکہہ اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مسلم ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ اس سے اعراض کریں تو کہو دو کہ تم گواہ رہو، ہم فرماں بردار ہیں۔ اے اہل کتاب، تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ تورات اور انجیل تو اس کے بعد اتری ہیں۔ کیا تم اس کو نہیں سمجھتے ۔ تم وہ لوگ ہو کہ تم اُس بات کے بارے میں جھگڑے جس کا تمہیں کچھ اب تم اُس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔ اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ یہودی تھا اور بلکہ حنیف مسلم تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔ لوگوں میں زیادہ مناسبت ابراہیم سے ان کو ہے جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ پیغمبر اور جو اس پر ایمان لائے۔ اور اللہ ایمان والوں کا ساتھی ہے۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تم کو گمراہ کر دے ۔ حالانکہ وہ نہیں گمراہ کرتے مگر خود اپنے آپ کو۔ مگر وہ اس کا احساس نہیں کرتے ۔ اے اہل کتاب ، اللہ کی نشانیوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہل کتاب ، تم کیوں صحیح میں غلط کو ملاتے ہو اور حق کو چھپاتے حالانکہ تم جانتے ہو - ۶۴)

توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلم حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ اس مسلمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طور پر صحیح دین ثابت ہوتا ہے نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک مانا جائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لئے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ نے نظری طور پر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طور پر وہ سب کچھ اختیار کر لیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔

کہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود و نصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ کے بعد ان کا بنایا ہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کر دیں کہ نہ: اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو " اسلاف" کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کر دیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالتا ہے یعنی ایسی باتیں کہنا جو فنی نفس بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کر سکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہو جائیں ۔ " مسلم حنیف " وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیر حنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑ جائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ دوسرے ذیلی پہلو کولے کراس پراتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤںکو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں ۔

اور اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ مسلمانوں پر جو چیز اتاری گئی ہے، اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کر دو، شاید کہ مسلمان بھی اس سے پھر جائیں۔ اور یقین وہ کرو مگر صرف اس کا جو چلے تمہارے دین پر۔ کہو ہدایت وہی ہے جو اللہ ہدایت اور یہ اسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو تم کو دیا گیا تھا۔ یا وہ تم سے تمہارے رب کے یہاں حجت کریں۔ کبوٹرائی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا ہے، علم والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے لئے خاص کر لیتا ہے۔ اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔ اور اہل کتاب میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تم اس کے پاس امانت کا ڈھیر رکھو تو وہ اس کو تمہیں ادا کر دے۔ اور ان میں کوئی ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس ایک دینار امانت رکھ دو تو وہ تم کو ادا وہ کرے الایہ کہ تم اس کے سر پر کھڑے ہو جاؤ یہ اس سبب سے کہ وہ کہتے ہیں کہ غیراہل کتاب کے بارے میں ہم پر کوئی الزام نہیں۔ اور وہ اللہ کے اوپر جھوٹ لگاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ بلکہ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اللہ سے ڈرے تو بے شک اللہ ایسے متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔ ایک گروہ جس میں انبیاء اور صلحاء پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کو ایک گروہ ہی چیز سمجھ لیتا ہے نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے نہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گرو ہی چیز سمجھ لیں کہ ایسی صداقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف وہ اگرچہ دین خداوند ی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقتاً گروہ پرستی ہوتا ہے نہ کہ خدا پرستی ۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل دیکھا نہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ دو عملی کا طریقہ اختیار کر کے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں شریعتِ خدا وندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لئے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ نہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروں کے لئے، دوسرا اپنے گروہ کے لئے۔

کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لئے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔ اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے ۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے، جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کیے ہوئے عہدِ اطاعت کو کبھی نظر انداز نہ کر سکے۔ — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملے میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حساس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کردیے جاتے ہیں ۔

ان کی طرف دیکھے گا قیامت کے دن ، اور نہ ان کو پاک کرے گا ۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی زبانوں کو کتاب میں موڑتے ہیں تاکہ تم اس کو کتاب میں سے سمجھو حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی جانب سے نہیں ۔ اور وہ جان کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں ۔ کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور نبوت دے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ ۔ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم اللہ والے بنو ، اس واسطے کہ تم دوسروں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو ۔ اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو رب بناؤ ۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا ، بعد اس کے کہ تم اسلام لا چکے ہو ۔ ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری کرے گا اور بندوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا جو خدا کی شریعت کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہیں ۔ پابند زندگی ہے جس کو عہد کی زندگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس زندگی پر قائم ہونے کے لئے نفس کی آزادیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے ۔ بار بار اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔ اس لئے اس عہد کی زندگی کو وہی شخص نباہ سکتا ہے جو نفع و نقصان سے بے نیاز ہو کر اس کو اختیار کرے جس شخص کا حال یہ ہو کہ نفس پر چوٹ پڑے یا دنیا کا مفاد خطرہ میں نظر آئے تو وہ عہدِ خداوندی کو نظر انداز کر دے اور اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی طرف جھک جائے ، اس نے گویا آخرت کو دے کر دنیا خریدی ۔ جب آخرت کے پہلو اور دنیا کے پہلو میں سے کسی ایک کو لینے کا سوال آیا تو اس نے دنیا کے پہلو کو ترجیح دی ۔ جو شخص آخرت کو اتنی بے قیمت چیز سمجھ لے وہ آخرت میں اللہ کی عنایتوں کا حق دار کس طرح ہو سکتا ہے ۔

جو لوگ آخرت کو اپنی دنیا کا سودا بنائیں وہ دین یا آخرت کے منکر نہیں ہو جاتے ۔ بلکہ دین اور آخرت کے پورے اقرار کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ۔ پھر ان دو متضاد رویوں کو وہ کس طرح ایک دوسرے کے مطابق بناتے ہیں ، اس کا ذریعہ تحریف ہے ۔ یعنی آسمانی تعلیمات کو خود ساختہ معنی پہنانا ایسے لوگ اپنی دنیا پرستانہ روش کو آخرت پسندی اور خدا پرستی ثابت کرنے کے لئے دینی تعلیمات کو اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں ۔ کبھی خدا کے الفاظ کو بدل کر اور کبھی خدا کے الفاظ کی اپنے مفید مطلب تشریح کر کے ۔ اپنے اوپر بدلنے کے بجائے کتاب الہی کو بدل دیتے ہیں تاکہ جو چیز کتاب الہی میں نہیں ہے اس کو عین کتاب الہی کی چیز بنا دیں ، اپنی بے خدا زندگی کو باخدا زندگی ثابت کر دکھائیں ۔ اللہ کے نزدیک یہ بدترین جرم ہے کہ آدمی اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ نے نہ کہی ہو ۔

کسی تعلیم کی صداقت کی سادہ اور یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملائے ، لوگوں کے خوف و محبت کے جذبات کو بیدار کرے ، اس کو اللہ کی طرف موڑ دے ۔ اس کے برعکس جو تعلیم شخصیت پرستی یا در کون پرستی پیدا کرے ، جو انسان کے نازک جذبات کا مرکز توجہ کسی غیر خدا کو بناتی ہو ، اس کے متعلق سمجھنا چاہئے کہ وہ سراسر باطل ہے خواہ بظاہر اپنے آپ کو اس نے حق کا لیبل کیوں نہ لگار کھا ہو ۔

آل عمران ۳ اور جب اللہ نے پیمبروں کا عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی، پھر تمہارے پاس پیغمبر آئے جو سچا ثابت کرے ان پیشین گوئیوں کو جو تمہارے پاس ہیں تو تم اس ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے؟ اللہ نے کہا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ انھوں نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ پس جو شخص پھر جائے تو ایسے ہی لوگ نافرماں ہیں۔ کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور ذہن میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہمارے اوپر اتارا اور جو اتارا گیا ابراہیم پر، اسمعیل پر، اسحاق پر اور یعقوب پر اور اولاد یعقوب پر۔ اور جو دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور ہم اسی کے فرمان بردار ہیں۔ اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا۔ اللہ کیوں کر ایسے لوگوں کو ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے، حالانکہ وہ گواہی دے چکے کہ یہ رسول بر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں آچکی ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہوگی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو دی جائے گی۔ البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ بے شک جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے رہے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور انکار کی حالت میں مر گئے، اگر وہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دیں تو قبول نہ کیا گیا جائے گا۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۹۱ - ۸۱ اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے، یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں، وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں چاہے اس کا پیغام "اسرائیلی پیغمبر" کی زبان سے بلند ہو، یا "اسمعیل پیغمبر" کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر ہی رہ ہوں، حق کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے ۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے زمین کا جزنہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق و صداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس حق کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے ۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔ اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کا اعتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقتاً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے ، پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بندکرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پر پرورش کرے ۔

آل عمران ۳ تم ہر گز نیکی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں میں سے نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو۔ اور جو چیز بھی تم خرچ کروگے اس سے اللہ باخبر ہے۔ سب کھانے کی چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں بجز اس کے جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا قبل اس کے کہ تورات اترے۔ کہو کہ تورات لاؤ اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر وہی ظالم ہیں۔ کہو اللہ نے سچ کہا۔ ابراہِیم کے دین کی پیروی کرو جو حنیف تھا اور وہ شرک کرنے والا نہ تھا۔ بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لئے ہدایت کا مرکز۔ کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، جو اس میں داخل ہو جائے وہ مامون ہے۔ اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو کوئی منکر ہواتو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ کہو اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہو۔ حالاں کہ اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اے اہل کتاب تم ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو، تم اس میں عیب ڈھونڈتے ہو۔ حالاں کہ تم گواہ بنائے گئے ہو۔ اور اللہ تمھارے بے خبر نہیں۔

یہود کے طلا رنے بطور خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اتارا ہوا دین ہے تو اس میں بھی حرام و حلال کے مسائل وہی کیوں نہیں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی سوئی وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیار کا قبلہ عبادت رہا ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔

حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رایج کئے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو دعوت حق سے پھیرنے کے لئے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور درستی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیات دین میں مو شگافیوں سے دین داری کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ خرگوش، کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پر ہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لئے جائز کئے ہوئے ہو۔ وہ ”بیت المقدس“ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی طرح کی طرح سیدھا ہو جانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح و شام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کا درجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے نہ کہ سستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لئے اللہ کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لئے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لئے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کر لے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔

اے ایمان والو، اگر تم اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تم کو ایمان کے بعد پھر منکر بنادیں گے۔ اور تم کس طرح انکار کرو گے حالاں کہ تم کو اللہ کی آیتیں سنائی جارہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے۔ اور جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہ پہنچ گیا سیدھی راہ پر۔ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنا چاہئے۔ اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاؤ۔ اور ضرور ہے کہ تم میں ایک گروہ ہو جو نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور باہم اختلاف کر لیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آچکے تھے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے کالے ہوں گے، تو جن کے چہرے کالے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے ، تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کے سبب سے۔ کے چہرے روشن ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ کے لئے ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے 109 - 100 دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ شیطان آدمی کے ایمان کو اچک لے جائے اور فرشتے اس کی روح اس حال میں قبض کریں کہ وہ ایمان سے خالی ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ آدمی ہر وقت با ہوش رہے، وہ اپنے آپ پر نگراں بن جائے۔ ایمان سے دور ہونے کی ایک صورت یہ ہے جب کہ دین کے اجزا میں تبدیلی کرکے اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنادیا جائے۔ اصل رہی تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ سے ڈرنا اور مرتے دم تک اپنے ہر معاملہ میں وہی رویہ اختیار کرنا جو اللہ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بنتا ہو، یہی صراط مستقیم ہے۔ اس سے انحراف یہ ہے کہ "تقویٰ" کے بجائے کسی اور چیز کو مدار دین سمجھ لیا جائے اور اس پر اس طرح زور دیا جائے جس طرح خوف خدا اور فکر آخرت پر دیا جاتا ہے۔ جب بھی دین میں اس قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملت کے درمیان اختلاف پڑ جاتا ہے۔ کوئی ایک منی چیز پر زور دیتا ہے کوئی دوسری ضمنی چیز پر، اور اس طرح ملت فرقے فرقے میں بٹ کر رہ جاتی ہے۔ اول الذکر سے ایک اللہ تو جہ کا مرکز بنتا ہے اور ثانی الذکر سے متفرق مسائل تو جہ کا مرکز بن جاتے جب دین میں سارا زور و تاکید تقویٰ (اللہ سے ڈرنے) پر دیا جائے تو اس سے باہمی اتفاق وجود میں آتا ہے اور جب اس کے سوا دوسری چیزوں پر زور دیا جانے لگے تو اس سے باہمی اختلاف کی وہ برائی پیدا ہوتی ہے جو لوگوں کو جہنم کے کنارے پہنچادیتی ہے ملت کو ضابط مستقر رکھنے اور اس سے پھٹنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ملت کے کچھ افراد مسلسل اس کے لئے

آل عمران ۳ اب تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ ایمان والے ہیں اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے مگر کچھ ستانا۔ اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تم کو پیٹھ دکھائیں گے، پھر ان کو مدد بھی نہ پہنچے گی۔ ان پر مسلط کر دی گئی ذلت خواہ وہ کہیں بھی پائے جائیں، سوا اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہد ہو اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہو گئے اور ان پر مسلط کر دی گئی پستی، یہ اس واسطے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے وہے اور انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے نکل جاتے تھے۔ سب اہل کتاب ان میں ایک گروہ عہد پر قائم ہے۔ وہ راتوں کو اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں اور وہ سجدہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں۔ اور برائی سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں جو نیکی بھی کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کے مال اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور وہ لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور رہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے پھر وہ اس کو برباد کر دے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ١١-١٤۔ یہود دین خداوندی کے حامل بنائے گئے تھے۔ مگر وہ اس کو لے کر کھڑے نہ ہو سکے اور اس کو محفوظ رکھنے میں بھی ناکام اس کے بعد اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اپنا دین اس کی صحیح صورت میں بھیجا۔ اب امت مسلمہ لوگوں کے درمیان خدا کی رہنمائی کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ اس منصب کا تقاضا ہے کہ یہ امت اللہ کی سچی مومن بنے۔ وہ دنیا کو بھلائی کی تلقین کرے اور ان چیزوں سے باخبر کرے جو اللہ کے نزدیک برائی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ کام چونکہ خدائمی کام ہے اس لئے خدا نے اس کے ساتھ اپنا تحفظاتی نظام بھی شامل کر دیا ہے۔ جو لوگ اس کار خداوندی کے لئے اٹھیں گے ان کے لئے خدائی ضمانت ہے کہ ان کے مخالفین ان کو معمولی اذیتوں کے سوا کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تاہم یہود کے انجام کی صورت میں اس کی بھی دائی مثال قائم کر دی گئی کہ اس منصب حق پر سر فراز کئے جانے کے بعد جو لوگ بد عہدی کریں ان کی سزا اسی دنیا میں اس طرح شروع ہو جاتی ہے کہ ان کو ذاتی عزت وسرفرازی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ خدائی رحمتوں سے محرومی کی وجہ سے ان کی بے حسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں جو ان کی کوتاہیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اٹھیں۔

مال واولا د کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کر کے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کر دیتی ہے اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کر کے رکھ دے گا۔ یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔

آسمانی کتابوں کو مانتے ہو۔ اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کہو تم اپنے غصہ میں مرجاؤ۔ بے شک اللہ دلوں کی بات کو جو انتا ہے۔ اگر تم کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو ان کو رنج ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے۔ ۲۰ - ۱۱۸ مسلمان اسی خدائی دین پر ایمان لائے تھے جو سابق اہل کتاب (یہود) کو اپنے نبیوں کے ذریعہ ملاتھا۔ دونوں کا دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک تھا۔ مگر یہود مسلمانوں کے اس قدر دشمن ہو گئے کہ مسلمان اپنی ساری خصوصیات کے باوجود ان کے نزدیک ایک کلمہ خیر کے بھی حق دار نہ تھے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے۔ ان کو انسانی ہمدردی کا مستحق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے انبیائے بنی اسرائیل کی طرف منسوب کر کے ایک خود ساختہ دین بنا رکھا تھا اور اس کے بل پر عوام میں قیادت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ خدا کے دین میں ساری توجہ خدا کی طرف رہتی جب کہ خود ساختہ دین میں لوگوں کی توجہ ان افراد کی طرف لگ جاتی ہے جو اس خود ساختہ دین کے خالق اور شارح ہوں ۔ ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو بھی گوارا نہیں کرتے ۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ وہ ان کو ان کے مقام عظمت سے ہٹا رہی ہے ۔ جب ایسی صورت پیش آئے تو اللہ کے سچے بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ منفی رد عمل سے بچیں اور مکمل طور پر صبر و تقویٰ پر قائم رہیں ۔ صبر کا مطلب ہے ہر حال میں اپنے کو حق کا پابند رکھنا، اور تقویٰ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت صرف اللہ کو سمجھا جائے نہ کہ کسی اور کو ۔ مسلمان اگر اس قسم کے مثبت رویہ کا ثبوت دیں تو کسی کی دشمنی ان کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گی خواہ وہ مقدار میں کتنی ہی زیادہ ہو ۔ تاہم اس کے ساتھ مسلمانوں کو حقیقت پسند بھی بننا چاہئے ، ان کو اپنے دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا چاہئے تاکہ کوئی ان کی صاف دلی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔

مسلمانوں کے دل میں یہود کے لئے محبت ہونا اور یہود کے دل میں مسلمانوں کے لئے محبت نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ اللہ سراپا رحم اور عدل ہے۔ وہ تمام انسانوں کا خالق و مالک ہے اس لئے جو شخص حقیقی طور پر اللہ کو پالیتا ہے اس کا سینہ تمام خدا کے بندوں کے لئے کھل جاتا ہے۔ اس کے لئے تمام انسان یکساں طور پر اللہ کی عیال بن جاتے ہیں ۔ وہ ہر ایک کے لئے وہی چاہنے لگتا ہے جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے۔ مگر جو لوگ اللہ کو حقیقی طور پر پائے ہوئے نہ ہوں، جنھوں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں نہ ملایا ہو وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر جیتے ہیں۔ ان کا سرمایہ حیات اپنے فائدے اور اپنے گرو ہی تعصبات ہوتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج ان کو ایسے لوگوں کا دشمن بنا دیتا ہے جو ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، جان کے اپنے گروہ میں شامل نہ ہوں۔ مانتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کی کوئی تدبیر اللہ کی مشیت کے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتی۔

Printed page