آپ کا اخلاق
Al-Risala, January 1980, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
فرانس کے مشہور فلسفی والٹیر (۱۷۷۸-۱۶۹۴) نے کہا تھا کہ کوئی شخص اپنے قریبی لوگوں میں ہیرو نہیں ہوتا۔ No one is A Hero To His valet کیوں کہ قریبی لوگوں کی نظر میں آدمی کی نجی زندگی ہوتی ہے اور نجی زندگی میں کوئی بھی کامل نہیں ہوتا۔ دور والوں کو ایک شخص جتنا اچھا معلوم ہوتا ہے، قریب کے لوگوں کو وہ اتنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے قریبی لوگوں کے اندر اس کے بارے میں ہیرو کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ مگر سورن اسمتھ نے لکھا ہے کہ یہ کلیہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق نہیں آتا، کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ آپ سے قریب تھا، اتناہی زیادہ وہ آپ کی خوبیوں کا شیدائی تھا۔
زید بن حارثہ رضی اللہ قبیلہ کلب کے ایک شخص حارثہ بن شراحیل کے لڑکے تھے۔ ان کی ماں سعدی بنت ثعلبہ تھیں جو قبیلہ طی کی ایک شاخ بنی معن سے تعلق رکھتی تھیں۔ زید جب آٹھ سال کے تھے، اس وقت ان کی ماں ان کو لے کر اپنے میکے گئیں۔ وہاں بنی قین بن جسر کے لوگوں نے ان کے پڑاؤ پر حملہ کیا۔ وہ جو کچھ لوٹ کر لے گئے اس میں زید اس کے بعد انہوں نے عکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ ان کو حکیم بن حزام نے خریدا جو حضرت خدیجہ رضہ کے بھتیجے تھے۔ وہ اس بچہ کو مکہ لائے اور غلام کی حیثیت سے اپنی پھوپھی کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا تو حضرت خدیجہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا۔ اس وقت زید کی عمرہ سال تھی۔ کچھ عرصہ بعد زید رضہ کے باپ اور چچا کو معلوم ہوا تو وہ مکہ آئے تاکہ اپنے بچہ کو حاصل کر کے اپنے ساتھ لے جائیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور کہا کہ آپ جو فدیہ لینا چاہیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔ آپ ہمارا بچہ ہم کو دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کوئی فدیہ نہیں اگر لڑکا تمھارے ساتھ جانا چاہے تو تم اس کو لے جا سکتے ہو۔ آپ نے زید کو بلایا اور کہا ان کو پہچانتے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں، یہ میرے باپ اور چچا ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ لوگ تم کو لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو ان کے ساتھ اپنے گھر جاسکتے ہو۔ زید رضہ نے جواب دیا: میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ یہ سن کر ان کے باپ اور چچا بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا: تم آزادی کو چھوڑ کر غلامی کو پسند کرتے ہو اور اپنوں کو چھوڑ کر غیروں میں رہنا زید نے کہا: میں نے محمد کے اندر جو خوبیاں دیکھی ہیں اس کے بعد اب میں کسی کو بھی ان کے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد زید کے باپ اور چچا اپنے وطن کو واپس چلے گئے ۔ یہ واقعہ نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خصوصیت کی طرف قرآن میں ان لفظوں میں اشارہ کیا گیا ہے:
سوئی کو ہاتھ میں لے کر پھینکا تو وہ ایک فاصلے پر جاکر کھڑی صورت میں زمین پر گرگئی ۔ اب اس نے دوسری سوئی پھینکی تو وہ پہلی سوئی کے سوراخ میں جاکر اٹک گئی۔ پھر اس نے تیسری سوئی پھینکی تو وہ دوسری سوئی کے سوراخ میں پیوست ہوگئی۔ اسی طرح وہ ایک ایک سوئی پھینکتا گیا اور ہر سوئی اپنے سے پہلے والی سوئی کے سوراخ میں داخل ہوتی چلی گئی، اور بالآخر بارہ سوئیوں کا ایک جال بن گیا۔ ہارون رشید حیرت کے ساتھ یہ تماشا دیکھتا رہا۔ آخر میں اس نے دس درہم ہاتھ میں لے کر آدمی کی طرف پھینکے اور کہا: خذھان لك (اس کو لے ، تجھ پر افسوس ہے) کاش تو نے کسی مفید کام میں یہ مہارت پیدا کی ہوتی۔
جب مسلمان زندہ تھے تو ان کو معلوم تھا کہ کرتب بازی میں اور ایک حقیقی کام میں کیا فرق ہے۔ مگر آج انہیں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ اس فرق سے بے خبر ہو کر کرتب بازی پر داد دے رہے ہیں جو صرف حقیقی عمل پر دی جانی چاہئے۔ قافیہ میں قافیہ ملانے والے شاعر، الفاظ کا گلدستہ بنانے والے مقرر، سیاسی شوشوں سے قوم کا مستقبل برآمد کرنے والے قائد، سب اسی قسم کے کرتب باز ہیں جیسے ہارون رشید کے زمانہ کا مذکورہ شخص۔ ہارون رشید نے اپنے زمانہ کے کرتب باز سے کہا تھا کہ تیرا برا ہو ۔ جب کہ آج کے کرتب بازوں کو شان دار خطابات مل رہے ہیں اور ہر طرف ان کے استقبالیہ جلسوں کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ کے کرتب بازوں کی فہرست میں سب سے آگے وہ انقلابی قائدین ہیں جو تقریریںوں کے ذریعہ ہر روز شان دار محل کھڑے کرتے رہتے ہیں۔ ہارون کے زمانہ کے آدمی نے اگر سوئیوں کا کھیل دکھایا تھا تو یہ لفظوں کے کھیل دکھارہے ہیں۔ ایک قائد ایک " عظیم اسلامی اجتماع " میں تقریر کر رہے انھوں نے اپنی پرجوش تقریر کو اس جملہ پر ختم کیا ۔ " مسلم نو جوانوں کو میرا پیغام ہے کہ کفر کے چراغ کو جہاں پاؤ بجھا دو" اس قسم کی مجاہدانہ تقریر آج ساری مسلم دنیا میں گونج رہی ہے ۔ انھوں نے مسلم نوجوانوں کو انتہائی جذباتی بنا دیا ہے مگر" کافر اقوام" پر ان کا بس نہیں چلتا۔ کیوں کہ ان قوموں نے طاقت کے تمام اسباب جمع کر کے اپنے کو انتہائی طاقت ور بنا لیا ہے اور مسلمان ان کے مقابلہ میں ہر لحاظ سے بے حد پیچھے ہیں۔ تاہم لوگوں کے بڑھے ہوئے جوش جہاد کو کوئی نشانہ درکار تھا۔ چنانچہ اب ہر ایک نے خود اپنے مسلم بھائیوں میں " کفر کے چراغ " دریافت کر لئے ہیں اور ہر ایک ان کو بجھانے میں مشغول ہے۔ کہیں یہ جہاد گولیوں کی بوچھار کے ذریعہ جاری ہے اور جہاں اس کے مواقع نہیں ہیں وہاں اس سے کمتر کسی کارروائی کی کفر کا چراغ بجھانے کا نعرہ عملاً اسلام کا چراغ بجھانے کے ہم معنی بن گیا ہے۔ کہیں خود ہیں خود اپنے ملک پر چڑھائی کر کے فتوکر جھنڈے گاڑ رہے ہیں ۔ کہیں قائدین خود اپنے ہی سیاسی حریفوں کو تلاش کر کے مجاہد کا لقب لے رہے ہیں اور یہ کو بار ث۔