اللہ کی ایک سنت یہ بھی ہے
Al-Risala, March 1980, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک دعوتِ سچے اسلام کی دعوت ہو اور آپ اس کا انکار کریں تو یہ انکار ہمیشہ جنت کی قیمت پر ہوتا ہے۔ ایک دعوت کا انکار کر کے آدمی دنیا میں اپنے کو وقتی رسوائی سے بچاتا ہے اور آخرت کی ابدی رسوائی کا خطرہ مول لیتا ہے۔ ہے کہ یہ بہت مہنگا سودا ہے۔ اس لئے جب ایک اسلامی دعوت کے مقابلہ میں اپنے رویہ کا فیصلہ کرنا ہو تو آدمی کو بے حد سنجیدہ غور و فکر کے بعد اس کا فیصلہ کرنا چاہئے۔
اس سلسلہ میں ایک اور سنگین بات ہے جو آدمی کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ وہ اللہ کی سنت اشتباہ ہے۔ میں بتایا گیا ہے کہ رسول کے مخاطبین نے جب رسول کی دعوت کا انکار کیا تو اوں نے کہا کہ خدا کو اگر اپنا پیغمبر بھیجنا تھا تو اس نے انسان کو کیوں ہمارے پاس بھیجا، فرشتہ کو کیوں نہ بھیجا۔ تاکہ ہم کو پہچاننے میں شبہ نہ ہوتا اور ہم اس کو خدا کا نمائندہ مان کر فوراً اس کے مومن بن جاتے۔ فرمایا کہ انسانی پیغمبر کے بجائے اگر ہم کوئی فرشتہ بھیجتے تو اس کو بھی فرشتہ کے طور پر نہ بھیجتے بلکہ انسان کی صورت میں بھیجتے۔ اور اس طرح دوبارہ ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ (انعام ۹) چونکہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اس لئے یہاں لازماً حق پر التباس کا پردہ ڈال کر لوگوں کے سامنے لایا جاتا ہے۔ یہاں "خدا کے نمائندہ" کو بھی ایک عام انسان کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے لئے شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہی جانچ کا مقام ہے۔ اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو شبہ کے پردہ کو پھاڑ کر حق کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھ لیتا ہے اور کون ہے جو شبہ میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ خدا کے منصوبہ کے مطابق انسان کو بہر حال اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ ایک مخلوق کی صورت میں خالق کی تجلیات کو دیکھے۔ ایک انسان کی آواز میں خدا کی آواز کو سنے۔ دنیوی شان و شوکت سے خالی ایک دعوت میں آخرت کی شان و شوکت کی رونقیں پالے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اگر حق کا انکار کرنے کے لئے ایک "دلیل" ہاتھ آگئی ہو تو اس کو ہرگز یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اپنے رویہ کے حق میں ایک مضبوط بنیاد کو پا گیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ جس چیز کو دلیل سمجھ رہا ہے وہ محض ایک اس کے ذہن نے شبہات سے متاثر ہو کر بطور خود ایک تصویر بنا لی ہو۔ وہ اس کا ایک ذہنی سایہ ہو جس کو وہ حقیقت سمجھ بیٹھا ہو۔ "شبہ میں ڈالنے" کی سنت ہی کا یہ تقاضا ہے کہ حق اگر اپنی موافقت میں دلیلیں رکھتا ہو تو اسی کے ساتھ آدمی کو اس کی مخالفت میں بھی دلیلیں ہاتھ آ جائیں۔ اگر ایسے پہلو پائے جاتے ہوں جو دعوت کو سچی دعوت ثابت کرتے ہوں تو اسی کے ساتھ یہ امکان بھی موجود ہو کہ کوئی شخص اس میں ایسے شوشے دریافت کرلے جس کی بنیاد پر وہ اس کی گمراہی کا انکشاف نہ قرآن میں ہے کہ "کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اس کو دیکھ کر ایک شخص نے کہا۔ " خدا بھی محتاج ہو گیا ہے جو اس کو بندوں سے ادھار مانگنے کی ضرورت پڑی۔ اگر آدمی کا ذہن صحیح نہ ہو تو وہ خدا کی کتاب میں بھی احمقانہ اعتراضات تلاش کر سکتا ہے۔ کوئی کہے کہ قرآن میں "قرض" کے بجائے کوئی دوسری تعبیر اختیار کرنی چاہئے تھی تو یہ بے معنی بات ہوگی۔ کیوں کہ قرض کا لفظ اگر قرآن میں نہ ہوتا تو آدمی اپنے بے معنی اعتراضات کے لئے کوئی اور لفظ تلاش کر لیتا۔
کے بعد خاموش منصوبے کے تحت اپنی کمیوں کی تلافی کی جائے۔ اپنے کو طاقتور بنانے کی مسلسل جدوجہد کی جائے۔ وقت تک تصادم سے پر ہیز کیا جائے جب تک حریف کے مقابلہ میں فیصلہ کن اقدام کی حیثیت حاصل نہ ہو جائے۔ اس کے برعکس بے صبری کی سیاست یہ ہے کہ مخالف حالات کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے اور مشتعل نفسیات کے تحت اپنے حریف سے ٹکرا جائے ۔ بغیر اس کے کہ اس نے حریف کی نسبت سے اپنے کو تیار کرنے کی کوشش کی ہو۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قوموں کی سیاست اس بے صبری کی نہایت عبرت ناک مثال ہے۔ ہر ملک میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ طاقت کی فراہمی سے پہلے محض خوش فہمیوں کے تحت اقدام کر دیا گیا اور اس کے فطری نتیجہ کے طور پر جب انجام اپنے خلاف نکلا تو ہمارے قائدین نے دوسری بے صبری یہ دکھائی کہ ناکامی کے اسباب کا بے لاگ جائزہ لینے کے بجائے فی الفور یہ اعلان کر دیا کہ فلاں سازش نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا ورنہ اب تک دہ اسلام اور ملت اسلام کو عروج کے آسمان پر پہنچا چکے ہوتے (۲۸ اکتوبر ۱۹۷۹ء)