Al-Risala · March 1980

ہیرو بننے کا شوق

Al-Risala, March 1980, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹی ایس ایلیٹ ( ۱۹۶۵- ۱۸۸۸) نے کہا تھا کہ دنیا کی اکثر مصیبتیں ان لوگوں کی پیدا کی ہوئی ہیں جو اہم بننا چاہتے ہیں : Most of the trouble in the world is caused by people wanting to be important. یہ بات آج مزید اضافہ کے ساتھ صحیح ہے۔ آج ہر نوجوان ہیرو بننا چاہتا ہے اور ہر آدمی اہم شخصیت بننے کے شوق میں مبتلا اس جنون نے خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے ۔ اس کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا ان میں بھی سب سے بری مثال وہ ہے جب کہ خدا کے دین کو لیڈری کا عنوان بنا دیا جائے ۔ موجودہ زمانہ میں کسی چیز کو نمایاں کرنے کے بہت سے نئے طریقے رائج ہو گئے ہیں۔ ضرورت تھی کہ ان ذرائع کو خدا کی خدائی کے اعلان و اظہار میں استعمال کیا جائے ۔ مگر لوگوں نے ان کو اپنی ذات کو نمایاں کرنے کا سستا نسخہ سمجھ لیا ہے۔ اخبار اور رسالوں کی کثرت، جلسوں اور جلوسوں کی دھوم اور اس طرح کی دوسری سرگرمیاں جو حیرت انگیز تیزی کے ساتھ ہر روز بڑھ رہی ہیں وہ ذاتی نمائش کے اسی بڑھے ہوئے شوق کا نتیجہ ہیں ۔ لبید عرب کے ایک بڑے شاعر تھے۔ انھوں نے سورہ بقرہ پڑھی تو شاعری چھوڑ دی ۔ اس سے پہلے وہ اپنی شاعری دوسروں کو سناتے تھے ، اب قرآن دوسروں کو سنانے لگے۔ انھوں نے کہا : جب قرآن جیسا کلام آگیا تو اب مجھ کو شاعری کرنے کی کیا ضرورت ۔ ایسے ہی لوگ اسلام کو زندہ کرتے ہیں۔ اور جب ہر آدمی کو صرف اپنی ” شاعری“ سنانے کا شوق ہو جائے تو اس کا انجام ملی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔

Printed page