موت سے پہلے موت کو دیکھئے
Al-Risala, March 1980, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی کی سڑکوں پر ہر روز تقریباً دو آدمی حادثہ کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ ایک روز میں دہلی کی ایک سڑک پر گزر رہا تھا۔ ایک مقام پر غیر معمولی مجمع دیکھ کر ٹھہر گیا۔ دیکھا تو سڑک کے بیچ میں ایک لاش خون میں نہائی ہوئی پڑی تھی اور اس کے پاس ایک جوان عورت بد حواسی کے عالم میں آہ و ماتم کر رہی تھی۔ ایک طرف ایک اسکوٹر اوندھا ہو کر پڑا معلوم ہوا کہ مرنے والا آدمی اپنے اسکوٹر پر جا رہا تھا۔ اس کی بیوی اس کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں اسکوٹر ایک بس سے ٹکرا گیا ۔ مرد بس کے نیچے آ کر کچل گیا اور فوراً مر گیا۔ بیوی بچ گئی ۔
اس طرح کے واقعات ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ لوگ ہر روز کیسی نہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر کسی عجیب بات ہے کہ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ مجھ کو بھی مرنا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے آپ کو موت سے محفوظ و مامون سمجھے ہوئے ہے۔ آدمی یہ سمجھے کہ اس کو بھی مرنا ہے تو وہ ”موت سے پہلے مرجائے“ اس کی بد حواسی اس سے بھی زیادہ بڑھ جائے جتنی مذکورہ واقعہ میں عورت کی دکھائی دے رہی ہے (۲۲ اکتوبر ۱۹۷۹ء)