موت کے بعد کا جہنم نظر نہیں آتا
Al-Risala, March 1980, pp. 35–42
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر چرن سنگھ نے کہا: اگر کوئی جہنم ہے تو وہ بھارت ہے۔ کیوں کہ یہ صرف بھارت ہے جہاں بد دیانت لیڈر ملک کو چلاتے ہیں ۔ (ٹا ئمس آف انڈیا ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء) جو لوگ موت کے بعد کے جہنم کو نہ دیکھیں وہ ہمیشہ موت سے پہلے کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں ۔ الرسائل مارچ ۱۹۸۰
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو (ر اعراف ۸۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں خدا نے جو نظامِ عمل قائم فرمایا ہے اسی کی پیروی تم بھی کرو۔ اس کے خلاف مت چلو۔ مثلاً شہد کی مکھیاں حد درجہ نظم اور تقسیمِ کار کے تحت اپنا عمل کرتی ہیں۔ وہ اپنا کام کرتے ہوئے بقیہ اجزا کائنات کے لئے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کرتیں۔ ان کی سرگرمیاں اس طرح جاری ہوتی ہیں کہ ایک مقصد حاصل کرتے ہوئے کئی دوسرے فوائد بھی حاصل ہو جائیں۔ فطرت کا یہی اصول انسان کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنا چاہئے تاکہ خدا کے بنائے ہوئے نظام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ خدا کا جو نظام صلاح بقیہ کائنات میں قائم ہے وہی نظامِ صلاح انسانی دنیا میں بھی قائم رہے۔
قدیم زمانہ میں کھیتی یا باغبانی کا مطلب صرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ کھیت میں فصل بودی جائے یا درخت لگا دئے جائیں۔ موجووہ زمانہ میں علم کے اضافے نے اس میں بہت سی نئی چیزوں کا اضافہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک شہد کی مکھیاں پالنا بھی ہے۔ شہد کی مکھیاں جو مختلف پھولوں کا رس لے کر شہد بناتی ہیں، وہ اسی کے ساتھ ایک اور اہم کام انجام دیتی ہیں۔ یہ ہماری کھیتیوں اور باغوں کی زرخیزی میں اضافہ ہے، انسان اور حیوانات کی طرح نباتات میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان نر و مادہ کا اتصال پھولوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اسی سے دانے اور پھل بنتے ہیں۔ نر پھول اور مادہ پھول اگر باہم نہ ملیں تو کوئی فصل تیار نہیں ہو سکتی۔ مکھیاں اس قدرتی عمل میں خصوصی مدد کرتی ہیں۔
ہوا کے جھونکے سے جب شاخیں ہلتی ہیں یا نباتاتی کیڑے ان کے درمیان نقل و حرکت کرتے ہیں تو ان کے جسم یا پروں سے لپٹ کر نر پھول کا زيرہ مادہ پھول تک پہنچتا ہے اور اس طرح ان میں ازدواجی اتصال قائم ہوتا مگر یہ کافی نہیں ہوتا۔ شہد کی مکھیاں اس عمل کی تکمیل کرتی ہیں۔ کیوں کہ دہ پھولوں کے اندر کارس لینے کے لئے، جواكثر قطرہ سے بھی بہت کم مقدار میں ہوتا ہے، ایک ایک پھول پر بیٹھتی ہیں اور ایک سے دوسرے تک جاتی رہتی ہیں۔ اس عمل کے دوران وہ ایک کا زیرہ دوسرے تک پہنچاتی رہتی ہیں۔ اس لئے شہد کی مکھی پالنا صرف شہد حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ فصلوں کو زیادہ زرخیز بنانے کا بھی خصوصی ذریعہ ہے۔ ایک ماہرِ زراعت نے کہا ہے:
In the modern context, the beekeeping industry has to be viewed as an integral part of agricultural development جدید حالات میں، شہد کی مکھیاں پالنے کی صنعت کو زراعتی ترقی کا لازمی حصہ سمجھنا چاہئے' (ٹائمس آف انڈیا، اکتوبر ۱۹۷۹ء)
دس گنا زیادہ فائدہ مند ہے جو ان کے ذریعہ کھیتوں اور باغوں میں فصل کے اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔ شہد کی بھیاں جس طرح اپنا پیچیدہ کام کرتی ہیں وہ دنیا کی تمام سلطنتوں سے زیادہ کامیاب قسم کا نظام سلطنت ہے، تاہم ایک انسان کے لئے شہد کی مکھیاں پالنا انتہائی آسان کام ہے۔ شہد کی مکھیاں فطری طور پر اپنے کارکردگی کے نظام کی حد درجہ پابند ہوتی ہیں۔ ان کی سردار ایک ملکہ ہوتی ہے جس کے گرد ان کی تمام سرگرمیاں جاری انڈے دینے کا کام یہی ملکہ کرتی ہے۔ ایک ملکہ روزانہ تقریباً ایک ہزار انڈے دیتی ہے، نر مکھیوں کا کام چھتے کا انتظام اور حفاظت ہے اور مادہ مکھیوں کا کام پھولوں کا رس لا کر شہد بنانا صبح سے شام تک لگاتار یہ عمل جاری رہتا ہے۔ ایک چھتے میں تقریباً ۱۰ ہزار مکھیاں ہوتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کا بکس گویا قدرت کے اسی نظام کو اپنے لئے استعمال کرنا ہے۔ خاص طرح کا بکس جس میں تقریباً ایک درجن چھتے بنانے کا انتظام ہوتا ہے، جتنی تعداد میں چاہے حاصل کر لیجئے۔ اور ان میں ملکہ اور مکھیاں لاکر رکھ دیجئے ۔ یہ سب چیزیں حکومت کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں، بس اس کے بعد بقیہ کام مکھیاں خود بخود شروع کر دیں گی۔ ایک بکس کے ذریعہ سال میں تین سے پانچ کلو گرام تک شہد حاصل ہوتا ہے۔ شہد کتنی قیمتی چیز ہے، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک کلو گرام شہد کی غذائی ضرورت بارہ کلو گرام سیب یا ۲۰ کلو گرام گاجر کے برابر ہے۔
شہد کی مکھیوں کا نظام اتنا حیرت انگیز ہے اور اس کے اتنے زیادہ پہلو ہیں کہ اس پر موٹی موٹی کتابیں لکھی گئی ہیں اور اب بھی ان کی حیرت انگیز کارکردگی کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ مثلاً تحقیق کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھیاں شہد جمع کرنے کا کام صرف دن میں کر سکتی ہیں۔ روشنی کے علاوہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی منزل کا رخ سورج کے زاویہ سے مقرر کرتی ہیں۔ صبح بالکل سویرے سے شہد کی مکھیوں کی اڑان شروع ہو جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پھیرا ممکن ہو سکے، کچھ مکھیاں پھولوں کا رس نکال کر لاتی ہیں اور کچھ صرف رہبری کا کام انجام دیتی ہیں۔ رہبر مکھیوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لمبی اڑانیں بھر کر یہ معلوم کریں کہ شہد حاصل کرنے کے لئے پھول کہاں کہاں مل سکتے ہیں۔ وہ پتہ کرنے کے بعد دوسری مکھیوں کو وہاں پہنچنے میں رہنمائی کرتی ہیں ۔
صبح کے وقت جتنے کم اجالے میں شہد کی مکھیوں کا سفر شروع ہوتا ہے ، اگر شام کا آخری پھیرا بھی اتنا اجالا رہنے پر شروع کیا جائے تو کئی میل کے سفر کے بعد مکھی جب شہد لے کر اپنے چھتے کی طرف لوٹے گی تو اندھیرا ہو چکا ہوگا اور اس کے لئے چھتے تک پہنچنا ناممکن ہو جائے گا۔ چنانچہ شہد کی مکھی صبح کو سفر کا آغاز کسی قدر اندھیرے میں کر دیتی ہے۔ مگر شام کو جب لوٹنا ہوتا ہے تو کافی اجالا رہتے ہوئے آخری واپسی کا سفر شروع کرتی ہے تاکہ اجالے اجالے میں وہ اپنے چھتے تک پہنچ جائے ۔ یہ خدا کا نظام اصلاح ہے جو کائنات میں قائم ہے۔ انسان کو بھی اپنے معاملات میں اس کی پیروی کرنا ہے ورنہ وہ خدا کے یہاں مفسد قرار پائے گا۔
(انگریزی سے ترجمہ)
محمدؐ کی شخصیت کے بارے میں مکمل صداقت کو جاننا بہت ہی مشکل ہے۔ میں تو صرف اس کی بعض جھلکیوں کو پاسکتا ہوں۔ کتنے خوبصورت مناظر کیکے بعد دیگرے ڈرامائی طور پر سامنے آتے رہتے ہیں محمد پیغمبر، محمد جنرل، محمد حکمران، محمد غازی، محمد تاجر، محمد مبلغ، محمد فلسفی، محمد سیاست داں، محمد خطیب، محمد مصلح، محمد یتیموں کا ملجا، غلامی کا حامی، محمد حچ ، محمد پیشوا۔ ان تمام خوبصورت ادوار میں، انسانی اعمال کے ان تمام دائروں میں آپؐ ایک ہیرو معلوم ہوتے ہیں۔
یتیمی کی حالت بے چارگی کی آخری انتہا ہے اور اس دنیا میں آپؐ کی زندگی اسی انتہا سے شروع ہوئی ۔ حکمرانی مادی طاقت کی انتہا ہے، اور اس دنیا میں آپؐ کی زندگی اسی پر ختم ہوئی ۔
ایک یتیم بچے اور مظلوم مہاجر سے ابتدا کر کے آپ ایک پوری قوم کے روحانی اور مادی حاكم اعلیٰ اور اس کی تقدیر کے مالک بن گئے۔ اس عمل کے دوران پیش آنے والے امتحانات و ترغیبات، مشکلات و تغیرات، روشنیاں اور سائے، اونچ نیچ، دہشت اور عظمت کے دوران وہ دنیا کے امتحان میں کامیاب ہو کر زندگی کے ہر میدان میں ایک نمونہ بن کر ظاہر ہوئے۔ ان کی کامیابیاں زندگی کے کسی ایک میدان سے متعلق نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام احوال پر حاوی ہیں۔
مثال کے طور پر عظمت اگر یہ ہے کہ بربریت اور مکمل اخلاقی تاریکی میں پڑی ہوئی قوم کو پاک کیا جائے تو جس نے اس پوری قوم کی کایا پلٹ دی، اس گری ہوئی قوم کو اتنا اونچا اٹھا دیا کہ وہ تہذیب و معرفت کی روشنی کی حامل بن گئی، اس عظیم شخصیت کو عظمت کا دعویٰ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر عظمت یہ ہے کہ کسی سوسائٹی کے تنفر عناصر کو آپس میں بھائی چاری اور خیر خواہی کے روابط میں جوڑ دیا جائے تو صحرا میں ہونے والے نبی کو عظمت کے امتیاز کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر عظمت ذلیل کن توہمات اور ہر قسم کی مہلک عادتوں میں مبتلا قوم کی اصلاح کرنا ہے، تو پیغمبر اسلام نے لاکھوں آدمیوں کے دل سے تو ہمات اور غیر معقول خوف کو نکال باہر کیا۔ اگر عظمت بلند اخلاق کا مظاہرہ ہے، تو محمدؐ کے دوستوں، دشمنوں سبھی نے ان کو "الامین" اور "الصادق" کا لقب دیا تھا۔ اگر فاتح عظیم ہوتا ہے، تو محمدؐ بھی ایک مجبور یتیم اور عام انسان کی زندگی سے بلند ہو کر جزیرہ عرب کے حاکم بن گئے جو کہ خسرو اور قیصر کا ہم پلہ منصب تھا۔ محمد وہ تھے جنہوں نے ایک عظیم سلطنت قائم کی جو کہ ان گزری ہوئی چودہ صدیوں میں بھی برقرار اگر لیڈر کے لئے اس کے تابعین کا احترام اس کی عظمت کا معیار ہے تو پیغمبر کا نام آج بھی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لئے جادو کی حیثیت رکھتا ہے۔
انھوں نے ایتھنز، روم، فارس، ہندوستان یا چین میں فلسفہ کی تعلیم نہیں حاصل کی تھی۔
نے انسانیت کو لا فانی حیثیت کے حامل عظیم ترین حقائق سے باخبر کیا۔ محمد خود تو ان پڑھ تھے، لیکن وہ اتنی فصاحت اور جوش سے بولتے تھے کہ لوگ بے اختیار رو پڑتے تھے۔ اگر چہ محمد یتیم اور دنیا کی دولتوں سے محروم پیدا ہوئے تھے، لیکن پھر بھی سب ان سے محبت کرتے تھے۔ انھوں نے کسی فوجی کالج میں تعلیم نہیں حاصل کی تھی، لیکن پھر بھی بڑی بڑی مشکلات پر قابو پا کر انھوں نے اپنی فوجوں کو منظم کیا اور اپنی ماہرانہ اخلاقی قوتوں کے بل پر جنگیں جیت لیں۔ خوبیوں سے بھر پور ایسے لوگ بہت نادر ہیں جن میں دوسروں کو بھی دعوت دینے کا ملکہ ہو۔ ڈیکارٹ نے کہا ہے کہ مکمل داعی دنیا کی سب سے نادر مخلوقات میں سے ایک ہے۔ ہٹلر نے بھی اپنی سوانح عمری ”میری جدوجہد میں اسی قسم کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے : ایک عظیم نظریہ ساز شاذ و نادر ہی ایک عظیم قائد ہوتا ہے۔ احتجاجی لیڈر ان خوبیوں کا اور بھی کم حامل ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا آدمی بہتر لیڈر ہوکیوں کہ قیادت کے لئے عوام کو حرکت میں لانے کی خصوصیت ضروری افکار پیدا کرنے کی صلاحیت، قائدانہ صلاحیت کے ساتھ کوئی قدر مشترک نہیں رکھتی۔ پیغمبر اسلام کی ذات میں دنیا نے اس نادر ترین مظہر کو بھی حقیقی وجود کی صورت میں دیکھ لیا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات وہ ہے جس کا اظہار پر دفیسر با سور تھھا اسمتھ نے کیا ہے: ”وہ ریاست اور چرچ (دینی تنظیم) دونوں کے سربراہ تھے ، وہ ایک ساتھ پوپ اور قیصر دونوں تھے۔ لیکن وہ ایسے پوپ تھے ، جو پوپ کے دعوؤں سے خالی تھا۔ وہ ایسے قیصر تھے جو قیصر کی فوجوں کے بغیر تھا نہ ان کے پاس ہر وقت تیار کھڑی رہنے والی فوج تھی ، نہ ذاتی حفاظتی کارکن نہ ہی محل ، نہ ہی کوئی مقررہ ٹیکس کی آمدنی ۔ اگر کسی کو کبھی یہ دعویٰ کرنے کا حق ہو کہ اس نے خدائی حق کے ذریعہ حکومت کی ہے، تو وہ محمد ہی ہوں گے، کیوں کہ ان کے پاس تمام اختیارات تھے، لیکن ان تمام ذرائع و وسائل کے بغیر جن سے وہ اختیارات حاصل کئے جاتے ہیں اور باقی رکھے جاتے ہیں انھوں نے طاقت کے نمائش اور رکھ رکھاؤ کا کبھی خیال نہیں کیا۔ ان کی نجی زندگی کی سادگی ویسی ہی تھی جیسی ان کی عام مکہ فتح ہونے کے بعد ایک ملین مربع میل سے زیادہ زمین ان کے قدموں کے نیچے آگئی۔ پورے جزیرہ عرب کا حکمران ہونے کے باوجود وہ اپنے جوتے اور کھرد رے سے ادنی کپڑے خود ٹھیک کرتے تھے۔ بکریوں کو دوہتے تھے۔ زمین کو جھاڑو دیتے آگ جلاتے تھے اور خاندان کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے تھے۔ مدینہ کا پورا شہر ، جہاں آپ رہتے تھے، آپ کے آخری دنوں میں بہت مال دار ہو گیا تھا۔ ہر جگہ وہاں سیم و زر کی فراوانی تھی۔ لیکن خوش حالی کے ان دنوں میں بھی کئی کئی ہفتے اس طرح گزرتے تھے کہ جزیرہ عرب کے حکمراں کے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ ان کا سارا کھانا ان دنوں میں پانی اور کھجور ہوتی پورا خاندان بہت سی راتوں کو بھوکا سوتا تھا کیوں کہ شام کو انھیں کھانے کو کچھ بھی میسر نہ ہو سکا تھا۔ ایک لمبے مشغول دن کے بعد وہ کسی نرم بستر پر نہیں سوتے تھے، بلکہ کھجور کے پتے کی بنی ہوئی چٹائی پر ۔ راتوں کو وہ اکثر روروکر اپنے خالق سے دعا کرتے تھے کہ انھیں اپنے مشن کو پورا کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔ روایتوں میں آیا ہے کہ ان کی آواز رونے کی وجہ سے ایسی ہو جاتی تھی جیسے کہ کوئی پتیلی آگ پر ہو اور اس کا ابالنا شروع ہو گیا ہو۔ ان کی موت کے دن ان کا سارا اثاثہ چند سکے تھے، جس کا کچھ حصہ قرضہ ادا کرنے کے لئے دے دیا گیا اور باقی ایک غریب کو دے دیا گیا جوان کے گھر خیرات مانگنے آیا تھا۔
کیوں کہ اس کے پاس دیا جلانے کے لئے تیل نہیں تھا۔ حالات بدل گئے، لیکن اللہ کے پیغمبر نہیں بدلے۔ جیت میں اور ہار میں حکمرانی میں یا بدحالی میں، فراوانی میں یا محتاجی میں وہ ایک ہی آدمی تھے۔ ہر حال میں ان کا سلوک ایک ہی تھا۔ اللہ پاک کے طریقے اور قوانین ایک ہیں اسی طرح سے اللہ کے انبیاء بھی بدلنے والے نہیں ہوتے۔
ایک ضرب المثل میں کہا گیا ہے کہ امانت دار آدمی اللہ کی بہترین مخلوق ہے۔ محمد امانت دار سے بھی کچھ زیاوہ تھے ان کے پور پور میں انسانیت رچی بسی ہوئی تھی۔ انسانی ہمدردی ، انسان دوستی ان کی روح کی موسیقی تھی۔ ان کا مشن یہی تھا کہ انسان کی خدمت کی جائے۔ انسان کو بلند کیا جائے، پاک کیا جائے، تعلیم دی جائے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کو انسان بنایا جائے۔ یہی ان کی زندگی کا سارا مدعا تھا۔ ان کے خیالات، الفاظ اور اعمال سب کا مقصد انسانیت کی بہتری تھی۔ دکھا وا ان میں بالکل نہیں تھا اور وہ انتہائی حد تک بے غرض تھے، انھوں نے اپنے لئے کون سے ٹائٹل چنے ؟ صرف وہ : اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ پہلے بندہ پھر رسول۔ وہ اسی طرح پیغمبر تھے، جس طرح دوسرے بہت سے پیغمبر تھے جو دنیا کے مختلف حصوں میں آچکے ہیں، جن میں بعضوں کو ہم جانتے تھے اور بعض دوسرے ہمارے لئے نا معلوم ہیں۔ ان حقائق پر ایمان نہیں رکھتا ہے تو وہ مسلم نہیں باقی رہتا۔ اس بات پر ایمان ہر مسلم کے عقیدہ کا جزو ہے۔ مؤلف نے لکھا ہے: " ان کے زمانے کے حالات اور ان کے پیرؤوں کا آپ پر انتہائی حد تک اعتقاد کو دیکھتے ہوئے سب سے بڑی معجزانہ بات یہ ہے کہ محمد نے کبھی معجزات پر قادر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا محمد سے معجزے بھی ہوئے، لیکن ان کا مقصد اپنے دین کا پروپیگنڈہ کرنا نہ تھا بلکہ انھوں نے ان معجزات کو صرف اللہ سے اور اللہ کے فہم وادراک سے بالا طریقہ کار سے وہ صاف کہتے تھے کہ دوسروں کی طرح وہ بھی ایک عام آدمی ہیں۔ وہ زمین و آسمان کے خزانوں کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے، نہ ہی وہ غیب کو جاننے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ سب اس وقت ہوا جب معجزات کو عام بات سمجھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی بھی مقدس شخص چٹکیوں میں معجزات لاسکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جزیرہ عرب کے اندر اور باہر ہر جگہ مافوق الفطرت عقائد کی حکمرانی تھی۔ انھوں نے اپنے پیرؤوں کی توجہ فطرت اور فطری قوانین پر غور کرنے کے لئے دلائی، تاکہ وہ اللہ کی عظمت کو صحیح طرح سے سمجھ سکیں۔ قرآن کا کہتا ہے: آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ہم نے کھیل کے طور پر نہیں بنایا۔ ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ( دخان ۳۹- ۳۸ )
دنیا کوئی واہمہ نہیں ہے، نہ ہی دنیا بلا مقصد پیدا کی گئی ہے۔ دنیا برحق پیدا کی گئی ہے۔ قرآن کی وہ آیات جو فطرت کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتی ہیں وہ نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کے بارے میں حکم دینے والی آیات کی مجموعی تعداد سے بھی قرآن کے اثر کے تحت مسلمانوں نے فطرت کا عمیق مطالعہ شروع کیا، اور اسی وجہ سے سائنسی مطالعہ اور تجربہ کا دہ مزاج پیدا ہوا جو کہ یونانیوں کے یہاں معدوم تھا۔ جبکہ مسلم ماہر نباتات ابن بیطار نے (علم نباتات) پر ساری دنیا کے پودے جمع کرکے ایک ایسی کتاب لکھی جس کو میئر(Mayer) (Mayer) نے اپنی کتاب (Gesch der Botanika) میں "محنت کا مینار" بتایا ہے، (الرسائل، مارچ ۱۹۸۰
جب کہ البیرونی نے چالیس سال تک سفر کر کے معدنیات کے نمونے حاصل کئے، جبکہ مسلم علمائے فلکیات بارہ بارہ سال سے زیادہ کے مطالعہ کو مدون کر رہے تھے، ارسطو نے فرکس پر بغیر ایک بھی تجربہ کئے ہوئے قلم اٹھایا، طبی تاریخ پر اس نے اتنی لاپرواہی سے لکھا کہ کہ اس نے اس بات کی بھی ضرورت نہیں سمجھی کہ ”انسان کے دانت جانور سے زیادہ ہوتے ہیں،“ کا دعویٰ کرنے سے پہلے اس کی تصدیق بھی کر لیتا۔ جو کتنا آسان کام تھا۔ جالینوس نے، جس کو قدیم علم تشریح کا سب سے بڑا استاد سمجھا جاتا ہے، لکھا ہے کہ نچلا جبڑا دو ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بات کو صدیوں تک تسلیم کیا جاتا رہا یہاں تک کہ عبد اللطیف نے انسانیت ڈھانچہ کا مطالعہ کیا۔ اس قسم کے بہت سے واقعات بیان کرنے کے بعد رابرٹ بریفالٹ نے (The Making of History) میں لکھا ہے: ”ہماری سائنس عربوں کی صرف اس حد تک مقروض نہیں ہے کہ انھوں نے حیرت انگیز دریافتیں کیں یا انقلابی نظریات کی بنیاد ڈالی۔ ہماری سائنس عرب تہذیب کی اس سے کہیں زیادہ مقروض ہے: وہ خود اپنے وجود کے لئے عرب تہذیب کی مقروض ہے۔ “ اسی مؤلف نے مزید لکھا ہے: ”یونانیوں نے نظاموں کی بنیاد رکھی، عمومیات کا رواج نظریات بنائے، لیکن تلاش کے صبر آزما طریقے، ایجابی معلومات کا جمع ہونا، سائنس کے دقیق طریقے، مفصل اور طویل تجربات تجرباتی یہ سب چیزیں یونانی مزاج کے لئے اجنبی تھیں۔ جس چیز کو ہم یورپ میں سائنس کہتے ہیں، وہ تلاش کے نئے طریقوں، تجربات، مطالعہ، وزن کرنے اور ریاضیات کی ترقی کی وجہ سے وجود میں آئی ہے اور یہ بطور طریقے یونانیوں کو معلوم نہ تھے۔ ... عربوں نے اس مزاج اور بطور طریقوں کو یورپ میں روشناس کرایا۔ پیغمبر محمدؐ کی تعلیمات کی عملی نوعیت نے ہی سائنسی اسپرٹ کو جنم دیا۔ ان کی تعلیمات نے روزمرہ کی محنت اور دنیاوی امور کو احترام و تقدس عطا کیا۔ قرآن کا کہنا ہے کہ اللہ نے انسان کو عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہاں عبادت کا اپنا خاص مفہوم ہے۔ اسلام میں اللہ کی عبادت صرف نماز تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہر وہ کام جو اللہ کی خوشنودی اور انسانی کی بھلائی کے لئے کیا جائے وہ بھی عبادت ہی کا جزرا ہے۔ زندگی کے تمام معاملات اسلام کی نظر میں تقدس کے حامل ہیں بشرطیکہ ان کو امانت داری، انصاف اور خالص نیت سے کیا جائے۔ اسلام نے ”دینی“ اور ”غیر دینی“ معاملات کی حد بندی کا خاتمہ کر دیا۔ قرآن کا کہنا ہے کہ اگر تم پاک دٹھا رکھو اگر اللہ کا شکر ادا کرو تو یہ بھی ایک عبادت ہے ۔ پیغمبر اسلام کا کہنا ہے کہ اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنا بھی ایک نیکی ہے جس کا بدلہ اللہ عطا کریں گے۔ پیغمبر کے ایک قول میں آیا ہے کہ ”اگر کوئی اپنی دل کی خواہش کو بھی پورا کرے تو اللہ پاک اس کو اجر دے گا بشرطیکہ اس کو حاصل کرنے کے طریقے جائز رہے ہوں“ یہ سن کر ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول ایسا کر کے وہ انسان صرف اپنے دل کی خواہش کو پورا کر رہا ہے ۔ پیغمبر نے فوراََ جواب دیا: ”اگر وہ اپنی خواہش پورا کرنے کے لئے کوئی غلط طریقہ اپناتا تو اس کو سزا ملتی۔ تو صحیح طریقہ اپنانے کی وجہ سے اسے انعام کیوں نہیں ملے گا۔ دین کو پوری طرح سے زندگی کو بہتر بنانے کے لئے وقف ہونا چاہئے نہ کہ وہ صرف چند دنیوی زندگی سے ماورا امور سے متعلق ہو۔ دین کے اس نئے تصور نے نئی اخلاقی قدروں کو جنم دیا۔ راما کرشنا راؤ) (رسال تاریخ ۱۹۰۰ء)
بسم الله الرحمن الرحيم سمندر میں برف کے بہت بڑے بڑے تو دے ہوتے ہیں جن کو آئس برگ کہا جاتا ہے۔ برفانی پہاڑوں کا دس میں سے نو حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور صرف ایک حصہ پانی کے اوپر دکھائی ایسی ہی کچھ مثال انسانی زندگی کی ہے۔ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے دائمی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ اور پھر اس کی زندگی کے نہایت مختصر حصہ ـــ تقریباً سو سال ـــ کو موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ تمام عمر کو آخرت کی دنیا میں ڈال دیا۔ موت وہ دروازہ ہے جس سے ہم اپنی موجودہ مدت حیات پوری کرنے کے بعد دوسری دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔
یہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انسان کی کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ آخرت رنی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کو اپنی زندگی اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے وسائل اور اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرے جو اس کی زندگی کے اگلے مرحلے کو بہتر بنانے والا ہو۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کے تمام کارنامے اسی دنیا میں رہ جائیں گے اور موت کے بعد دوسری دنیا میں وہ اس حال میں پہنچے گا کہ آخرت کی طویل تر زندگی میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہوگا۔ یہی وہ نازک مسئلہ ہے جس سے انسان کو باخبر کرنے کے لیے خدا نے پیغمبروں کا سلسلہ جاری کیا۔ ہر دور میں خدا کے نمائندے آئے اور آسمانی کتب ہیں اتاری گئیں تاکہ موت کے دروازے میں داخل ہونے سے پہلے انسان کو بتا دیا جائے کہ اس کو بالاخر کہاں جانا ہے، اور اپنی مستقل کامیابی کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے۔ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ تاہم جہاں تک پیغمبرانہ کام کا تعلق ہے، اس کی ضرورت بدستور باقی ہے ۔ آج بھی یہ مطلوب ہے کہ خدا کے بندوں کو اس اہم ترین حقیقت سے باخبر کیا جائے تاکہ آخرت میں خدا کے اوپر کسی کی حجت باقی نہ
خدا کے اس پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے ۔ مسلمہ اس کی ذمہ دار ہے ۔ خاتم النبیین کی امت کا اصل مشن دنیا میں یہی ہے کہ وہ اس پیغمبرانہ ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اٹھے ۔ یہ اس کا ایسا ناگریز فریضہ ہے جس سے غفلت کسی حال میں معاف نہیں ہو سکتی اسلامی مرکز کا قیام اس لئے عمل میں آیا ہے کہ امت مسلمہ کو اس کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرے اور تمام ممکن ذرائع سے حق کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ یہ ایک باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ادارہ ہے اور ہمارا رسالہ اسی کے آرگن کے طور پر جاری کیا گیا ہے ۔ اسلامی مرکز کے پرو گرام کو چلانے کے لئے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ اسلامی مرکز کا مقصد پیغمبرانہ مشن کو زندہ کرنا ہے اس کے ساتھ تعاون کرنا پیغمبرانہ مشن کے ساتھ تعاون کرنا ہے ۔