Al-Risala · January 1980

اسلام کا طریقہ

Al-Risala, January 1980, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً (نساء - ۱۰۰) جو کوئی وطن چھوڑے اللہ کی راہ میں ، وہ پائے گا اس کے مقابلہ میں جگہ بہت اور کشائش ۔ گویا جھگڑے کے مقام پر کٹ مرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ جب جھگڑے کی صورت پیدا ہو تو مقام عمل کو تبدیل کردو ۔ کوئی شخص انسانی خیر خواہی اور اعتماد علی اللہ کے جذبہ سے جب ایسا اقدام کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ خدا کی زمین بہت وسیع "مقام ہجرت " پر اس سے زیادہ بڑے مواقع اس کا انتظار کر رہے تھے جو مقام وطن پر اس کے لئے یا ہو سکتے تھے مومن اور غیر مومن کا فرق مومن وہ ہے جو غلطی کرکے پلٹ آئے۔ جو غصہ ہونے کے بعد معاف کر دے۔ عزت کا سوال جس کا اعتراف سے روکنے والا ثابت نہ ہو۔ اس کے برعکس جس کا حال یہ ہو کہ وہ غلطیوں میں پیشار ہے۔ کسی سے ایک بار غلطی ہو جائے تو اس کو معاف کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ جو کسی حال میں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف نہ کرے ۔ وہ اللہ کی نظر میں مومن نہیں ہے، خواہ دنیا میں اس نے ایمان و اسلام کے کتنے ہی تمغے اپنے اوپر لگا ر کھے ہوں ۔ یہ بات آج خواہ کتنی ہی چھپی ہوئی ہو۔ آخرت کے دن وہ اس طرح کھل جائے گی کہ اندھے بھی اس کو دیکھیں اور پتھر بھی اس کو جان لیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا چاہے تو اس کو اپنی غلطی کی تاویل کے لئے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں ، کوئی شخص دنیوی رونق اور مقبولیت حاصل کرے تو اس کی رونق اور مقبولیت وہ پردہ بن جاتی ہے جس میں اس کی ہر نالائقی چھپ جاتی مگر آخرت میں اس قسم کی کوئی چیز آدمی کے کام نہ آئے گی ۔

بڑے سفر کی ایک علامت بن گئی ہے جو نشانیوں سے بھری ہوئی ایک دنیا میں انسان طے کر رہا ہے۔ مگر جس طرح ٹرین کے مسافر اطراف کے مناظر سے بے خبر ہو کر اپنی ذاتی دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں، اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی بکھری ہوئی نشانیوں پر غور کرے۔

سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے وہ کوئی پیغام سنانا مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے غروب ہو جاتا ہے۔ درخت اپنی ہری بھری شاخیں نکالتے ہیں، دریا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔ یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ مگر انسان ان کے پاس سے گزر جاتا ہے۔ بغیر اس کے کہ ان کا کوئی قول اس کے کان میں پڑا ہو۔ آسمان کی بلندیاں، زمین کی رعنائیاں سب ایک عظیم "اجتماع" کے شرکا ر معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہوا ہے۔ وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔

یہ عظیم کائنات کیا گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اور اس کو وہ ابدی زبان میں نشر کر رہا ہے۔ مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ اس کو کائنات کا خاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔ ایک سفر میں ہم ایک درمیانی اسٹیشن پر نماز پڑھنے کے لئے اترے۔ کے آدمیوں سے پوچھا کہ "پچھم کس طرف ہے"۔ مگر کسی کے پاس اس سادہ سے سوال کا جواب نہ تھا۔ میں نے سوچا "سورج ایک روشن ترین حقیقت کی حیثیت سے روزانہ ان کے اوپر نکلتا ہے اور ڈوبتا ہے۔ مگر لوگ اپنے آپ میں اتنا گم ہیں کہ ان کو مشرق و مغرب کا پتہ نہیں۔ پھر وہ لطیف پیغام جو سورج اور اس کے کائنات ساتھی اپنی خاموش زبان میں نشر کر رہے ہیں ان سے کیسے کوئی باخبر ہو سکتا ہے۔

ہماری ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی۔ میں باہر آکر پلیٹ فارم پر کھڑا ہو گیا۔ سورج ابھی ابھی غروب ہوا تھا۔ ہرے بھرے درخت، ان کے پیچھے سرخی ملی ہوئی روشنی اور اس کے اوپر پھیلے ہوئے بادل، عجیب آفاقی حسن کا منظر پیدا کر رہے تھے۔ "ان میں حسن ان کی بلندی نے پیدا کیا ہے" میں نے سوچا "مگر انسان اس بلندی تک جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ اس سطح پر نہیں جیتا جس سطح پر درخت جی رہے ہیں، وہ وہاں بسیرا نہیں لیتا جہاں روشنی اور بادل بسیرا لئے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس وہ سطحی مفادات میں جیتا ہے۔ وہ جھوٹی دوستی اور جھوٹی دشمنی میں سانس لیتا ہے۔ کائنات کا ہم سفر بننے کے بجائے اپنے آپ کو وہ اپنی ذات کے خول میں بند ایک ایسی دنیا جو ہر لحظہ اس کا انتظار کر رہی ہے، وہ اسے آپ کو دو ز رخ کے ماحول میں ڈال

مگر عین اس زمانہ میں بھی ایک اعلیٰ انتظامی افسر اس کی فہرست سے مستثنیٰ تھا۔ یہ سید صدیق حسن آئی سی ایس (وفات ۱۹۶۳) تھے۔ صدیق حسن صاحب اس زمانہ میں فتح گڑھ میں جوائنٹ مجسٹریٹ تھے۔ سکھوا ڈا کو کے خلاف پولیس کی مہم انھیں کی ماتحتی میں چلائی گئی۔ مہینوں کی جدوجہد کے بعد سکھوا ڈاکو گرفتار ہوا اور صدیق حسن صاحب نے اس کے مقدمہ کی سماعت کر کے اس کو سزا کا حکم سنایا۔ مگر عین اس زمانہ میں جب کہ صدیق حسن صاحب سکھوا ڈا کو کے خلاف مہم کی قیادت کر رہے تھے، سکھوا ڈاکو نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ گرفتاری کے بعد اس نے بتایا کہ وہ اکثر رات کو صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر آتا تھا۔ مگر ان کی شرافت کا خیال کر کے کبھی ان پر گولی نہیں چلائی۔ سید صدیق حسن صاحب کی وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے ایک ڈاکو بھی ان کی تعریف اور عزت کرتا تھا۔ اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے جو خود سکھوا ڈاکو نے بتایا۔ اس نے کہا کہ ایک بار پولیس والے اس کو گرفتار کر کے سید صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر لائے۔ یہ سردی کا زمانہ تھا۔ سکھوا نے صدیق حسن صاحب سے کہا : "جنٹ صاحب آپ کا سکھوا سردی کھا رہا ہے"۔ یہ سن کر صدیق حسن صاحب فوراً اندر گئے۔ اپنی نئی ریشمی قمیص اور کمبل لائے اور اس کو قتا کو کے حوالے کرتے ہوئے کہا: "لو اس کو استعمال کرو۔ یہ تمہارے لئے ہے (۱۷می ۱۹۴۸) کوئی شخص خواہ کتنا ہی نہتا ہو اس کے پاس ایک ایسا ہتھیار موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنے حریف کو جیت یہ اخلاق کا ہتھیار ہے۔ ایک حکیم صاحب تھے۔ وہ شہر میں مطب کرتے تھے اور ہفتہ میں ایک دن اپنے گاؤں آیا ان سے ان کے گاؤں کے بعض لوگوں کو دشمنی ہوگئی۔ انھوں نے ایک آدمی کو چند سور وپے دے کر کہا کہ رات کو جب حکیم صاحب واپس آرہے ہوں تو ان کو پکڑ کر مار ڈالو۔ غریب آدمی روپے کے لالچ میں تیار ہوگیا اور گاؤں کے باہر پل کے پاس چھپ کر بیٹھ گیا۔ حکیم صاحب پل کے پاس پہنچے تو وہ جھپٹ کر سامنے آگیا۔ حکیم صاحب اس کو دیکھتے ہی پہچان گئے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ وہ ان کو مارڈالنا چاہتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ذرا ٹھہرو۔ اس کے بعد انھوں نے کہا "کیا تم کو وہ دن یاد نہیں جب تم اپنے چھوٹے بچے کو ٹوکرے میں رکھ کر میرے پاس لائے تھے۔ بیماری نے اس کا برا حال کر دیا تھا اور تمہارے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میں نے تمہارے لڑکے کا مفت علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا۔ کیا میرے اس احسان کا بدلہ وہی ہے جو تم اب میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو۔ یہ سنتے ہی آدمی نے اپنی لاٹھی پھینک دی اور حکیم صاحب کے پاؤں پر گر پڑا۔ اس نے کہا: " آپ نے سچ کہا۔ میں روپے کے لالچ میں آپ کو مارنے کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ مگر اب میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ آپ مجھے معاف کردیں : ایک جانور کو کسی قسم کی اخلاقی دلیل حملے کرنے سے روک نہیں سکتی۔ مگر انسان کو جیتنے کے لئے ایک اخلاقی دلیل بھی کافی ہے بشرطیکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک اخلاقی دلیل ہو نہ کہ محض الفاظ کا ایک مجموعہ۔

Printed page