Al-Risala · April 1980

زبان والے بے زبان ہو جائیں گے

Al-Risala, April 1980, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی کی بعض سڑکوں پر سواریوں کو کنٹرول کرنے کا نیا نظام قائم کیا گیا ہے۔ یہاں سڑک کے اوپر شیل یوزردن کیمرے نصب ہیں جو آنے جانے والی سواریوں کا مسلسل فوٹو لیتے وہتے ہیں۔ یہ فوٹو مشینی انتظام کے ذریعہ ایک علیحدہ کمرہ (کنٹرول روم) میں پہنچتے ہیں جہاں ایک سرکاری انسپکٹر لوگوں کی نظروں سے دور بیٹھا ہوا ان کی تمام حرکات کو اسکرین پر دیکھتا رہتا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آپ کسی منظر سے دور رہتے ہوئے اس کو اپنے گھر کے ٹیلی وزن سیٹ پر دیکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سڑک پر لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے ہیں۔ کمرہ میں بیٹھا ہوا آدمی جب کسی مسافر کو غلط چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو فورا وہ لاؤڈ اسپیکر پر اس کو تنبیہ کرتا ہے۔ مسافر بولنے والے کی آواز سنتا ہے، اگر چہ وہ بولنے والے کو نہیں دیکھتا۔

ایک روز ایسا ہوا کہ ایک ڈرائیورر جو تین پہیہ والا اسکوٹر رکشا چلا رہا تھا، اس نے اپنا اسکوٹر ایک ایسے مقام پر کھڑا کیا جہاں گاڑی کھڑی کرنا منع تھا۔ انسپکٹر نے اپنے کمرے کی اسکرین پر اس کو دیکھا اور فورا لاؤڈ اسپیکر پر بولتے ہوئے چیتاؤنی دی کہ تم نے اپنا اسکوٹر ممنوع مقام پر کھڑا کر دیا ہے، فوراً وہاں سے ہٹ جاؤ۔ اسکوٹر ڈرائیور کے کان تک آواز پہنچی مگر اس نے اس کی پروا کیوں کہ آس پاس اس کو پولیس کی وردی پہنے ہوئے کوئی شخص دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مذکورہ مشینی نظام چوں کہ ابھی حال میں نصب کیا گیا ہے، اس لئے ڈرائیور کو اس کی خبر نہ تھی۔ اعلان کے الفاظ فضا میں گونج رہے تھے مگر اس نے سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی بھی کوشش نہ کی۔ دوسری طرف انسپکٹر اس کی حرکات کو برابر اپنی اسکرین پر دیکھ رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ ڈرائیو اس کی ہدایت کو نظر انداز کر رہا ہے تو اس نے اپنے پاس سے ایک سپاہی کو بھیجا کہ ڈرائیور کو پکڑو اور اس کا نمبر دیکھ کر اس کا چالان سپاہی جب ڈرائیور کے پاس پہنچا تو اس نے اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دیا، اس نے کہا کہ میں نے اپنا اسکوٹر یہاں کھڑا نہیں کیا۔ میں تو سواری اتارنے کے لئے صرف ایک منٹ رکھا تھا اور اب اپنے راستہ پر آگے جارہا ہوں ۔

اس کے بعد سپاہی اس کو انسپکٹر کے پاس کنٹرول روم میں لے گیا۔ انسپکٹر کے سامنے بھی ڈرائیور نے وہی بات کہی جو اس نے سپاہی سے کہی تھی ۔ انسپکٹر نے جب دیکھا کہ ڈرائیور اپنے جرم کا اقرار نہیں کر رہا ہے تو اس نے اپنی مشین کو پیچھے کی طرف گھمایا اور ڈرائیو کی فلم اس کے سامنے چلا دی۔ اچانک اسکرین پر ڈرائیور اور اس کا اسکوٹر دکھائی دینے لگا۔ اب ڈرائیور مشین کے سامنے کھڑا ہوا اپنی تمام سابقہ حرکات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ رہ اپنا اسکوٹر چلاتے ہوئے آیا۔ پھر اس کو نظر آیا کہ وہ اپنا اسکوٹر اس مقام پر کھڑا کر رہا ہے جہاں گاڑی کھڑا کرنا منع تھا۔ اس کے بعد وہ اسکوٹر سے باہر آیا اور دیر تک بے فکری کے ساتھ ادھر ادھر گھومتا رہا۔ وہ اطمینان کے ساتھ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ انسپکٹر کا بھیجا ہوا سپاہی اس کے پاس اب اس نے جلدی سے اپنا اسکوٹر اسٹارٹ کر دیا اور ظاہر کیا کہ وہ تو راہ چلتے ہوئے ایک منٹ کے واسطے یہاں رکا تھا اور اب آگے جارہا ہے۔ یہ ساری کہانی متحرک تصویروں کی صورت میں ڈرائیور نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ اس سے پہلے ڈرائیور نے انسپکٹر کی باتوں کا انکار کر دیا تھا۔ اس کے پاس اپنی براءت ظاہر کرنے کے لئے بے شمار الفاظ تھے۔ مگر اسکرین نے جب اس کے ماضی کی پوری داستان اس کے سامنے ہو بہو دہرادی تو اچانک اس کی زبان بند ہوگئی۔ اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہوگیا۔ اس منظر کو دیکھ کر اس کا ایسا حال ہوا الرسائل اپریل - ۱۹۰۰

جیسے وہ گونگا ہو گیا ہے اور اب اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ نبھیں ہے۔ اس کا جرم اتنا زیادہ ثابت ہو چکا تھا کہ اب اس کو یہ کہنے کی ضرورت جی نہ تھی کہ میں مجرم ہوں۔ وہ خاموش تھا مگر اس کی خاموشی ہر گفتگو سے زیادہ یقینی صورت میں اس کے جرم کا اقرار بن گئی تھی (ہندوستان ٹائمس ۲۰ فروری ۱۹۸۰)

قرآن میں ارشاد ہوا ہے، کہ وہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تب تم اس کو پہچان لوگے جس کی تھیں خبر دی جا رہی ہے رسید حکیم آیاتہ ققص فونھا، نقل مذکورہ بالا قسم کے واقعات جو موجودہ زمانہ میں پیش آرہے ہیں وہ شاید اسی پیشین گوئی کی تصدیق ہیں۔ اللہ کی طرف سے پکارنے والے لوگوں کو آخرت کی چیتاونی دے رہے ہیں۔ خدائی آواز پر توجہ نہیں دیتا۔ وہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے دلائل کا انبار لگا رہا ہے۔ داعئِ حق کے پیغام کو رد کر کے بھی موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو محفوظ اور مطمئن محسوس کر رہا ہے ۔ یہ دائمی حق کو ماننا اور اس کا ساتھ دینا اس کو ایسا کام نظر آتا ہے جس کی اسے کوئی ضرورت نہ ہو۔ مگر اس کی پوری زندگی حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادے بھی خدا کے چھپے ہوئے انتظام کے تحت ریکارڈ کئے جا رہے ہیں قیامت جب آئے گی تو آدمی کے سامنے اس کی سابقہ زندگی کی یہ فلم اس طرح دہرا دی جائے گی کہ وہ اپنی سوچ، اپنا قول اور اپنا عمل سب کچھ آنکھوں سے دیکھے گا اور کانوں سے سنے گا۔ اس وقت انسان کا جو حال ہو گا اس کا ایک معمولی نقشہ مذکورہ اسکوٹر ڈرائیور کے انجام میں نظر آرہا ہے۔ آدمی اس وقت اتنا بد حواس ہو گا کہ وہ اپنے الفاظ بھول جائے گا۔ اس کے دلائل اس وقت بالکل بے معنی معلوم ہوں گے۔ اس کا انکار اس وقت ایک ایسی چیز کا انکار بن جائے گا جو ساری کائنات میں اسی طرح معلوم اور ثابت شدہ بن چکا ہو جیسے ہمارے سروں پر چمکنے والے سورج اور چاند۔

قیامت میں اس کی زندگی کی یہ فلم ہر آدمی کو بتا دے گی کہ جب وہ زبان سے حق کا انکار کر ظاہر اس وقت بھی اس کا دل حق کے دلائل کا وزن پوری طرح محسوس کر رہا تھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ اسٹیج پر اچھی اچھی تقریریں کرنے کے بعد جب وہ اپنے ماحول میں لوٹتا تھا تو وہ خود اپنے بولے ہوئے الفاظ کے خلاف عمل کرتا تھا۔ اس دن وہ دیکھے گا کہ وہ بظاہر ظلم کو مٹانے اور حق کو قائم کرنے کا نعرہ لگاتا تھا مگر اس کی ان کوششوں کی حقیقت ایک قیادت کی ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی ۔ وہ اپنے کو حق کا حامی ظاہر کرتا تھا مگر وہ خدا کے اس بندے کا ساتھ دینے کے لئے نہ اٹھا جس کو خدا نے اس کے سامنے حق کا پیغام لے کر بھیجا تھا، اس دن آدمی دیکھے گا کہ کس طرح وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف دے کر قہقہے لگاتا تھا ۔ وہ کمزور کا آشیانہ اجاڑتا تھا اور طاقت ور کا استقبال کرتا تھا۔ وہ بظاہر دین اور اسلام کا نام لیتا تھا مگر جب ذاتی فائدوں اور مصلحتوں کا معاملہ آتا تھا تو اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے سوا ہر چیز کو نظر انداز کر دیتا تھا۔ وہ بظاہر اخلاق اور دین داری کی بات کرتا تھا مگر اس کا وہ دین جس پر وہ حقیقۃ قائم تھا وہ صرف خود غرضی ، تعصب ، حسد ، انتقام اور اپنے مقابلہ میں دوسرے کو چھوٹا ثابت کرنے کا جذبہ تھا۔ وہ حق کا علم بردار بنتا تھا مگر جب حق کے اعتراف کا وقت آیا تو صرف اس لئے حق کے اعتراف سے رک گیا کہ ایسا کرنے سے اس کا یا اس کی محبوب شخصیتوں کا وقار مجروح ہو جائے گا۔ وہ خدا کے قانون کے نفاذ کا نعرہ لگاتا تھا مگر جب اس کو اختیار ملاتو وہ خود ساختہ قانون چلانے لگا اور خدا کے اذن کے بغیر لوگوں کے جان اور مال اور آبرو کو اپنے لئے جائز کر لیا۔ وہ اپنی آنکھوں سے عیاناً دیکھے گا کہ وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر ہی رہا تھا مگر جھوٹے الفاظ بول کرتا تھا کرتا تھا کہ وہ خدا اور آخرت کی سطح پر جی رہا ہے۔

Printed page