جنت اور جہنم
Al-Risala, April 1980, pp. 10–13
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت میں آدمی کو جو بدلہ دیا جائے گا وہ دنیا میں اس کے عمل ہی کا اخروی پہلو ہوگا۔ اس لئے عمل اور بدلہ دونوں ایک دوسرے کے انتہائی مطابق ہوں گے۔ ایک شخص سونا جمع کئے ہوئے ہے اور اللہ کا حصہ اللہ کے راستہ میں نہیں دیتا تو وہ سونا گویا آگ کا انگارہ ہے۔ موت کے بعد یہ سونا آگ کی صورت اختیار کر کے آدمی کے ساتھ چپک جائے گا (توبہ) حدیث میں اس قسم کی بہت سی مثالیں دی گئی ہیں کہ آدمی کا عمل اور اس کے اخروی نتائج کس طرح ایک دوسرے کے مطابق ہوں گے۔ معراج کے سفر سے متعلق جو روایات ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آسمانی سفر میں آپ کو جو چیزیں دکھائی گئیں ان میں وہ عالم مثال بھی تھا جہاں انسان کے دنیوی اعمال اپنی اخروی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ایک طرف آپ کو اچھے اعمال کی اخروی صورتیں مثلاً ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں۔ وہ جتنی کھیتی کاٹتے ہیں اتنی ہی ان کی کھیتی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتہ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح آپ کو تفصیل کے ساتھ برے اعمال کی اخروی صورتیں بھی دکھائی گئیں۔
آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے سر پتھروں سے کچلے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگرانی ان کو نماز کے لئے اٹھنے نہ دیتی تھی۔ اسی طرح آپ نے کچھ لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں بہت سے پیوند لگاے ہوئے تھے اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ پھر آپ نے ایک شخص کو دیکھا۔ وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ گٹھا اس سے نہیں اٹھتا تو وہ اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھا لیتا ہے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جس پر ذمہ داریوں اور امانتوں کا اتنا بوجھ تھا کہ وہ اٹھا سکتا تھا مگر وہ ان کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے اوپر ڈال لیتا تھا۔ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ مقرر ہیں جو بے روک ٹوک زبان چلاتے تھے اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کہہ کر فتنہ برپا کرتے تھے۔ ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ ایک پتھر میں چھوٹا سا سوراخ ہوا اور اس میں سے ایک بڑا سا بیل نکل آیا۔ اس کے بعد وہ بیل دوبارہ اسی سوراخ میں جانے کی کوشش کرنے لگ مگر کوشش کے باوجود وہ دوبارہ اس کے اندر نہ جاسکا۔ آپ نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ اس آدمی کی مثال ہے جو بے پروائی کے ساتھ ایک فتنہ کی بات کہہ دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کے برے نتائج دیکھ کر اس کو واپس لینا چاہتا ہے مگر واپس نہیں لے سکتا۔ اسی طرح ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو خود اپنے جسم کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھارہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دوسرے بھائیوں پر طعن و تشنیع کرتے تھے۔ کچھ اور لوگوں کو آپ نے دیکھا۔ ان کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اس سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیچھے ان کی برائیاں کرتے تھے اور ان کی عزت و آبر وپر حملے کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کو آپ نے دیکھا۔ ان کے ہونٹ اونٹوں سے ملتے جلتے تھے اور وہ آگ کھارہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال دنیا میں کھاتے پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بہت بڑے ہیں اور وہ سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے
ہوئے گزرجاتے ہیں مگر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے لوگ ہیں۔ کچھ لوگ دکھائی دئے جن کے ایک جانب اچھا گوشت رکھا ہوا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت جس سے سخت بدبو آرہی تھی۔ اچھے گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھارہے تھے ۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہوں نے جائز بیویوں اور شوہروں کو چھوڑ کر حرام سے اپنی خواہش پوری کی۔
جنت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن میں جنت کو عطاء متشابہ کہا گیا ہے ، یعنی ایسا انعامات جو آدمی کے عمل سے ملتا جلتا ہو، ارشاد ہوا ہے کہ جنت میں جب کوئی پھل انہیں کھانے کے لئے دیا جائے گا تو اہل جنت کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے ہم کو دنیا میں دئے گئے تھے اور ان کو دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے پھل دئے جائیں گے (بقرہ ۲۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے انعام دنیا کے عمل کے عین مطابق ومماثل ہوں گے۔ دنیا میں کسی بنوہ خدا کو جس عمل کی توفیق ملی ہوگی اسی سے ملتا جلتا بدلہ جنت میں اس کے حصہ میں آئے گا۔
دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کسی صورت حال میں کس قسم کا جواب دیتا ہے۔ پتھر کے ساتھ کوئی صورت حال پیش آئے تو وہ اس کے جواب میں کوئی رویہ پیش نہیں کرتا۔ مگر انسان ایک احساس اور شعور رکھنے والی مخلوق ہے۔ کے ساتھ جب کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو وہ اس کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔ وہ اس کے جواب میں اپنے ہاتھ یا زبان سے کوئی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ ہر ایسے موقع پر خدا یہ دیکھتا ہے کہ آدمی نے اپنے فکر وعمل کی آزادی کو کس رخ پر استعمال کیا۔ اس نے گالی کے جواب میں گالی دی یا گالی کے جواب میں اس کی زبان سے دعائیں نکلیں۔ ہر صورت حال جو دنیا میں آدمی کے ساتھ پیش آتی ہے اس کے جواب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جہنمی جواب ، دوسرا جنتی جواب۔ وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے اور جنتی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک جواب دہ ہے جو شیطانی اخلاقیات کے مطابق ہو ، ایسے لوگ جہنم کے مستحق قرار پائیں گے۔ دوسرا جواب وہ ہے جو خدائی اخلاقیات کے مطابق ہو، ایسے لوگ جنت کے لطیف ماحول میں بسائے جائیں گے۔
شیطانی اخلاقیات یہ ہے کہ جب کوئی نا خوش گوار صورت حال پیش آئے تو آدمی بے خوف ہو کر جوابی کارروائی کرنے لگے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دے اور غصے کے مقابلہ میں غصہ کا تحفہ پیش کرے۔ اس کے برعکس خدائی اخلاقیات یہ ہے کہ آدمی اللہ سے وہ وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچے اور نفرت اور محبت کی نفسیات سے بلند ہو کر معاملہ کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں ، جو مجھے کو محروم کرے میں اس کو دوں، جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں (وان اصل من قطعني واعطی من حرمتی واعفو من ظلمنی) اس طرح کے مختلف احکام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے سلوک سے بالاتر ہو کر ان کے ساتھ معاملہ کرے ۔ وہ منفی نفسیات کے مواقع پر مثبت نفسیات ظاہر کرے ۔ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ نا خوش گوار واقعات پیش آتے ہیں اور آدمی کے اندر مخالفانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مومن کو یہ کرنا ہے کہ مخالفانہ جذبات کو اندر ہی اندر دبا لے اور تلخی کے باوجود دوسروں کے ساتھ مثبت جذبات کے ساتھ پیش آئے۔
جنت ایک نہایت لطیف اور پاکییزہ مقام ہے، جو اللہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اپنے نیک بندوں کے لئے نہائے گا : عن جابر قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ان اهل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے لوگ کھائیں گے الجنة ياكلون فيها يشربون ولا يتفلون ولا يبولون اور نہیں گے مگر وہ نہ تھوکیں گے اور نہ پیشاب کریں گے اور نہ ولا يتغوطون ولا يمتخطون ۔ قالوا فما بال الطعام پاخانہ کریں گے۔ لوگوں نے پوچھا پھر کھانے کا کیا ہوگا۔ قال حشاء درشح کوشیح المسک يلهمون التسبيح د ڈکار اور پسینہ نکلے گا جو مشک کی طرح خوشبودار ہوگا۔ ان کو حمد والتحميد كما تلهمون النفس، (مسلم) اور تسبیح اسی طرح الہام کی جائے گی جس طرح تم سانس لیتے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہے جہاں میل اور کثافت بھی خوشبو کی صورت میں خارج ہوتی ہے، پھر ایسی دنیا میں وہ لوگ کیوں کر داخل ہوں گے جو اپنی کثافت کو صرف کثافت کی صورت میں خارج کرنا جانتے ہوں۔ بغض، نفرت ، حسد، انتقام اور کبر و ظلم یہ سب انسان کی نفسیات کا میل کچیل ہے۔ جو لوگ اپنے میل کچیل کو صرف میل کچیل کی صورت میں ظاہر کرنا جانتے ہوں وہ جنت میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ جنت خدا کے ان بندوں کی کالونی ہے جو اپنے اندر کے میل کو بھی پاک کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ جنت میں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو نفرت کے مواقع پر محبت کریں۔ جو انتقام کے مواقع پر معاف جو حسد اور بغض کے مواقع پر خیر خواہی کا ثبوت دیں۔ جو کبر کے مواقع پر خاکساری دکھائیں اور ظلم کے مواقع پر انصاف کا رویہ یہ گویا اپنے میل اور کثافت کو خوشبو کی صورت میں ظاہر کرنا ہے ، انھیں خصوصیات والے لوگ جنت کی کالونیوں میں بسائے جائیں گے۔
دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو نا خوش گوار صورت حال سے سابقہ پیش آئے۔ یہ موجودہ دنیا کے دارالامتحان ہونے کا تقاضا ہے۔ ان ناخوش گوار مواقع پر جو شخص مثبت ردعمل کا اظہار کرے گا وہ جنت کا مستحق بنا اور جو منفی جذبات کا شکار ہو جائے اس نے اگلی زندگی میں اپنے لئے جنت کا استحقاق کھو دیا۔ جنت کی فضاؤں میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہوں بلکہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ کسی سے ان کو تکلیف پہنچے تو اس کے حق میں دعائیں دیں۔ کسی سے معاملہ پڑے تو انصاف کے مطابق اس کے حقوق ادا کریں۔ کوئی تنقید کرے تو اس کو برا مانے بغیر ٹھنڈے دل سے سنیں، کسی سے خواہ کتنی ہی شکایت ہو اس کے بارے میں عدل کا رویہ نہ چھوڑیں۔ جب بھی کسی سے معاملہ پڑے تو دوسرے شخص کو ان سے بہتر سلوک کا تجربہ ہو۔ حتی کہ دوسروں کے ناخوش گوار رویہ سے اپنے سینہ میں اگر نفرت و عداوت کے جذبات پیدا ہوں تب بھی اس کو پی جائیں اور اپنے مخالفانہ جذبہ کو خیر خواہی اور انصاف کی صورت میں ظاہر کریں۔ وہ دنیا کی زندگی میں خدا کا ایسا پھول بن جائیں جو اپنی کثافت کو بھی خوشبو کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ایسی پاک زندگی گزارنے کی توفیق ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کو اس طرح یاد کرنے لگیں جس طرح کوئی آدمی سانس لیتا ہے۔ وہ اللہ کو اس طرح پالیں کہ وہ ان کی روح کے اندر وہ ان کی دل کی دھڑکنوں میں شامل ہو جائے ۔ وہ اللہ کے خوف و محبت میں بنا اٹھیں۔
وہ مواقع جب کہ آدمی کے اندر سرکشی کی آگ بھڑکتی ہے، اس وقت مومن کو تواضع کے ساتھ جھک جانا ہے، جب نفرت کے جذبات امڈتے ہیں، اس وقت اس کو محبت کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ جب بد خواہی کی نفسیات ابھرتی ہے، اس وقت اس کو خیر خواہی
کا ثبوت دینا ہے۔ جب بددعا کے کلمات زبان سے نکلتے ہیں اس وقت اس کو دعا کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرنا ہے۔ جب حقوق کو دبانے کا خیال آنے لگتا ہے اس وقت حقوق کو پورے انصاف کے ساتھ لوٹانا ہے۔ جب حق کا اعتراف کرنے میں اپنا وقار گرتا ہوا نظر آتا ہے اس وقت وقار کا خیال چھوڑ کر حق کا اعتراف کر لینا ہے۔ جب کسی کے خلاف جوابی کارائی کا ذہن ابھرتا ہے اس وقت جوابی کارروائی سے اپنے کو روک کر مخالفت کے ساتھ وہی کرنا ہے جو خیرخواہی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ اگر آپ ٹرک پر سوار ہوں تو ٹرک پر دوڑتا ہوا ٹرک آپ کو زبردست جھٹکے دے گا۔ اس کے برعکس جب آپ ایک اچھی کار پر بیٹھتے ہیں تو تیز دوڑتے ہوئے بھی کار آپ کو جھٹکے نہیں دیتی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ کار کے ساتھ اچھی قسم کی اسپرنگ لگی ہوئی ہوتی ہے اس کی وجہ سے کار اپنے تمام جھٹکوں کو اپنے پہیے پر لے لیتی ہے، وہ جھٹکے کو مسافر تک پہنچنے نہیں دیتی۔ برعکس ٹرک کی اسپرنگ بہت معمولی ہوتی ہے اس لئے اس کے جھٹکے مسافر تک پہنچتے رہتے ہیں۔ اللہ سے بے خوف آدمی ٹرک کی مانند ہے وہ اپنے اندر کے نفسیاتی جھٹکوں کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ ان کو دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ سے ڈرنے والا آدمی کار کی مانند ہوتا ہے، وہ تمام جھٹکوں کو اپنے اوپر لے لیتا ہے، ان کو دوسرے انسان تک منتقل ہونے نہیں دیتا اسی کا نام صبر ہے۔ صبر یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے جو ناخوش گواریاں پیش آئیں ان کو آدمی اپنے اندر ہی اندر لے لے، ان کے اثرات دوسروں تک پہنچنے نہ دے۔ ناخوش گواری کے جھٹکوں کو اپنے اوپر لے کر دوسروں کی طرف خوش گواری کو منتقل کرے یہی وہ صلاحیت ہے جو آدمی کو جنت میں آباد کئے جانے کے قابل بناتی ہے۔ جنت وہ لطیف مقام ہے جہاں کثافت بھی بالکل خوش بو ظاہر ہوگی۔ ایسی لطیف آبادی میں رہنے کا مستحق صرف وہ شخص قرار دیا جائے گا جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ اپنی نفسیاتی کثافت کو خوش بو کی صورت میں خارج کر سکتا ہے، کثافت کا خوشبو کی صورت میں ظاہر ہوتا موجودہ دنیا میں نفسیاتی اعتبار سے ہوتا ہے، آخرت میں یہی واقعہ اللہ کے حکم کے تحت مادی صورت میں پیش آئے گا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ آدمی کے اپنے اعمال ہیں جو آخرت میں اس کو لوٹائے جائیں گے (انما ھی اعمالكم ترد اليكم) دنیا میں آدمی کے اخلاقی اعمال آخرت میں مادی نتائج کی صورت اختیار کر لیں گے۔ ہر واقعہ جو دنیا میں پیش آتا ہے اس میں آدمی کے دو قسم کے جواب کا امکان رہتا ہے۔ اسی سے فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی۔ کوئی حق بات سامنے آتی ہے، اب ایک شخص اس کا اعتراف کر لیتا ہے اور دوسرا شخص انکار کرتا ہے، رو کوئی معاملہ پڑتا ہے، اس میں ایک شخص انصاف پر قائم رہتا ہے اور دوسرا ظلم پر اتر آتا ہے، کوئی نا موافق صورت حال پیش آتی ہے، اب ایک شخص تواضع کا انداز اختیار کرتا ہے اور دوسرا شخص سرکشی کرنے لگتا ہے۔ باہمی قضیہ ابھرتا ہے، اب ایک شخص محبت اور خیر خواہی کا رویہ اپناتا ہے اور دوسرا شخص نفرت اور انتقام کا۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ردِّ عمل ہیں اور یہی آخرت کی زندگی میں آدمی کے انجام کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ہمارے اخلاقی اعمال جب مادی صورت اختیار کر لیں تو نفس میں سے ایک صورت کا نام جنت ہونا ہے اور دوسری صورت کا نام جہنم۔