اتحاد کی آسان تدبیر
Al-Risala, April 1980, pp. 16–32
By Maulana Wahiduddin Khan
گاؤں کا ایک خاندان ہے۔ باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ چار بھائی اور ان کے بیوی بچوں کو ملا کر ڈیڑھ درجن افراد مگر سب مل کر رہتے ہیں۔ آپس میں جھگڑا نہیں ہوتا۔ ان کا اتحاد و اتفاق ساری بستی میں ضرب المثل بن گیا ہے۔ ملاقات ان کے بڑے بھائی سے ہوئی تو میں نے پوچھا : " آپ کے یہاں جھگڑا نہیں ہوتا، یہ بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس کا راز کیا ہے " انھوں نے جواب دیا " ایسا نہیں ہے کہ جھگڑا نہیں ہوتا۔ اتنے سب آدمی جس گھر میں ہوں وہاں کچھ نہ کچھ کھٹ پٹ ہونا ضروری ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم لوگ اس کو بڑھنے نہیں دیتے " اس کے بعد وہ اٹھے اور ایک طرف دس قدم چل کر گئے اور کہا " جب جھگڑا ہوتا ہے تو ہم اس طرح اس سے ہٹ کر دور چلے جاتے ہیں " یہ ایک معمولی پڑھا لکھا خاندان ہے۔ نے زندگی کا ایک راز پا لیا ہے۔ یہ کہ جھگڑا ایک وقتی چیز ہے۔ اگر اس کو کسی طرح ٹال دیا جائے تو وہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اس اصول پر وہ لوگ شدت سے کاربند ہیں اور اس کے زبردست فوائد ان کو حاصل ہوئے ہیں۔ باپ کے انتقال کے وقت ان کی معاشی حالت بہت خراب تھی۔ مگر اپنے اتحاد و اتفاق کے ذریعہ انھوں نے گاؤں میں مثالی ترقی حاصل کر لی ۔ اب انھوں نے اپنے معاملات کے چار شعبے کر دئے ہیں اور چاروں بھائی ایک ایک شعبہ پر لگے ہوئے ہیں۔ ایک بھائی کھیتی کا ذمہ دار ہے، دوسرا بھائی دکان کا ذمہ دار ہے۔ تیسرا بھائی گھر کے امور کا ذمہ دار ہے، چوتھا بھائی باہر کے امور کی دیکھ بھال کرتا کاموں کی تقسیم نے ان کے لئے باہمی اختلاف کے مواقع اور بھی کم کر دئے ہیں۔
اسی طرح میری ملاقات ایک بار دو ایسے آدمیوں سے ہوئی جو دو الگ الگ پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ باوجود دونوں بہت قریبی دوست تھے۔ روزانہ باہم ملتے اور ایک دوسرے کے کام میں شریک رہتے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سیاسی اختلاف کے باوجود اتحاد کیسے ہے۔ ان میں سے ایک شخص نے مسکرا کر جواب دیا : " ہم نے اپنے اختلاف کو بازو میں رکھ دیا ہے " ان کی زبان سے یہ جملہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ ایک بہت بڑے مسئلے کا کتنا سادہ حل انھوں نے دریافت کر لیا تھا ہمارے بستر میں ایک کانٹا ہو تو ہم اس کو بستر سے نکال کر " بازو " میں ڈال دیتے ہیں۔ یہی طریقہ اختلاف کے بارے میں کیوں نہ اختیار کیا جائے ۔ دو آدمیوں میں کوئی اختلاف ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے درمیان سارے معاملات میں اختلاف ہو گیا۔ اختلاف کے باوجود بہت سے دوسرے امور ہوتے ہیں جن میں دونوں کے درمیان پورا اتفاق ہوتا ہے۔ اس لئے بہت سے عین عقلمندی یہ ہے کہ دو آدمیوں میں جب اختلاف پیدا ہو تو اختلاف کے پہلو کو " بازو " میں رکھ کر اتحاد کے پہلوؤں پر اپنا جوڑ باقی رکھا جائے۔ اسی طرح ایک بار میں ایسے دو آدمیوں سے ملا جو بالکل متضاد سیاسی خیالات رکھتے تھے۔ ایک کا تعلق ایک فرقہ وارانہ جماعت سے تھا اور دوسرے کا تعلق ایک قومی جماعت ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے دوست تھے اور بے تکلفی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود آپ لوگ اپنے ان تعلقات کو کس طرح نبھاتے یہ سن کر ان میں سے ایک شخص نے جواب دیا : ہم نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے ــــــــ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ زندہ انسان اختلاف کے اندر بھی اتحاد کے اسباب ڈھونڈ لیتے ہیں۔
ترجمان (اپریل ۱۹۸۰)
آل عمران ۳ جب تم صبح کو اپنے گھر سے نکلے اور مسلمانوں کو جنگ کے مقامات پر متعین کیا اور اللہ سننے والا، جاننے والا ۔ جب تم میں سے دو جماعتوں نے ارادہ کیا کہ ہمت ہار دیں اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا اور اللہ ہی پر چاہیے کہ مسلمان بھروسہ اور اللہ تمہاری مدد کر چکا ہے بدر میں جب تم کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار رہو۔ جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کیا تمہارے لئے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے۔ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو اور دشمن تمہارے اوپر یکدم آپہنچے تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان کئے ہوئے فرشتوں سے تمھاری مدد کرے گا۔ اور یہ اللہ نے اس لئے کیا تا کہ تمہارے لئے خوش خبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست ہے، حکمت والا ہے، تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصہ کو کاٹ دے یا ان کو ذلیل کر دے کہ وہ ناکام لوٹ جائیں۔ تم کو اس امر میں کوئی اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے، کیوں کہ وہ ظالم ہیں۔ اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔
یہ آیتیں جنگ احد (۳ھ) کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کی جنگ میں دشمنوں کی تعداد تین ہزار تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے ایک ہزار آدمی مقابلہ کے لئے نکلے تھے۔ مگر راستہ میں عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہو گیا ۔ اس واقعہ سے کچھ انصاری مسلمانوں میں پست ہمتی پیدا ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ ہم اپنے بھروسہ پر نہیں بلکہ اللہ کے بھروسہ پر نکلے ہیں تو اللہ نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ان مسلمانوں کے سینے کھول دئے۔ مومن کے اندر اگر حالات کی شدت سے ذہنی کمزوری پیدا ہو جائے تو ایسے وقت میں اللہ اس کو تنہا چھوڑ نہیں دیتا بلکہ اس کا مددگار بن کر دوبارہ اس کو ایمان کی حالت پر جما دیتا ہے۔ احد کی یہی مدد اجتماعی سطح پر اس طرح ہوئی کہ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھا کر دشمن ان کے اوپر غالب آگئے۔ اب دشمن فوج کے لئے پورا موقع تھا کہ وہ شکست کے بعد مسلمانوں کی طاقت کو پوری طرح کچل ڈالے۔ مگر قوتی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ دشمن فوج فتح کے باوجود میدان جنگ کو چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد تھی کہ اس نے دشمن کے رت کو "مدینہ" کے بجائے "مکہ" کی طرف موڑ دیا۔ حتی کہ جو مغلوب تھے انھیں نے غالب آنے والوں کا پیچھا کیا۔
مومن کا مزاج یہ ہونا چاہئے کہ وہ تعداد یا اسباب کی کمی سے نہ گھبرائے۔ تعداد کم ہو تو یقین کرے کہ اللہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر تعداد کی کمی پوری کر دے گا۔ سامان کم ہو تو وہ بھروسہ رکھے کہ اللہ اپنی طرف سے ایسی صورتیں پیدا کرے گا جو اس کے سامان کی کمی کی تلافی کامیابی کا دار و مدار مادی اسباب پر نہیں بلکہ صبر اور تقویٰ پر ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ان کے حق میں اللہ کی مدد کی دو صورتیں ہیں: ایک، ان کے مخالفین کے ایک حصہ کو کاٹ دینا۔ دوسرے، مخالفین کو شکست دے کر انھیں پہلی کامیابی دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ فرقِ مخالفت کے جن افراد میں اللہ کچھ زندگی پاتا ہے ان کے اوپر دین کی حقانیت کو روشن کر دیتا ہے، وہ باطل کی صف کو چھوڑ کر حق کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں اور اس طرح فرقِ مخالفت کی کمزوری اور اہل ایمان کی قوت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں اللہ اہل ایمان کو قوت اور حوصلہ دیتا ہے اور ان کی خصوصی مدد کر کے ان کو فرق مخالفت پر غالب کر دیتا ہے۔
اے ایمان والو! سود کی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم کیمیاب ہو۔ اور ڈرو اس آگ سے جو کےفروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے۔ جو لوگ کہ خرچ کرتے ہیں فراغت میں اور تنگی میں۔ وہ غصہ کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا اور ایسے لوگ کہ جب وہ کوئی کھلی برائی کر بیٹھیں یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر ڈالیں جو وہ اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرے اور وہ جانتے بوجھتے اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔ یہ لوگ ہیں کہ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بدلہ ہے کام کرنے والوں کا۔ تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔ یہ بیان ہے لوگوں کے لئے اور ہدایت و نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لئے ۳۰-۱۳۸ سودی کاروبار زر پرستی کی آخری بدترین شکل ہے۔ جو شخص زر پرستی میں مبتلا ہو وہ رات دن اسی فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اس کا مال دونا اور چوگنا ہو۔ وہ دنیا کا مال حاصل کرنے کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جنت کی طرف دوڑے اور اللہ کی رحمت و نصرت کا زیادہ سے زیادہ حریص ہو۔ آدمی اپنا مال اس لئے بڑھانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت حاصل ہو، دنیا میں اس کے لئے شان دار زندگی کی ضمانت ہو جائے۔ مگر موجودہ دنیا کی عزت و کامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل اہمیت کی چیز جنت ہے جس کی خوشیاں اور لذتیں بے حساب ہیں۔ عقلمند وہ ہے تو اس جنت کی جنت کی طرف دوڑ نا یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے۔ دنیوی کامیابی کا ذریعہ مال کو "بڑھانا" ہے اور اخروی کامیابی کو حاصل کرنے کا ذریعہ مال کو "گھٹانا"،۔ پہلی قسم کے لوگوں کا سرمایہ اگر مال کا محبت ہے تو دوسری لوگوں کا سرمایہ اللہ اور رسول کی محبت۔ پہلی قسم کے لوگوں کو اگر دنیا کے نفع کا شوق ہوتا ہے تو دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نفع کا۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دنیا کا نقصان کا ڈر لگا رہتا ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کو آخرت کے نقصان کا۔
جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے اندر "احسان" کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ یعنی جو کام کریں اس طرح کریں کہ وہ اللہ کی نظر میں زیادہ سے زیادہ پسندیدہ قرار پائے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کے دین کی ضرورت کو وہ اپنی ضرورت بنا لیتے ہیں اور اس کے لئے ہر حال میں خرچ کرتے ہیں خواہ ان کے پاس کم ہو یا زیادہ۔ ان کو جب کسی پر غصہ آ جائے تو وہ اس کو اندر ہی اندر برداشت کر لیتے ہیں، کسی سے شکایت ہو تو اس سے بدلہ لینے کے بجائے اس کو معاف کر دیتے ہیں غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ متقی ہوتی ہیں۔ غلطی کے بعد وہ فوراً چوکنک پڑتے ہیں اور دوبارہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے وہ بیتاب ہو کر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ وہ ان کو معاف کر دے اور ان پر اپنی رحمتوں کا پردہ ڈال دے۔ قرآن میں جو بات لفظی طور پر بتائی گئی ہے وہ تاریخ میں عمل کی زبان میں موجود ہے۔ مگر نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو نصیحت کی طلب رکھتے ہوں۔
آل عمران ۴ اور ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دشمن کو بھی زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تا کہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست اور تا کہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ لے اور انکار کرنے والوں کو مٹا دے۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا نہیں جنھوں نے جہاد کیا اور نہ ان کو جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ اور تم موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے ملنے سے پہلے ، سو اب تم نے اس کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ۱۳۹ - ۳۳ ایمان لانا گویا اللہ کے لئے جینے اور اللہ کے لئے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میں ان کو رد کر دیا تھا ان کے او پران کواپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان و اسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہر حال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر۔ جو لوگ اس جہاد اور صبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ "جہاد" ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور "صبر" اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہو جائیں اس کے لئے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہو جاتی ہے جتنی موافق زمین میں ایک بیج کا بار آور ہونا۔
ایک شخص اللہ کے راستہ پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کرتے ہیں، کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لئے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو رد عمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرار ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا، اگر اس کا عمل اس کے دعوی ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا ۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پرواہ نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان و مال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعد ہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے ۔ نیز یہ کہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔
محمد اس ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردئے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ اور جو شخص پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔ اور کوئی جان مر نہیں سکتی بغیر اللہ کے حکم اللہ کا لکھا ہوا وعدہ ہے۔ اور جو شخص دنیا کا فائدہ چاہتا ہے اس کو ہم دنیا میں سے دے دیتے ہیں اور جو آخرت کا فائدہ چاہتا ہے اس کو ہم آخرت میں سے دے دیتے ہیں۔ اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کا بدلہ ضرور عطا کریں گے۔ اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے نہ انہوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ رہے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ ان کی زبان سے اس کے سوا کچھ اور نہ نکلا کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمارے کام میں ہم سے جو زیادتی ہوئی اس کو معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور منکر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ پس اللہ نے ان کو دنیا کا بدلہ بھی دیا اور آخرت کا اچھا بدلہ بھی۔ اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۳۸ - ۱۴۳ احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں بہت پستی پیدا ہو گئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو زہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لئے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لئے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہو جائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ زندگی اس کے لئے ایک ایسی نا پائیدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اذن کے تحت ہو رہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھیننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کے عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لئے ہیں۔ تاہم یہ درجہ کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظریں جمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا بر باد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے ۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے، کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جا رہا ہے کبھی ان ہلا دینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے ، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لئے تیار ہو تو گو یاوہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میں وہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنہوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبے میں شامل کر دیا ہو ۔ نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ خنی پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہل ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
اے ایمان والو اگر تم منکروں کی بات مانو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر دیں گے پھر تم ناکام ہو کر رہ جاؤ گے۔ بلکہ اللہ تمھارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔ ہم منکروں کے دلوں میں تمھارا رعب ڈال دیں گے کیوں کہ انہوں نے ایسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جس کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے ظالموں کے اور اللہ نے تم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دکھایا جب کہ تم ان کو اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم کمزور پڑ گئے اور تم نے کام میں جھگڑا کیا اور تم کہنے پر نہ چلے جب کہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھادی تھی جو کہ تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے بعض آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے تمھارا رخ ان سے پھیر دیا تا کہ تمھاری آزمائش کرے اور اللہ نے تم کو معاف کر دیا اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے۔ جب تم چڑھے جا رہے تھے اور مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول تم کو تمھارے پیچھے سے پکار رہا تھا۔ پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تا کہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمھارے ہاتھ سے چوک گئی اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ اور اللہ خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۵۳ - ۱۳۹ جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدا کی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں "احد" کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لئے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرانہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔ مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدائی نصرت رعب نازل ہوتی ہے۔ جو شخص بارگاہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقتاً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لئے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جہاد کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہلِ باطل کی صفوں میں انتشار شروع ہو جاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی وہ اہل حق کے مقابلہ میں ناکام و نامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے لئے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے ۔ اور وہ ہےتنازع فی الامر یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ الگ ہو جانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہو سکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہو جائیں۔ کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحدہ اور نتیجہ طافَت در رہے گی۔ اور جب رایوں کا اختلاف کر کے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لاز ماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔
پھر اللہ نے تمھارے اوپر غم کے بعد اطمینان اُتارا یعنی اندھیر کہ اس کام میں سے ایک جماعت پر غلبہ سو رہا تھا اور ایک جماعت وہ تھی کہ اس کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی ۔ وہ اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت خیالات، جاہلیت کے خیالات قائم کر رہے تھے ۔ تھے کیا ہمارا بھی کچھ اختیار ہے ۔ کہو سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے ۔ وہ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس معاملہ میں کچھ ہمارا بھی دخل ہوتا تو ہم اوراں نہ مارے جاتے ۔ کہو اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا لکھا گیا تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل پڑتے ۔ یہ اس لیے ہوا کہ اللہ کو آزمانا تھا جو کچھ تمھارے سینوں میں ہے اور نکھارنا تھا جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے ۔ اور اللہ جانتا ہے سینوں والی بات کو ۔ تم میں سے جو لوگ پھر گئے تھے اس دن کہ دونوں گروہوں میں بھیڑ بھری ہوئی ان کو شیطان نے ان کے بعض اعمال کے سبب سے پھسلا دیا تھا ۔ ان کو معاف کر دیا ۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ زندگی کے معرکہ میں سب سے زیاوہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی کا چین اس سے رخصت نہ ہو ۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانے کے قابل رہے۔ اللہ پر بھروسہ کی وجہ سے اہل ایمان کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے، حتیٰ کہ ہلا دینے والے مواقع پر جب کہ لوگوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ اس قابل رہتے ہیں کہ ایک نیند لے کر دوبارہ تازہ دم ہو سکیں۔ :حدیہ کہ موقع پر اس کا بڑا، انٹا ہرہ؛ اس طرح ہزائمہ لسٹ کے بدترین ترین حالات کے باوجود وہ ہو سکے اور اگلے دن حرمان الاسد تک دشمن کا پیچھا کیا جو مدینے سے ، میل کے فاصلہ پر ہے۔ اس کے نتیجہ میں فاتح دشمن مرعوب ہوکر مکہ واپس چلا گیا۔ یہ سچے اہل ایمان کا مگر جو لوگ پورے معنوں میں اللہ کو اپناولی وسر پرست بنائے ہوئے نہ ہوں۔ ان کو ہر طرف بس اپنی جان کا خطرہ نظر آتا ہے۔ دین کی فکر سے خالی لوگ اپنی ذات کی فکر میں پڑے رہتے ہیں وہ اللہ کی نصرت اطمینان میں سے اپنا حصہ نہیں پاتے۔ احد کے موقع پر عبداللہ بن ابی کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلص مسلمانوں کے مشورہ پر باہر نکلے اور احد پہاڑ کے دامن میں، مقابلہ کیا۔ درہ پر متعین دستے کی غلطی سے جب شکست ہوئی تو اُن لوگوں کو موقع ملا۔ نے کہنا شروع کیا کہ اگر ہماری بات مانی ہوتی اور مدینہ میں رہ کر لڑتے تو اس بربادی کی نوبت نہ آتی۔ مگر موت خدا کی طرف سے ہے اور دہمیں اگر رہتی ہے جہاں دہ کسی کے لئے لکھی ہوئی ہے۔ احتیاطی، تدبیر پر کوئی کو موت سے بچا نہیں سکتیں ۔ اس طرح کے واقعات، خواہ بظاہر ان کا جو سبب بھی نظر آئے ، وہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے سچے بندے، اللہ کی طرف ر جوع کر کے مزید رحمتوں کے اور جو سچے نہیں، ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔
احد کے درہ پر جو پچاس تیر انداز متعین تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اصرار کیا کہ چل کر مال غنیمت لوٹیں۔ مگر عبداللہ بن جبیر اور ان کے کچھ ساتھیوں نے کہا نہیں۔ ہم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے کیونکہ یہی رسول اللہ کا حکم ہے۔ بالآخر گیارہ کو چھوڑ کر بقیہ لوگ چلے گئے۔ باہمی اختلاف کی اس کمزوری سے شیطان نے اندر داخل ہونے کا راستہ پایا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کر دیا یہ ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رُعب ڈال کر ان کو واپس کر دیا ۔ حالانکہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔
اے ایمان والو تم ان لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جنھوں نے انکار کیا۔ وہ اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے یہیں، جب کہ وہ سفر یا جہاد میں نکلتے ہیں ور ان کو موت آجاتی ہے، کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ تاکہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی مغفرت اور رحمت اس سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔ اور تم مر گئے یا مارے گئے بہر حال تم اللہ ہی کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ہو۔ اگر تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ جاتے۔ پس ان کو معاف کر دو اور ان کے لئے مغفرت مانگو اور معاملات میں ان سے مشورہ لو۔ پھر جب فیصلہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اگر اللہ تمھارا ساتھ دے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھارا ساتھ چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرے۔ اور اللہ ہی کے اوپر بھروسہ کرنا چاہئے ایمان والوں کو۔ ۶۰ - ۱۵۰ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ہر چیز پر اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اسباب کے تحت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کے حکم کے تحت ہو رہے ہیں۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری اسباب میں نہ اٹکے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والی قدرت خداوندی کو دیکھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو اسباب میں کھو جائے اور مومن وہ ہے جو اسباب سے گزر کر اصل حقیقت کو پالے۔ ایک شخص مومن ہونے کا مدعی ہو مگر اسی کے ساتھ اس کا ہاں نہ ہو کہ زندگی دعوت اور کامیابی ناکامی کو وہ تدبیروں کا نتیجہ سمجھتا ہو تو اس کا ایمانی دعویٰ معتبر نہیں۔ غیر مومن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس غم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں نے فلاں تدبیر کی ہوتی تو میں حادثہ سے بچ جاتا۔ مگر مومن کے ساتھ جب کوئی حادثہ گزرتا ہے تو وہ یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی ہی تھی۔ جو لوگ دنیوی اسباب کو اہمیت دیں وہ اپنی پوری زندگی دنیا کی چیزوں کو فراہم کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ ”مرنے“ سے زیادہ ”جینا“ ان کو عزیز ہو جاتا ہے۔ مگر پانے کی اصل چیز وہ ہے جو آخرت ہے یعنی اللہ کی جنت و مغفرت اور جنت وہ چیز ہے جس کو صرف زندگی ہی کی قیمت پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آدمی کا وجودہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ آدمی اگر اپنے وجود کو نہ دے تو وہ کسی اور چیز کے ذریعہ جنت حاصل نہیں کر سکتا۔
اہل ایمان کے ساتھ جس اجتماعی سلوک کا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے وہی عام مسلم سربراہ کے لئے بھی ہے۔ مسلم سربراہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ نرم دل اور نرم گفتار ہو۔ یہ نرمی صرف روز مرہ کی عام زندگی ہی میں مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسے غیر معمولی مواقع پر بھی مطلوب ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام کے تصادم کے وقت لوگوں سے ایک حکم کی نافرمانی ہو اور نتیجہ میں ہوئی ہوئی جنگ ہار میں بدل جائے۔ سربراہ کے اندر جب تک یہ وسعت اور بلندی نہ ہو طاقت اور اجتماعیت قائم نہیں ہو سکتی۔ غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اگر وہ صرف ایک غلطی ہے، شرپسندی نہیں ہے تو وہ قابل معافی ہے۔ سربراہ کو چاہیے کہ اسی نظر ثانی اور ملالہ وہ لوگوں سے معاملہ کرے۔ حتی کہ زہ لوکوسا کالجنا خیر خواہ ہو کہ ان کے حق میں اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ اس کی نظر میں لوگوں کی اتنی قدر ہوکہ معاملات میں وہ ان سے جب آدمی کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ ہو تاہے خدا کے کہے سے ہوتا ہے تو اس کے بعد انسانی اسباب اس کی نظر میں ناقابل لحاظ ہو جائیں گے۔
اور نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ کچھ چھپارکھے اور جو کوئی چھپائے گا وہ اپنی چھپائی ہوئی چیز کو قیامت کے دن حاضر کرے گا۔ ہر جان کو اس کے کئے ہوئے کا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ کیا وہ شخص جو اللہ کی مرضی کا تابع ہے وہ اس شخص کے مانند ہو جائے گا جو اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیسا براٹھکانا ہے۔ اللہ کے یہاں ان کے درجے الگ الگ ہوں گے ۔ اور اللہ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ ان میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ بے شک یہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے ۱۶۴۔
احد کے درہ پر متعین جن چالیس افراد نے نافرمانی کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کر دیا تھا۔ ان لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ آپ نے شاید صرف اوپری طور پر ہم کو معاف کیا ہے۔ دل میں آپ اب بھی خفا ہیں اور کسی وقت ہمارے اوپر خفگی نکالیں گے۔ فرمایا کہ یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں۔ پیغمبر اندر اور باہر ایک ہوتا ہے، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سربراہ کو کیسا ہونا چاہئے۔ مسلم سربراہ کا دل ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے اندر بغض، نفرت، کینہ اور حسد بالکل جگہ نہ پاسکے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ اس کے ساتھیوں سے ایک بھیا نک غلطی ہوگئی ہو۔ مسلم سربراہ کو چاہئے کہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے والوں کے خلاف بھی وہ دل میں کوئی جذبہ چھپا کر نہ رکھے۔ آج کے دن ان کے ساتھ اس طرح رہے جیسے پچھلے دن ان سے کچھ نہیں اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ جب ایک سربراہ پر اعتماد کر کے اپنے معاملات کو اس کے سپرد کر دے تو سربراہ کو ایسا کبھی نہ کرنا چاہئے کہ ان کے جان و مال کو وہ اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل پر قربان کر دے۔ یہ اللہ کے غضب سے بے خوف ہونا ہے۔ جو شخص لوگوں کو یہ بتانے کے لئے اٹھا ہو کہ خوب اللہ کی مرضی پر چلیں وہ خود لیسں گمراہ ہے اس اللہ سے ملنا پسند کرے گا کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف جینا ہو۔
پیغمبر نے اپنی زندگی سے جو مثالی نمونہ قائم کیا ہے، قیامت تک تمام مصلحین کو اسی کے مطابق بننا ہے۔ اصلاح کے کام کے لئے ضروری ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان کام کرنے اٹھے ان کو ہر اعتبار سے وہ اپنا نظر آئے اس کی زبان، اس کا طرزِ کلام، اس کی رکن سہن ہر چیز اجنبیت سے پاک ہو۔ تجرہ نہ اپنے اور اپنے مخالفین کے درمیان ایسی فضا نہ بنائے، جو کسی پہلو سے ایک دوسرے کو دور کرنے والی ہو یا ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں فرق بنا کر کھڑا کر دے۔ لوگوں کے درمیان جو کام کرنا ہے وہ سب سے پہلے یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھنے لگیں جو ان کی ذات میں اور باہر کی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ نہ اللہ کی گلیوں کو جان کر ان کو اپنے ذہن کا جزو بنائیں۔ دوسرا کام تزکیہ ہے۔ یہ مقصد ہے بانی گفتگو، اور صحبت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی تحریر اور تقریر میں بابت زیادہ تر اصولی انداز میں ہوتی ہے جب کہ انفرادی گفتگوؤں میں بات زیادہ متعین اور زیادہ مفصل صورت میں ہوتی ہے۔ نیز داعی کا اپنا و جودبھی پوری طرح اس کی تقویت پر موجود رہتا ہے۔ عمومی کلام اگر دعوت ہوتا ہے تو انفرادی ملاقاتیں مدعو کے لئے تزکیہ کے ہم معنی بن جاتی ہیں۔ تیسری چیز کتاب ہے، یعنی زندگی گزارنے کی بات آسمانی ہدایات کو بتانا جس کا دوسرا نام شریعت ہے اور یہ جوتی چیز حکمت ہے۔ یعنی بین کے گہرے صید زوں سے پردہ اٹھانا۔ بین سطور میں چھپے ہوئے حقائق کو نمایاں کرنا۔
اور جب تم کو ایسی مصیبت پہنچی جس کی دگنی مصیبت تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا کہ یہ کہاں سے آگئی۔ کہو یہ تمہارے اپنے پاس سے ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور دونوں جماعتوں کی مڈ ہمیڑ کے دن تم کو جو مصیبت پہنچی وہ اللہ کے حکم سے پہنچی اور اس واسطے کہ اللہ مومنین کو جان لے اور ان کو بھی جان لے جو منافق تھے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو دفع کرو۔ انھوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ جنگ ہونا ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ یہ لوگ اس دن ایان سے زیادہ کفر کے قریب تھے۔ وہ اپنے منھ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیز کو خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں۔ یہ لوگ خود بیٹھے وہے، اپنے بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے۔ کہو تم اپنے اوپر سے موت کو ہٹا دو اگر تم سچے ہو۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو۔ بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، ان کو روزی مل رہا ہے۔ وہ خوش ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل میں سے ان کو دیا ہے اور خوش خبری لے رہے ہیں کہ جو لوگ ان کے پیچھے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لئے بھی نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ رہ خوش ہو رہے ہیں اللہ کے انعام اور فضل پر اور اس پر کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو مانا بعد اس کے کہ ان کو زخم لگ چکا تھا، ان میں سے جو نیک اور متقی ہیں ان کے لئے بڑا اجر ہے۔ جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمھارے خلاف بڑی طاقت جمع کر لی ہے اس سے ڈرو۔ لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اللہ تمہارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔ پس وہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے مان لوگوں کو کوئی برائی پیش نہ آئی۔ اور وہ اللہ کی رضا مندی پر چلے اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔ یہ شیطان ہے جو تم کو اپنے دوستوں کے ذریعہ ڈراتا ہے۔ تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ حق و باطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے کیونکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لئے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً با بھی اختلاف۔ اٹھاکر شر پسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ تا ہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہو جاتی ہے۔ نا موافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ کون قابل اعتماد اور کون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہلِ ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہو جاتی ہے۔
حق و باطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کو مٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خود خواہ مخواہ اپنے کو بر باد کر لیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے ۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
اور وہ لوگ تمہارے لیے باعث غم نہ بنیں جو انکار میں سبقت کر رہے ہیں۔ وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے۔ ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو خریدا ہے وہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اور جو لوگ کفر کر رہے ہیں وہ خیال نہ کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ہم تو بس اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ جرم میں اور بڑھ جائیں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اللہ وہ نہیں کہ مسلمانوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس طرح کہ تم اب ہو جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا اور اللہ یوں نہیں کہ تم کو غیب سے خبردار کر دے۔ بلکہ اللہ چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے۔ پس تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پر ہیزگاری اختیار کرو تو تمہارے لیے بڑا اجر ہے (۱۹، ۱۷۶ زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے، اصل مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے۔ لوگ دنیا کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اور اپنی ساری توجہ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ مگر زیادہ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی آخرت کے جہنم سے اپنے کو بچائے اور وہاں کی جنت کی طرف دوڑے ۔ دنیا میں پیسہ والا ہونا اور بے پیسہ والا ہونا، جائداد والا ہونا اور بے جائیداد والا ہونا، عزت والا ہونا اور بے عزت والا ہونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہر آدمی کو آنکھوں سے نظر آتی ہیں۔ اس لیے وہ ان پر ٹوٹ پڑتا ہے، وہ اپنی ساری کوشش اس مقصد کے لیے لگا دیتا ہے کہ وہ یہاں محروم نہ رہے۔ مگر انسان کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے جس کو اللہ نے امتحان کی مصلحت سے چھپا دیا ہے اور اس سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لیے یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے کچھ بندوں کو غیب کی پیغام بری کے لیے چنے۔ ان کو موت کے اس پار کی حقیقتوں سے خبردار کرے اور پھر ان کو مقرر کرے کہ وہ دوسروں کو اس سے باخبر کردیں۔ انسان کی اصل جانچ یہ ہے کہ وہ خدا کے داعی کی آواز میں سچائی کی جھلکیاں کو پائے ، نہ ایک لفظی پکار میں حقیقت کی عملی تصویر دیکھ لے۔ یہ اپنے جیسے ایک انسان کی باتوں میں خدائی بات کی گونج سن لے۔
ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے۔ کیوں کہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ میں غرق نہ ہو۔ کیوں کہ دنیا میں غرق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آدمی آخرت کو اصل اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کبر، بخیل ، نا انصافی اور غیر اللہ کی عقیدت و محبت سے اپنے کو بچائے اور اس کے بجائے خدا پرستی، تواضع، فیاضی اور انصاف پسندی کو اپنا شیوہ بنائے۔ کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے۔ اس نے فی الواقع اپنے آپ کو خدا اور آخرت کی طرف لگا دیا ہے۔ اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔ اقرار ایمان کے باوجود عملاً وہ اسی دنیا میں جی رہا ہے جہاں دوسرے لوگ جی آخرت میں خبیث روحوں اور طیب روحوں کی جو تقسیم ہوگی وہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگی نہ کہ محض ظاہری نمائش کے اعتبار سے۔ دنیا میں برے لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی ہے وہ صرف اس لیے ہے کہ وہ اپنے اندر کی برائی کو پوری طرح ظاہر کر دیں۔ مگر وہ خواہ کتنی ہی کوشش کریں وہ اپنی ترقی کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف اپنے خلاف استعمال کر سکتے ہیں نہ دوسروں کے خلاف۔
اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے دیا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے حق میں اچھا ہے ۔ بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخل کر رہے ہیں اس کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایا جائے گا۔ اور اللہ ہی وارث ہے زمین و آسمان کا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ اللہ نے ان لوگوں کا قول سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں۔ ہم لکھ لیں گے ان کے اس قول کو اور ان کے پیغمبروں کو ناحق مار والے کو بھی۔ اور ہم کہیں گے کہ اب آگ کا عذاب یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نا انصافی کرنے والا نہیں ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم کیسی رسول کو تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرلے جس کو آگ کھائے، ان سے کہو کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس رسول آئے کھلی نشانیاں لے کر اور وہ چیز لے کر جس کو تم کہہ رہے ہو پھر تم نے کیوں ان کو مار ڈالا، اگر تم سچے ہو۔ پس اگر یہ تم کو جھٹلاتے ہیں تو تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ ہر شخص کو موت کا موہ چکھنا ہے اور تم کو پورا اجر تو بس قیامت کے دن ملے گا ۔ پس جو شخص آگ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہی کامیاب رہا اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سودا ہے - ۱۸۰ ظاہری طور پر آدمی ایک قول دے کر مومن بن جاتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ اس وقت مومن بنتا ہے جب کہ وہ اپنی جان اور اپنے مال کا اللہ کی راہ میں دے دے۔ جان و مال کی قربانی کے بغیر کسی کا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ آدمی اپنے مال کو اس لئے بچاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے دنیوی مستقبل کا تحفظ کر رہا ہے۔ مگر آدمی کا حقیقی مستقبل وہ ہے جو آخرت میں سامنے آنے والا ہے اور آخرت کی دنیامیں ایسابچایا ہو امال آدمی کے حق میں صرف وبال ثابت ہوگا۔ جو مال دنیا میں زینت اور فخر کا ذریعہ دکھائی دے رہا ہے وہ آخرت میں خدا کے حکم سے سانپ کی صورت اختیار کرے گا جو ابدی طور پر اس کو ڈستا رہے جو لوگ قربانی ڈالنے دین کو نہیں اپناتے وہ اپنے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے مختلف باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مال خدا نے ہماری ضرورت کے لئے پیدا کیا ہے پھر کیوں نہ ہم اس کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کریں اور اس سے اپنے دنیوی آرام کا سامان کریں کبھی ان کی بے حسی ان کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ زہ خود داعی حق کو مشتبہ کرنے کے لئے طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ شخص سچا داعی ہی نہیں جس کا ظہور یہ تقاضا کر رہا ہے کہ اپنی زندگی اور اپنے مال کو قربان کر کے اس کا ساتھ دیا اس قسم کے لوگ جو باتیں کہتے ہیں وہ بظاہر دلیل کے روپ میں موتی ہیں مگر حقیقتاً وہ ایمانی تقاضوں سے فرار کے لئے ہیں۔ اس لئے خواہ کسی ہی دلیل پیش کی جائے وہ اس کو رد کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ تلاش کر لیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ان کا آخری انجام موت ہے؛ اور موت کا مرحلہ سامنے آتے ہی صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ موت تمام چھوٹے سہارے کو باطل کر دے گی، اس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ٹھیک اس مقام پر کھڑا ہوا پائے گا جہاں وہ حقیقۃً تھا نہ کہ اس مقام پر جہاں وہ اپنے آپ کو ظاہر کر رہا تھا۔ موجودہ دنیا میں کسی کا ترقی کرنا یا موجودہ دنیا میں کسی کا ناکام ہو جانا، دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں۔ نہ یہاں کی نعمتیں کسی کے بر سر حق ہونے کا ثبوت ہیں اور نہ کسی کا یہاں مشکلات و مصائب میں مبتلا ہونا اس کے بر سر باطل ہونے کا ثبوت، کیوں کہ دونوں ہی امتحان کے نقشے ہیں نہ کہ انجام کی علامتیں ۔
آل عمران ۳ یقیناً تم اپنے جان اور مال میں آزمائے جاؤ گے۔ اور تم بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ان سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام وہے۔ اور جو اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح ظاہر کر دو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے۔ مگر انہوں نے اس کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہنے لگتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے زمین و آسمان کی بادشاہی، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۱۸۶ - 186-189 ایمان کا سفر آدمی کو ایسی دنیا میں طے کرنا ہوتا ہے جہاں اپنوں اور غیروں کی طرف سے طرح طرح کے زخم لگتے ہیں۔ مومن کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ردِ عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، وہ ہر صورتِ حال کا مثبت جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتا لوگوں کی طرف سے اشتعال دلانے والے مواقع پیش آتے ہیں مگر وہ پابند ہوتا ہے کہ ہر قسم کے جھٹکوں کا اپنے اوپر پہلے اور جوابی ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کرے۔ بار بار ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جب کہ دل کہتا ہے کہ حدودِ خداوندی کو توڑ کر اپنا مدعا حاصل کیا جائے مگر اللہ کا ڈر اس کے قدموں کو روک دیتا ہے اسی طرح دین کی مختلف ضرورتیں سامنے آتی ہیں اور جان و مال کی قربانی کا تقاضا کرتی ہیں، ایسے مواقع پر آسان دین کو چھوڑ کر مشکل دین کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان کے سفر کو ہمت اور عالی حوصلگی کا زبردست امتحان بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بننا اپنے آپ کو صبر اور تقویٰ کے امتحان میں کھڑا کرنا ہے۔ اس امتحان میں پورا اتراو ہی وہ مومن بنجس کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خدا و رسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بے تعلقی کا اعلان کر دے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ اس کا پر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔ اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہو جائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لئے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اس کا تعلق محض کسی تعلق ہوتا ہے نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقی تعلق ۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کئے ہیں، نہ کہ دین ہوکربھی اپنے کو دین دار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو اس کام کا کریڈٹ دیا جائے جس کو انہوں نے کیا نہیں۔ اخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔ وہ اپنے گھڑے ہوئے دین پر چلتے ہیں مگر اپنے کو دین خدا وندی کا علم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لئے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔ وہ خود ساخته سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت وہ قومی مفادات کے لئے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیرا لامم کا کردار ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ۔ آدمی دنیا کی طرف دوڑے، اور آخرت سے بے پروا ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار بار کو خدا و رسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر ڈھٹائی کا اضافہ کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چا ہتا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔
آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب تو نے جس کو آگ میں ڈالا اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ پس ہم ایمان لائے اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے - ۱۹۰ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خاموش اعلان ہے۔ آدمی جب اپنے کان اور آنکھ سے مصنوعی پردوں کو ہٹاتا ہے تو وہ اس خاموش اعلان کو ہر طرف سننے اور دیکھنے لگتا ہے۔ اس کو نا ممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی کائنات جس کے ستارے اور سیارے کھربوں سال تک بھی ختم نہیں ہوتے وہاں انسان اپنی تمام خواہشوں اور تمناؤں کو لئے ہوئے صرف پچاس سال اور سو سال میں ختم ہو جائے۔ ایک ایسی دنیا جہاں درختوں کا حسن اور پھولوں کی لطافت ہے۔ جہاں ہوا اور پانی اور سورج جیسی بے شمار بامعنی چیزوں کا اہتمام کیا گیا ہے وہاں انسان کے لئے حزن اور غم کے سوا کوئی انجام نہ ہو۔ پھر یہ بھی اس کو نا ممکن نظر آتا ہے کہ ایک دنیا جہاں یہ اتھاہ امکان رکھا گیا ہے کہ یہاں ایک چھوٹا سا بیج زمین میں ڈالا جائے تو اس کے اندر سے ہرے بھرے درخت کی ایک پوری کائنات نکل آئے وہاں آدمی نیکی کی زندگی اختیار کر کے بھی اس کا کوئی پھل نہ پا تا ہو۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر روز تاریک رات کے بعد روشن دن آتا ہے وہاں صدیاں گزر جائیں اور عدل وانصاف کا اجالا اپنی چمک نہ دکھائے۔ ایک ایسی دنیا جس کی گود میں زلزلے اور طوفان سورہے ہیں وہاں انسان ظلم پر ظلم کرتا رہے مگر کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا سامنے نہ آئے۔ جو لوگ حقیقتوں میں جیتے ہیں اور گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں ان کے لئے ناقابل یقین ہو جاتا ہے کہ ایک بامعنی کائنات بے معنی انجام پر ختم ہو جائے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ حق کا داعی جو پیغام دے رہا ہے وہ نطق کی زبان میں اسی بات کا اعلان ہے جو خاموش زبان میں ساری کائنات میں نشر ہو رہا ہے۔ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ جب سچائی کھلے اور جب انصاف کا سورج نکلے تو اس دن وہ ناکام و نامراد نہ ہوجائیں۔ وہ اپنے رب کو پکارتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، وہ مفاد اور مصلحت کی تمام حدوں کو توڑ کر داعی حق کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ تاکہ جب کائنات کا اجالا اور کائنات کا اندھیرا ایک دوسرے سے الگ کئے جائیں تو کائنات کا مالک ان کو اجالے میں جگہ دے، وہ ان کو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے کے لئے نہ چھوڑے۔
عقل اور بے عقلی کا حقیقی پیمانہ اس سے بالکل مختلف ہے جو انسانوں نے بطور خود بنا رکھا ہے۔ یہاں عقل والا وہ ہے جو اللہ کی یاد میں جئے، جو کائنات کے تخلیقی منصوبہ میں کام کرنے والی خدائی معنویت کو پالے ۔ اس کے برعکس بے عقل وہ ہے جو اپنے دل و دماغ کو دوسری دوسری چیزوں میں اگائے، جو دنیا میں اس طرح زندگی گزارے جیسے اس کو مالک کائنات کے تخلیقی منصوبہ کی خبر ہی نہیں۔
آل عمران ۳ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ ضرور تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، ان کی خطائیں میں ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں یہ تھوڑا سا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس نیک لوگوں کے لیے ہے وہی سب سے بہتر ہے۔ اور بے شک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمھاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو، صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہو گے۔ اہل ایمان کی ذمہ دارانہ زندگی ان کو نفس کی آزادیوں سے محروم کر دیتی ہے۔ ان کے اعلان حق میں بہت سے لوگوں کو اپنے وجود کی تردید دکھائی دینے لگتی ہے اور وہ ان کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ یہ صورت حال کبھی اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے وطن میں بے وطن کر دیے جاتے ہیں ۔ ان کو مخالفین کی ظالمانہ کارروائیوں کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ دین کو انھیں جان و مال کی قربانی کی قیمت پر اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ان امتحانات میں پورا اترنے کے لیے اہل ایمان کو جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ وہ دنیا کی مصلحتوں کی خاطر آخرت کی مصلحتوں کو بھول نہ جائیں ۔ وہ مشکلات اور ناخوش گوار یوں پر صبر کریں ، وہ اپنے اندر ابھرنے والے منفی جذبات کو دبائیں اور متاثر ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کریں۔ پھر ان کو باہر کے حریفوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ہے۔ یہ ثابت قدمی ہی وہ چیز ہے جو اللہ کی نصرت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ تمام اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے رہیں، وہ دینی جدوجہد کے لئے با ہم جڑ جائیں اور ایک جان ہو کر اجتماعی قوت سے مخالف طاقتوں کا مقابلہ کریں۔ ایمان دراصل صبر کا امتحان ہے اور اس امتحان میں وہی شخص پورا اترتا ہے، جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا سے بے خوف اور آخرت سے بے پروا لوگوں کو زور اور غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔ کی عزّتیں اور رونقیں ان کے گرد جمع ہو جاتی ہیں ۔ دوسری طرف اہل ایمان اکثر حالات میں بے زور بنے رہتے ہیں۔ شان وشوکت کا کوئی حصہ ان کو نہیں ملتا۔ مگر یہ صورت حال انتہائی عارضی ہے۔ قیامت آتے ہی حالات بالکل بدل جائیں گے۔ بے خوفی کے راستے سے دنیا کی عزتیں سمیٹنے والے رسوائی کے گڑھے میں پڑے ہوں گے اور خوف خدا کی وجہ سے بے حیثیت ہو جانے والے ہر قسم کی ابدی عزتوں اور کامیابیوں کے مالک ہوں گے ۔ وہ اللہ کے مہمان ہوں گے اور اللہ کی مہمانی سے زیادہ بڑی کوئی چیز اس زمین و آسمان کے اندر نہیں۔
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہسبان نہایت رحم والا ہے اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور خبر دار رہو قرابت والوں سے۔ اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔ اور یتیموں کا مال ان کے حوالے کرو ۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تم کو پسند ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کرو۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا جو کنیز تمہاری ملک میں ہو۔ اس میں امید ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو گے۔ اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔ پھر اگر وہ اس میں سے کچھ تمہارے لئے چھوڑ دیں اپنی خوشی سے تو تم اس کو ہنسی خوشی سے کھاؤ تمام انسان باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ بالآخر ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو اپنا سمجھے۔ سب کے رب ایک، مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر انصاف اور خیر خواہی کے پھر ان میں جو رحمی رشتے ہیں ان میں نسلی اتحاد اور زیادہ قریبی ہو جاتا ہے اس لئے رحمی رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ خود آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اوپر عظیم و برتر خدا ہے۔ وہ آخرت میں سب سے حساب لینے والا ہے اور دنیا میں ان کے عمل کے مطابق آخر میں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ انسان کے معاملہ کو صرف انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور اپنے آپ کو اس عمل کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے غضب سے بچانے والا ہو۔
حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص رحم کو جوڑے گا میں اس سے جڑوں گا اور جو شخص رحم کو کاٹے گا میں اس سے کٹوں گا (من وصلھا وصلتہ ومن قطعها قطعتہ) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے تعلق کا امتحان بندوں سے تعلق کے معاملہ میں لیا جاتا ہے۔ وہی شخص اللہ سے ڈرنے والا ہے جو بندوں کے حقوق کے معاملہ میں اللہ سے ڈرے، وہی شخص اللہ سے محبت کرنے والا ہے جو بندوں کے ساتھ محبت میں اس کا ثبوت دے۔ یہ بات عام انسانی تعلقات میں بھی مطلوب ہے۔ مگر رحمی رشتوں سے حسن سلوک کے معاملہ میں اس کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
یتیم لڑکے اور لڑکیاں کسی خاندان یا سماج کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں، اس لئے خدا سے ڈر کا سب سے زیادہ سخت امتحان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ یتیموں کے بارے میں وہی کرے جو انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا ہو اور جس میں یتیموں کے حقوق زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کی ضمانت ہو۔ یہ بہت گناہ کی بات ہے کہ مشترک اثاثہ کی ایسی تقسیم کی جائے جس میں اچھی چیزیں اپنے حصہ میں رکھ لی جائیں اور دوسرے کے حصہ میں خراب چیزیں ڈال کرگنتی پوری کر دی جائے۔
اور نا دانوں کو اپنا وہ مال نہ دو جس کو اللہ نے تمہارے لئے قیام کا ذریعہ بنایا ہے اور اس مال میں سے ان کو کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے بھلائی کی بات کہو۔ اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔ اور ان کا مال اسراف سے اور اس خیال سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے نہ کھا جاؤ۔ اور جس کو حاجت نہ ہو وہ یتیم کے مال سے پر ہیز کرے اور جو شخص محتاج ہو وہ دستور کے موافق کھائے۔ پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرو تو ان پر گواہ ٹھہرا لو اور اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔ ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے مردوں کا بھی حصہ ہے اور ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکہ میں سے عورتوں کا بھی حصہ ہے، تھوڑا ہو یا زیاوہ مبہ، ایک مقرر کیا ہوا حصہ۔ اور اگر تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج موجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے ہمدردی کی بات کہو۔ لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں بچے چھوڑ جاتے تو انہیں ان کی بہت فکر رہتی۔ پس ان کو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور بات پکی کہیں۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ مال نہ عیش کے لئے ہے اور نہ اظہارِ فخر کے لئے۔ وہ آدمی کے لئے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام و بقا کا مال کا ذریعہ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لئے کیا ہے۔ یتیم کسی سامان کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس لئے اس کے مال کی حفاظت ہو، اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ حتیٰ کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے، اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے۔ کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور دہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہو سکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو، تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہئے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کر سکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لئے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
دنیا میں کمزور کاحق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔ دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نہیں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لئے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ شخص دینے کی حیثیت میں نہیں ہے تو آخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لئے کھولے ورنہ خاموش رہے۔