جواس کی انا کو توڑ دے
Al-Risala, January 1980, pp. 18–30
By Maulana Wahiduddin Khan
محمد حاجی کٹی حسن (تلچہری۔ کیرلا) ایک صوفی قسم کے آدمی وہ سات زبانیں جانتے ہیں۔ "آپ سات زبانوں میں گفتگو کر سکتے ہیں اور مزید کچھ زبانوں کو سیکھ رہے ہیں“ ایک شخص نے ان سے کہا۔ حاجی کٹی حسن نے جواب دیا، "یہ صحیح ہے مگر میں جس زبان کو بولنا سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں وہ صرف محبت کی زبان ہے ( سنڈے کلکتہ، کلکتہ،16 اپریل ۱۹۷۸)
محمد حاجی کٹی حسن کی ملاقات محمد علی با کسر سے ۱۹۷۳ء کی ایک ملاقات میں، جب کہ دونوں سنگا پور میں تھے، محمد علی نے پوچھا : "جنت کہاں ہے“ صوفی حسن نے جواب دیا "وہ ہر جگہ ہے" محمد علی نے دوبارہ کہا: "ہماری دنیا تین ابعاد کی دنیا ہے۔ ہندوستان کی روحانی شخصیت کی طرف سے اس قسم کے جوابات نے محمد علی کے اندرونی تاروں کو چھیڑ دیا۔ انھیں کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ان کی انا کو توڑ دے۔ صوفی حسن سے غالباً ان کو اسی قسم کی ایک ضرب ملی جس نے ان کو سکون سے ہم کنار کیا۔ بلاشبہ محمد علی نے محسوس کیا کہ وہ ایک مقدس انسان کو پا گئے ہیں۔
انسانی فطرت عین اپنی ساخت کے اعتبار سے چاہتی ہے کہ کسی "بڑے" کے آگے جھک جائے۔ انسانیت حقیقتہً اسی فطرت کی آواز کو چھپانے کی ایک یہی وجہ ہے کہ انسان جب تک اپنے بڑے وہ دکھائی نہیں دیتی۔ صوفی حسن نے کہا :
پھر آپ کی جنت چوتھے بعد میں ہے۔ ہلٹن ہوٹل کی ۳۰ ویں منزل پر دونوں میں اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ تک کہ تیسرے دن محمد علی نے اعلان کر دیا کہ "صوفی حسن میرے ریلیجس ایڈوائزر ہیں ۔
محمد علی دنیا بھر میں اپنی انانیت اور گھمنڈ کے لئے ایسا ایک خود پسند شخص صوفی حسن کا معتقد کس طرح ہو گیا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک اخباری رپورٹر نے ایک ایسی بات لکھی ہے جو انسانی نفسیات کے مطالعہ میں مدد دیتی ہے۔ وہ لکھتا ہے :
کونہ پالے، وہ غیر مطمئن رہتا ہے۔ وہ کائنات میں اپنے کو بے جگہ محسوس کرتا ہے۔ انسان عین اپنی اندرونی آواز کے تحت خدا کا طالب ہے۔ وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے نہ ڈال دے۔ انسان کی "انا"، دراصل انسان کے پاس اس کے خالق کی قیمتی امانت ہے ۔ انسان جب تک اس امانت کو اس کے حقیقی مالک کی خدمت میں نذر نہ کر دے، وہ کسی طرح مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ خدا کو نہ پائے تو وہ کسی غیر خدا کو اپنا معبود بنا کر اپنے اس جذبہ کی تسکین حاصل کرے گا۔ چاہے وہ خود اس کی اپنی ذات ہو یا اپنی ذات سے باہر کی کوئی چیز ہو۔
کے معاملات میں ۔ اور وہ تم سے یتیموں کی بابت پوچھتے ہیں، کہہ دو کہ جس میں ان کی بہبود ہو وہ بہتر ہیں،۔ اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ شامل کر لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں۔ اور اللہ کو معلوم ہے کہ کون خرابی پیدا کرنے والا ہے اور کون درستی پیدا کرنے والا ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشکل میں ڈال دیتا۔ اللہ زبردست ہے، تدبیر والا ہے۔ ۲۱۴ - ۲۱۵ چند سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہاں کچھ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں (1) کسی چیز کا نقصان اگر اس کے نفع سے زیادہ ہو تو وہ قابلِ ترک ہے۔ (۲) اپنی واقعی ضرورت سے زیادہ جو مال ہو اس کو اللہ کی راہ میں دے دینا (۳) باہمی معاملات میں ان طریقوں سے بچنا جو کسی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہوں اور ان طریقوں کو اختیار کرنا جو اصلاح پیدا کرنے والے ہوں۔
شراب پی کر آدمی کو سرور حاصل ہوتا ہے، جوا کھیلنے والے کو کبھی محنت کے بغیر کافی دولت ہاتھ آ جاتی ہے۔ اس اعتبار سے ان چیزوں میں نفع کا پہلو ہے۔ مگر دوسرے اعتبار سے ان کے اندر دینی اور اخلاقی نقصانات ہیں اور یہ نقصانات ان کے نفع سے بہت زیادہ ہیں۔ اس لئے ان سے منع کر دیا گیا۔ کسی چیز کو لینے یا نہ لینے کا یہی معیار زندگی کے دوسرے امور کے لئے بھی ہے ۔ مثلاً وہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں، وہ تمام تقریبات اور جلسے قابلِ ترک ہیں جن کے بارے میں دینی اور اقتصادی جائزہ بتائے کہ ان میں نفع کم ہے اور نقصان زیادہ۔ مسلمان وہ ہے جو آخرت کو اپنی منزل بنائے ، جو اس تڑپ کے ساتھ اپنی صبح و شام کر رہا ہو کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو جائے۔ ایسے شخص کے لئے دنیا کا ساز و سامان زندگی کی ضرورت ہے نہ کہ زندگی کا مقصد ۔ مال حاصل کرتا ہے ، وہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتا ہے، مگر یہ سب کچھ اس کے لئے حاجت اور ضرورت کے درجے میں ہوتا ہے نہ کہ مقصد کے درجہ میں ۔ اس کے اثاثہ کی جو چیز اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو، اس کا بہترین مصرف اس کے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اپنے رب کی راہ میں دے دے، تاکہ وہ اس سے راضی ہو اور اس کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے۔ اس کی ہر چیز بقَدِر حاجت اپنے لئے ہوتی ہے اور حاجت سے جو زیادہ ہو وہ دین کے لئے۔ باہمی معاملات اور کاروبار کے اکثر مسائل اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں صرف بنیادی ہدایات دی جاسکتی ہے ، ان کی تمام علی تفصیلات کو قانون کے الفاظ میں متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں یہ اصول مقرر کر دیا گیا کہ اپنی نیت کو درست رکھو اور جو کارروائی کرو یہ سوچ کر کرو کہ وہ کسی بگاڑ کا سبب نہ بنے بلکہ صاحب معاملہ کو تم پر بھروسا ہو۔ اگر تم دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہو تو اس کے مصالح کی پوری رعایت رکھو، مگر اور
اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور مومن کنیز بہتر ہے ایک مشرک عورت سے ، اگر چہ وہ تم کو اچھی معلوم ہو۔ اور اپنی عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں، مومن غلام بہتر ہے ایک آزاد مشرک سے، اگر چہ وہ تم کو اچھا معلوم ہو۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ وہ اپنے احکام لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ اور وہ تم سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ ایک گندگی ہے، اس میں عورتوں سے الگ اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہو جائیں تو اس طریقہ سے ان کے پاس جاؤ جس کا اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور وہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو۔ تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں۔ پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لئے آگے بھیجو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تمھیں ضرور اس سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دو ۲۲۱ - ۲۲۳ مرد اور عورت جب نکاح کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں تو اس کا اصل مقصد شہوت رانی نہیں ہوتا بلکہ یہ اسی قسم کا ایک با مقصد تعلق ہے جو کسان اور کھیت کے درمیان ہوتا ہے۔ اس میں آدمی کو اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہئے جتنا کھیتی کا منصوبہ بنانے والا سنجیدہ ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں چند باتوں کا لحاظ ضروری ہے۔ ایک یہ کہ جوڑے کے انتخاب میں سب سے زیادہ جس چیز کو دیکھا جائے وہ ایمان ہے۔ میاں بیوی کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے ۔ اس کے بہت سے نفسیاتی، خاندانی اور سماجی پہلو ہیں۔ اس قسم کا تعلق دو شخصوں کے درمیان اگر اعتقادی موافقت کے بغیر ہو تو بالآخر وہ دونوں میں سے کسی ایک کی بربادی کا باعث ہوگا۔ ایک مومن اپنے غیر مومن جوڑے سے اعتقادی مصالحت کر لے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کو برباد اور اگر وہ مصالحت نہ کرے تو اس کے بعد دونوں میں جو کش مکش ہوگی اس کے نتیجہ میں اس کا گھر برباد ہو جائے گا۔ دوسری چیز یہ کہ دو صنفوں کا یہ تعلق خدا کی بناوٹ کے مطابق اپنے فطری ڈھنگ پر قائم ہو۔ بھی خدا کا حکم ہے۔ قرآن کے ملفوظ احکام کی پابندی جس طرح ضروری ہے اسی طرح اس فطری نظام کی پابندی بھی ضروری ہے جو خدا نے تخلیقی طور پر ہمارے لئے بنا دیا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ ہر مرحلہ میں آدمی کے اوپر اللہ کا خوف وہ جو بھی رویہ اختیار کرے یہ سوچ کر کرے کہ بالا خراس کو رب العالمین کے یہاں جانا ہے جو کھلے اور چھپے ہر چیز سے باخبر ہے۔ اور اپنے لئے آگے کی زندگی کے لئے عمل صالح بھیجے
لئے چار مہینے تک کی مہلت ہے۔ پھر اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ معاف کر دینے والا، مہربان ہے۔ اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کریں تو یقیناً اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے پیدا کیا ہے ان کے پیٹ میں۔ اور اس دوران میں ان کے شوہران کو پھر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں اگر وہ صلح کرنا چاہیں۔ اور ان عورتوں کے لئے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں۔ اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں کچھ درجہ بڑھا ہوا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے، حکیم والا ہے۔ ۲۸ - ۲۲۲ ضد اور غصہ میں کبھی ایک آدمی قسم کھا لیتا ہے کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ کوئی نیک سلوک نہیں کروں گا۔ قدیم زمانہ میں عربوں میں اس طرح کی قسموں کا بہت رواج تھا۔ وہ ایک بھلائی کا کام یا ایک اصلاح کا کام نہ کرنے کی قسم کھا لیتے اور جب ان کو اس نوعیت کے کام کے لئے پکارا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہم تو اس کو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔ یہ کہنا کہ میں بھلائی کا کام نہ کروں گا، یوں بھی ایک غلط بات ہے اور اس کو خدا کے نام کی قسم کھا کر کہنا اور بھی زیادہ برا ہے کیوں کہ خدا تو وہ ہستی ہے جو سراپا رحمت اور خیر ہے۔ پھر ایسے خدا کا نام لے کر اپنے کو رحمت اور خیر کے کاموں سے الگ کرنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے۔ __بگاڑ ہر حال میں برا ہے۔ لیکن اگر بگاڑ کو خدا یا اس کے دین کا نام لے کر کیا جائے تو اس کی برائی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بعض لوگ قسم کو تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور غیر ارادی طور پر قسم کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے اور ہر آدمی کو اس سے بچنا چاہئے ۔ تاہم میاں بیوی کے تعلق کی نزاکت کی وجہ سے اس طرح کے معاملات میں ایسی قسم کو قانونی طور پر غیر مؤثر قرار دیا گیا۔ البتہ وہ کلام جو آدمی سوچ سمجھ کر منہ سے نکالے اور جس کے ساتھ قلبی ارادہ شامل ہو جائے ، اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی شخص ارادہً یہ قسم کھالے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اس کو قابل لحاظ قرار دے کر اس کو ایک قانونی مسئلہ بنا دیا گیا اور اس کے احکام مقرر کئے گئے۔ خاندانی نظام میں ، خواہ مرد ہو یا عورت ، ہر ایک کے حقوق بھی ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں بھی۔ ہر فرد کو چاہئے کہ دوسرے سے اپنا حق لینے کے ساتھ دوسرے کو اس کا حق بھی پوری طرح ادا کرے۔ اتفاقی حالات یا اپنی فطری بالا دستی سے فائدہ اٹھا کر اگر دوسرے کے ساتھ نا انصافی کرے گا تو وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ۔ لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ ان عورتوں کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے ۔ پھر اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر گناہ نہیں اس مال میں جس کو عورت فدیہ میں دے ۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں توان سے باہر نہ نکلو اور جو شخص اللہ کی حدوں سے نکل جائے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر وہ اس کو طلاق دیدے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے ۔ پھر اگر وہ مرد اس کو طلاق دیدے تب گناہ نہیں ان دونوں پر کہ وہ پھر مل جائیں بشرطیکہ انھیں اللہ کی حدوں پر قائم رہنے کی توقع ہو۔ یہ خدا وندی ضابطے ہیں جن کو وہ بیان کر رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو دانش مند ہیں۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت تک پہنچ جائیں تو ان کو یا قاعدہ کے مطابق رکھ لو یا قاعدہ کے مطابق رخصت کر دو ۔ اور تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہ روکو تا کہ ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا اس نے اپنا ہی برا کیا۔ اور اللہ کی آیتوں کو کھیل نہ بناؤ۔ یاد کرو اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو اور اس کتاب و حکمت کو جو اس نے تمھاری نصیحت کے لیے اتاری ہے۔ اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا، جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کر کے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہئے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کئے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے۔ ________ علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحاد کے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لئے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی کسی چیز کو قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر کرنا۔ قانون کی تعمیل میں صرف الفاظ قانون کو
تم نہیں جانتے۔ اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں ان لوگوں کے لئے جو پوری مدت تک دودھ پلانا چاہتے ہوں۔ اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق۔ کسی کو حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کے برداشت کی موافق۔ نہ کسی ماں کو اس کے بچہ کے سبب سے تکلیف دی جائے۔ اور نہ کسی باپ کو اس کے بچہ کے سبب سے۔ اور یہی ذمہ داری وارث پر بھی ہے۔ پھر اگر دونوں باہمی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلاؤ تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں بشر طیکہ تم قاعدہ کے مطابق وہ ادا کر دو جو تم نے ان کو دینا ٹھہرایا تھا۔ سے ڈرو اور جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ۲۳۳ - ۲۳۴ ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور زمانہ عدت میں رجعت نہ کی۔ جب عدت ختم ہو چکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ پہلے شوہر نے بھی نکاح کا پیغام دیا۔ عورت نے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا منظور کر لیا مگر عورت کا بھائی غصہ میں آگیا اور نکاح کو روک دیا۔ اس پر یہ حکم اترا کہ جب دونوں دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنے پر راضی ہیں تو تم رکاوٹ نہ ڈالو۔
طلاق کے بعد بھی اکثر بہت سے مسائل باقی رہتے ہیں۔ کبھی پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کا معاملہ ہوتا ہے۔ کبھی مطلقہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے، ایسے مواقع پر مشکلات پیدا کرنا درست نہیں۔ مطلقہ عورت بچے والی ہوتی ہے اور سابقہ شوہر کے بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک دوسرے کو تکلیف دینے سے منع کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ معاملہ کو جذبات کا سوال نہ بناؤ، اس کو باہمی مشورہ اور رضامندی سے طے کر لو ــــــــــــ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اور علیحدگی کے وقت معاملہ کو نمٹانے کا مومنانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ طرفین کی جانب جو مسائل باقی رہ گئے ہوں ان کو ایک دوسرے کو پریشان کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ ان کو ایسے ڈھنگ سے طے کیا جائے جو دونوں جانب کے لئے بہتر اور قابل قبول ہو۔ ایمان روح کی پاکیزگی ہے پھر جس کی روح پاک ہو چکی ہو وہ اپنے معاملات میں ناپاکی کا طریقہ کیسے اختیار کر سکتا ہے۔ نصیحت کسی کے لئے صرف اس بنا پر قابل قبول نہیں ہو جاتی کہ وہ بر حق ہے۔ ضروری ہے کہ سننے والا اللہ پر یقین رکھتا ہو اور ڈر رکھتا ہو ڈرنے والا ہو۔ وہ سمجھے کہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو رد کرنے کے کیا نتائج آہیں گے۔
اور تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک انتظار میں رکھیں، پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچیں تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے بارے میں قاعدہ کے موافق کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ۔ اور اللہ تمہارے تموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور تمہارے لئے اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو پیغام دینے میں کوئی بات اشارہ کرو یا اپنے دل میں چھپائے رکھو ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم ضرور ان کا دھیان کرو گے۔ مگر چھپ کر ان سے وعدہ نہ کرو، تم ان سے صرف دستور کے مطابق کوئی بات کہہ سکتے ہو۔ اور عقد نکاح کا ارادہ اس وقت تک نہ کرو جب تک مقررہ مدت اپنی ختم کو نہ پہنچ جائے ۔ اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، پس اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔ اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں طلاق دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لئے کچھ مہر مقرر کیا ہے تو ان کے مہر کا کام پر کچھ مواخذہ نہیں۔ البتہ ان کو دستور کے مطابق کچھ سامان دے دو، وسعت والے پر اپنی حیثیت کے مطابق اور تنگی والے پر اپنی حیثیت کے مطابق، نیکی کرنے والوں پر لازم ہے۔ اور اگر تم ان کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور تم ان کے لئے کچھ مہر بھی مقرر کر چکے تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا ادا کر دو ۔ الا یہ کہ وہ معاف کر دیں یا وہ مرد معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور تمہارا معاف کر دینا زیادہ قریب ہے تقویٰ سے۔ اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کئے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔
اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ کرنا عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگرچہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کر دوں۔ فیاضی اور وسعت ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا حال ہو کہ ایک دوسرے کو دینا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے سے لینے کا حریص رہنا ہو اور مزید پر وسعت ظرف
میں وصیت کر دیں کہ ایک سال تک ان کو گھر میں رکھ کر خرچ دیا جائے۔ پھر اگر وہ خود سے گھر چھوڑ دیں تو جو کچھ وہ اپنی ذات کے معاملہ میں دستور کے مطابق کریں اس کا تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے، اور طلاق دی ہوئی عورتوں کو بھی دستور کے مطابق خرچ دینا ہے، یہ لازم ہے پرہیز گاروں کے لئے۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو ۴۲ - ۲۳۸ نماز گویا دین کا خلا صہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کر دیا گیا ہے (۱) نماز کا پانچ وقت کے لئے فرض ہونا (۲) نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا (۳) یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔ "پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی"۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی" نمازوں " سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوا ت (نماز وں ) کا اطلاق تین یا اس سے زیاوہ کے عدد کے لئے ہوتا ہے۔ عدد جس میں " نماز وں" کے درمیان ایک بیچ کی نماز " بن سکے چار ہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو نمازیں ہو جاتی ہیں۔ " بیچ کی نماز" سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لئے " محافظت " کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لئے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالا قصد پر ہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ " یہ حق ہے متقیوں کے اوپر"، شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتا باہمی معاملات میں کچھ حقوق دہ ہیں جن کو قانون نے متعین کر دیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتا ہے، اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زور اگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طور پر دوسروں کے حقوق ادا نہیں کر سکتا۔
قرض حسن دے کہ 1للہ اس کو بڑھا کر اس کے لئے کئی گنا کر دے۔ اور اللہ ہی تنگی بھی پیدا کرتا ہے اور کشادگی بھی۔ سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۵۔ ص ۲۴۳ ۲ مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے ۔ مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لئے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوں نے فوجی حملے شروع کر دیے تاکہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان سے مقابلہ کردو۔ مخالفین کی نسبت سے اس وقت مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی۔ اس لئے کچھ لوگوں کے اندر بے ہمتی پیدا ہوئی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ یاد دلا کر بتایا گیا کہ زندگی کے معرکہ میں شکست سے ڈرنے ہی کا نام شکست ہے۔
بنی اسرائیل کی ایک پڑوسی قوم فلستی نے ان پر حملہ کر دیا۔ بنی اسرائیل شکست کھا گئے۔ فلستیوں نے دو حملوں میں ان کے ۳۴ ہزار آدمی مار ڈالے۔ بنی اسرائیل اتنا ڈرے کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بائبل کے الفاظ میں "حشمت بنی اسرائیل سے جاتی رہی"۔ بنی اسرائیل کا سارا گھرانا خوف میں مبتلا ہو کر نوحہ اور فریاد کرنے لگا۔ اسی حال میں ان کو ۲۰ سال گزر گئے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ فلستیوں کے سامنے ان کو شکست کیوں ہوئی۔ ان کے نبی سموئیل نے کہا کہ شکست کی وجہ خدا میں تمہارے یقین کا کمزور ہو جانا ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں کو اپنے بیچ سے دور کرو اور خداوند کے لئے اپنے دلوں کو مستعد کر کے فقط اسی کی عبادت کرو۔ خدا فلستیوں کے ہاتھ سے تم کو رہائی دے گا۔ تب اسرائیل نے اجنبی دیوتاؤں کو اپنے سے دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ اب جب دوبارہ فلستیوں اور اسرائیلیوں میں جنگ ہوئی تو بائبل کے الفاظ میں "خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجیا اور ان کو گھبرا دیا۔ نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی ( ا سموئیل ۷) اللہ پر اعتماد کے راستہ کو چھوڑ کر ان پر فل موت واقع ہوئی تھی، اللہ پر اعتماد کے راستہ کو اختیار کرنے کے بعد ان کو نئی زندگی حاصل ہو گئی۔
قرض حسن کے معنی ہیں اچھا قرض۔ یہاں اس سے مراد وہ انفاق ہے جو خدا کے دین کی راہ میں کیا جائے۔
اپنے بچوں سے جدا کیا گیا ہے۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم ہوا تو تھوڑے لوگوں کے سوا سب پھر گئے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اور ان کے نبی نے ان سے کہا : اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ کہا کہ اس کو ہمارے اوپر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے حالاں کہ اس کے مقابلہ میں ہم بادشاہی کے زیادہ حقدار ہیں۔ اس کو زیادہ دولت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو چنا ہے اور علم اور جسم میں اس کو زیادتی دی ہے۔ اور اللہ اپنی سلطنت جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے۔ ان کے نبی نے ان سے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے تسکین ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہیں۔ اس صندوق کو فرشتے لے آئیں گے، اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو ۴۸ - ۲ حضرت موسیٰؑ کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے ۔ حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (۱۰۳۰ ء ۔ (۱۱ ق م ) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں، اس لیے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے، اور جو فیصلہ کرے۔ حقائق کی بنیاد پر کرے نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی تاہم صندوق کو واپس لا کر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی ۔ بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں ۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے لیے فتح و کامیابی کا نشان سمجھتے تھے فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صندوق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے ۔ اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کر دیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں ۔
کر چکے تو وہ لوگ بولے کہ آج ہم کو جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب جالوت اور اس کی فوجوں سے ان کا سامنا ہوا تو انھوں نے کہا: اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو جما دے اور ان کا فروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔ انھوں نے اللہ کے حکم سے ان کو شکست دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اور اللہ نے داؤد کو بادشاہت اور دانائی عطا کی اور جن چیزوں کا چاہا علم بخشا۔ اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے۔ مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے ۲۵۱ ۔ مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افراد کے اندر مشکلات پر جمنے اور سردار کی اطاعت کرنے کا مادہ ہو۔ طالوت کا اپنے ساتھیوں کو پانی پینے سے منع کرنا اسی استعداد کی جانچ کی ایک سادہ سی تدبیر تھی۔ بیان کے مطابق ان میں سے صرف ۷۰۰ آدمی ایسے نکلے جنھوں نے راستہ میں آنے والے دریا کا پانی نہیں پیا۔ جن لوگوں نے پانی پیا انھوں نے گویا اپنی اخلاقی کمزوریوں کو اور پختہ کر لیا۔ اس لئے دشمن کا ظاہراً ہر طاقت در ہوتا تب ان کو اور زیادہ محسوس ہونے لگا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کے اس فعل سے ان کا صبر اور اطاعت کا مزاج اور زیادہ مضبوط ہو گیا۔ ان کو وہ حقیقت اور زیادہ واضح صورت میں دکھائی دینے لگی جس کو بائبل کے بیان کے مطابق طالوت کے ایک ساتھی نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا : اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خدا وند تلوار اور بھالے کے ذریعہ سے نہیں بچاتا۔ اس لئے کہ جنگ تو خدا وند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کر دے گا (1۔ سموئیل ۱۷ : ۳۸) اقتدار جس کے پاس ہو وہ کچھ دنوں بعد گھمنڈ میں پڑ کر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس لئے اقتدار اگر کسی کے پاس مستقل طور پر جمع ہو جائے تو اس کے ظلم و فساد سے زمین بھر جائے۔ اس کی تلافی کا انتظام اللہ نے اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحبان اقتدار کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ بے اقتدار لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے صاحب اقتدار کو ہٹا کر اس کے منصب پر دوسرے کو بٹھا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی بر سر اقتدار جماعت کا ظلم حد سے آگے بڑھ جائے تو خدا وند تضور یا گردہ کو کھڑا کر کے اس کا وقت ہوتا ہے۔ اگر وہ صبر اور
نہ لڑتے مگر انھوں نے اختلاف کیا۔ پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا اور کسی نے انکار کیا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے۔ مگر اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ۲۵۳ - ۲۵۲ اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیں کہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کر دیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسالت کو مانتے چلے آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جس رسول کو مان رہے ہوتے ہیں اس کی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ اس کی افضلیت کا تصور قائم کر لیتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا رسول اتنا افضل ہے اور اس کو ہم مان رہے ہیں تو اب کسی اور کو ماننے کی کیا ضرورت۔ ہر پیغمبر مختلف حالات میں آتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لئے ہر ایک کو الگ الگ چیزوں کی ضرورت اس اعتبار سے کسی پیغمبر کو ایک فضیلت (خصوصی چیز) دی جاتی ہے اور کسی کو دوسری فضیلت۔ بعد کے دور میں پیغمبر کی یہی فضیلت اس کے امتیوں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے نبی کو دی جانے والی فضیلت کو تائیدی فضیلت کے بجائے مطلق فضیلت کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے افضل پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اس لئے اب ہمیں کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ حضرت موسیٰ کے ماننے والوں نے حضرت مسیح کا انکار کیا۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا نبی اتنا افضل ہے کہ خدا براہ راست اس سے ہم کلام ہوا۔ حضرت مسیح کے ماننے والوں نے نبی آخر الزماں کا انکار کیا۔ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایسی ہستی کو مان رہے ہیں جس کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ خدا نے اس کو باپ کے بغیر پیدا کیا۔ طرح اللہ کے وہ بندے جو امت محمدی کی اصلاح و تجدید کے لئے اٹھے ان کا بھی لوگوں نے انکار کیا، کیوں کہ ان کے مخاطبین کی نفسیات یہ تھی کہ ہم افضل الانبیاء کے وارث ہیں، ہم مکمل سچائی کو پائے ہوئے ہیں۔ پھر ہم کو کسی اور چیز کی کیا ضرورت۔ امتوں کے زوال کے زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جنت بھی محفوظ رہے۔ اس وقت یہ عقیدہ ان کے لئے ایک نفسیاتی سہارا بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقدس شخصیتوں کی افضلیت کے تصور میں یہ تسکین پا لیتے ہیں کہ دنیا میں خواہ وہ کچھ بھی کریں ان کی آخرت کبھی مشتبہ نہیں ہوگی ۔ یہی غلط اعتماد ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے کی مخالفت پر جری بناتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے کوئی دوسرا نظام قائم کرتا جس میں کسی کے لئے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے جہاں ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خدا کو مانے یا اس کی نافرمانی کرے۔ انسان کی آزادی اور زمانہ سے ملنے والے الہامی خدائی
کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ، بڑا۔ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اللہ کام بنانے والا ہے ایمان والوں کا، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے، اور جن لوگوں نے انکار کیا ان کے دوست شیطان ہیں، وہ ان کو اجالے سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ۵۷ - ۲۵۴ خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دیے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس جو شخص انفاق کی قیمت دے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتا ہے، جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مرادا پنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کر کے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (Sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بےحد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتا ہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے، ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کی نجات کے لئے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالک کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی زار زار کیا۔ خدا آدمی کے ہر حرکت کو جاننے والا ہے کہ وہ ۳۱ کی مقصوت کا سب نے