حج کی حقیقت
Al-Risala, April 1980, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کیا ہے ۔ بے اللہ کے لئے سفر کرنا ہے ۔ اپنا وقت اور مال خرچ کرکے ان مقامات پر پہنچنا ہے جن سے اللہ اور اس کے سچے بندوں کی یادگاریں وابستہ ہیں۔ حج کے تمام مراسم اس بات کا ایک عملی اظہار ہیں کہ آدمی اللہ کے لئے دوڑ رہا ہے۔ اس نے اپنی زندگی اللہ کے گرد گھار کھی ہے۔ وہ اللہ کے دوستوں کا دوست اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن ہے۔ میدان حشر میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی حالت کو آج ہی اس نے اپنے اوپر طاری کر لیا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ اللہ کی یاد کرنے والا وہ اسلام کو ایک عالمی حقیقت بنانے اور اس کو بین اقوامی سطح پر رواج دینے کے لئے بے قرار ہے۔ حج بظاہر ایک عبادت ہے مگر دراصل وہ ایک آدمی کی پوری مومنانہ زندگی کی تصویر اور آخری سانس تک کے لئے ایک اقرار نامہ ہے۔ آدمی اس لئے جیتا ہے کہ وہ خدا کے لئے حج کرے اور اس لئے حج کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے لئے جئے ۔ حج اس کی موت کی تعبیر بھی ہے اور اس کی زندگی کی بھی۔
حج گویا حق تعالیٰ کی زیارت ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادت میں اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ کعبہ کے سامنے کھڑا ہو کر آدمی محسوس کرتا ہے گویا وہ خود رب کعبہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے رب کو پا کر پروانہ وار اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ جب وہ ملتزم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے گویا اسے اپنے آقا کا دامن ہاتھ آ گیا ہے جس سے وہ بیٹا بنا لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس لئے ہے کہ اس کے ادا کرنے کی جگہ ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیات الہی کا نزول ہوتا ہے جس کو خدا پرستانہ زندگی کے عظیم داعی سید نا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دعوت و عمل کا مرکز بنایا تھا۔ جہاں اسلام کی پوری تاریخ ثبت جس کے ہر طرف اس مثالی اسلامی قافلہ کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں جو خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں چھٹی صدی عیسوی میں ظہور میں آیا تھا۔ جہاں خدا کے دین کو پہلی بار ایک تاریخی واقعہ بنایا گیا۔ ان چیزوں نے حرم کے پورے علاقہ کو ایک خصوصی اہمیت دے دی ہے۔ وہاں اسلام کے حق میں ایک خاص طرح کا تاریخی اور نفسیاتی ماحول بن گیا ہے جو شخص بھی وہاں جاتا ہے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، وہ خدا کے رزق سے ایک ایسا حصہ لے کر لوٹتا ہے جو اس کی بقیہ پوری زندگی میں اس کی دینی توانائی کا ذریعہ بنارہے۔ حج کو اسلامی عبادات میں ہمیشہ ایک غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک حدیث میں اس کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ تمام عبادات کا مجموعہ ہے اور تمام عبادات میں زندگی پیدا کرتا ہے۔ تاہم اس کی جو کچھ اہمیت ہے وہ اس کی حقیقی روح کے اعتبار سے ہے نہ کہ محض ظاہری رسوم و آداب کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں حج صرف اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی دیار حرم میں جائے اور کچھ مخصوص مراسم دہرا کر واپس لوٹ آئے۔ بلکہ حج ان کیفیات کے حصول کا نام ہے جن کے لئے یہ فریضہ مقرر کیا گیا۔ کھانا بلا شبہ آدمی کو طاقت دیتا ہے۔ مگر کھانا اسی شخص کے لئے طاقت ہے جو اس کو قاعدہ کے مطابق اپنے پیٹ میں ڈالے۔ اگر کوئی شخص اس کو محض دیکھے یا اپنے سر پر لٹ لے تو اس کے لئے انتہائی قیمتی غذا بھی بالکل یہ فائدہ ثابت ہوگی۔ اسی طرح حج کا حقیقی فائدہ بھی اس شخص کو ملے گا جو حج کو اس طرح کرے جیسا کہ اس کو کرنا چاہئے ۔ حج کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
الحج اشهر معلومات - فمن فرض فيهن الحج فلا رففت حج کے مہینے معلوم ہیں۔ جو شخص ان میں حج کا اپنے اوپر مقر ر کرے ولا فسوق ولا جدال فى الحج - وما تفعلوا من خير تو حج میں وہ فحاشی ہے ، نہ بے حکمی اور نہ جھگڑا۔ اور تم جو بھلائی يعلمه الله - وتزودوا فان خير الزاد التقوىٰ کرو گے ، اللہ اس کو جان لے گا۔ اور زادِ راہ لے لیا کرو ، سب سے و اتقون يا اولى الالباب (بقره ۱۷۷) بہتر زاد راہ تقویٰ ہے۔ اے عقل والو مجھ سے ڈرو۔
رَفَت کے معنی ہیں فحش کلامی کرنا۔ فسق کا لفظ تقریباً اسی مفہوم میں آتا ہے جس کے لئے اردو میں کہتے ہیں: "اس نے انسانیت کا جامہ آتار پھینکا"، جدال کے معنی ہیں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا۔ یہ تینوں الفاظ اس برائی کے لئے استعمال ہوتے ہیں جو عام طور پر زبان سے سرزد ہوتی ہے۔ جب مختلف لوگ اکٹھا ہوتے ہیں تو کوئی ہوس پرست آدمی فحش باتیں کر کے سنجیدہ ماحول کو بگاڑ دیتا بھی کوئی عام عادت کے خلاف بات پیش آتی ہے اور آدمی اپنا ظاہری لبادہ اتار کر ناحق باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے کبھی کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے اور آدمی برداشت نہ کرتے ہوئے اس سے جھگڑنے لگتا ہے۔ حج کا اجتماع اسی قسم کی تمام برائیوں سے بچنے کی ایک تربیت ہے۔ ایک ایسا مقام جس سے تقدس اور احترام کی یادیں وابستہ ہیں، وہاں لے جا کر آدمی کو خصوصی طور پر اس کا مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اجتماعی ماحول میں رہتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے ۔ وہ اپنے آپ کو فواحش اور ڈلی دلچسپیوں سے ہٹا کر سنجیدہ چیزوں کی طرف راغب کرے۔ اس کے اندر ہر حال میں حق و صلاح پر قائم رہنے کا مزاج پیدا ہو۔ اجتماعی زندگی میں ناخوش گوار تجربات پیش آنے یا دل کو ٹھیس لگنے کے باوجود اپنے بھائی سے لڑنے نہ کھڑا ہو جائے ۔
جب کبھی چند آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں یا مل کر رہتے ہیں تو ایک کو دوسرے سے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ صورت حال حج میں بہت بڑے پیمانہ پر پیش آتی ہے۔ کیوں کہ حج کے موقع پر مختلف قسم کے لوگ بہت بڑی تعداد میں ایک مقام پر اکٹھا ہو جاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حج کے دوران بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اب اگر لوگ ذاتی شکایتوں کی بنا پر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں تو عبادت کی فضا ختم ہو جائے اور حج کا مقصد حاصل نہ ہو سکے۔ اس لئے حج کے زمانہ میں جھگڑنے اور غصہ کرنے کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا۔ اس طرح حج کو ایک بہت بڑی چیز کے لئے تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ کیوں کہ لڑائی جھگڑا جس طرح حج کو باطل کر دیتا ہے اسی طرح نہ ایک مسلمان کی عام زندگی کو بھی اسلام سے دور کر دیتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی ظاہری چیز کو تقویٰ کی علامت سمجھ لیتا ہے اور اس کو اختیار کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے متقیانہ زندگی حاصل کر لی۔ حالاں کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا دل تقویٰ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ حج کے سفر میں زادِ راہ نہ رکھنا تقویٰ کی علامت ہے۔ وہ اس کا خوب اہتمام کرنے لگے۔ مگر زاد راہ کا تعلق ضرورت سے ہے نہ کہ تقویٰ اس قسم کی چیز دل میں آدمی کو اپنی ضرورت کے اعتبار سے تیاری کرنا چاہئے۔ مگر تقویٰ اس سے بالکل الگ چیز ہے۔ اس کا تعلق دل سے ہے۔ اللہ کے یہاں کوئی شخص محض اس لئے مقبول نہیں ہو جاتا کہ اس نے خواہ مخواہ زاد راہ کے بغیر سفر کیا اور اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالا۔ اللہ کو دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ حج کے سفر کو تقویٰ کا زاد راہ فراہم کرنے کا ذریعہ ہونا چاہئے ، کیونکہ یہی وہ زادِ راہ ہے جو آخرت کے سفر میں آدمی کے کام آئے گا۔ حج کے مسافر اور اسی طرح زندگی کے مسافر کے لئے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ وہ شہوانی باتوں سے بچے ، وہ اللہ کی ناپسندیدہ حرکتوں اور لڑائی جھگڑے کی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔