Al-Risala · April 1980
صلاحیتیں جو سیاست کی نذر ہوگئیں
Al-Risala, April 1980, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا شبلی نعمانی کی کوششوں سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی پہلی عمارت بنی تو مولانا شبلی نے ۱۹۱۲ میں ایک بڑا جلسہ کیا اور اس کی صدارت کے لئے سید رشید رضا مصری کو بلایا۔ رشید رضا نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی جو ڈھائی گھنٹہ تک جاری رہی۔ تقریر کے ترجمہ کے لئے پہلے سے کسی کو تیار نہیں کیا گیا تھا۔ مولانا شبلی نے کھڑے ہو کر کہا ”کون اس تقریر کا اردو ترجمہ کرے گا“ مولانا ابوالکلام آزاد اس وقت ڈائس پر موجود انھوں نے ہاتھ اٹھایا۔ مولاناشیلی نے یہ خدمت ان کے سپرد کی۔ مولانا آزاد نے ڈھائی گھنٹہ کی اس عربی تقریر کا ترجمہ ڈھائی گھنٹہ میں کیا۔ ان کے حافظہ نے ٹیپ ریکارڈر کی طرح پوری تقریر کو محفوظ کر لیا تھا اور انھوں نے مسلسل اس کو اپنی زبان میں بیان کر دیا۔