آخرت کے بجائے سیاست
Al-Risala, April 1980, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
مولاناعبید اللہ سندھی ضلع سیالکوٹ کے ایک سکھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
وہ ایک اردو مڈل اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ اُن کو ایک اردو کتاب پڑھنے کو ملی۔ یہ مولانا محمد لکھنوی کی احوال الآخرت تھی۔ اس کتاب نے ان کے ذہن پر ایسا اثر ڈالا کہ انھوں نے بار بار اس کا مطالعہ کیا اور بالآخر ۱۸۸۷ء میں اسلام قبول کر لیا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ وہ شخص جس کو آخرت کے احوال نے اسلام کی طرف کھینچا تھا، وہ اپنی تمام عمر لوگوں کو سیاست کے احوال بتانے میں مشغول رہا۔ یہاں تک بہتر سال کی عمر میں اس دنیا سے چلا گیا۔ غیر پختہ نوجوان ان کی تحریک کا سرمایہ تھے انیسویں صدی کے ترکی میں خلافت عثمانیہ کے خلاف جن لوگوں نے سیکولر قومی تحریک چلائی، وہ بعد کو انجمن اتحاد و ترقی کی صورت میں منظم ہو گئے۔ کمال اتا ترک (۱۹۳۸ - ۱۸۸۱) اس کے لیڈر تھے۔ خالدہ ادیب خانم اس انجمن کے ارکان پر تبصرہ کرتی ہوئی لکھتی ہیں :
اتحاد و ترقی کے نوجوان ترک چھوٹے درجہ کے سرکاری ملازم یا فوجی افسر تھے۔ ابتدا میں ان میں ایک شخص بھی نہ تھا جو اعلیٰ قابلیت رکھتا ہو اور تحلیل و تنقید سے کام لے کر پرانے اور نئے زمانہ کے فرق کو سمجھ سکے۔ مگر یہ لوگ جمہور سے زیادہ قریب تھے اور خالص دیسی پیدا وار تھے۔ زیادہ تعداد مقدونیہ کے باشندوں کی تھی جو واقعیت پسندی اور بے رحمی میں مشہور ہیں اور اپنے مقصد کے حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں (ترکی میں مشرق و مغرب کی کش مکش)
خالدہ ادیب خانم نے جو بات ترکی کے بارے میں لکھی ہے، وہی موجودہ زمانہ کی اکثر مسلم تحریکوں پر صادق آتی ہے۔