Al-Risala · May 1980

سورۂ نور کی روشنی میں

Al-Risala, May 1980, pp. 4–6

By Maulana Wahiduddin Khan

غزوہ بنی المصطلق ۶ھ میں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آپ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ ان کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا۔ جب مقام پر قافلہ رات کو کوچ سے پہلے حضرت عائشہ قضائے حاجت کے لئے جنگل کی طرف چلی گئیں۔ وہاں ان کا ہار ٹوٹ کر گر گیا جس کو تلاش کرنے میں دیر لگی ، ادھر کوچ کا وقت ہو گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ اپنے ہودج میں ہیں۔ چنانچہ سب اونٹوں کے ساتھ ان کا اونٹ بھی ہانک دیا گیا۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ انھوں نے رائے قائم کی کہ مجھ کو یہیں آگے جاکر جب میں نہ ملوں گی تو لوگ ، تلاش کرتے ہوئے یہیں آئیں گے۔ اس کے بعد ان کو نیند آئی اور وہ وہیں صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ قافلہ کی خبر گیری کے لئے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ صبح کو اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ کوئی سور ہا ہے۔ قریب آکر پہچانا؛ تو گھبراہٹ میں ان کی زبان سے نکلا : انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ سن کر حضرت عائشہ کی آنکھ کھل گئی۔ انھوں نے چادر سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔ حضرت صفوان نے خاموشی سے اپنا اونٹ ان کے قریب لاکر حضرت عائشہ بھی خاموشی کے ساتھ اس پر سوار ہو گئیں۔ اب حضرت صفوان اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے چلنے لگے۔ یہاں تک کہ دوپہر کے وقت قافلے میں شامل ہو گئے ۔ مدینہ میں یہ خبر پھیلی تو کچھ بد باطن لوگوں کو موقع مل گیا کہ وہ زوجہ رسول پر جھوٹی تہمت لگائیں اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی تحریک کو بد نام کریں۔ حتی کہ بعض سیدھے سادے مسلمان بھی اس الزام میں شریک ہو گئے ۔ مثلاً حضرت حسان بن ثابت، حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت جحش۔ ماہ سے زیادہ عرصہ تک یہ خبر گرم رہی۔ یہاں تک کہ قرآن میں اس کی تردید نازل ہوئی اور اس کے بارے میں واضح احکام یہاں چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔

" جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں ، پھر اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ نہ لائیں تو ان کو ۸۰ کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، یہی لوگ اصلی نافرمان ہیں۔ مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں وہ تمھیں میں سے ایک جماعت ہیں۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمھارے لئے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے جو گناہ کمایا وہ اس کے لئے ہے اور جس نے اس کا بڑا بوجھ اٹھایا اس کے لئے بڑا عذاب ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ ایک کھلا ہوا بہتان ہے۔ وہ اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لئے چار گواہ کیوں نہ لائے۔ پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کر رہے تھے اور اپنے منھ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کی بابت تم کو کوئی علم نہ تھا۔ اور تم اس کو معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالاں کہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات ہے۔ نہ ہوا کہ اس کو سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں۔ اللہ پاک ہے، یہ ایک بہت بڑا بہتان ہے۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فحش کاری کا چرچاہو ان کے لئے درد ناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور

اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (نور)

ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا حرام ہے۔ اور جب معاملہ مسلمان عورت کا ہو تو اس کی شناعت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ پاک باز مسلمان خاتون پر تہمت لگانا سو برس کے عمل کو ضا دیتا ہے (قذف المحصنة يهدم عمل مأة سنة) بخاری و مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول وہ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک جادو کرنا، اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو حق کے بغیر قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جہاد سے بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا (وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات) اس میں ہمارے لئے بہت سے سبق ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں چند اشارے درج کئے جاتے ہیں۔

ایک سادہ سے واقعہ کو بہانہ بنا کر جن لوگوں نے مذکورہ مہم چلائی ان کا مقصد رسول یا درجر رسول کو بدنام کرلے سے زیادہ دعوت اسلامی کو بدنام کرنا تھا۔ رسول کو اخلاقی حیثیت سے مشتبہ ثابت کر کے وہ دراصل رسول کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ یہی ہر زمانہ میں شیطان کا طریقہ ہے۔ مگر اس قسم کی کوشش خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کی جائے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوں کہ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے وہ براہ راست خدا کی حمایت کے تحت اٹھتی اس کو مشتبہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا گو یا خدا کے منصوبہ سے ٹکرانا ہے اور کون ہے جو خدا کے منصوبہ سے ٹکرا کر کامیاب ہو ۔ حق کی دعوت کے لئے مقدر ہے کہ وہ لازما قائم رہے، یہاں تک کہ وہ حق کو ناحق سے جدا کرنے میں آخری حد تک کامیاب ہو جائے۔

امتحان کی اس دنیا میں ایک معصوم اور بے قصور آدمی کے ساتھ کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے جس کو غلط معنی پہنایا جا سکے اور اس طرح خدا سے بے خوف لوگوں کو موقع مل جائے کہ وہ اس کے ذریعہ اس کو بدنام کر سکیں۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں ان کو ایسے موقع پر ہمیشہ خوش گمانی کے تحت رائے قائم کرنا چاہئے۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے کہ محض سن کر بلا تحقیق اس کو صحیح مان لیں اور اس کو شہرت دینے میں لگ جائیں۔

ایسے کسی الزام کو درست ماننے کے لئے ضروری ہے کہ چار معتبر آدمی اس کے حق میں گواہی دیں۔ اگر الزام لگانے والا چار گواہ نہ پیش کر سکے تو یقین کیا جائے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور اس جرم میں اس کو ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے۔ بعد اگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور اپنی اصلاح کرنے تو امید ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا۔ مگر مسلمانوں کے معاملات میں گواہ بننے کے لئے پھر بھی وہ نا اہل رہے گا۔ اس کے بعد اس کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔ کسی پاک دامن خاتون پر جھوٹی تہمت لگانا ایسا سنگین جرم ہے جس کی سخت ترین سزا نہ صرف آخرت میں ملتی ہے بلکہ دنیا میں بھی ایسے آدمی کو اس کی سزا مل کر رہتی ہے۔ کسی کی عزت پر حملہ کرنا کمینہ پن کی بات ہے اور ایسا جرم جس کے ساتھ کمینہ پن شامل ہو وہ آدمی کو اللہ کی رحمت سے آخری حد تک محروم کر دیتا ہے۔ ایسے شخص سے جہنم اتنی قریب آ جاتی ہے کہ وہ دنیا ہی میں اس کی آنچ سے جلنا شروع ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے پر حملہ سب سے پہلے اپنے آپ پر حملہ ہے۔

آدمی پہلے اپنے آپ کو قتل کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ دوسرے کے قتل کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے۔

۵ - اسلامی ماحول خدا پرستی کا ماحول ہوتا ہے۔ اسلامی ماحول وہ ہے جہاں ہر آدمی اس احساس کے ساتھ اپنی زبان کھولے کہ اس کو اپنے بولے ہوئے الفاظ کا حساب اللہ کو دینا ہے۔ ایسے ماحول میں آدمی کو حد درجہ محتاط ہو کر رہنا چاہئے۔ ایسے ماحول میں جو لوگ غیر ذمہ دارانہ باتوں کو پھیلائیں وہ گویا اسلامی ماحول کی خدا پرستانہ فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں زہر گھول رہے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے نزدیک سخت ترین مجرم ہیں۔ دنیا میں اگر وہ اپنی برأت کے لئے الفاظ پالیں تو اس بنا پر ان کو ہرگز دھوکے میں نہ رہنا چاہئے کہ وہ خدا کے یہاں بھی اپنی برأت کے لئے الفاظ پالیں گے۔ آخرت حقیقتوں کے کھل جانے کا مقام ہے۔ وہاں صرف وہ شخص بری الذمہ ٹھہرے گا جو حقیقت کی سطح پر رہے۔ سے انحراف کرے وہ آخرت میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لئے کوئی جگہ نہ ہوگی۔

۶- اس قسم کے کسی واقعہ کا ہمیشہ آنا بظا ہر ایک ناپسندیدہ بات ہے۔ مگر اس میں خیر کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ قسم کے ایک واقعہ کے درمیان یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون ذمہ دار ہے اور کون غیر ذمہ دار کون اپنے سینہ میں دوسرے بھائیوں کی خیر خواہی لئے ہوئے ہے اور کون ہے جس کے دل میں دوسروں کے لئے حسد اور بغض بھرا ہوا ہے۔ کون اللہ کی جواب دہی کے احساس کے تحت ہوتا ہے اور کون جواب دہی کے احساس سے خالی ہو کر کلام کرتا ہے۔ اس طرح ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کے ذریعہ بد باطن لوگوں کا بد باطن ہونا کھل جاتا ہے۔ دوسری طرف اہل حق کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خدا کی توفیق سے صبر کی روش پر قائم رہیں اور اللہ کی مزید عنایتوں کے مستحق بنیں۔

۷ - اس واقعہ سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حق کی دعوت جب بے آمیز شکل میں پیش کی جائے تو وہ لوگ کتنے زیادہ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں جن پر اس دعوت کی زد پڑتی ہو۔ ان مخالفین میں ایک تو عام دنیا دار ہوتے ہیں۔ وہ بھی اگرچہ ایسی تحریک کے مخالف ہوتے ہیں۔ مگر ان کی مخالفت ایک دائرہ کے اندر رہتی ہے۔ وہ داعی کو ناکام بنانے کے لئے زور لگاتے ہیں مگر اس کو بے عزت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غزوہ احد کے واقعات میں آتا ہے کہ مکہ سے کافروں کا جو لشکر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے روانہ ہوا تھا۔ وہ راستےمیں ابواء کے مقام پر پہنچا جہاں پیغمبر اسلام کی والدہ آمنہ بنت وہب کی قریش کے کچھ پر جوش لوگوں نے چاہا کہ قبر کو کھودیں اور پیغمبر کی ماں کی بے حرمتی کریں۔ مگر خود قریش کے لوگوں نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کو اس ارادہ سے روکا۔ وہ پیغمبر سے لڑنے جا رہے تھے مگر ان کی بے حرمتی کے لئے کوئی پست طریقہ اختیار کرنا ان کو گوارہ نہ ہوا۔ مگر یہود جو اپنے کو حق کا اجارہ دار سمجھتے تھے ان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انھوں نے بعض چیزوں کو بہانہ بنا کر آپ پر رکیک حملے کئے اور آپ کو اخلاقی حیثیت سے گرانے کی کوشش کی۔ مذکورہ تہمت طرازی کے اصل ذمہ دار یہی جو لوگ اپنے کو حق کا واحد نمائندہ سمجھتے ہوں، جب وہ اپنی حیثیت پر زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں تو ان کا رد عمل بے حد شدید ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایسی تحریک کا زور توڑنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے داعی کو بے عزت کرنے کی مہم بھی چلاتے ہیں۔ وہ اپنی مذہبی قیادت کو بچانے کے لئے ہر چیز کو اپنے لئے جائز کر لیتے ہیں خواہ وہ کوئی ذلیل حرکت یا کوئی پست کا رروانی کیوں نہ ہو۔ (۱۹ مارچ ۱۹۸۰)

Printed page