Al-Risala · May 1980

دعوت اور اقدام کا فرق

Al-Risala, May 1980, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

"میں نے لوگوں کو حق کی طرف پکار امگر سننے والوں نے نہ مانا تو میرا اس میں ک قصور۔

"میں نے حق کی خاطر عملی اقدام کیا، مگر لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے اقدام کامیاب نہ ہوسکا تو میرا اس میں کیا قصور۔ قواعد کی رو سے دونوں جملے یکساں طور پر درست ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے پہلا جملہ سراسر صحیح اور دوسرا جملہ سراسر دعوت کا مقصو د سنانا ہوتا ہے اور عملی اقدام کا مقصود نتیجہ پیدا کرنا۔ اس لئے دونوں کو جانچنے کا معیار ایسا نہیں ہوسکتا۔ دعوت کو صرف دعوت کے پیمانہ پر دیکھا جائے گا اور اقدام کو عمل کے پیمانہ پر۔ داعی صرف پکارنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس سے جس بات کا تقاضا کیا جائے گا وہ صرف یہ ہے کہ وہ صحیح بات کی طرف پکارے اور پکارنے میں صحیح انداز اختیار کرے ۔ نہ اس کے نشانہ دعوت میں غلطی ہو اور نہ طریق دعوت میں۔ اس کے بعد جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے، اس کی کوئی ذمہ داری داعی پر نہیں۔ اگر اس نے صحیح بات کی طرف لوگوں کو بلایا یا ہو اور بلانے کے لئے وہی انداز اختیار کیا ہو جو خدا اور رسول کے مطابق صحیح انداز ہے تو وہ صد فی صد کامیاب ہے، خواہ کسی ایک آدمی نے بھی اس کی بات کو نہ مانا ہو۔ مگر عملی اقدام کرنے والے کا معاملہ مکمل طور پر اس سے مختلف ہے۔ عملی اقدام اس لئے ہوتا ہے کہ ایک سماجی ڈھانچہ کو اکھاڑ کر دوسرا سماجی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔ اس میں ایک طرف کچھ موجود لوگوں کو اختیار کے مقام سے ہٹانا اور کچھ دوسرے لوگوں کو اختیار کے مقام پر بٹھانا ہوتا ہے۔ دعوتی کام میں منصوبہ کی تکمیل کا دار ومدار صرف ایک شخص (داعی) کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ جب کہ عملی اقدام میں لازمی طور پر ضروری ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ متحدہ طور پر کارکردگی کا ثبوت دیں، ور نہ عملی اقدام کامیاب نہیں ہوگا بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوگا۔

اگر آپ کسی سے یہ کہنے جارہے ہوں کہ تم محنت کر کے اپنی خود کفیل معاش پیدا کرو تو اس کے لئے آپ کا مخلص ہونا لیکن اگر آپ کسی کو یہ مشورہ دیں کہ تم اپنا گھر بار بیچ کر یہی چلے جاؤ، وہاں تمھارے لئے بہترین گھر بھی ہے اور کاروبار بھی، تو ایسے مشورہ کے لئے آدمی کا مخلص ہونا کافی نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اس مشورہ کے عملی نتائج کو جانے۔ جو شخص اس مشورہ کے عملی نتائج سے بے خبر ہو اس کے اوپر فرض ہے کہ وہ اپنی زبان بند رکھے۔ کیوں کہ اس قسم کا مشورہ بے خبری کے ساتھ دینا جرم کا درجہ رکھتا ہے۔ ایک شخص فن تعمیر سے نا واقف ہے۔ وہ گھر بنانے کے لئے دیواریں اٹھاتا ہے اور اس کے اوپر مٹی کے گارے سے سنٹر اور سلیب جوڑ دیتا ہے، اس کے بعد جب سانچہ بنایا جاتا ہے تو چھت گر پڑتی ہے۔ اب ایک شخص اگر یہ کہے تو کوئی اس کے کہنے کو نہیں سنے گا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ مٹی کاگار انٹز کو نہیں سنبھالے گا۔ میں نے تو نیک نیتی کے ساتھ ایک صحیح کام کیا تھا۔ اب اگر چھت گرپڑی تو اس میں میرا کیا قصور۔ ہر آدمی یہ کہے گا کہ مکان کھڑا کرنا کوئی کھیل تماشانہیں ہے۔ اگر تم فن تعمیر سے واقف نہ تھے تو تم اپنے گھر میں بیٹھتے، تم کو معمار بننے کی ضرورت کیا تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ عملی اقدام کا معاملہ حد درجہ نازک معاملہ ہے۔ عملی اقدام میں صرف نیک نیتی یا مقصد کی درستگی اسی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ جو شخص عملی اقدام کے لئے اٹھا ہے کیا اس کے پاس اتنی طاقت

کہ وہ موجود لوگوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے۔ مزید یہ کہ اگر وہ اکھیڑ پچھاڑ کے ذریعہ موجود لوگوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے تو کیا خود اقدام کرنے والے کے پاس ایسے افراد موجود ہیں جن کو وہاں بٹھایا جائے تو وہ پچھلے نظام سے زیادہ نظام قائم کرکے اس کو چلا سکیں ۔ دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر موجود نہ ہو تو عملی اقدام محض ایک جرم کی حیثیت رکھتا یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنا بنا بنایا پختہ گھرگرا نا شروع کر دے۔ حالاں کہ اس کے پاس وہ ضروری سامان موجود نہ ہو جس کے ذریعہ وہ دوسرا گھر بہتر بنا سکے۔

اگر اپنا ذاتی معاملہ ہو تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ جو شخص مٹی، در سیمنٹ یا کچی اور پکی اینٹوں کا فرق نہ جانے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ گھر کا معمار بن کر کھڑا ہو جائے۔ اس قسم کی بے خبری کے ساتھ کوئی شخص معمار بننے کی ہمت نہیں کرے گا، اور اگر کوئی نادان شخص ایسی جرات کرے تو لوگ کبھی اس کو نہیں بخشیں گے۔ اس کا عمل اس کو الٹا مجرم ثابت کرنے والا بن جائے گا نہ کہ لوگوں کی نظر میں کسی انعام کا مستحق قرار پائے۔ مگر قومی وملی معاملات میں اس قسم کے معمار بہت بڑی تعداد میں میدانِ عمل میں کودتے ہیں، وہ مٹی کے گارے سے چھت جوڑتے ہیں مگر عوام کی طرف سے ان کو بڑے بڑے خطابات اور شان دار اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں اقدام کے بعد آدمی نتیجہ کو بھی ضرور دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر عملی معاملہ میں اقدام کرنا ہو تو نتیجہ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں صرف ایک پرشور اقدام کرنا کافی ہے خواہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے یا الٹا نتیجہ برآمد ہو۔

دردِ سر اور دردِ گھر دونوں بہت ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ سر کے درد کا علاج اگر طبی گولی سے ہو جاتا ہے تو گھر کا درد بھی ایک گولی سے ختم ہو جائے گا۔ دونوں لفظوں کا ماں جلتا ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ دونوں کا معاملہ ایک ہے اور دونوں کو ایک ڈھنگ سے حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہمارے مصلحین اکثر اپنے اصلاحی منصوبہ میں یہی غلطی کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ منصوبہ اپنی تکمیل کے مرحلہ میں پہنچ کر بھی کوئی حقیقی نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ "قومی اقدام" جس طرح ہر حال میں ایک درست کام ہے اسی طرح "عملی اقدام" بھی ہر حال میں کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ کوئی اقدام اور عملی اقدام ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ لفظی اشتراک کے سوا ان میں کوئی نسبت نہیں۔

ایک درخت کہیں رکاوٹ ڈال رہا ہو اور آپ کی تجویز یہ ہو کہ اس کو کاٹ دیا جائے تو صرف یہ کہنا کافی ہے کہ اس کو کاٹ دو۔ لیکن اگر آپ اس کو بالفعل کاٹنے لگیں تو بہت سے اور پہلوؤں کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے۔ کہ درخت جب کٹ کر گرے تو وہ آپ کے سر پر نہ گرے۔ بلکہ خالی زمین میں گرے ۔ اگر آپ اس قسم کا اہتمام کئے بغیر درخت کاٹنا شروع کر دیں اور درخت کٹ کر آپ کے سر پر گر پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک مسئلہ ختم کرنے کے نام پر دوسرا زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر لیا۔ اسی طرح ملت کے معاملات میں اقدام سے پہلے اس سے متعلق تمام پہلوؤں کو سمجھنا اور ان کے بارے میں اہتمام کرنا ضروری ہے، ورنہ ملت کی تعمیر کے نام پر ایک " درخت " گرایا جائے گا اور عملاً صرف یہ ہوگا کہ ملت کی تعمیر تو نہ ہوگی، البتہ بہت سے لوگوں کے سر ٹوٹ جائیں گے۔ آپ کا اقدام صرف نئے نئے مسئلے پیدا کرے گا مزید اس قیمت پر کہ اصل مسئلہ بدستور باقی رہے۔

Printed page