حکومت کا تصور
Al-Risala, May 1980, pp. 16–30
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن سے معلوم ہوتا کہ کسی کا حکومت پانا اور کسی کا حکومت سے محروم ہو جانا تمام تر اللہ کے اختیار کی چیز ہے کہو، خدایا ملک کے مالک، تو جس کو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے۔ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے، بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے (آل عمران (۳۶) اس کے بعد دوسری چیز جو قرآن سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ حکومت مسلمانوں کے لئے ایک امر موعود ہے، وہ ان کو اللہ کے انعام کے طور پر ملتی ہے "اللہ نے وعدہ فرمایا۔ بے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جس طرح پچھلوں کو اقتدار دیا تھا، اور ان کے لئے ان کے دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جس کو اللہ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری بندگی کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو وہی لوگ فاسق ہیں (نور (۵۵) پھر حکومت ملنے کے بعد مسلمان کیا کرتے ہیں، اس کا جواب قرآن کے ان لفظوں میں ملتا ہے "وہ لوگ جن کو ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے۔ زکوٰۃ ادا کریں گے۔ بھلائیوں کا حکم دیں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور تمام معاملات کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے ( حج (۴۱) اوپر کی آیات سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ حکومت کا تعلق اللہ کی مصلحتوں سے ہے جن کے تحت وہ دنیا کا انتظام کر رہا ہے، اپنی انتظامی مصالح کے تحت اللہ کسی سے اقتدار چھینتا ہے اور اس کو کسی کے حوالے کرتا ہے۔ کسی کے پاس حکومت آگئی ہو تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ حکومت ہمیشہ کے لئے اس کی موروثی چیز بن گئی۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ حکومت کو نشانہ بنا کر کوئی جدوجہد چلائی جائے۔ کیوں کہ حکومت کسی کو اپنی جدوجہد کی بنا پر نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو خدا کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے اور کسی کو نہیں دی جاتی۔
حکومت کی تقسیم میں اللہ کے یہاں سب سے پہلے جو گروہ قابل ترجیح ہے وہ ہے اہل ایمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے وفادار بندوں کو حکومت و اقتدار عطا کرے گا مگر اس وعدہ کا تعلق کسی نسلی گروہ سے نہیں ہے بلکہ ان اہل ایمان سے ہے جو حقیقی معنوں میں اللہ کے مومن ہوں اور حقیقی معنوں میں عمل صالح کا ثبوت دیں۔ یہ وہ نیک بندے ہیں جو اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کو اپنا مرکز توجہ بنا لیتے ہیں؛ وہ اپنی محبتوں اور عقیدتوں میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنی زندگی کو اسی کی مرضی کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کے نزدیک اس کے مستحق قرار پاتے ہیں کہ وہ ان کو حکومت و اقتدار عطا کرے۔ یہ حکومت مسلمانوں کے لئے کوئی عہدہ کی چیز نہیں ہوتی بلکہ "ذمہ داری کی چیز ہوتی ہے۔ وہ اقتدار پا کر اور زیادہ جھک جاتے ہیں۔ وہ لوگوں کا استحصال کرنے کے بجائے لوگوں کے لئے نافع بنتے ہیں۔ وہ حکومت کی طاقت کو ذاتی مفادات کی تکمیل میں نہیں لگاتے بلکہ ان اصولوں کے قائم کرنے میں لگاتے ہیں جو اللہ نے تعلیم فرمایا ہے۔ ان کے سامنے جب کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ خواہشوں اور مصلحتوں کے تحت اس کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے اور جو انصاف کا تقاضا ہو اس کے مطابق اپنا فیصلہ دے دیتے ہیں۔
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں حاکم بنایا ہے پس تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی وہ کرو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے، اس وجہ سے کہ انھوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا۔ اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث وہیں پیدا کیا، یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنھوں نے انکار کیا۔ پس جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لئے آگ کی خرابی ہے۔ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور ان لوگوں کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کردیں گے۔ ڈرنے والوں کو ڈھیٹ لوگوں کے برابر کردیں گے۔ یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور عقل والے اس سے نصیحت لیں ۲۶ - ۲۹ ہر آدمی کو کہیں نہ کہیں اختیار حاصل ہوتا ہے۔ کسی کے اختیار کا دائرہ چھوٹا ہے اور کسی کا دائرہ بڑا۔ چھوٹے چھوٹے انفرادی معاملات میں اپنے اختیار کو استعمال کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کوئی اداروں اور حکومتوں کے بڑے معاملات میں۔ اس طرح ہر شخص کی زندگی میں یہ صورت حال پیش آتی ہے کہ اس کے سامنے ایک معاملہ آتا ہے اور اس میں اس کو فیصلہ دینا ہوتا ہے۔ اس فیصلے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اس کو خالص حق کے معیار پر دیکھے اور بے لاگ جائزہ میں جو چیز انصاف نظر آئے اس کے مطابق اپنا فیصلہ دے دے، خواہ وہ اس کی مصلحتوں کے مطابق ہو یا اس کے خلاف۔ وہ صرف حق کے پہلو کو سامنے رکھے نہ کہ دوسرے دوسرے پہلوؤں کو۔ یہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب معاملہ سامنے آئے تو آدمی کا ذہن دوسرے دوسرے پہلوؤں سے کام کرنے لگے۔ دیکھے کہ صاحب معاملہ اس کا دوست ہے یا دشمن۔ وہ کمزور اور نا قابلِ لحاظ ہے یا طاقتور اور قابلِ لحاظ۔ تلخ یادیں وابستہ ہیں یا اس سے اچھے تعلقات ہیں۔ اس نے اپنے مقدمہ کو نرم الفاظ میں پیش کیا ہے یا کڑے الفاظ اس کا ساتھ دینا مصلحتوں کے مطابق ہے یا مصلحتوں کے خلاف۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد آدمی کا ذہن ان پہلوؤں کے زیر اثر کام کرنے لگے۔ نہ انصاف کے پہلو کو چھوڑ کر دوسرے پہلوؤں کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ صورت کا نام خواہش کی پیروی ہے اور یہی زمین میں فساد برپا کرنا ہے، کیوں کہ ایسا کرنا خدا کے اس نقشہ کو بگاڑ نے کے ہم معنی ہے جس کے مطابق خدا نے اس دنیا کو بنایا ہے۔
جو شخص اللہ سے ڈرتا ہو وہ کبھی حق کا نقصان گوارا نہیں کرے گا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ سارا معاملہ بالاخر اللہ کے یہاں پیش ہونے والا ہے۔ خدا کی عدالت سامنے آتے ہی ہر دوسری چیز باطل ہو جائے گی اور نہی چیز حق ہوگی جس کو اللہ ایسی حالت میں جو شخص یہ ڈھٹائی دکھائے کہ وہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کی پیروی کرے وہ حساب کے دن کو بھولا ہوا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ سے ڈرنا اور اللہ سے بے خوف ہو کر زندگی گزارنا دونوں یکساں حالتیں ہیں۔ وہ دنیا کو ایک ایسا بے معنی ہنگامہ خیال کرتا ہے جس کا کوئی نتیجہ آگے نکلنے والا نہ ہو۔ مگر یہ سب سے بڑی بھول ہے اور قرآن اسی لئے اتارا گیا ہے کہ وہ انسان کو اس خطر ناک بھول سے نکالے۔
الله تم کو تمہاری اولاد کی بارے میں حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو مورثوں کے برابر ہے۔ اگر عورتیں دو سے زائد ہیں تو ان کے لئے دو تہائی ہے، اس مال سے جو عورت چھوڑ گیا ہے اور اگر وہ اکیلی ہے تو اس کے لئے آدھا ہے۔ اور میت کے ماں باپ کو دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اس مال کا جو وہ چھوڑ گیا ہے بشرطیکہ مورث کے اولاد ہو۔ اور اگر مورث کے اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تہائی ہے اور اگر اس کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ یہی حصے وصیت نکالنے کے بعد یا ادائے قرض کے بعد ہیں جووہ کر جاتا ہے۔ تمہارے باپ ہوں کہ تمہارے بیٹے ہوں، تم نہیں جانتے کہ ان میں تمہارے لئے سب سے زیادہ نافع کون ہے۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بے شک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ اور تمہارے لئے اس مال کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں۔ بشرطیکہ ان کے اولاد نہ ہو ۔ اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے بیویوں کے ترکہ کا چوتھائی ہے وصیت نکالنے کے بعد جس کی وہ وصیت کر جائیں یا ادائے قرض کے بعد۔ اور ان بیویوں کے لئے چوتھائی ہے تمہارے ترکہ کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے، اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لئے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکہ کا بعد وصیت نکالنے کے جس کی تم وصیت کر جاؤ یا ادائے قرض کے بعد۔ اور اگر کوئی مورث مرد یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا اور اگر وہ اس سے زائد ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے بعد وصیت نکالنے کے جس کی وصیت کی گئی ہو یا ادائے قرض کے بعد، بغیر کسی کو نقصان پہنچائے۔ یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے۔ یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے مقرر کئے ہوئے ضابطوں سے باہر نکل جائے گا اس کو وہ آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت والا عذاب آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہو جاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لئے طاقت کا ذریعہ تھا، اس لئے وراثت میں لڑکی کو محروم کر کے سارا حق لڑکے کو دے دیا گیا۔ موجودہ زمانہ میں اس کار عمل میں تولڑ کا اور لڑکی دونوں برابر کر دئے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ صرف اللہ ہے جس کا علم و حکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کے بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کئے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے: یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا، ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا یہ حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائز ہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَن ضارَّفی وصيته القاه الله في وادی جہنم حدیث) اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کئے ہوئے ضابطے پر چلنا ہے نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔
اور تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری کرے تو ان پر اپنوں میں سے چار مرد گواہ کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں کے اندر بند رکھو، یہاں تک کہ ان کو موت اٹھا لے یا اللہ ان کے لئے کوئی راہ نکال دے۔ اور تم میں سے دو مرد جو وہی بدکاری کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں تو ان کا خیال چھوڑ دو۔ بے شک اللہ تو بہ قبول کرلے والا مہربان ہے۔ تو بہ جس کی قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں ۔ پھر جلد ہی تو بہ کر لیتے ہیں ۔ وہی ہیں جن کی تو بہ اللہ قبول کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی تو بہ نہیں ہے جو برابر گاوہ کرتے رہیں، یہاں تک کہ جب موت ان میں سے کسی کے سامنے آجائے تب کہے کہ اب میں تو بہ کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں کی تو بہ ہے جو اس حال میں مرتے ہیں کہ وہ کافر ہیں، ان کے لئے تو ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گناہ قانون کے مطابق کیا جائے گناہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کئے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرنے تو اس کے بعد تو لازم ہو جاتا ہے کہ اس کے ساتھ شفقت اور درگزر کا معاملہ کیا جائے کسی کے ماضی کی بنیاد پر اس کو مطعون کرنا درست نہیں۔ جب اللہ تو بہ کرنے والوں کی تو بہ قبول کرتا ہے اور اپنی اصلاح کر لینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز و ملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز و ملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کر رہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔
تو بہ زبان سے " تو بہ " کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی تو بہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لئے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ تو بہ آدمی کے لئے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کر دیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے تو بہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہوں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کہیں کہ "میں نے تو بہ کی"، اسی طرح ان لوگوں کی تو بہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریں گے تو بہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے ۔ تو بہ اس شخص کے لئے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کر بیٹھے، پھر اس کا احتساب نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرا دے وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کر لے۔ ایسا ہی آدمی تو بہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح تو بہ کرے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔
اے ایمان والو تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی اپنی میراث میں لے لو اور نہ ان کو اس غرض سے رو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے، اس کا کچھ حصہ ان سے لے لو مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں۔ اور ان کے ساتھ اچھی طرح اگر وہ تم کو نا پسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو، کیا تم اس کو بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے۔ اور تم کس طرح اس کو لو گے جب کہ ایک دوسرے سے خلوت کر چکا ہے اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔ اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہیں، مگر جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ بے حیائی ہے اور نفرت کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔ مرنے والے کے مال میں یقیناً بعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے۔ عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہئے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لا کر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہئے کہ ظاہری نا پسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کو نبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی و استحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔
جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کر کے علیحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عہد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہوتب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ تحریری عہد کی۔
جو ہو چکا سو ہو چکا، کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔