تذکیر القرآن
Al-Risala, May 1980, pp. 21–26
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہارے اوپر حرام کی گئیں تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ، تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تم کو دودھ پلایا ، تمہاری دودھ شریک بہنیں ، تمہاری بیویوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پر ورش میں ہیں جو تمہاری ان عورتوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہے ، لیکن اگر ابھی تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم اکٹھا کر دو بہنوں کو مگر جو پہلے ہو چکا۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں مگر یہ کہ وہ جنگ میں تمہارے ہاتھ آئیں ۔ یہ اللہ کا حکم ہے تمہارے اوپر ۔ ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ سب تمہارے لئے حلال ہیں بشرطیکہ تم اپنے مال کے ذریعہ سے ان کے طالب بنو ، ان کو قید نکاح میں لے کر لو نہ کہ بدکاری کے طور پر ۔ عورتوں میں سے جی کو تم کام میں لائے ان کو ان کا طے شدہ مہر دے دو۔ اور مہر کے ٹھہرانے کے بعد جو تم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور تم میں سے جو شخص مقدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو اس کو چاہئے کہ وہ تمہاری ان کنیزوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے جو تمھارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمھارے ایمان کو خوب جانتا ہے ، تم آپس میں ایک ہو۔ پس ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرو اور معروف طریقہ سے ان کے مہر ادا کر دو ، اس طرح کہ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ آزاد شہوت رانی کریں اور چوری چھپے آشنائیاں کریں۔ پھر جب وہ قید نکاح میں آجائیں اور اس کے بعد وہ بدکاری کی مرتکب ہوں تو آزاد عورتوں کے لئے جو سزا ہے اس کی نصف سزا ان پر ہے۔ یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے بدکاری کا اندیشہ رکھتا ہو۔ اور اگر تم ضبط سے کام لو تویہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۲۵ - ۲۳ انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لئے بھی حدود اور ضابطے مقرر کئے ہیں ۔ شریعت الہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے ۔ اس مقصد کے لئے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیا گیا تا کہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق شہوانی جذبات سے بالا رہے۔ انسان کی عزت و بڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیزیں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت و بڑائی کو ناپتے بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے ۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے اورتمہیں ان لوگوں کی ہدایت دے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور تم پر توجہ کرے، اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر توجہ کرے اور جو لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے بہت دور نکل جاؤ۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ کو ہلکا کرے اور انسان کمزور بنایا گیا ہے۔ 26-28 - ۲۸ زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کرتا آرہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے ۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہو جاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لئے کھولا تھا۔ ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جما لیتی ہیں، وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا۔ تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں، اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کر نا مانوس طریقوں کو اختیار کرنا ان کے لئے سخت دشوار ہوجا وہ ایسی اصلاحی تحریک کے دشمن بن جاتے ہیں جو ان کو ان کے باپ دادا کے طریقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں۔ طبقہ کار عمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں ۔ رب و تقویٰ کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصل کیفیات سے خالی ہوتے ہیں اور ظاہری آداب و قواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظر آتا ہے ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لئے اُٹھے وہ اس کے شدید مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ اس میں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت نا جائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوں میں ہوتے ہیں۔ نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب نا جائز یا کم از کم تقویٰ کے خلاف ہیں، اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعہ گرتی ہوئی نظر آئی ۔ خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہو جاتے ہیں جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی کئے ہوئے یہ ان سے سرداری چھینے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا جھٹ کوئی برداشت نہیں کرتا۔
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاؤ مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے۔ اور خون نہ کرو آپس بے شک اللہ تمہارے اوپر بڑا مہربان ہے۔ اور جو شخص سرکشی اور ظلم سے ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں ڈالیں گے اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمھاری چھوٹی برائیوں کو معاف کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔ اور تم ایسی چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے۔ مردوں کے لئے حصہ ہے اپنی کمائی کا اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اپنی کمائی کا۔ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھاتا ہے۔ اور ہم نے والدین اور قرابت مندوں کے چھوڑے ہوئے میں سے ہر ایک کے لئے وارث ٹھہرا دئے ہیں اور جن سے تم نے عہد باندھ رکھا ہو تو ان کو ان کا حصہ دے دو، بے شک اللہ کے روبرو ہے ہر چیز۔
ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقہ سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں وہ دنیا میں خواہ کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لئے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لئے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کو تاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔
دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھ گیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ واختیار سے اللہ کے لئے کرتا ہے۔ اس لئے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعا کرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لئے عمل کرنے میں لگا دے۔
مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کئے۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ فرماں برداری کرنے والی، پیٹھ پیچھے نگہبانی کرتی ہیں اللہ کی حفاظت سے۔ اور جن عورتوں سے تم کو سرکشی کا اندیشہ ہو ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو سزا دو۔ پس اگر وہ تمھاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف الزام کی راہ نہ تلاش کرو۔ بے شک اللہ سب سے اوپر ہے، بہت بڑا ہے۔ اور اگر تمھیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو اور ایک منصف عورت کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے ۳۵-۳۴ جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہو سکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لئے مرد کو متعین کیا گیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ”قوامیت“ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ”اطاعت“ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہو رہی ہوگی۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔ بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میں اپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کر لے۔ بہترین مرد وہ ہے جو اپنی برتر حیثیت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا کی عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے نہ کہ آخرت میں تقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کو چاہئے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہئے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزامات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ کسی عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لئے ترک کلام اور ترک تعلق کیا جا سکتا ہے۔ آخری درجہ میں مرد اس کو ہلکی سزا دے سکتا ہے، جیسے مسواک سے مارنا۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حکم بنانے پر راضی ہو جائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طور پر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔
اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور اچھا سلوک کرو ماں باپ کے ساتھ اور قرابت داروں کے ساتھ اور یتیموں اورمسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور مملوک بے شک اللہ پسند نہیں کرتا اترانے والے بڑائی کرنے والے کو جو بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل سکھاتے ہیں اور جو کچھ انھیں اللہ نے اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کو چھپاتے ہیں۔ اور ہم نے منکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے، اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو وہ بہت برا ساتھی ہے۔ ان کا کیا نقصان تھا اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے اور اللہ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے۔ اور اللہ ان سے اچھی طرح باخبر بے شک اللہ ذرا بھی کسی کی حق تلفی نہیں کرے گا۔ اگر نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے۔ ۳۶ - ۴۰ انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طور پر تواضع کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میں ظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطہ میں آتا ہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ تو اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کئے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔
جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت و قابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی انگو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں دل تنگ ہوتا ہے۔ فیاض کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں نہیں۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے دئے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی مدوں میں نہ خرچ کریں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لئے نمائش ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کر رہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہو سکی۔ ان کے لئے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ فراہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظر یاتی معاملہ بناتا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔
پھر اس قت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تم کو ان لوگوں کے اوپر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے ۔ لوگ جنھوں لیے انکار کیا اور پیغمبر کی نافرمانی کی اس روز تمنا کریں گے کہ کاش زمین ان پر برابر کر دی جائے ، اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے ۔ اے ایمان والو ! نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو تم کہتے ہو ، اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر راہ چلتے ہوئے ، یہاں تک کہ غسل کرو۔ اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی جائے ضرور سے آئے یا تم عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اپنے چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کرو ، بے شک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے ۔ ۴۳ - ۴۱ حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد و ظاہری بُرانیاں اور نقص بھی نہیں ہوتیں ۔ اس کے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہو سکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میں ان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنا دیا گیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لئے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں ۔ یہ وہاں مہرِم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر ۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں ۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی ۔ خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگا اور خدا انھیں دکھادے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ نا واقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعی حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود وہ محض اس لئے اس کے منکر ہو گئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔ شریعت میں غیر معمولی حالات میں غیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفریا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لئے غیر معمولی حالتیں ہیں ۔ اس نے ان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے ۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کر سکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔
"نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ تم کیا کہہ رہے ہو" ۔ یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بنانے کے لئے آئی ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتا رہی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے ۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحت ادا کے ساتھ دہرا دیا جائے ۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے ۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے ، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا اظہار کر رہا ہے ، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو ۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کر رہا ہے ، اس کا شعور بھی اسی خدا کی عبادت گزار بن جائے ۔