تذکیر القرآن النساء ۴
Al-Risala, May 1980, pp. 27–42
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا تم نے ان لوگووں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ ملا تھا۔ وہ گمراہی کو مول لے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اللہ کافی ہے حمایت کے لئے، اور اللہ کافی ہے مدد کے لیے یہود میں۔ بلکہ ایک گروہ بات کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دیتا ہے اورکہتا ہے کہ ہم نے سنا اور نہ مانا اور کہتے ہیں کہ سنوا ور تمہیں سنوایا نہ جائے۔ وہ اپنی زبان کو موڑ کر کہتے ہیں راعنا، دین میں عیب لگانے کے لئے۔ اور اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا، اور سنو اور ہم پر نظر کرو تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر اور درست ہوتا۔ مگر اللہ نے ان کے انکار کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے پس وہ ایمان نہ لائیں گے مگر بہت کم ۔ اے وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی اس پر ایمان لاؤ جو ہم نے اتارا ہے، تصدیق کرنے والی اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں پھر ان کو الٹ دیں پیٹھ کی طرف یا ان پر لعنت کریں جیسے ہم نے لعنت کی سبت والوں پر ۔ اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے ۔ بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جو کچھ ہے، اس کو جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا طوفان بانوہا۔ کیا تم نے دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں۔ بلکہ اللہ ہی پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔ دیکھو، یہ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور صریح گناہ ہونے کے لئے یہی کافی ہے ۔ اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، تو خدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لئے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔ اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لئے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں۔ وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لئے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع محل سے ہٹا کر دھ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل کتاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتا ہے مگر وہ حقیقتاً نہیں سنتا۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی نادبھی کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا دئے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پیچھے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لئے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لئے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لئے آدمی کا اس طرح اندھا ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو ایسی توفیق سے محروم کر دیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھا تو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا ۔ بے بسی جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب سے حصہ ملا تھا ، وہ جبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے زیادہ صحیح راسیتہ پر ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کرے تم اس کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے۔ کیا خدا کے اقتدار میں کچھ ان کا بھی دخل ہے۔ پھر تو یہ لوگوں کو ایک تل برابر بھی نہ دیں۔ کیا یہ لوگوں پر حسد کر رہے ہیں ، اس بنا پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے۔ پس ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی ہے اور ہم نے ان کو ایک بڑی سلطنت بھی دے دی۔ ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے رکا رہا اور ایسوں کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔ بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کا انکار کیا ان کو ہم سخت آگ میں ڈالیں گے۔ کے جسم کی کھال جل جائے گی تو ہم ان کی کھال کو بدل کر دوسری کر دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو ہم باغوں میں داخل کریں گے جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، وہاں ان کے لئے ستھری بیویاں ہوں گی اور ان کو ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے۔ آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعہ ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کر دیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملے کو ”پاک کلمات“ اور ”با برکت نسبتوں“ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو شیطان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت میں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں ، کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کر رہی ہے۔ کافروں کا وجود ان کے لئے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لئے کافروں کے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ ان کے اندر یہ حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔
لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہے۔ لعنتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کر دیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی زندگی ختم ہو جاتی ہے ، اسی طرح خدا کی نصرت سے محروم ہو کر آدمی کی را تمہاری زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے رحمت زدہ آدمی
رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں اہل اختیار کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تمھارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بات اچھی ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔ تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہے اور جو اتارا گیا ہے تم سے پہلے، وہ چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں شیطان کی طرف، حالاں کہ ان کو حکم ہو چکا ہے کہ اس کو نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر بہت دور ڈال دے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی طرف اور رسول کی طرف تو تم دیکھو گے کہ منافقین تم سے کترایا جاتے ہیں۔ پھر اس وقت کیا ہوگا جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر پہنچے گی، اس وقت یہ تمھارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آئیں گے کہ خدا کی قسم ہم کو تو صرف بھلائی اور ملاپ سے غرض تھی۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے ۵۸-۶۳ ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری اس میں ہے جو اللہ بتائے نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ اگر حکومتی نظام کے مواقع ہوں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ باقاعدہ اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لائیں۔ اور اگر حکومت کے مواقع نہ ہوں تو اپنے اندر کے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سرمہ بنا لیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ ہر آدمی کو اختلافِ رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔
مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لئے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ سرداروں کی جو پہلے سے چلی آرہی تھی۔ دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی تھی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دیندار بننے کے لئے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسول خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کا فیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے کتنے ہی خوبصورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہئے۔
اور ہم نے جور سول بھیجا اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اور اگر وہ جب کہ انھوں نے اپنا برا کیا تھا، تمھارے پاس آتے اور اللہ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے معافی چاہتا تو یقیناً وہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پس تیرے رب کی قسم وہ کبھی ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے باہمی جھگڑے میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ پھر جو فیصلہ تم کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے قبول کر لیں۔ اور اگر ہم ان کو حکم دیتے کہ اپنے آپ کو ہلاک کرویا اپنے گھروں سے نکلو تو ان میں سے تھوڑے ہی اس پر عمل کرتے۔ اور اگر لوگ وہ کرتے جس کی انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے لئے یہ بات بہتراور ایمان پر ثابت رکھنے والی ہوتی۔ اور اس وقت ہم ان کو اپنے پاس سے بڑا اجر دیتے اور ان کو سیدھا راستہ دکھاتے۔ اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کا علم کافی ہے۔ ۶۴ - ۶۷ رسول اس لئے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہو جائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش یہ رسول اس لئے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کار بند ہو۔ میں آدمی کو اتنا زیادہ شدید ہونا چاہئے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول کی اطاعت سے نہ ہٹے ۔ جب دو آدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تنی ابھر آئے۔ اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے کورسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتیٰ کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضامندی کے ساتھ اس کو قبول کرے ۔ وہ اپنے احساس کو آستانہ نہ رکھے کہ اگر وقتی طور پر کبھی اس سے غلطی ہو جائے تو وہ جلدی چونک وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید ترمواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان و مال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔
نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا ہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طور پر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو غۂ طاعت کا پابند کر لیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراط مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔ وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتا ہے نہ کہ اس کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہو جاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنہوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حد تک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔
اے ایمان والو! اپنی احتیاط کرو، پھر نکلو جدا جدا یا اکٹھے ہو کر، اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو دیر لگا دیتا ہے۔ پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ نہ تھا۔ اور اگر تم کو اللہ کا کوئی فضل حاصل ہو تو کہتا ہے، گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی رشتہ محبت جی نہیں۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا۔ پس چاہیے کہ لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچ دیتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے، پھر مارا جائے یا غالب ہو تو ہم اس کو بڑا اجر دیں گے۔ اور تم کو کیاہوا کہ تم نہیں لڑتے اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے لئے جو کہتے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال اس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی پیدا کر دے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی مددگار کھڑا کردے۔ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے ساتھیوں سے لڑو۔ بے شک شیطان کی چال بہت کمزور ہے۔ ۷۴ - ۷۱ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے، اس لئے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہل ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکس رہنا ہے۔ پر امن تدبیروں اور جنگی تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا ہے۔ کو متفرق طور پر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں، جیسا کہ غزوہ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لئے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہوں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو، جس سے علحدگی کے لئے خوبصورت عذر تلاش کر لیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لئے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد تو عملی روند اسی موجودہ دنیا کی سطح پر ہی رہے۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی دانا کلامی ان کے لئے ناقابل لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقہ وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کر کے اللہ کی راہ میں بڑھے۔ نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت و عزت کا مقام حاصل ہوتا ہو خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندہ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لئے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے بد مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندہ خدا سے، اس بنا پر لڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی انانیت پر ضرب پڑتی اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لئے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔
کیا تم نے ان لوگوں کا لیےیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے ایسا ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے ہم پر لڑائی کیوں فرض کردی۔ کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدت تک۔ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لئے جو پرہیزگاری کرے، اور تمہارے ساتھ ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔ جہاں بھی ہو گے موت تم کو پالےگی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہارے سبب سے ہے۔ کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ۔ لوگوں کو کیا حال ہے کہ لگتا ہے کہ کوئی بات ہی نہیں سمجھتے۔ تم کو جو بھلائی بھی پہنچتی ہے خدا کی طرف سے پہنچتی ہے اور تم کو جو برائی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی سبب سے ہے۔ اور ہم نے تم کو انسانوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ ہجرت سے پہلے مکہ میں اسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے، مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، سب انھوں نے مسلمانوں کے لئے جائز کر لیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لئے اصولاً جائز کر دیا تھا کہ وہ ان کے خلاف چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کر سکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلے میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف الفاظ ہی ظلم کر رہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کر دیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لئے ضروری تیاری کر لی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہل ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لئے ضروری ہیں یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا۔ بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلات پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔
قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وەد رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لئے رسول کو غلط ثابت کرتے ۔ خدا کو مان کر زندگی کے نہ ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی نہ دری ہو جانا ہے جو آدمی کے لئے مشکل ترین کام ہے ۔