اسلامی سماج کیسا ہوتا ہے
Al-Risala, May 1980, pp. 43–39
By Maulana Wahiduddin Khan
سماج کیا ہے۔ بہت سے آدمیوں کا مل جل کر رہنا۔ جب بہت سے آدمی مل کر ایک ساتھ رہیں تو ان کے درمیان طرح طرح کے تعلقات قائم ہوتے ہیں، کوئی کسی کا رشتہ دار ہوتا ہے کوئی کسی کا پردیسی، کوئی کسی کا ہم قوم ہوتا ہے کوئی کسی کا ہم وطن، کوئی تاجر ہوتا ہے اور کوئی گاہک، کوئی مالک مکان ہوتا ہے اور کوئی کرایہ دار۔ اس طرح کے مختلف تعلقات کی بنا پر لوگوں کے درمیان بار بار معاملات پیش آتے ہیں۔ ان معاملات کے دوران کبھی کسی سے نفرت کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں اور کسی سے محبت کے کسی سے کچھ لینا ہوتا ہے اور کسی کو کچھ دینا کسی سے اختلاف ہوتا ہے اور کسی سے اتفاق ۔ کوئی اپنا بن جاتا ہے اور کوئی غیر دکھائی دیتا ہے یہی چیز ہے جو لوگوں کے درمیان سماجی تعلقات پیدا کرتی ہے اور یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے۔ سے پتھر ایک ساتھ پڑے ہوں تو ان میں باہمی تعلقات قائم نہیں ہوتے ، اس لئے ان کے درمیان مذکورہ قسم کے مسائل بھی پیدا نہیں ہوتے مگر جب بہت سے انسان ایک ساتھ مل کر رہیں تو ان میں باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں اور اس بنا پر ان کے درمیان طرح طرح کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ مسلمان جب ایک سماج کی صورت میں مل کر رہیں تو وہ آپس میں کس طرح رہیں اور معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کا سلوک کریں ، اس کی وضاحت کے لئے چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں۔ عن انس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه (متفق علیہ) ۶۲ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : کل المسلم علی المسلم حرام دمہ و مالہ وعرضہ (مسلم) ۶۳ عن عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ عن النبی اللہ علیہ وسلم قال : المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده (متفق علیہ)
عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : مثل المؤمنين في تواددهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد اذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى (متفق علیہ)
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
مسلمان پر دوسرے مسلمان کی تین چیزیں حرام ہیں۔ اس کا خون ، اس کا مال اور اس کی آبرو مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں مسلمانوں کی مثال آپس کی محبت اور آپس کی رحم دلی اور آپس کی مہربانی کے معاملہ میں ایسی ہے جیسے ایک جسم ، جب جسم کے کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم اس کی تکلیف سے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا اور نہ اس کو بے یارو مددگار چھوڑتا۔ جو شخص اپنے بھائی کی
مَّسْلِمُہٗ ، من کان فی حاجبہِ اخیہ کان اللہ فی حاجت پوری کرے گا تو اللہ سے کی حاجت پوری کرے گا۔ حاجتہ ومن فرج عن مسلم کربۃ فرج اللہ شخص کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے گا تو اللہ قیامت کے دن عنہ بھا کربۃ من کرب یوم القیامۃ ومن ستر اس کی تکلیف دور کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو ڈھانکے گا تو مسلما سترہ اللہ یوم القیامۃ (متفق علیہ) اللہ قیامت کے دن اس کو ڈھانکے گا۔
عن عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو۔ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ تعالی اوحی ان تواضعوا کوئی شخص کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے، کوئی شخص کسی کے حتی لا یبغی احد علی احد ولا یفخر احد علی احد (سلم) اوپر فخر نہ کرے ۔
عن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی ایک مومن کی مثال دوسرے مومن کے لئے ایسی ہے جیسے اللہ علیہ وسلم: المومن للمومن کالبنیان یشد عمارت۔ عمارت کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے بعضہ بعضاً و شبک بین اصابعہ (متفق علیہ) اسی طرح سب مسلمان باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامی سماج کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمانوں کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ وہ ان کو غیر نہیں سمجھتا بلکہ اپناہی ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دوسروں کے کسی رویہ سے جب اس کو خوشی محسوس ہوتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ دوسرے کس بات سے خوش ہوں گے۔ اس لئے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کسی ایک کا رویہ اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرے کس چیز سے تکلیف محسوس کریں گے اور وہ اس کا سخت اہتمام کرتا ہے کہ دوسروں کو اس کی ذات سے اس قسم کے سلوک کا تجربہ نہ حتیٰ کہ ایک مسلم آبادی ایک واحد جسم کی مانند ہو جاتی ہے۔ جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو تو تانگیں ہے کہ بقیہ جسم اس کے لئے تڑپ نہ اٹھے اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف سارے مسلمانوں کی تکلیف بن جاتی ہے اور لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ اپنے بھائی کی تکلیف دور نہ کر دیں۔ مسلمان کا سماج ایک ایسا سماج ہے کہ جب بھی ایک شخص کا دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس کے اندر محبت اور رحم دلی اور مہربانی پاتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی حاجت برآری کے لئے اس طرح تیار رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کا اپنا مسئلہ ہو۔ کوئی دوسرے مسلمان کو ننگا یا بے گھر دیکھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ننگا اور بے گھر ہو گیا ہو۔ کسی کو برداشت نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے بھائی کو بے سہارا چھوڑ دے۔ ایک کو دوسرے سے ظلم اور گھمنڈ کے بجائے تواضع اور انصاف ملتا ہے۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہیں کرتا، کوئی کسی کے اوپر حسد نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ ہوتا ہے، ہر ایک دوسرے کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں کہ ان کے لئے نا قابل تصور ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے خون کو اپنے لئے جائز کر لیں خواہ اس سے کتنی ہی زیادہ تکلیف ان کو پہنچی ہو۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال لے لینے اس اسی طرح ہتھیا نے آگے کو ہاتھ میں لینے سے بچتا ہے کہ اس کا مسلمان کے لئے مزید مسلمان کی آبرو پر حملہ کا
ہے وہ دوری اور ٹکراؤ کا نہیں ہوتا بلکہ جوڑ اور پیوستگی کا ہوتا ہے۔ ہر اینٹ اگرچہ ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے مگر الگ ہونے کے باوجود وہ سماجی اعتبار سے پوری عمارت کا ایک اٹوٹ حصہ ہوتی ہے۔ اس سے عمارت کو طاقت ملتی ہے نہ کہ کمزوری۔ اوپر عمارت کو تھامے ہوئے ہوتی ہے نہ کہ خود عمارت کو اپنے اوپر کھڑا کرنے کی کوشش کرے! ایک مومن جس خدا کا طالب ہوتا ہے دوسرا مومن بھی اسی خدا کا طالب ہوتا ہے۔ ایک مومن کی منزل مقصود جس طرح آخرت ہوتی ہے دوسرے مومن کی منزل مقصود بھی اسی طرح آخرت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں کیوں کر ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔ مزید یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیا بھلائی اور برائی کی کش مکش کی جگہ ہے۔ یہاں شیطان کے ساتھی اپنے عمل کے لئے آزاد ہیں۔ جو شخص بھی بھلائی کے راستہ پر چلنا چاہے اس کو برائی کی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا راستہ بنانا ہوگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب مسلمان مل کر رہیں۔ باہم ملنے سے ان کی طاقت بہت بڑھ جائے گی اور وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ برائی کی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف بڑھ سکیں گے اس قسم کا اسلامی سماج کس طرح بنتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ خوف خدا کے ذریعہ۔ دنیا کی تمام بھلائیوں کا راز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ اور دنیا کی تمام برائیوں کی جڑ یہ ہے کہ آدمی کا سینہ اللہ کے ڈر سے خالی ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی شخص دوسروں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کر سکتا ہے جو دوسروں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتا ہو۔ حضرت عمر تابعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن اصحاب سے میں ملا ان کو میں نے یہ کہتے ہوئے پایا کہ لوگوں میں تمھارا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہے جو تمھارے معاملہ میں اللہ سے ڈرتا ہو۔ (انصح الناس لك من خاف اللہ فيك، جامع العلوم والحکم (۷) یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی پکڑ کے اندیشہ کے سوا کوئی چیز آدمی کو روک نہیں سکتی۔ جب آدمی پر ایک حیوانی جذبہ کا غلبہ ہوتا ہے، جب کسی معاملہ میں اس کا کوئی مفاد وابستہ ہو جاتا ہے، جب کوئی چیز اس کے لئے عزت و وقار کا مسئلہ بن جاتی ہے تو اس وقت انسان وہ سب کچھ کر ڈالنا چاہتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ ایسے موقع پر صرف ایک ہی چیز ہے جو آدمی کو قابو میں رکھے اور اس کو انصاف کے راستہ سے ہٹنے نہ دے۔ اور وہ یہ احساس کہ ہر آدمی کا معاملہ اللہ کے یہاں پیش ہونا ہے اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا بدلہ ملنا دنیا میں اگر کوئی شخص اپنے کو بچا بھی لے تو آخرت میں وہ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔ مسلمانوں کا سماج خیر خواہی اور انصاف کا سماج ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ان میں سے ہر شخص اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے ایک مسلمان کا معاملہ جب دوسرے مسلمان سے پیش آتا ہے تو اس کو وہ محض ایک انسانی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ ایک خدائی معاملہ سمجھتا اس کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ میں ایک انسان سے نہیں بلکہ خدا سے معاملہ کر رہا ہوں جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ ہر آدمی کے پیچھے اس کو خدا کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر معاملہ اس کو ایک ایسا معاملہ دکھائی دیتا ہے جو آخرت کی عدالت میں پیش ہوگا اور تمام کھلے اور چھپے کا جاننے والا مالک اس کے بارہ میں بے لاگ فیصلہ فرمائے گا۔ مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو لازماً مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ وہ اللہ سے اس بات کی دعائیں کر رہا ہوتا ہے کہ آخرت کی پیشی کے دن وہ اس کے ساتھ
نرمی کا معاملہ فرمائے۔ اسی کی یہ نفسیات اس کو دوسرے انسانوں کے معاملہ میں نرم کر دیتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کی زیادتیوں کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اس کا خدا قیامت کے دن اس کی زیادتیوں کو معاف کر دے۔ وہ خدا کے بندوں کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرتا ہے تاکہ خدا بھی اس کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرے۔ بندوں کی طرف سے اس کو جتنا ملتا ہے اس سے زیاوہ دہ ان کو لوٹاتا ہے تاکہ خدا اس کے حقیر عمل کے بدلے اپنے بڑے بڑے انعامات اس کے حصہ میں لکھ دے۔
اسلامی سماج میں آدمی اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتا ہے اور اختلاف و شکایت کے مواقع پر خود اپنا قصر ور دارمان لیتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا۔ وہ آیا اور آپ سے بہت بھدے انداز میں تقاضا کرنے لگا۔ آپ کے اصحاب جو اس وقت آپ کے ساتھ تھے، اس کی سخت باتوں کو سن کر بگڑ گئے اور اس کو مارنا چاہا۔ آپ نے منع فرمایا۔ آپ نے اس کے قصور کو اپنے آپ پر لیتے ہوئے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ حق دار کو کہنے سننے کا حق ہے (دعوة فان لصاحب الحق مقالاً، متفق علیہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ذات سے نمونہ قائم کر کے حق دار کو کہنے سننے کا موقع دیا اور اس طرح ہر قسم کے سماجی فساد کی جڑ کاٹ دی۔
اسلامی سماج میں یہ مزاج ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حد درجہ رعایت کی جائے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور مدینہ کی مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو پکڑنے اور مارنے کے لئے دوڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ نے لوگوں کو منع فرمایا اور اس کو پیشاب کرنے سے نہ اٹھایا۔ آپ نے کہا: اس اعرابی کو چھوڑ دو اور اس نے جہاں پیشاب کیا ہے وہاں ایک ڈول پانی کا ڈال دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے (بخاری) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نرم ہے اور سارے معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے (إن الله رفيق يحب الرفق في الامور كله ، متفق علیہ) یہ نرمی اور رعایت اسلامی سماج کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسلامی سماج ایک با اصول سماج ہے مگر اس کے ساتھ وہ حد درجہ نرمی اور رعایت کا سماج ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے لئے شدت اور دوسرے کے لئے رعایت کو پسند کرے ۔
اسلامی سماج میں کم بولنے اور زیادہ عمل کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک جہاد میں لڑ کر مرا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اس کو جنت کی خوش خبری ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: تم کو کیا معلوم شاید وہ شخص بے فائدہ باتیں کرتا رہا ہو اور ایسے خرچ میں بخل کرتا رہا ہو جس میں اس کا نقصان نہ تھا (لعله تكلم بما لا يعنيه او بخل بما لا یغنیه، ترمذی) اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا - اللہ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا وہ تمہارے عمل کو دیکھتا ہے (إن الله لا ينظر إلى صور كم ولكن ينظر إلى اعمالكم) اسلامی سماج بے حد سنجیدہ سماج ہوتا اس لئے وہاں کوئی شخص غیر ضروری کلام نہیں کرتا۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضروری کاموں میں
اسلامی سماج میں اپنی محنت پر بھروسہ کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ آدمی مانگ کر حاصل کرنے کے بجائے کرکے حاصل کرنا چاہتا آدمی یہ نہیں سوچتا کہ جو کچھ دوسروں کے پاس ہے وہ میں چھین کر یا مطالبہ کر کے حاصل کرلوں بلکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ نے مجھ کو جو کچھ دیا ہے میں اپنی محنت سے اس میں اضافہ کروں۔
کو ہاتھ، پاؤں اور دماغ کی جو صلاحیت دی ہے، اس کو بروئے کار لا کر اپنی زندگی اپنے آپ بناؤں۔ ابوعبدالرحمن عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اور ہم تقريباً نو آدمی تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم رسول خدا سے بیعت نہیں کرنے۔ چوں کہ ہم جلد ہی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا اے خدا کے رسول ہم بیعت کر چکے ہیں۔ آپ نے دوبارہ فرمایا : کیا تم رسول خدا سے بیعت نہیں کرتے، ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا: اے خدا کے رسول ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں۔ ہم کس چیز پر بیعت کریں۔ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو گے ۔ اور پانچ وقت کی نماز اور اطاعت۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : ولا تسألوا الناس شیئا (اور تم لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگو)، گے) راوی کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو میں نے دیکھا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہے اور اس کا کوڑا گر گیا ہے تو وہ کسی سے مانگتا نہیں، بلکہ اتر کر خود کوڑے کو اٹھاتا ہے (مسلم) اس کا مطلب ہے کہ اسلامی سماج میں مانگنے اور مطالبہ کرنے کا ماحول نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتا ہے اور اپنی ذاتی محنت پر بھروسہ کرتا ہے۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل اعمال ہیں۔ ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا : اے خدا کے رسول کیا اگر میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں تو میری خطائیں بخش دی جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ہاں، اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ، اس حال میں کہ تم صبر کرتے والے اور خالص اللہ کے لئے لڑنے والے ہو۔ آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو تو تم بخش دئے جاؤ گے۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا: تم نے کس طرح کہا تھا۔ اپنے سوال کو دہرایا۔ آپ نے دوبارہ اپنے جواب کو دہراتے ہوئے کہا : ہاں، اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ، اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے اور خالص اللہ کے لئے لڑنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو تو تم بخش دئے جاؤ گے۔ تمہارے اوپر قرض ہے تو اس کی بخشش نہ ہوگی۔ کیوں کہ ابھی جبریل نے مجھ کو بتایا ہے (الا الدین فان جبریل قال لی ذالک ۔ مسلم) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج میں ہر آدمی بے خدمتلا ہوتا ہے کہ اس کے ذمہ کسی کا قرض یا حقوق باقی نہ رہ جائیں۔ ایک مسلمان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ دین کی راہ میں خواہ میں کتنی ہی بڑی قربانی کردوں مگر اللہ کی نظر میں میری قیمت اسی وقت ہوگی جب کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ میں نے کسی کا حق نہ دبایا ہو، میرے ذمہ لوگوں کے مطالبات نہ ہوں۔ اگر میرے ذمہ کسی انسان کا حق ہے اور میں اس کو ادا نہیں کرتا تو دین کی راہ میں میرا جان دے دینا بھی مجھ کو آخرت میں نجات نہ دے سکے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو صدقہ کرو۔ ایک شخص نے پوچھا: اے خدا کے رسول اگر آدمی کے پاس مال نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ پھر وہ لوگوں سے بھلی بات کہے۔ کیوں کہ وہ بھی صدقہ ہے۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا: اے خدا کے رسول اگر اس کے پاس بھلی بات بھی نہ ہو۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ دوسروں کو اپنے شر سے بچائے (یدع الناس من شَرِّهِ) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج میں ہر ہفتہ آدمی دوسروں کے لئے اترا ہی زیادہ نفع بخش ہوتا ہے، اللہ کا نفع رسان اس کو کچھ دیا جائے یا اس کے ذمہ دوسروں کا
کام بگاڑنے کی کشش بھی نہ کرے۔ اگر دوسروں کے لئے اس کے پاس میٹھے بول نہ ہوں تو وہ ان کو کڑوا بول بھی نہ دے۔ امام مالک نے موطا میں روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایسی بات بتائیے جس کے ساتھ میں جیوں (یا رسول اللہ عنمنی کلمات اعیش بھن) آپ نے فرمایا: غصہ نہ کر (لا تغضب) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج مثبت نفسیات رکھنے والوں کا سماج ہے۔ اس کے افراد ہر قسم کی منفی نفسیات سے پاک ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی منفی نفسیات کی جڑ ہے۔ "غصہ نہ کر" کا مطلب یہ ہے کہ منفی نفسیات میں نہ جیو بلکہ مثبت نفسیات میں جیو۔ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو یا دوسروں سے تم کو تکلیف پہنچے تو اس کا جواب تم غصہ، نفرت، انتقام، حسد اور حقارت جیسے جذبات سے نہ دو۔ بلکہ محبت، انصاف، خیر خواہی اور عفو و درگزر کا طریقہ اختیار کرو۔ بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو ٹھنڈے دل سے سوچو اور صرف وہ کرو جو اللہ کی رضا کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو نہ کہ وہ جس سے تمھارے بھڑکتے ہوئے جذبات کو تسکین مل رہی ہو۔ کسی کے خلاف تمھاری کارروائی جوابی کارروائی نہ ہو بلکہ اللہ کی جواب دہی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سوچی سمجھی کارروائی ہو۔ تمھاری غذا غصہ اور نفرت اور انتقام نہ ہو، بلکہ برداشت کرنا اور معاف کر دینا ہو۔ تم غصہ نہ کرنے میں جیو، نفرت نہ کرنے میں جیو، انتقام نہ لینے میں جیو، حسد نہ کرنے میں جیو۔
اسلامی معاشرہ میں جب ایک شخص دوسروں سے انصاف کرتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے عام معنوں میں محض ایک اخلاقی یا انسانی معاملہ نہیں ہوتا۔ یہ اس کے لئے ایسا مسئلہ ہوتا ہے جس پر آخرت میں اس کی نجات کا انحصار ہو ۔ جو شخص بندوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے وہی آخرت میں اس قابل ٹھہرے گا کہ خدا اس کے ساتھ بہتر سلوک اور جو شخص دوسرے انسانوں کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرے اس کے لئے آخرت میں خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ یہی دنیا کی زندگی میں آدمی کا امتحان ہے اور یہ امتحان خاص طور پر کمزور اور بے سہارا انسانوں کے بارے میں لیا جاتا ہے کیوں کہ ایسے افراد کے ساتھ بہتر سلوک کے لئے خدا کی رضا کے سوا اور کوئی محرک نہیں ہوتا۔ آدمی جب طاقتور کے ساتھ بہتر سلوک کرے تو اس میں یہ امید شامل رہتی ہے کہ دوسرے شخص کی طرف سے کسی نہ کسی صورت میں اس کا بدلہ ملے گا۔ اسی طرح جب جب کسی عوامی موقع پر آدمی انسانیت دوستی کا ثبوت دیتا ہے تو اس میں بھی یہ امید ہوتی ہے کہ اس سے آدمی کی شہرت و عزت میں اضافہ ہو گا۔ مگر جب ایک تنہا اور بے زر آدمی اس کے سامنے ہو اور اس سے مدد کی درخواست کرے تو وہاں اس قسم کی کوئی کوشش موجود نہیں ہوتی۔ اور اگر یہ بے زر شخص ایک ایسا شخص ہو جس سے آدمی کو تکلیف اور شکایت پہنچی ہے تو ایسے موقع پر یہ عدم جا ذبیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت جو آدمی بے غرض ہو کر اور شکایات سے اوپر اٹھ کر اس کی مدد کرتا ہے تو وہ خالص خدا کے لئے ایسا کر رہا ہے، کیونکہ خدا کی رضا کے سوا کوئی دوسری کھینچنے والی چیز وہاں موجود نہیں۔ جہاں ہر قسم کی دوسری کشش ختم ہو جائے وہاں خدا کی کشش موجود ہوتی ہے۔ اور جو شخص خالص خدا کے لئے دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرے وہ خدا کا محبوب ترین بندہ ہوتا ہے۔ وہ عین اس مقام پر خدا کو پا لیتا ہے جہاں اس نے خالص خدا کی خاطر کسی بندے کا آنسو پوچھا تھا۔
کی تعریف کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں تم کو ایک جامع تعریف بتاتا ہوں ۔ اس پر اپنے کو اور سب کو تول لو ۔ وہ تعریف ان کے الفاظ