Al-Risala · May 1980

آپس کی لڑائی اسلام کے خلاف ہے

Al-Risala, May 1980, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

من حمل علينا السلاح فليس منا (حدیث) جس نے ہمارے اوپر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔ متحدہ رہنا اور اقدام میں پہل نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ عل وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ہجرت کے دسویں سال نجران (یمن) بھیجا۔ انہوں نے وہاں اسلام کی واپسی پر وہاں کے لوگوں نے قبیلہ بنو کعب کے لوگوں سے ابن بوکر مارینا ئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:جاہلیت جاہلیت کی جنگوں میں تم کس طرح ہمیشہ غالب رہتے تھے۔ انہوں نے کہا: ہم کسی پر غلبہ حاصل نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اپنی باری پر، مار جو تم سے جنگ کرتا تھا۔ تم اس کے دیر غالب رہتے تھے۔ انہوں نے کہا: اے خدا کے رسول جو ہم سے جنگ کرے، مقابل ہم اس پر غالب رہتے تھے۔ ہم متحد رہتے تھے، کبھی متفرق نہیں ہوتے تھے۔ اور کسی کے اوپر ظلم سے آغاز نہیں آپ نے فرمایا: یہ تم نے پکا مبارک مغب عن قاتلن يارسول اللہ ، انا كنا مجتمع ولا مفترق ولا نبد أ أحدا (البدء والخاصفتم، ابن هشام، جز و ثانی، ۱۴۴)

Printed page